اس رسالہ میں عَرَفَہ کے فَضَائِل، مَسْنُون اَعْمَال اور جَامِع دُعَائِين لکھی گئی ہیں اور ستر اِسْتِغْفَار لکھے گئے ہیں۔
ترتیب:
مفتی عبدالرؤف سکھروی،
نائب مفتی جامعہ دارالعلوم کراچی۔
فِہْرِسْتِ مَضَامِین
عَرْضِ مُرَتِّب... 3
عَرَفَات...... 3
بے انتہا بَخْشِش... 3
اِجْتِمَاع پر فَخْر. 4
دعا قُبُول ہونا. 4
کامل مَغْفِرَت...... 5
دوزخ سے آزادی. 5
حاجی کی سِفَارِش...... 7
بڑا گناہگار. 7
عمل باعث مَغْفِرَت...... 7
عَرَفَات میں انبیاءعلیھم السلام کی دعاء 8
عَرَفَات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں... 9
مِیدَانِ عَرَفَات کے مَسْنُون اَعْمَال.. 11
دُعَاء عَرَفَات...... 12
دُعَاءِ وَالِہَانَہ. 14
اِسْتِغْفَار باعثِ نجات...... 32
دُعَاء 58
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اس رسالہ میں جو دعائیں، اِسْتِغْفَار کے کلمے اور فَضَائِل درج ہیں وہ ناچیز کے والد ماجد حضرت مولانا مفتی عبدالحکیم رَحْمَتُہُ اللّٰہ عَلَیْہ نے اپنی مختلف کاپیوں میں تحریر فرمائے تھے، ناچیز نے وہاں سے لے کر انہیں مُرَتَّب کر دیا ہے، تاکہ عام مسلمان اس سے فائدہ اٹھائیں اور حضرت والد ماجد رَحِمَہُ اللّٰہ عَلَیْہ کو اس کا ثواب پہنچے۔ دعا مانگنے والوں سے درخواست ہے کہ ناچیز کو بھی ان دعاؤں میں شامل فرمالیں۔
بندہ عبدالرؤف سکھروی
۱۴۱۲/۲/۱۲
یہ وہ میدان ہے جہاں حج ہوتا ہے۔ عَرَفَہ کے دن زَوَال کے بعد حج کا اِحْرَام باندھ کر جو شخص اس میدان سے گزر جائے وہ حاجی ہو جاتا ہے، یہ وہ دن ہے کہ جس میں حق تعالیٰ لوگوں کو دوزخ سے آزاد کرتے ہیں، حق تعالیٰ کی خاص تَجَلِّی ہوتی ہے اور اللہ جَلَّ شَانُہٗ کو اپنے بندوں پر فَخْر ہوتا ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم نے فرمایا عَرَفَہ کے دن جتنی تعداد میں حق تعالیٰ اپنے بندوں کو دوزخ سے بَرِی کرتے ہیں، اتنی تعداد میں اور کسی دن نہیں کرتے، حق تعالیٰ کی ایک خاص تَجَلِّی ہوتی ہے، اور حق تعالیٰ بطور فَخْر فرشتوں کو خِطَاب فرماتے ہیں اور ارشاد ہوتا ہے أَرَادَ هٰؤُلَاءِ؟ ان لوگوں کا کیا ارادہ ہے، یہ کیوں جمع ہوتے ہیں؟ (حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں، اور ان کے جمع ہونے پر فَخْر فرماتے ہیں (مسلم و نسائی)۔
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مَرْفُوعاً روایت ہے کہ عَرَفَہ کی صبح آنحضرت صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا اے بلال! لوگوں کو خاموش کرو، دیکھو اللہ تعالیٰ ان کے اِجْتِمَاع پر فَخْر کر رہا ہے اور نیکوں کی وجہ سے بَدوں کو بھی بخش دیا ہے اور نیک لوگ جو مانگیں گے وہ ان کو دیا جائے گا لہٰذا تم اللہ کا نام لو اور اس سے دعا کرو۔ (قزوینی)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اہلِ عَرَفَات کے اس اِجْتِمَاع کو دیکھ کر فرشتوں سے فخریہ یہ فرماتا ہے کہ اے فرشتو! دیکھو یہ میرے بندے غُبَار آلُود، پَرَاگَنْدَہ حال اور سر دُشْوَار تنگ راستوں سے چل کر اکٹھے ہوئے ہیں تم گواہ رہو کہ جو کچھ انہوں نے مجھ سے مانگا اور دعا کی میں نے سب قُبُول کرلی، اور جس بات کے لیے انہوں نے سِفَارِش کی وہ بھی قُبُول کرلی اور ان میں جو نیک ہیں ان کی وجہ سے بَدوں کو بھی بخش دیا اور سوائے حقوق کے جو کچھ انہوں نے سوال کیا وہ سب دے دیا۔ (موصلی)
ایک حدیث میں اس طرح بھی آیا ہے کہ حق تعالیٰ شَانُہٗ اہلِ عَرَفَات کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ میرے بندے بکھرے ہوئے بال میرے پاس آتے ہیں، میری رحمت کے اُمِّیدوَار ہیں۔ اس کے بعد حق تعالیٰ بندوں سے خِطَاب فرماتے ہیں اے میرے بندو! اگر تمہارے گناہ ریت کے ذَرّوں کے برابر ہوں، اور آسمان کے ستاروں کے برابر ہوں، سمندر کے قطروں کے برابر ہوں اور تمام دنیا کے درختوں کے برابر ہوں تب بھی بَخْش دیے جاؤ گے، جاؤ بَخْشے بَخْشائے اپنے اپنے گھر چلے جاؤ۔ (كَنْزُ الْعُمَّال)
حضورِ اَکْرَم صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم کا ارشاد مبارک ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عَرَفَہ کے دن سے زیادہ بندوں کو جہنم سے آزاد کرتے ہوں (مطلب یہ ہے کہ جتنی کثیر تعداد میں عَرَفَہ کے دن جہنم سے خَلَاصِی ہوتی ہے اتنی کثیر تعداد میں کسی اور دن نہیں ہوتی، حق تعالیٰ جَلَّ شَانُہٗ دنیا کے قریب ہوتے ہیں (جیسا ان کی شان کے لائق ہے) پھر ملائکہ سے فَخْر کے طور پر فرماتے ہیں کہ یہ بندے (عَرَفَات میں آتے ہیں) یہ کیا چاہتے ہیں؟ (رواہ مسلم، کذا فی المشکوٰۃ)
ف: اللہ تعالیٰ کا قریب ہونا ان کی رحمت کا قریب ہو جانا ہے۔
ایک حدیث میں ہے جب عَرَفَہ کا دن ہوتا ہے تو حق تعالیٰ جَلَّ شَانُہٗ آسمانِ دنیا پر تشریف لے آتے ہیں (جیسا کہ ان کی شان کے لائق ہے) پھر فرشتوں سے فَخْر کے طور پر فرماتے ہیں کہ میرے بندوں کو دیکھو میرے پاس ایسی حالت میں آتے ہیں کہ سر کے بال بکھرے ہوئے ہیں، بدن اور کپڑوں پر سفر کی وجہ سے غُبَار لگا ہوا ہے لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ کا شور ہے، دور دور سے چل کر آتے ہیں، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کے گناہ معاف کر دیئے۔ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ یا اللہ فلاں شخص تو گناہوں کی طرف مَنْسُوب کیا جاتا ہے اور فلاں مَرْد و عَورَت تو (بس کیا کہا جائے) حق جَلَّ وَعَلٰی شَانُہٗ کا ارشاد ہوتا ہے کہ میں نے ان سب کی مَغْفِرَت کردی حضور صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم فرماتے ہیں اس دن سے زیادہ کسی اور دن لوگ جہنم کی آگ سے آزاد نہیں ہوتے ۔ (مشکواة)
ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ حق تعالیٰ جَلَّ شَانُہٗ بَطَوْرِ فَخْر مَلَائِکَہ سے فرماتے ہیں دیکھو میں نے ان بندوں کی طرف اپنے رسول کو بھیجا یہ اس پر ایمان لائے، میں نے ان پر کتاب نازل کی یہ اس پر ایمان لائے۔ تم گواہ رہو میں نے ان کے تمام گناہ معاف کر دیئے (كنز العمال)
اسی لیے علماء کہتے ہیں کہ یہاں صَغِيرَہ گناہوں کے ساتھ كَبِيرَہ گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں۔ وہ مَالِكُ الْمُلْك ہیں، اَحْكَمُ الْحَاكِمِين ہیں، ان کی نافرمانی کرنے کا نام گناہ ہے، وہ کسی ایک آدمی یا مجمع کو اپنی مہربانی سے بالکل ہی معاف کر دیں تو کسی کا کیا اِجَارَہ ہے ۔ ان کے فضل و کرم کا کوئی ٹھکانہ ہے ؟ ایک حدیث میں ہے جاؤ تمہارے گناہ بھی معاف کر دیتے اور جن کی تم سِفَارِش کرو ان کے بھی گناہ معاف ہیں، ان کا لطف و کرم ہمارے سب گناہوں سے کہیں زیادہ ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ " رَحْمَتِي سَبَقَتْ عَلَى غَضَبی " (یعنی میری رحمت میرے غَضَب پر پڑھی ہوتی ہے ) (بخاری)
ایک حدیث شریف میں آنحضرت ملا لیہ السلام کی یہ دعا آئی ہے :
" اے اللہ ! حاجی کی مَغْفِرَت فرما اور جس کے لیے حاجی دعائے مَغْفِرَت کرے اس کی بھی مَغْفِرَت فرما۔"
ایک حدیث شریف میں ہے کہ یہ الفاظ بالا حضور اکرم صلی السلام نے تین بار ادا فرمائے ۔
ایک حدیث شریف میں ہے کہ وہ شخص بہت بڑا گناہگار ہے جو عَرَفَات کے میدان میں بھی یہ سمجھے کہ میری مَغْفِرَت نہیں ہوتی ۔ (اِتْحَاف)
ایک حدیث میں ہے نبی کریم صل اللہ علی سلم نے فرمایا جو مسلمان بھی عرفے کی شام اس میدان عَرَفَات میں آتا ہے اور قِبْلَہ رُو ہو کر سو مرتبہ کلمہ توحید :
لا إله إلا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
کہتا ہے پھر سو مرتبہ سورہ اخلاص پڑھتا ہے پھر سو مرتبہ درود شریف :
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَعَلَيْنَا مَعَهُمُ.
پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہتا ہے اے فرشتو! میرے اس بندے کی کیا جَزَا ہے جس نے میری تَسْبِيح و تَہْلِيل بیان کی، میری عَظْمَت و كِبْرِيَائِي کا اقرار کیا، میری حَمْد و ثَنَا بیان کی اور میرے نبی پر درود بھیجا، اے فرشتو! تم گواہ رہنا میں نے اس کو بخش دیا ہے اور اس نے جس کی سِفَارِش کی، قُبُول کر لی ہے، اور اگر یہ بندہ تمام عَرَفَات والوں کے لیے بھی سِفَارِش کرے تو سب کو بخش دوں گا ۔ (بیہقی)
حضرت علی كَرَّمَ اللّٰهُ وَجْهَهُ سے مَرْوِی ہے آنحضرت صلی علی تم نے فرمایا میری اور مجھ سے پہلے تمام پیغمبروں کی دعا عَرَفَات کے میدان میں اکثر یہی رہی ہے :
لا اله الا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِ وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (صِحَاح )
ایک روایت میں یہ دعا آئی ہے :
اللهُمَّ اجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا وَفِي قَلْبِي نُورًا اللَّهُمَّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسْرْ لِي أَمْرِي وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا يَلِجُ فِي اللَّيْلِ وَمَا يَلِجُ فِي النَّهَارِ وَشَرِّ مَا تَهَبُ به الريح وَشَرِّ بَوَائِقِ الدَّهْرِ .(ابن ابی شیه)
ف : اس دعا کا اور آنے والی دیگر عربی دعاؤں کا اردو ترجمہ آگے دُعَاء عَرَفَات میں آرہا ہے ۔
ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عَرَفَات کے میدان میں اکثر خدا تعالیٰ کی حمد اور دعا اس طرح کرتے تھے :
اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَالَّذِي تَقُولُ وَخَيْرٌ مِنَا نَقُولُ اللهُمَّ لَكَ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي وَإِلَيْكَ مَالِي وَلَكَ تُرَانِي اللَّهُمَّ إنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَوَسْوَسَةِ الصَّدْرِ وَشَتَاتِ الْأَمْرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَجِينُ بِهِ الرِّيحُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَجِئُ بِهِ الرِّيحُ . (ترمذی)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا بھی مَنْقُول ہے :
اللهُمَّ إِنَّكَ تَرَى مَكَانِي وَتَسْمَعُ كَلَامِي وَتَعلَمُ سِرِّي وَعَلَانِيَتِي وَلَا يَخْفَى عَلَيْكَ شَيْءٍ مِّنْ أَمْرِي وَأَنَا الْبَائِسُ الْفَقِيرُ الْمُسْتَغِيْتُ الْمُسْتَجِيرُ الْوَجِلُ المُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِنُ بِذَنْبِهِ أَسْأَلُكَ مَسْئَلَةَ الْمِسْكِينِ وَابْتَهِلُ إلَيْكَ ابْتِهَالَ الْمُذْنِبِ الدَّلِيلِ وَادْعُوكَ دُعَاءَ الْخَائِفِ الشَّرِيرِ مَنْ خَضَعَتْ لَكَ رَقْبَتُهُ وَفَاضَتْ لَكَ عَيْنَاهُ وَنَحَلَ لَكَ جَسَدُهُ وَرَغِمَ لَكَ اَنْفُهُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا وَكُنُ بِي رَءُوفًا رَّحِيمًا يَا خَيْرَ الْمُسْئُولِينَ وَيَا خَيْرَ الْمُعْطِينَ (طبرانی)
ایک حدیث شریف میں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عَرَفَات میں لوگوں کو یہ دعا
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
مانگنے کا حکم کیا کرتے تھے (اخرج الجندی عن ابن جریج)
ایک حدیث میں ہے آنحضرت صلی سلم نے عَرَفَات کے میدان میں یہ دعا بھی کی :
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَةِ
ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں :
إِنَّمَا الْعَيْشُ عَيْشُ الْآخِرَةِ .
حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت علی تم نے مسکینوں کی طرح ہاتھ پھیلائے اور الْحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمین تین بار کہا، تلبیہ تین بار پڑھا پھر اللهُ اَكْبَرُ وَ لِلَّهِ الحَمد تین بار پڑھا
پھر تین بار یہ دعا مانگی :
اللَّهُمَّ اهْدِنِي بِالْهُدَى وَزَيْنِي بِالتَّقْواى وَاغْفِرْ لِي فِي الْآخِرَةِ وَالْأُولى
اس کے بعد ہاتھ گرا دیئے اور جتنی دیر میں سورہ فاتحہ پڑھی جایے اتنی دیر گرائے رکھے پھر اٹھا کر اوپر والے کلمات دہرائے اور اس طرح تین بار کیا ۔
حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہلم نے تین باریہ فرمایا
اللهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ لا شَرِيكَ لَهُ لَهُ المُلكُ وَلَهُ الْحَمْدُ اللهُم اهْدِنِي بِالْهُدَى وَزَيِّنِي بِالتَّقْوَى وَاغْفِرْ لِي في الْآخِرَةِ وَالأولى
پھر ہاتھوں کو گرا لیا اور بقدر سورہ فاتحہ کے گرائے رکھا پھر اٹھا کر یہی کہا ، اس طرح تین بار کیا (ابن ابی شیبہ موقوفا من قول ابن عمر)
· نماز فجر منی میں اداکریں ، تکبیر تشریق کہیں ، لبیک کہیں اور تیاری کر کے زَوَال ہونے پر عَرَفَات پہنچ جائیں۔
· غسل کریں ، ورنہ وضو کریں اور کھانے وغیرہ سے فارغ ہو جائیں اور کچھ دیر آرام کریں ۔
· زَوَال ہوتے ہی ظہر کی نماز ظہر کے وقت میں اور عصر کی نماز عصر کے وقت میں ، اَذَان و تَعْبِیر کے ساتھ با عجبات ادا کریں ۔
· ظہر کی نماز سے فارغ ہوتے ہی وُقُوف کی نیت کریں اور وقون شروع کریں جس کا طریقہ آگے آرہا ہے ۔
· یادر کھیں یہ بہت ہی خاص جگہ اور خاص وقت ہے اس سے بہتر وقت زندگی میں نہ ملے گا اس لیے ادھر ادھر کی باتوں اور کاموں میں ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہونے دیں ۔
· گرمی ہو یا سردی سب برداشت کر جائیں، اور شام تک تَلْبِیَہ کہنے ، دعا اور تَوْبَہ و اِسْتِغْفَار کرنے میں گزاریں، خوب رو رو کر اور گڑ گڑا کر دعا کرنے میں مشغول رہیں، تَلْبِیَہ ہر بار درمیانی آواز سے کہیں، اذکار اور دعائیں بھی آہستہ آواز سے کریں ۔
· وُقُوف کھڑے ہو کر کریں اور بیٹھ کر بھی جائز ہے ۔
· وُقُوف قِبْلَہ رُخ ہو کر کرنا مُسْتَحَب ہے اور دعا میں ہاتھ اٹھانا اور ان کو پھیلانا مُسْتَحَب ہے ۔
دونوں ہاتھ اللہ جَلَّ شَانُہٗ کے سامنے فقیروں مسکینوں اور سائلوں کی طرح کھڑے ہو کر قِبْلَہ رُخ ہو کر اٹھا لیجئے ، اور کچھ دیر کھڑے رہئے اور درج ذیل کلمات کہیئے :
اللهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الحَمْدُ اللهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ اللهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ لا إله إلا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللهُمَّ اهْدِنِي بِالْهُدَى وَزَيِّنِي بِالتَّقْوَى وَاغْفِرْ لِي فِي الْآخِرَةِ وَالْأُولى
اتنا کہہ کر دونوں ہاتھ گرا لیجئے اور جتنی دیر میں سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں اتنی دیر گرائے رکھئے۔
پھر دونوں ہاتھ مسکینوں کی طرح پھیلائیے اور درج ذیل کلمات ادا کیجئے :
اللهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ اللهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ اللهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ - اللَّهُمَّ اهْدِنِي بِالْهُدَى وَزَيْنِي بِالتَّقْوى وَاغْفِرْ لِي فِي الْآخِرَةِ وَالأولى
یہ کہہ کر ہاتھ گرا لیجئے اور بَقَدَر سورہ فاتحہ کے گرائے رکھئے اور پھر اٹھا لیجئے اور تیسری بار پھر یہی کلمات کہئے جو او پر دو بار لکھے جا چکے ہیں ۔ سرکار دو عالم ﷺ نے ایسا ہی کیا ہے۔ پھر جو تھک جائے وہ بیٹھ جائے اور یہ دعا مانگے، اگر کوئی دوسرا بھی شریک ہونا چاہے تو ان دعاؤں پر آمین کہتا جائے ۔
يَا رَبِّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا تَقُولُ وَخَيْرًا مِّمَّا تَقُولُ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ
اے اللہ ! اے میرے پروردگار ! اے میرے آقا ! مجھے دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور دوزخ کے عذاب سے بچا، اے اللہ ! سرکار دو عالم ﷺ نے آپ سے دنیا اور آخرت کی جتنی بھلائیاں اور خیر مانگی ہے وہ سب مجھے عطا فرما اور دنیا و آخرت کے جتنے شَرّ، فِتْنَہ اور برائیوں سے پناہ مانگی ہے مجھے بھی ان سب سے پناہ عطا فرما۔ اے اللہ ! میری کامل مَغْفِرَت فرما اور دنیا و آخرت میں عَافِيَتِ کاملہ ، راحتِ کاملہ ، صِحَّتِ کاملہ اور حیات نصیب فرما۔ اے اللہ ! مجھے اس مُقَدَّس سر زمین پر بار بار حاضری نصیب فرما۔ اور اس حاضری کو آخری حاضری نہ بنا اور میرا خاتمہ کامل ایمان پر فرما۔ اے اللہ ! مجھے اپنے ذکر کرنے اور نعمتوں پر شکر کرنے اور اپنی عبادت خوب بنا سنوار کر کرنے کی ہمیشہ توفیق عطا فرما، اے اللہ ! مجھے اپنی خُوشنُودِی اور رِضَامَنْدی نصیب فرما ، آج تک اس میدان عَرَفَات میں آپ کے بندوں نے جو دعائیں مانگی ہیں اور وہ آپ نے قُبُول بھی کر لی ہیں اور آج آپ کے جو بندے دعائیں کر رہے ہیں اور آپ قُبُول فرمارہے ہیں اور قیامت تک جو دعائیں مانگی جائیں گی وہ سب میری طرف سے بھی قُبُول فرمالے اور مجھے بھی ان کی دعاؤں میں شامل فرما اور یہ سب دعائیں میرے والدین ، اہلِ و عیال اور جُمْلَہ مُتَعَلِّقِین کے حق میں بھی قُبُول فرما اور رَحْمَتِ دو عالم ﷺ کے صدقے میں قُبُول فرما۔
اے اللہ ! میری نماز ، میرا حج ، میرا مرنا، میرا جینا سب خاص تیرے ہی لیے ہے اور تیرے سوا میرا اور کون ہے ؟ میرا آسرا اور ٹھکانہ تو ہی ہے۔ میرا اور تمام جہانوں کا تو ہی مَالِک و خَالِق ہے۔ سب کچھ تیری مِلْک ہے ، میں تیرا عاجز بندہ ہوں ، میں مسکین ہوں ، میں سوالی ہوں ۔ اے میرے مولا ہم کو قبر کے عذاب سے بچانا ۔
اِلٰہَ الْعَالَمِین ! ہمارے سینوں میں قسم قسم کے بڑے بڑے وَسْوَسَے اور خیالات آکر ستاتے ہیں ، ان سے ہم کو پناہ دیدے ۔ اِلٰہَ الْعَالَمِین ! میرے تو سب حال بگڑے ہوئے ہیں ، نہ دین کا ہوں نہ دنیا کا ہوں ۔ اور اللہ میاں یہ میں نے خود ہی بگاڑے ہیں۔ تیرے ہاتھ میں تو خیر ہی خیر ہے ۔ اے خَیْر کے مَالِک ! میری خَسْتَہ حَالِی اور پَرَاگَنْدَگی اور پریشانی دور کر دے اور ہمارے بگڑے کام سدھار دے۔ بس اپنی پناہ میں لے لے۔
ہمارے اور ہماری اولاد کے سب کام بنا دے ۔
اِلٰہَ الْعَالَمِین ! اس چلنے والی ہوا کے اندر جو تو نے خَیْر رکھی ہے اور جس خَیْر و خُوبی کو لیکر یہ ہوا دنیا میں چلتی ہے وہ سب خَیْر ہم کو عطا کر دے اور جو شَرّ اور برائی آپ نے اس ہوا کے اندر رکھی ہے اور جس شَرّ کو لیکر یہ گزرتی ہے ان تمام شَرّوں سے ہم کو بچائے رکھنا ۔
اے اللہ ! ہمارے سینوں کو نیک اَعْمَال اور اپنے ذکر کے لئے کھولدے ہم نے تو اپنی بَد اَعْمَالِیُوں سے سینے میں قُفْل لگا ڈالے اب کھولنے والا تیرے سوا کون ہے ، اب تو اپنا بنا لے، اور اپنا بنا کر دنیا سے اٹھانا۔
اے اللہ ! جو جو دُشْوَارِیاں اور مشکلیں ہم کو در پیش ہیں ان کو آسان کر دیا، الٰہی ! کاموں کے مُنْتَشِر اور پَرَاگَنْدَہ ہونے سے ہم کو بچا لینا اور زمانے کے اندر جتنی ہلاکتیں ہیں ان سے حفاظت چاہتے ہیں ، ہم کو محفوظ رکھنا۔
اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلَّا عَيْشَ الْآخِرَةِ - اے الله ! عیش تو آخرت کا عیش ہے ، وہ نصیب کرنا ۔
اِلٰہَ الْعَالَمِین ! آپ تو اپنے بندوں کے اس بیٹھنے کو جانتے ہیں کہ ہم بابِ حرم پر عَرَفَات کے میدان میں بیٹھے ہیں اور آپ ہی نے لا کر بٹھایا ۔ آپ ہماری ایک ایک بات سن رہے ہیں۔ ہماری ہر حَرَکَت و سُکُون کا آپ کو علم ہے ، ہمارے ڈھکے اور چُھپے سب حال معلوم ہیں ۔ ہم جیسے بھی ہیں ، اب تو اے پروردگار تیرے حضور حاضر ہیں، فقیر اور فریادی ہیں ، تیری پکڑ اور تیرے عذاب سے ڈر رہے ہیں ، اپنے تمام گناہوں کا اِقْرَار کرتے ہیں تجھ سے اے اللہ ! ایک مسکین و عاجز کی طرح سوال کرتے ہیں اس خطا والے کی طرح عاجزی اور بے کسی کے ساتھ آپ کی جَنَاب میں صدا لگا رہے ہیں جیسے کوئی بے قرار ہو اسے کچھ سُجھائی نہ دیتا ہو اور تجھے پکار رہا ہو ۔ اے میرے اللہ ! اے میرے رب ! اے میرے پالنہار ! ہماری گردنیں تیرے آگے جھکی ہوئی ہیں اور شَرْمِنْدَگی سے چہرہ خاک میں ملا ہوا ہے ۔ نَدَامَت کی وجہ سے آنکھوں میں آنسو بھرے ہوتے ہیں ، ہماری ناک تیرے آگے ذَلِیل ہے ۔ ہم کو اس عَرَفَات کے میدان میں مَحْرُوم نہ کرنا جس طرح اوروں کو آپ دیں گے ہمارا بھی دامنِ مراد بھر کر بھیجنا ۔ آپ کے یہاں کیا کمی ہے دے میرے مولا، دے اور اپنی شان کے لائق دے، شیطان کو ذَلِیل و خُوَار کردے ، ہم پر مہربانی اور نَظَرِ رَحْمَت کر دے ۔
الٰہی ! آپ رَحِیم ہیں، آپ رَءُوف ہیں ، جس سے سوال کیا جائے ان میں سب سے بہتر سوال پورا کرنے والے ہیں اور دینے والوں میں سب سے بہتر دینے والے ہیں کرم اے میرے مَعْبُود ! اپنی خاص الخاص ہدایت سے ہمیں نوازنا اور ہم کو تَقْویٰ کے لباس سے مُزَيَّن فرما اور ہم کو دنیا و آخرت دونوں جہاں میں بخش دے اے اللہ ! ہمارے حج کو قُبُول کرلے اور ہماری اس دوڑ دھوپ اور چلنے پھرنے کو مَنْظُور فرمالے اور ہمارے ماں باپ کے گناہوں کو معاف کر دے ۔
اے آسمان و زمین کے مَالِک و خَالِق تو نے تو خود قرآنِ کریم میں فرمایا ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ تم مجھ سے مانگو میں تمہاری دعا قُبُول کروں گا ، آپ وَعْدَہ خِلَافِی نہیں کرتے۔ سو اے پروردگار ! یہ جگہ دوزخ سے بَرِی کرنے کے لئے آپ نے مُقَرَّر کی ہے ۔ ہم کو ، ہمارے والدین کو، ہماری اولاد کو ، ہمارے اَقْرِبَاء کو دوزخ سے آزاد کر دے ہم آپ کو آپ کے عَفْو و کَرَم کا واسطہ دیتے ہیں محض اپنی مہربانی سے بغیر اِسْتِحْقَاق کے ہمیں جَنَّتُ الْفِرْدَوْس عطا فرمادے ۔
اے مَوْلَائے کریم بغیر ہمارے مانگے ہوئے آپ نے دَوْلَتِ اِسْلَام ہم کو عطا کی ہے سو روح قبض ہونے سے پہلے ہم سے نہ چھیننا۔ اگر چہ ہم ناشکرے ہیں مگر آپ تو کریم ہیں ، کریم دے کر واپس نہیں لیا کرتا ۔ ہمارا خاتمہ ایمان پر کرنا۔ آخر وقت تک اس ایمان کا سنبھالنا بھی آپ ہی کا کام ہے ۔ الٰہی ! جب دنیا سے اٹھیں نُورِ ایمان کے ساتھ اٹھیں ہمارے کان میں نُور بھر دے ، ہمارے دلوں میں نُور بھر دے ہم کو حضور صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم کے جھنڈے کے نیچے آپ کی اُمَّت میں اٹھانا اور ہمارا حساب آسان لینا۔ حضور ﷺ کے دست مبارک سے حَوْضِ کَوْثَر کا پانی پلانا ۔ ہمارے دائیں ہاتھ میں نَامَہ اَعْمَال دینا اور جس روز کوئی سایہ نہ ہو گا سوائے تیرے عرش کے اس روز اپنے عرش کے نیچے سائے میں جگہ دینا ۔
اِلٰہَ الْعَالَمِین ! جو فرائض آپ نے ہم پر مُقَرَّر کر دیتے ہیں ہم کمزور ہیں ان کی ادائیگی کی قوت اور توفیق دینا اپنی رِضَا کی طلب میں ہماری مدد فرمانا۔ اور عَرَفَات کے اس میدان میں اپنے بندوں کو جو خیر آپ تقسیم کریں گے اس خیر میں ہمارا حصہ بھی رکھنا۔ ہم بھی آپ کے بھکاری مَحْتَاج اور سوالی ہیں۔ الٰہی ! آج جو رحمت آپ پھیلائیں گے ہم بھی تو اس میں حصہ دار ہیں مَحْرُوم نہ کرنا۔ اور آپ جو روزی اپنے بندوں کو تقسیم کرتے ہیں ہمیں بھی عطا کرنا اور حلال روزی خوب بڑھا دینا کہ کسی مَخْلُوق کی اِحْتِیَاج ہی نہ رہے۔ اپنے سوا سب مَخْلُوق سے بے نیاز کر دے ۔ الٰہی ! آپ تو ہر مُصِیبَت زَدَہ کی مصیبت دور کرنے والے ہیں ہماری ہر مُصِیبَت، دُکھ تکلیف دور کر دے۔ الٰہی ! کوئی فِتْنَہ نازل کرو تو ہم کو اس فتنے سے دور رکھنا، اس سے بچا کر موت دینا ۔
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إنَّ الحَمدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لا شَرِيكَ لَكَ ۔
یہ تین بار پڑھو، پھر درود شریف پڑھو ۔
اِلٰہَ الْعَالَمِین ! ہم جس جس بات سے ڈر رہے ہیں ، مصیبتیں ہوں یا تیرا عذاب ہو اس سے ہم کو امن دیدے اور ہمارے عیبوں کی پردہ پوشی کر اور ہماری ہر خطا کو معاف فرمادے اور اپنے بندوں بندیوں کو ہر قسم کی ذمہ داریوں سے سُبُکْدُوش کر دے، بچوں اور بچیوں کے رشتے نیک اور طبیعت کے مُوَافِق انتظام کر دے کہ ہم بے وسیلہ ہیں ایک صفہ تیرا ہی آسرا ہے تو ہی ہمارا مددگار ہے۔ ہمیں بخشدے، ہمارے ماں باپ کو بخشدے ، ہمارے اَعِزَّہ و اَقْرِبَاء کو بخشدے ، کل خاندان والوں کو ، شہر والوں کو ، جاننے والوں کو ، ہم سے دعا کرانے والوں کو اور جس جس کا ہم پر حق ہے کہ ہم ان کے لیے دعا کریں ان کو اور کُل مُؤْمِنِین اور مُؤْمِنَات ، زندوں ، مردوں سب کو بخش دے آج تیری رحمت عام ہے ہمیں اور ان کو اپنی رحمت میں چھپا دے۔
الٰہی ! آپ نے حج کے لئے بلایا ہمیں توفیق دی ، ہم ان جگہوں پر حاضر ہوئے جہاں کتنے ہی انبیاء علیہم السلام آئے اور گئے ، صحابہ کرام اور تابعین عظام اور تیرے کتنے ولی یہاں آئے اور اب کتنے تیرے ولی ان جگہوں پر ہیں ۔ آپ نے ہم کو بلایا ہم نے لَبَّيْک کہا اور تیرے بابِ حرم پر آبیٹھے۔ آخر ہر آنے والے کے لیئے اِنْعَام ہوا کرتا ہے ، کریم بلا کر دیا ہی کرتا ہے ، ہمیں بھی عطا کر دے کہ ہماری دعا قُبُول ہو جائے ہماری مُرَادیں پوری ہوں اور قرآن میں جو عَرَفَات کی دعا لکھی ہے وہی آپ سے مانگتے ہیں:
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
آمين يا رب العالمين ۔
الٰہی ! تم تو بے مانگے دینے والے ہو اور جس کی امید بھی نہ ہو وہ بھی دیدیتے ہو ہم آپ کے بندے اپنے گناہوں کے ساتھ اپنی خطاؤں کا اِقْرَار کرتے ہیں۔ الٰہی ہم گنہگار ہیں ، ہم نے گناہوں کا بوجھ گردن پر لاد لیا ، تیری نافرمانیاں کیں جانتے ہوئے بھی گناہ کر ڈالے ہیں۔ اب نَادِم ہو کر اس عَرَفَات کے میدان میں تیرے نیک بندوں اور بندیوں کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں سنا ہے کریم نیکوں کے ساتھ بَدوں کو بھی بخش دیتا ہے ۔ الٰہی ! اگر بخشش صرف نیکوں ہی کے لئے ہو تو پھر ہم کہاں جائیں گے ، ہمارا بخشنے والا سوائے تیرے اور کون ہے جس سے جا کر معافی مانگیں ان عَرَفَات کے نیک لوگوں کے ساتھ ہم کو بھی بخشدے اور جتنے گناہ آپ کے علم میں ہیں ہمارے سب گناہ معاف کر دے کوئی گناہ ایسا نہ ہو جسے آج اس موقع پر نہ بخشیں اور کوئی غم ایسا نہ رہ جائے جسے آج آپ دور نہ کر دیں کوئی قَرْضَہ ایسا باقی نہ رہے جسے آپ آج ادا نہ کر دیں اور دنیا یا آخرت کی ہر حاجت جس میں تیری رِضَا ہو آج پوری کر دے ۔
الٰہی ! ہم مسکین و نَاتَوَاں اور کمزور بندے ہیں، تیرے عذاب سے لَرْزَاں و تَرْسَاں ہیں ۔ الٰہی قبر کا عذاب سن کر دل ڈرتا ہے ، دوزخ کے عذاب سے دل کانپ اٹھتا ہے ، الٰہی تیری رحمت کے اُمِّیدوَار ہیں ، امید لگا کر آئے ہیں اس کا اِقْرَار ہے کہ جو آپ نے حکم دیا ہم نے توڑ دیا ، لا پرواہی کی اور جس بات سے منع کیا وہی کر لیا۔ نافرمان ہیں ، ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کر لیا مگر بابا آدم اور اماں حوا کی توبہ اسی عَرَفَات میں آپ نے قُبُول کی ہے۔ الٰہی ! ہم بھی تو انہی کی اولاد ہیں جس طرح انہوں نے توبہ کی ، تو نے قُبُول کی ، انہی الفاظ میں ہم بھی توبہ کرتے ہیں قُبُول کرلے:
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ
اے کریم ! اے رَحِیم ہم کو نا امید نہ کرنا ، ہم کو ، ہمارے والدین کو ، ہمارے بیٹوں اور بیٹیوں کو ، ہمارے بھائی بہنوں کو ، ہمارے گھر والوں کو اور اسلام جہاں سے ہمارے خاندان میں چلا ہے وہاں تک والد اور والدہ کی طرف سے تمام دادے دادیوں کو ، نانے نانیوں کو ، ان کے تمام خُویش و اَقَارِب کو ، ہمارے استادوں کو ، ہم سے دعا چاہنے والوں کو اور تمام عَرَفَات والوں کو ، اور کل مُؤْمِنِین اور مُؤْمِنَات کو بخش دے سب کی مَغْفِرَت کر دے الٰہی آمین ۔
(لَبَّيْک پڑھو تین بار پھر درود شریف پڑھو)
اب ایک تَسْبِیح کلمہ توحید کی پڑھو پھر دعا میں لگ جاؤ۔
الٰہی ! آپ کے سوالی آپ کے در پر آئے ہیں، الٰہی ! اپنے عذاب سے بچالے اور ہم کو پناہ دیدے ، الٰہی ! آپ کے کمزور و نَاتَوَاں بندے بابِ حرم پر آتے ہیں الٰہی یہ بہت مسکین اور کمزور ہیں۔ ضَعِیفوں پر تو سب کو رحم آجاتا ہے، ہمیں اپنا دَرْدْنَاک عذاب نہ چکھانا ہمارا کوئی سہارا نہیں ہے۔ یہ مسکین بندے رو رو کر ہاتھ جوڑ کر عرض کرتے ہیں کہ اپنا مَحْتَاج رکھنا اورکسی کا محتاج نہ بنانا۔ الٰہی! سب مَخْلُوق سے بے نیاز کر دے ۔
لٰہی ! آپ نے قرآن کریم میں کہا ہے وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ کہ گھر پر سائل آئے تو اس کو مت جھڑکو تو اے خداوندِ جہاں ہم بھی سائل ہیں کیا آپ ہم کو جھڑک دیں گے الٰہی دل کی مُرَادیں پوری کر دے ۔ اور اے اللہ ! آپ نے تو کہا ہے فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلِ کوئی تمہارے ساتھ بُرا کرے اسے معاف کر دیا کرو۔ اے کریم ! ہم نے بھی بُرا کیا ہے، ہم کو بھی معاف کر دے۔
الٰہی ! تیرے گنہگار بندے تیرے در پر آتے ہیں اپنی رحمت سے بخشدے ، ہمیں آپ کا فضل و کرم چاہئے اپنی نعمتیں ختم نہ کرنا بلکہ اور زیادہ دیدینا کہ ہم بہت مَحْتَاج ہیں ۔ آپ کا بابِ رحمت وَسِیع ہے ، آپ کے سوا اور کوئی ہم کو غَنِی نہیں کر سکتا آپ کے فِنَائے کَرَم سے کون خالی گیا ہے ہمیں بھی عطا کر دے کہ تیرے سوا کوئی عطا کرنے والا نہیں ہے ۔
اے ننھے بچوں کو روزی دینے والے ! ٹوٹی ہڈیاں جوڑ دینے والے ! بے چینوں کی بے چینی میں کام آنے والے ! پروردگار ہم پریشان حال دنیا کے بکھیڑوں سے گھبرائے ہوئے عَرَفَات میں آتے ہیں ہم کو اب اپنے سے دور نہ کرنا ۔ الٰہی ! ہمارا ہاتھ پکڑنے والا تیرے سوا کوئی نہیں۔ اگر تو نے بھی دور کر دیا تو پھر رحم کرنے والا کون ہے اے رَحِیم ! رحم فرما، اے کَرِیم ! کرم فرما ، اے لَطِیف ! مہربانی فرما۔ اے عَزِیز ! عزت دے ، ذِلَّت سے بچا۔ الٰہی ! ان بیت الحرام کے حج کرنے والوں کا واسطہ اور یَثْرِب کے رَوْضَہِ اَطْہَر والے نبی علیہ السلام کا واسطہ ہماری آنکھیں ٹھنڈی کرنا ، سَعَادَت اور نیک بختی دینا ، کلمہِ شَہَادَت کے وقت زبان نہ روکنا ، موت کے وقت کلمہ جاری کر دینا کہ کلمہ پڑھتے ہوئے ایمان پر روح نکلے ، ہم محتاج و بے بس ہیں ہم کو ہمارے جرموں پر نہ پکڑنا غنی کو فقیر پر رحم آیا کرتا ہے مسکین و کمزور ہیں مگر گناہوں میں بڑھ گئے ہیں کہ گناہوں کا غُبَار آسمان تک جا پہنچا ہے اے رحمت والے ! ان گناہوں پر اَبْرِ رَحْمَت برسا دے کہ اَبْرِ رَحْمَت سے تمام غُبَار چھٹ جاتا ہے ۔
اے ہمارے مَعْبُود ! جس نے چُھپ چُھپ کر آپ کی نافرمانیاں کی ہوں وہ بَرْمَلَا کس منہ سے مُنَاجَات کرے مگر آپ کا حکم ہے کہ ہم آپ سے کہہ سن لیتے ہیں اور آپ قُبُول فرمالیتے ہیں۔ اے حَکِیم ، اے حَلِیم ! حِلْم کر۔
اے دلوں کی اِصْلَاح فرمانے والے ! ہمارے دل اور ہمارے قُلُوب کی ظاہری و بَاطِنِی اِصْلَاح فرما دے اے ذَاتِ کَرِیمِی ! جس کے کرم کے سامنے پہاڑوں کے برابر گناہ بھی بے مِقْدَار ہیں ہم کو معاف کر دے ! آپ نے ایمان دیا ہے یہ ایمان کا لباس پہنائے رکھنا ، ہمارا ایمان اور یقین اور زیادہ کر دے ۔ قیامت میں جب نَامَہ اَعْمَال تقسیم ہوں گے تو ہمارا نَامَہ اَعْمَال دائیں ہاتھ میں دینا ۔ آپ سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں ہمارے آقا و ہادی حضرت رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم پر لاکھوں کروڑوں ان گنت دُرُود و سلام، رحمتیں اور برکتیں نازل فرما، ان کی آل و اَصْحَاب پر اور ان کے ساتھ الٰہی ہم پر بھی۔ اور ان عَرَفَات والوں پر بھی ۔
لَبَّيْک پڑھو تین بار پھر درود شریف پڑھو سو بار :
اللهُمَ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَعَلَيْنَا مَعَهُمُ۔
یا الٰہی ! جب آپ کو بخشنا ہے تب ہی تو اِسْتِغْفَار کا حکم دیا ہے سو ہم کو بخشدے۔ الٰہی ! توبہ قُبُول کرنا چاہتے ہیں تب ہی تو توبہ کرنے کا حکم دیا ہے ، ہماری توبہ ہے ہماری توبہ قُبُول کرلے ۔ اور اگر آپ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو ہم کس طرح آپ سے دعا کرتے ، یہ دعا کرنا بھی آپ کے فضل سے ہے ۔
سوال کرنے سے پہلے دل میں ڈالنے والے ، اور عرض کرنے سے پہلے قُبُول کرنے والے ، دلوں کے بھید جاننے والے ! ہم آپ سے پوری پوری امید رکھنے والے ہیں۔ ہم کو یقین ہے کہ آپ نے ہم کو بخش دیا ہے ۔
الٰہی ! ہم خَطَاوَار اور آپ اِحْسَان کرنے والے ہیں اور اِحْسَان کرنے والے کا کام یہی ہے کہ نعمت پوری کر دے اور خطا کار کے لائق یہی ہے کہ خطاؤں کا اِقْرَار کرے۔ آپ کی نعمتوں اور احسانات کا اور اپنی خطاؤں کا ہم اِقْرَار کرتے ہیں بس اے غَنِی ! ہم مَحْتَاج ہیں ہم پر نَظَرِ رَحْمَت فرما ہم کو، ہمارے والدین ، گھر کے افراد ، بچے بچیوں کو ، اَقْرِبَاء و اَخِیَار کو سب کو بخشدے ۔
اے اِلٰہَ الْعَالَمِین ! اگر تیری رحمت صرف نیک لوگوں کے لئے ہے تو گنہگاروں کی امیدیں کون پوری کریگا آپ نے خود فرمایا ہے :
قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
ترجمہ : اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کر لیا ہے وہ اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہوں ، اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو معاف کر دیگا بے شک وہ بڑا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے ۔
الٰہی ! آپ نے ہم کو مسلمان پیدا کیا ، اب ہم کو اپنے عذاب سے سلامتی دے، تو نے ہم کو مُؤْمِن بنایا سو ہم کو اپنے عذاب سے امن دے ۔ الٰہی ! آپ کے صَحْنِ کَرَم میں بیٹھے ہیں ، آسرا لگا رکھا ہے ، عَفْو و کَرَم اور تیرے فضل کا سوال کرنے والے ہیں ، ہم کو عذاب نہ دینا ، قبر کے عذاب سے، حشر کے عذاب سے اور دوزخ کے عذاب سے بچانا ۔
الٰہی ! آپ غَنِی ہیں ہم کمزور بے بس آپ کے بندے ہیں ۔ اگر آپ سے نہ کہیں تو کس سے کہیں ، آپ سے اِلْتِجَا نہ کریں تو کس سے کریں ؟ آپ کے سوا اور کون دینے والا ہے۔ آپ ہی ہمارے لئے کافی ہیں ، ہمارے لئے تو یہی شرف کافی ہے کہ آپ ہمارے رب ہیں اور آپ بالکل ویسے ہی ہیں جیسا کہ ہم چاہتے ہیں سو آپ بھی ایسے ہو جائیں جو ہم چاہتے ہیں ہمارے اور تمام مسلمانوں کے بیماروں کو شِفَادے ، ان کو صحت و سلامتی عطا کر، جو بے اولاد ہیں ان کو نیک اولاد عطا کر ، جن کی اولاد ہے ان کو نیک صَالِح اور فرمانبردار کر دے ، جو قرضدار ہیں ان کا قَرْضَہ ادا کر دے ، جو بے روزگار ہیں ان کو روزگار سے لگا دے جو کسی مُصِیبَت میں مبتلا ہیں ان کی مُصِیبَت دور کر دے، جو پریشان حال ہیں ان کی پریشانی دور فرمادے ، جو ناتے رشتے میں پریشان ہیں اچھا ناطہ رشتہ ان کو عطا کر دے ہر مسلمان مرد و عورت کو دو جہاں کی خوبی اور عزت دے، ہر بلا و مُصِیبَت سے بچا ، ہر بری بیماری سے بچا ، مُقَدَّمَہ بازی سے بچا، بری موت سے بچا، بڑی گھڑی آنے سے بچا ، دشمنوں سے بچا، شیطان سے بچا ، مَکْر و فَرِیب سے بچا، حَاسِدوں سے بچا ، نَا اِتِّفَاقِی سے بچا اور ہر قسم کی راحت و چین نصیب فرما۔ اے قدرت والے ! تیری قدرت میں کیا نہیں ہے تو سب کچھ کر سکتا ہے ہماری دعا ہمارے حق میں قُبُول کر اور جنہوں نے ہم کو دعا کے لئے کہا ہے ان کے حق میں اور تمام ملنے جلنے والوں کے حق میں ہماری اولاد اور تمام مسلمانوں کے حق میں قُبُول فرما۔
الٰہی ! حضور صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم کی اُمَّت پر رحم فرما، الٰہی! حضور صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم کی اُمَّت کے بگڑے کام بنا دے، الٰہی ! حضور صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم کی اُمَّت پر رحم فرما ، الٰہی ! حضور صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم کی اُمَّت کی اِصْلَاح کر دے ، بُرے کاموں سے بچالے، نیکیوں پر لگالے ہم تو سب کے لئے دعا کرتے ہیں ، سب کے بھلے کے خَوَاسْتگَار ہیں ان کے ساتھ ہمارا بھی بھلا کرنا یَا اِلٰہَ الْعَالَمِین ۔
لَبَّيْک پڑھو تین بار، درود شریف ایک بار، سورة اخلاص سو بار –
يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِين ! ہم آپ پر کیسے اِعْتِمَاد اور بھروسہ نہ کریں ، ہمارے سارے کام آپ کے ہاتھ میں ہیں ، الٰہی ! ہمارے گناہ جتنے بھی ہیں مگر ان کی ایک حد ضرور ہے مگر آپ کے فضل و کرم کی تو کوئی انتہا اور حد نہیں ہے، الٰہی ! جسے آپ عزت دیں تو اسے کون ذلیل کر سکتا ہے اور جس کی آپ اِہَانَت کریں تو کون اسے عزت دے سکتا ہے اے عزتوں کے مالک ! ہم کو عزت عطا فرما اور اِہَانَت و ذِلَّت سے بچا۔ آپ پردہ پوشی کرنے والے سَتَّارُ الْعُيُوب ہیں دونوں جہاں میں پردہ ہی رکھنا ، آپ کے کرم کے بھوکے ہیں کرم ہی کرم کرنا۔
اِلٰہَ الْعَالَمِین ! جس پیشانی نے آپ کو سجدہ کیا، کیا آپ اسے عذاب میں ڈالیں گے الٰہی ! جس زبان نے آپ کا نام لیا اور جس دل نے آپ کی تصدیق کی کیا ان کے لئے عذاب و سزا ہے ۔ الٰہی ! آپ کی شَانِ کَرِیمِی بہت بلند و بالا ہے کہ آپ ایسے کرنے والے کو عذاب دیں۔ جو گناہ ہوئے ہیں تو آپ کے جُود و کَرَم کے لائق یہی ہے کہ آپ معاف کر دیں ۔ آپ اِحْسَان کرنے والے ، بے انتہا کرم کرنے والے ہیں ۔ الٰہی ! ہم خَطَاکَار ہیں آپ بخشنے والے، ہم ناشکرے ہیں اور آپ احسان پر احسان کرنے والے ہم کو برسوں شیطان نے بہکایا آپ کے در سے دور رکھا ۔ آج اس شیطان کو (ہمیں بخش کر) ذلیل و خُوَار کر دے کہ یہ خاک سر پر ڈالے ۔ آج آپ فرشتوں سے فخریہ کہہ رہے ہیں کہ اے فرشتو ! دیکھو میرے بندے اور بندیاں غُبَار آلُودَہ کس طرح اس میدان میں اکٹھے ہو گئے ہیں دور دراز مَقَامَات سے تنگ راستوں سے چل کر آتے، ان کی کیا جَزَا ؟ اے فرشتو ! تم گواہ رہو ان کو میں نے بخش دیا ہے اور جن کے لئے یہ کہیں ان کو بھی بخش دیا ہے ، الٰہی ! ہم بھی تو تیرے ان یہاں بیٹھنے والے بندوں میں سے ہیں، ہم آپ سے کیسے ناامید ہو سکتے ہیں ہم کو بخش دے اور کل جہاں کے مسلمان مردوں عورتوں کو بخش دے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر کرنا ، جب تک ہماری نسل دنیا میں چلے سب کو با ایمان اٹھانا اور ان کی روزی تنگ نہ کرنا ۔ یہاں کی حاضری سب کو نصیب کرنا ۔
اے اَرْحَمَ الرَّاحِمِین ! ہم آپ کو آپ کے اِسْمِ اَعْظَم کا واسطہ دیتے ہیں اور اِسْمِ اَعْظَم ہی سے سوال کرتے ہیں کہ جس نام کو لینے کے بعد آپ دعا قُبُول فرما لیتے ہیں آپ کو آپ کے تمام ناموں کا واسطہ ہماری آنکھوں میں نُورِ ایمان بھر دے ہمارے کانوں میں نُورِ ایمان بھر دے ، ہمارے بدن میں ، ہمارے گوشت پوست میں نور ہو، ہمارے دائیں نور ہو ، ہمارے بائیں نور ہو، آگے پیچھے نور ہی نور کر دے ، ہمارے دل میں روشنی بھر دے۔
الٰہی ! آپ نے ہم کو اسلام و ایمان کی ہدایت دی ہے تو اب اسے نہ چھیننا اور خاتمہ بِالْخَيْر ایمان پر کرنا اور ہر قسم کے شَرّ و فِتْنوں سے بچا کر رکھنا ۔
الٰہی ہم آپ کے نبی کے اُمَّتی ہیں ، ہم کو ان کی سنت پر زندہ رکھنا اور ان کی مِلَّت پر اٹھانا ، اسی پر وفات دینا اور ظاہری و بَاطِنِی ہر فتنے سے بچا کر رکھنا ۔ الٰہی ! ہر بیماری سے بچانا کسی کا قرضدار اور محتاج نہ کرنا، الٰہی ! کسی کا دَسْت نِگَر نہ کرنا ، الٰہی ! حَاسِدوں دشمنوں سے بچانا ، جادو ٹونے ٹوٹکے اور تَعْوِیذ گنڈوں کے شر سے بچانا ، بری موت سے، ہر بڑی گھڑی سے بچانا، اپنی عبادت اور اپنے رسول صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم کی اطاعت کی توفیق دینا ، ہمارے ملک میں اپنا قانون جاری کر دے اور سب کو نیک بنادے ہر برائی سے چھڑا دے ، پاکستان کی داخلی و خارجی دشمنوں سے حفاظت فرما، ہم پر نیک دل رحم کرنے والے حاکم رکھ اور تمام رَعَايَا کو اپنے حکم کے مطابق ملک میں اَمْن و اَمَان قائم رکھنے کی توفیق عطا فرما، رسول کریم صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم کے طریقے پر چلا ، برے کاموں سے دور کر دے۔ اپنے اور مسلمانوں کے دشمنوں کو ہلاک کر دے ، ان کی جماعت میں تَفَرُّقَہ ڈالدے ، ان کی تدبیریں الٹا انہی پر ڈالدے اور مسلمانوں میں آپس میں اتفاق کردے۔
الٰہی ! دُشْوَارِیاں ہماری آسان کردے ، اپنے نیک بندوں میں سے کر دے ، ہمیں جَنَّتُ الْفِرْدَوْس کا وارث بنا دے ہم کو اور ہم سب کے ماں باپ ، اَقْرِبَاء کو، خاندان والوں کو اور حضور صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم کی تمام اُمَّت کو بخش دے ۔
الٰہی ! اس عَرَفَات کے میدان میں سب دعا کر رہے ہیں جس جس کی دعا آپ کو پسند آرہی ہے ، آپ اس سے راضی ہیں ، ہم کو بھی ان کی دعاؤں میں شامل کرلے اور ہماری دعاؤں میں ان کو شامل کرلے اور یہاں جتنی دعائیں نیک بندوں نے آج تک کی ہیں، اور وہ قُبُول ہو گئی ہیں ان سب میں ہم کو بھی شریک کرلے اور قیامت تک جتنی دعائیں ہوتی رہیں گی ہم کو برابر سب کی نیک دعاؤں میں شریک رکھنا اور ہمارا خاتمہ ایمان پر کرنا۔ یہ سب دعائیں ہمارے حق میں قُبُول ہوں اور جس جس نے دعا کے لئے کہا ہے یا چاہنے والے اور آئندہ جو ہم سے کہے سب کے حق میں قُبُول کر لینا ۔
رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
اِلٰہَ الْعَالَمِین ! حج کرنے والوں اور عمرہ کرنے والوں کو آپ نے اپنا وَفْد کہا ہے ہم بھی ان میں سے ہیں ہر وَفْد کو انعام ملا کرتا ہے اور زیارت کرنے والے کا اِکْرَام ہوا کرتا ہے اور ہر سائل کو عَطِيَّہ دیا جاتا ہے ہم بھی اسی وَفْد میں ہیں ، آپ کے گھر کی زیارت کو آتے ہیں ہم بھی سائل ہیں، ہم کو حرم کے دروازے پر بٹھایا ، دروازے پر کھڑے اِلْتِجَا کر رہے ہیں آپ کی مَغْفِرَت کے اُمِّیدوَار ہیں ۔ الٰہی ! ہماری امید پوری کر دے ، اس شیطان لَعِین کو بے مراد کر دے ذلیل کر دے اور آئندہ اس کے مَکْر و فَرِیب سے ہم کو بچا کر رکھنا۔ خاص کر موت کی آخری گھڑیوں میں اس مَرْدُود کو دور رکھنا، ہماری زبانوں پر اپنا کلمہ جاری کر دینا الٰہی ! ہم کو اور تمام مسلمانوں کو بخش دے تاکہ یہ مَرْدُود ذلیل ہو جائے۔
الٰہی ! ہماری ضرورتیں اور جتنی حاجتیں دل میں ہیں ہم آپ سب جانتے ہیں ، ان کو پورا کر دیجئے اور آئندہ پکے نمازی ، دین پر چلنے والے ہوں ، حُسْنِ خَاتِمَہ، دوزخ سے نجات اور جنت کی کامیابی عنایت کر۔
الٰہی ! دنیا والے جب ہمارا ساتھ چھوڑ دیں آپ ہمارا ساتھ نہ چھوڑنا ۔ جب دنیا ہم کو بھول جائے آپ ہم کو نہ بھولنا اپنی رحمت سے یاد رکھنا۔ الٰہی ! اولاد کا غم نہ دینا۔ الٰہی ! آپ کی ناراضگی کی برداشت نہیں ہے مولا ! ناراض نہ ہونا ، آپ کے عذاب کی سہار نہیں ہے بہت کمزور ہیں ، آپ کی رحمت درکار ہے۔ الٰہی مُصِیبَت اور دُکھ تکلیف اور غم کی سہار نہیں ہے بہت کمزور ہیں آپ کی رحمت سے فریاد ہے ، آپ نے فرمایا ہے میری رحمت میرے غَضَب پر بڑھی ہوئی ہے ، رحمت کرنا۔
اے میرے اللہ ! کتنے آدمی عَرَفَات میں اور تمام دنیا میں الگ الگ زبانوں میں تجھے پکار رہے ہیں ، دعا کر رہے ہیں ۔ آپ کی شان کتنی بڑی ہے بیک وقت آپ سب کی سن لیتے ہیں اور مراد پوری کر دیتے ہیں، اپنی معافی کی ٹھنڈک سے نواز دے آپ اَرْحَمَ الرَّاحِمِین ہیں ۔
الٰہی ! ہم جَنَّتُ الْفِرْدَوْس مانگنے آتے ہیں اپنے کرم و فضل سے عطا کر دے ، ہم کو بھی ہمارے ماں باپ اور اولاد کو بھی ، بھائی بہنوں اور اَقْرِبَاء کو اور تمام مُؤْمِن مردوں عورتوں کو عطا کر دے ۔ یہ تمام دعائیں ہمارے جاننے والوں اور ہمارے سلسلے والوں ، اور مَشَائِخ کے لئے بھی قُبُول فرما ۔
نیک حاجتیں پوری کرنا، مشکلات ہماری آسان کرنا ، کُل عالم کے مسلمان مردوں عورتوں کے بیماروں کو شفا دینا ، غم زدوں کا غم دور کرنا، بِقَرَاروں کی بیقراری دور کرنا، حقداروں کا حق دلانا ، ظالم سے مظلوم کا حق دلانا ، قرضداروں کا قرض ادا کرنا ، بے روزگاروں کو روزگار دینا، بے اولادوں کو نیک اولاد دینا ، اولاد والوں کی اولاد کو فرمانبردار کرنا ۔ جب تک ہماری نسل چلے سب کو اسلام و ایمان پر قائم رکھنا ، ہم کو نیک دعاؤں کی توفیق دینا ، گناہوں سے بچانا، توبہ کی توفیق دینا، ایمان پر دنیا سے اٹھانا اور جو خیر آپ سے آپ کے نبی علیہ السلام نے مانگی ہیں ہم کو عطا کر دے اور جن شَرّوں سے انہوں نے آپ سے پناہ مانگی ان تمام شَرّوں سے ہم کو بچانا۔ اے اللہ معافی دے عَافِيَت دونوں جہاں کی دے اور اسلام لانے تک جتنے ہمارے والدہ اور والد کی طرف سے گزرے ہیں ان کے تمام خُوِیش و اَقَارِب کی مَغْفِرَت کر دے اور ہماری سب کی یہی دعا ہے :
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامُ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
میدانِ عَرَفَات میں دعا سے جس وقت فارغ ہوں اور رغبت ہو تو درج ذیل اِسْتِغْفَار بھی کرلیں تو اچھا ہے۔
اِرْشَادُ السَّارِی میں حضرت ملا علی قاری رحمہ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ کوئی مظلوم قید خانہ میں چلا گیا وہاں اس کو نبی کریم صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم کی زیارت ہوئی اور اپنے اس قیدی کو مندرجہ ذیل اِسْتِغْفَار تعلیم فرمائے جو عربی زبان میں ہیں ان کا ترجمہ یہاں لکھدیا گیا ہے، روزانہ دس اِسْتِغْفَار پڑھنے کے لئے فرمایا سات روز کے یہ کل ستر اِسْتِغْفَار ہوتے ہیں۔ جمعہ سے شروع کرے اور جمعرات کو ختم کرے ۔ قیدی نے ان اِسْتِغْفَارَات کو پڑھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو نجات دیدی ۔
عَلَّامَہ اِبْنِ حَجَر عَسْقَلَانِی نے مَسْنَد کے ساتھ نقل کیا ہے کہ حضرت امام حَسَن بَصْرِی کہتے ہیں میں نے ایک مرتبہ دعا کی حضورِ اَکْرَم صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم کے رَوْضَہِ مبارک پر کہ کسی اللہ کے ولی کی جاگتے ہوئے زیارت ہو جائے کئی سال کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ میں عَرَفَات کے میدان میں جَبَلِ صَخَرَات کے پاس کھڑا تھا اچانک مجھے سات آدمی نظر آئے وہ اس جگہ کھڑے تھے جہاں وَادِی نُعْمَان کے سامنے پیلو کا درخت ہے ، میرے دل نے خود یہ کہا کہ یہ اَوْلِيَاءُ اللّٰہ ہیں ، میں نے سلام عرض کیا ، انہوں نے بہت اَحْسَن جواب دیا۔ ان میں ایک شیخ تھے بہت نورانی چہرے والے تھے ، میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا ، نماز کا وقت آیا تو ایک شخص نے اذان دی اِقَامَت ہوئی اور اس شیخ نے نماز پڑھائی ، میں نے بھی ان کے ساتھ نماز ادا کی۔ میرے خیال میں میں نے کبھی اس سے بہتر نماز ادا نہ کی ہوگی ۔ شیخ نے نماز کے بعد الحَمدُ لِلهِ كَثِيرًا کہا ، مجھے یہ خیال ہوا کہ یہ غائب نہ ہو جائیں فورا شیخ نے کہا ہدایت پر وہی ہے جسے اللہ ہدایت دے۔ پھر ایک شخص نے مجھ سے کہا خدا تجھ پر رحم کرے اس کو سکھلا دے سو اس شخص نے مجھ سے کہا کہ دوزخ سے نجات دینے والے اِسْتِغْفَار میں تین راتوں میں پڑھا کرتا ہوں ، میں نے دریافت کیا کہ وہ راتیں کونسی ہیں اس شخص نے کہا ذِی الْحِجَّہ کی ساتویں، نویں اور دسویں رات کو ان کا پڑھنے والا سمجھ کر پڑھے تو امید ہے اللہ تعالیٰ اس کو گھبراہٹ والے دن سے نجات عطا فرمائے اور امن سے رکھے۔ شاید اللہ تعالیٰ اس کو وَلَایَت سے نوازے ، ہم نے عرض کیا وہ مجھے بھی بتا دیجئے۔ سو اس شخص نے کہا وہ یہ ہیں :
اصل عربی تو اِرْشَادُ السَّارِی میں ہے ان کا خلاصہ و مطلب درج ذیل ہے۔ معانی کے ساتھ ساتھ دل کو لگائے رکھئیے اور پڑھئے :
1. اے اللہ ! آپ نے مجھے عَافِيَت بخشی ، آپ کے فضل و کرم سے بہت نعمتیں آپ کی کھائیں اور برتیں آپ نے کبھی بھوکا نہیں رکھا، برابر روزی پہنچائی ، آپ کی ان نعمتوں کے کھانے سے قوت آئی لیکن میں نے اس قوت کو بجائے آپ کی فرمانبرداری کے نافرمانی میں خرچ کیا ، کتنے ہی میں نے عیب کئے۔ اپنے لوگوں سے پردہ میں رکھا، کبھی آپ کا خوف آیا تو آپ کے امن و عَافِيَت سے دھوکہ کھا گیا اور سمجھا کہ مجھے آپ نہ پکڑیں گے اور آپ کی پکڑ کا خیال بھی آیا تو آپ کے علم کی طرف دھیان گیا اور عَفْو و کَرَم کی امید میں گناہ کر بیٹھا۔ اے اللہ ! میں ہر ایسے گناہ سے معافی چاہتا ہوں مجھے بخشد دیجئے۔
فَصَلِّ وَسَلَّمَ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آله وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْر الْغَافِرِينَ
2. اے پروردگار ! میں آپ سے ہر اس گناہ کی معافی چاہتا ہوں جو آپ کے غَضَب کا باعث ہو اور ہر اس گناہ سے بھی جس کو آپ نے منع کیا تھا اور میں کر گزرا اور اس گناہ سے بھی معافی مانگتا ہوں جس کی نُحُوسَت سے میں آپ کی عبادت و اطاعت سے مَحْرُوم ہوا۔
فَصَلِّ وَسَلَّمَ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آله وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْر الْغَافِرِينَ
3. اے اللہ ! میں ہر اس گناہ کی بھی معافی چاہتا ہوں کہ میں نے آپ کی مخلوق میں سے کسی کو گناہ میں لگا دیا ہو حِیل و حَوَالَہ کر کے اس کو گناہ کی بات میں پھنسا دیا ہو، یا اسے تو اس گناہ کی بات کا علم نہ تھا میرے بتانے سے اس نے گناہ کو مانا اور کیا کسی کے گناہ کا باعث ہوا ہوں، کل قیامت کے روز ان گناہوں کو لے کر کس طرح سامنے آؤں گا ۔ الٰہی ! مجھے اور میرے ہر ایسے گناہ کو معاف فرمادے ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الغَافِرِينَ
4. اے اللہ ! میں ہر ایسے گناہ سے پناہ چاہتا ہوں جو گمراہی اور کفر کی طرف لے جائے ، راہ سے بے راہ کر دے ، لوگوں میں بے وقار کر دے ، دنیا و آخرت میں رُسْوَائی ہو جائے اور دیگر ایسے گناہ کر گزرا تو الٰہی مجھے معاف فرمادے ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى أله وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
5. اے اللہ ! ایسے گناہ کہ جن کے اِرْتِکَاب سے میں نے اپنے جسم کو تھکا دیا اور مخلوق سے پردہ کرتا رہا لیکن ہائے تجھ سے پردہ نہ ہو سکتا تھا لیکن تجھ سے پردہ میں ہو جانے کا خیال بھی نہ آیا ۔ اس کے باوجود کہ آپ مجھ کو رسوا کر سکتے تھے مجھے رُسْوَائی سے بچالیا اور حقیقت میں آپ کے سوا اور کون ایسا ہے کہ گناہ دیکھتا ہو اور پردہ پوشی کرتا ہو۔ اے اللہ! میر ہر گناہ کو معاف فرمادے ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
6. اے پروردگار ! میں تو نافرمانی کرتا رہا لیکن آپ نے اپنے علم سے مجھے ڈھیل دیدی ، مجھے گناہ کرتے ہوئے دیکھ کر بھی مجھے چھوڑے رکھا، اس بَد اَعْمَالِی کے ساتھ میں نے جو مانگا آپ نے دیا ۔ آپ کا کہاں تک شکر ادا کر دوں ، مجھ پر میرے دشمنوں نے خُفْيَہ و عَلَانِيَہ حملے کئے مجھے ایذا پہنچانی چاہی لیکن آپ نے مجھے ان سے ان کے حملوں سے بچالیا اور مجھے رسوا نہ ہونے دیا۔ آپ نے مجھ گنہگار و عَاصِی کی اس طرح مدد کی جیسے آپ اپنے اِطَاعَت گزار بندوں کی مدد فرماتے ہیں ، مجھے اس طرح رکھا جیسے اپنے پسندیدہ بندوں کو رکھا کرتے ہیں لیکن اے پروردگار ! اس کرم کے ہوتے ہوئے بھی میں مَعَاصِی ہی کا اِرْتِکَاب کرتا رہا اور باز نہ آیا الٰہی مجھے محض اپنے فضل و کرم سے بخشد دیجئے۔
فَصَلِّ يَا رَبِّ وَسَلِّمْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الغَافِرِينَ
7. اے پروردگار ! میں نے کتنی بار توبہ کی قسمیں کھائیں واسطے دیئے کہ اب یہ گناہ نہ کروں گا لیکن جب شیطان نے اس گناہ کی طرف دعوت دی ، مجھے میرے نفس نے اس کو مُزَيَّن کر کے سامنے کیا تو میں نے بے دھڑک اس گناہ کا اِرْتِکَاب کیا ۔ افسوس مجھے لوگوں سے تو حیا آئی لیکن آپ سے کبھی حیا نہ کی کہ آپ ہر وقت دیکھنے اور خبر رکھنے والے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ سے کہاں چھپ سکتا ہوں نہ کوئی مکان نہ اندھیرا، نہ کوئی حِیلَہ و تَدْبِیر آپ سے اوجھل کر سکتا ہے۔ افسوس میری اس جُرأت پر کہ جس کام کو آپ نے منع کیا تھا میں نے جان کے بھی مُخَالَفَت کی پھر بھی آپ نے پردہ فاش نہ کیا بلکہ اپنے بندوں میں اس طرح شامل رکھا کہ گویا میں بھی آپ کا فرمانبردار بندہ ہوں، ان گناہوں سے شَرْمِنْدَہ ہوں کہ ان کو سوائے آپ کے اور کوئی نہیں جانتا اگر آپ چاہتے گناہ کرنے کے بعد کوئی نشان چہرے پر لگا دیتے لیکن اے اللہ ! تو نے نیکوں کا سا چہرہ بنائے رکھا ، لوگوں کی نگاہ میں با عزت رہا لوگ مجھے اپنے نزدیک اچھا ہی سمجھتے رہے ورنہ میں تو جیسا تھا آپ کے علم میں ہے، یہ محض آپ ہی کا فضل و کرم تھا الٰہی ! ایسے سب گناہ میرے بخشد دیجئے ۔
فَصَلِ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ ۔
8. اے اللہ ! میں ہر اس گناہ کی معافی چاہتا ہوں جس کی لذت سے میں نے ساری رات کالی کر دی ، اس کی فکر میں دِمَاغ سُوزِی کرتا رہا ، رات سِيَاہ کَارِی میں گزاری اور صبح نیک بن کر باہر آیا حالانکہ میرے دل میں بجائے نیکی کے وہی گناہ کی گندگی بھری رہی ۔ اے پروردگار ! تیری ناراضگی کا کوئی خوف ہی نہ کیا۔ میرا کیا حال ہوگا ۔ الٰہی ! مجھے اپنی مہربانی سے معاف فرمادے ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى اله وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ ۔
9. اے اللہ ! میں اس گناہ کی بھی معافی چاہتا ہوں جس کے سبب آپ کے کسی ولی پر ظلم کیا ہو یا آپ کے کسی دشمن کی مدد کی ہو یا تیری مُخَالَفَت میں چل کھڑا ہوا ہوں یا تیرے اَوَامِر و نَوَاہِی کے خلاف تگ و دو میں لگا رہا ہوں ایسے سب گناہ معاف فرمادیجئے۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ وَسَلَّمْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ على آلِهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ۔
10. اے اللہ ! اس گناہ سے بھی معافی دے کہ میں نے مسلمانوں میں بُغْض و عَدَاوَت اور مُنَافَرَت پھیلا دی ہو یا میرے گناہوں کے باعث مسلمانوں پر آفت و مُصِیبَت آگئی ہو یا میرے گناہ کی وجہ سے دُشْمَنَانِ اسلام کو ہنسنے کا موقع ملا ہو یا دوسروں کی میرے گناہ کی وجہ سے پَرْدَہ دَرِی ہوئی ہو یا میرے گناہ کے باعث مخلوق پر بارش برسانے سے روک لی گئی ہو ، الٰہی ! میرے سب گناہ بخشد دیجئے ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
11. اے اللہ ! آپ کی ہدایت آجانے کے بعد اور دین کی بات کا علم ہو جانے کے بعد بھی میں نے اپنے آپ کو غَافِل بنائے رکھا۔ آپ نے حکم دیا، یا منع کیا، عمل کی رَغْبَت دلائی ، اپنی رِضَا و محبت کی طرف بلایا اور اپنے قریب کرنے کے لئے اَعْمَالِ خَيْر کی دعوت دی۔ آپ نے سب کچھ انعام کیا لیکن میں نے کوئی پرواہ نہ کی الٰہی ! میری ہر ایسی خطا کو معاف فرمادے ۔
فَصَلِّ وَسَلَّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى الهِم وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
12. اے اللہ ! جس گناہ کو کر کے میں بھول گیا ہوں لیکن آپ کے یہاں وہ لکھا ہوا ہے میں نے اس کو ہلکا سمجھا لیکن نافرمانی پھر نافرمانی ہے وہ آپ کے یہاں موجود پاؤں گا میں نے بار ہا عَلَانِيَہ گناہ کیا آپ نے چھپا لیا، لوگوں نے دھیان نہ کیا اور ہر ایسا گناہ جس کو آپ نے اس لئے رکھ چھوڑا ہے کہ توبہ کرے گا تو معاف کریں گے الٰہی میں سچے دل سے توبہ کرتا ہوں مجھے معاف فرمادیجئے اور میری توبہ قُبُول فرما لیجیے ۔
فَصَلِّ وَسَلَّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ۔
13. اے اللہ میں نے ایسے گناہ بھی کئے کہ میں کرتا اور ڈرتا رہا ہوں کہ اب پکڑا جاؤں گا مگر آپ نے رکھا، میں نے گناہ کرنے میں پوری کوشش صرف کردی ، رُسْوَائِی کا بھی خیال نہ کیا لیکن آپ نے پردہ پوشی ہی بچائے رکھا۔ فرمائی الٰہی ! وہ گناہ بھی میرے معاف کر دے۔
فَصَلِّ وَسَلَّم وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى اله وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ ۔
14. اے اللہ ! مجھے اس گناہ کی وَعِيد اور سزا معلوم تھی آپ نے اس کے عذاب سے ڈرایا ، اس کی برائی بیان کی مجھے علم تھا لیکن نَفْسِ شیطان نے اسے ایسا سجا یا کہ میں نے آپ کی وَعِيد و دھمکی سے بے اِعْتِنَائِی برتی ، اے اللہ ! مجھے معاف فرمادے ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمُ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى ألهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
15. اے اللہ ! میں ہر ان گناہوں سے معافی چاہتا ہوں جو آپ کی رحمت سے دور کر دیں اور عذاب میں مُبْتَلَا کرنے کا ذریعہ ہوں ۔ عزت سے مَحْرُوم کر دیں اور برائی کے لائق کر دیں ، آپ کی نعمتوں کے زَوَال کا سبب ہوں ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمُ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ۔
16. اے اللہ ! میں ہر اس گناہ سے معافی چاہتا ہوں جس سے میں نے آپ کی کسی مخلوق کو عار دلائی ہو، یا آپ کی مخلوق کو فِعْلِ قَبِيح میں مُبْتَلَا کر دیا ہو اور خود میں بھی اس میں لگ گیا ہوں اور جُرأت کے ساتھ کر رہا ہوں ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمُ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى اله وصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
17. اِلٰہَ الْعَالَمِین ! گناہ کر کے توبہ اور توبہ کرنے کے بعد پھر وہی کیا۔ اپنی توبہ کو جانتا رہا اور گناہ کرتا رہا ۔ رات کو معافی مانگی دن کو پھر وہیں چلا گیا اور بار بار یہی حال رہا الٰہی ! میں اپنے گناہوں کا اِقْرَارِی ہوں اور آپ کی نعمتوں کا بھی اِقْرَار کرتا ہوں مجھے معاف فرمادے ۔
فَصَلِّ وَسَلَّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ ۔
18. اے اللہ ! میں نے آپ سے کوئی وعدہ کیا ہو یا نَذْر مان کر کوئی عبادت واجب کی ہو یا آپ کی کسی مخلوق سے وعدہ کر کے پھر گیا ہوں یا غُرُور میں آکر اس کو ذلیل و حقیر سمجھا ہو، اے اللہ ! اس کی ادائیگی کی توفیق عطا فرما اور مجھے معاف فرمادے ۔
19. الٰہی ! آپ نے نعمت پر نعمت عطا کی اس سے قوت آئی لیکن آپ کی اس دی ہوئی قوت کو میں نے آپ ہی کی نافرمانی میں خرچ کیا ، کتنا بُرا کیا آپ نے تو کھلایا پلایا اور میں نے آپ ہی کی مُخَالَفَت کی آپ کو ناراض کر کے مخلوق کو راضی کیا، نَادِم ہوں برا کیا اے اللہ ! مجھے معاف فرمادے۔
فَصَلِّ وَسَلِّمُ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
20. اِلٰہَ الْعَالَمِین ! کتنی بار ایسا ہوا کہ میں نیکی کے ارادے سے چلا مگر راستے ہی میں گناہ کی طرف چلا گیا اور جہاں کو تیرا غَضَب نازل ہوتا وہاں نفس کو راضی کیا اور آپ کی ناراضگی کی پرواہ نہ کی۔ میں آپ کے غَضَب و عذاب کو بھی جانتا تھا مگر شَہْوَت نے ایسا حِجَاب ڈالدیا یا کسی دوست نے ایسا ورغلایا کہ گناہ ہی اچھا معلوم ہوا الٰہی ! یہ سب کرتوت کر کے آیا ہوں اور اس امید میں آیا ہوں کہ آپ ضرور سب گناہ معاف فرما دیں گے ، اب اس اُمِّيدوَار کو نا امید نہ فرمانا میرے سب گناہ معاف فرما دیجیے۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ ۔
21. اے اللہ ! میرے گناہوں کو آپ مجھ سے زیادہ جاننے والے ہیں، میں تو کر کے بھول بھی گیا ہوں مگر آپ کے علم میں سب ہیں۔ کل بروز قیامت آپ مجھ سے سوال کریں گے ، سوائے اقرار کرنے کے اور کیا جواب دوں گا۔ اے اللہ ! مُؤَاخَذَہ نہ فرمانا آج ہی وہ سب گناہ معاف فرما دیجیئے۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى اله وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
22. اے اللہ ! بہت سے گناہ اس طرح کئے ہیں کہ میں جانتا تھا کہ آپ کے سامنے ہوں مگر خیال کیا توبہ کرلوں گا ، معافی چاہ لوں گا۔ اِلٰہَ الْعَالَمِین ! گناہ کر لیا اور نفس و شیطان نے توبہ و اِسْتِغْفَار سے باز رکھا ، گناہ پر گناہ کرتا چلا جاتا رہا ۔ الٰہی ! میری اس جُرأت پر نظر نہ فرمانا ، اپنی شَانِ کَرِیمِی کے صدقے مجھے معاف فرمادے میں توبہ کرتا ہوں ، معافی چاہتا ہوں ۔ اے اللہ ! مجھے معاف کر دے۔ آپ کے سوا اور کون معاف کرنے والا ہے ۔
فَصَلِّ وَسَلَّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آله وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ.
23. اِلٰہَ الْعَالَمِین ! ایسا ہی ہوا کہ گناہ کر کے میں نے آپ سے حُسْنِ ظَن رکھا کہ آپ عذاب نہ دیں گے ، آپ معاف کر دیں گے اس وقت میرے نفس نے یہی پٹی پڑھائی کہ اللہ کا کرم و رحمت تو بہت وسیع ہے اور آپ پردہ ڈالتے رہے بس میں سمجھا کہ جب وہ پردہ پوشی فرما رہے ہیں تو عذاب بھی نہ دیں گے بس اسی خیال میں آکر بہت سے گناہ کرلئے ، اے اللہ ! مجھے معاف فرمادے۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى اله وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ .
24. اے اللہ ! ان گناہوں کی بھی معافی چاہتا ہوں جن کی وجہ سے دعا کے قبول ہونے سے مَحْرُوم ہو گیا، روزی کی برکت اور خیر نہ رہی ، ان گناہوں کو بھی معاف فرمادے
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ .
25. اے اللہ ! جن گناہوں کے سبب لاغری آتی ہے اور نَقَاہَت چھا جاتی ہے بروز قیامت حسرت و نَدَامَت ہو گی ان گناہوں کو بھی معاف فرمادے ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمُ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ.
26. الٰہی ! جو گناہ باعث تنگی رزق ہوں ، باعثِ مانع خیر و برکت ہوں ، باعث محرومی حَلَاوَتِ عبادت ہوں سب معاف فرمادے .
فَصَلِّ وَسَلَّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى اللهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ.
27. اے اللہ ! جس گناہ کی میں نے تعریف کی ہو یا کینہ کی طرح دل میں چھپایا ہو یا دل میں عَزْم کرلیا ہو کہ یہ گناہ کروں گا یا زبان سے اظہار بھی کردیا ہو یا وہ گناہ جو میں نے اپنے قلم سے لکھا ہو یا اعضاء سے اس کا اِرْتِکَاب کر لیا ہو یا اپنے ساتھ دوسروں کو بھی اس گناہ کے کرنے پر آمادہ کیا ہو ایسے سب گناہوں کو معاف فرمادیجئے۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ .
28. اِلٰہَ الْعَالَمِین ! میں نے گناہ رات کو بھی کئے دن کو بھی کئے لیکن آپ نے اپنے علم سے پردہ پوشی فرمائی کہ کسی مخلوق کو اس کا علم نہ ہونے دیا ، میں نے آپ کی اس سَتَّارِی فرمانے کا کچھ خیال نہ کیا۔ میرے نفس نے اس گناہ کو پھر مُزَيَّن کر کے پیش کیا اور گناہ کو گناہ سمجھتے ہوئے پھر کر گزرا۔ میں بار بار ایسا ہی کرتا رہا۔ اِلٰہَ الْعَالَمِین ! میرے اس حال کو خوب جانتے ہیں آئندہ ایسا نہ کروں گا آپ سے توفیق مانگتا ہوں میں توبہ کرتا ہوں معافی چاہتا ہوں الٰہی ! معاف فرما دیجئے ۔
فَصَلِّ وَسَلَّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى ألهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ .
29. اِلٰہَ الْعَالَمِین ! بہت سے گناہ بڑے تھے لیکن میں نے ان کو چھوٹا سمجھا اور محض اس خیال سے کہ کر لو، دیکھا جائے گا میں کر گزرا۔ اب آئندہ ایسا نہ کروں گا آپ بچنے کی توفیق دیدینا اب میں معافی چاہتا ہوں ایسے سب گناہ بخشد دیجئے۔
فَصَلِّ وَسَلَّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى اله وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ .
30. الٰہی ! میں نے آپ کی کسی مخلوق کو گمراہ کیا ہو ، اس کو گناہ کی بات بتائی ہو، اکسایا ہو ، اپنے آپ کو بچانے کی خاطر اس کو گناہ میں پھنسا دیا ہو یا میرے نفس نے گناہ کو ایسا سجا دیا ہو کہ مجھے دیکھ کر دوسرا اس گناہ میں مبتلا ہو گیا ہو ۔ اور جان بوجھ کر گناہ کرتا رہا اِلٰہَ الْعَالَمِین ! سب گناہوں کو معاف کر دیجئے ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
31. میں نے امانت میں خِيَانَت کی ہو۔ خِيَانَت مال کی ہو یا زبان کی ہو اور نفس نے اس کو مُزَيَّن کر دیا اور میں اس میں مبتلا ہو گیا یا شہوانی خِيَانَت کرلی ہو یا کسی کو گناہ کرنے میں امداد دی ہو یا کسی بھی طریقہ سے اس کو گناہ کرنے پر قوت پہنچائی ہو یا اس کا ساتھ دیا ہو کبھی کوئی نصیحت کرنے والا آیا میں نے اس کو برا بھلا کہا ہو، کسی قسم کی اس کو ایذا دی ہو یا تکلیف پہنچائی ہو یا کسی حِیلَہ کے ذریعہ اس کو ناحق ستایا ہو اے اللہ ! میں معافی چاہتا ہوں مجھے معاف فرما دے ۔
اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلَّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ .
32. اے اللہ ! میں آپ سے گناہ کی معافی چاہتا ہوں جس کی وجہ سے آپ کے غَضَب کے قریب ہو گیا ہوں یا کسی مخلوق کو گناہ کی طرف لے گیا یا ایسی خواہش دلائی ہو کہ وہ اطاعت و عبادت سے دور ہو گیا ہو ۔
اللهُمَّ فَصَلِّ وَ سَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ .
33. اے اللہ ! میں نے عُجْب کیا ہو ، رِيَاکَارِی کی ہو ، کوئی آخرت کا عمل شہوت کی نیت سے کیا ہو ، کینہ ، حسد تکبر ، اِسْرَاف ، کِذْب ، غِیبَت ، خِيَانَت ، چوری ، اپنے اوپر اترانا ، دوسرے کو ذلیل کرنا یا اس کو حقیر سمجھ کر یا حَمِيَّت و عَصَبِيَّت میں آکر بے جا سخاوت ، ظلم ، لہو و لعب ، چغلی یا اور کوئی گناہ کبیرہ کا اِرْتِکَاب کیا ہو جس کے سبب میں ہلاکت میں آگیا ہوں ، الٰہی ! مجھے معاف فرمادے۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى وصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
34. اے اللہ ! غیر اللہ سے عقلی طور پر ڈر گیا ہوں تیرے کسی ولی سے دشمنی کی ہو الٰہی ! تیرے دشمنوں سے دوستی کی ہو اور تیرے دوستوں کو رسوا کیا ہو یا تیرے غَضَب میں آجانے کا کام کیا ہو تو الٰہی ! مجھے معاف فرمادے، میری توبہ ہے ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آله وصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ.
35. اِلٰہَ الْعَالَمِین ! وہ گناہ جو آپ کے علم میں موجود ہیں اور میں بھول گیا ہوں ان سب گناہوں کی معافی چاہتا ہوں ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمُ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آله وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ .
36. اے اللہ کوئی گناہ کیا اور اس سے توبہ کی لیکن جُرأت کر کے پھر اس توبہ کی پرواہ نہ کی ہو یکے بعد دیگرے کرتا چلا گیا الٰہی ! ان تمام مَعَاصِی سے پناہ دیدے اور مجھے بخشدے ۔
فَصَلِّ وَسَلَّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آله وصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ .
37. اے اللہ ! جس گناہ کے کرنے سے عذاب کے قریب ہو گیا ہوں اور آپ سے مَحْرُوم ہو گیا ہوں یا تیری رحمت سے وہ گناہ حِجَاب میں ہو گیا ہو یا اس کی وجہ سے تیری کسی نعمت سے مَحْرُوم ہو گیا ہوں ، ان تمام گناہوں کی معافی چاہتا ہوں ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى اله وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ .
38. یا الٰہی ! میں نے آپ کے مُقَيَّد حکم کو مُطْلَق کر دیا ہو یا مُطْلَق حکم کو مُقَيَّد کر دیا ہو اور میں اس کی وجہ سے خیر سے مَحْرُوم کر دیا گیا ہوں اے اللہ ! اس کو معاف فرمادے
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى الله وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ .
39. اے اللہ ! جو گناہ آپ کے عَافِيَت دینے کے باوجود عَافِيَت میں دھوکہ کھا کر کر لیا ہو یا تیری نعمت کو غلط ناجائز استعمال کیا ہو یا آپ کے رزق کی وُسْعَت کی وجہ سے گناہوں میں مبتلا ہو گیا یا عمل تیری رِضَا کے لئے کر رہا تھا لیکن نفس کی شہوت کے غَلَبَہ سے وہ کام تیری رِضَا سے نکل گیا ہو اس کی معافی دیدے۔
فَصَلِّ وَسَلِّمُ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ .
40. اے اللہ ! کوئی گناہ تھا میں نے رخصت سمجھ کر کر لیا، جو حرام تھا اس کو حلال سمجھ کر کرلیا ہو تو آج اسے بھی معاف فرمادیجئے
فَصَلِّ وَسَلِّمُ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى الهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ .
41. اے اللہ ! بہت سے گناہ آپ کی مخلوق سے چھپا کر کر لئے لیکن آپ سے کہاں چھپا سکتا تھا، الٰہی ! میں اپنا عذر پیش کرتا ہوں اور آپ سے معافی چاہتا ہوں معافی چاہنے کے بعد بھی گناہ ہو جائے تو اس کی بھی معافی چاہتا ہوں مجھے بخشد دیجئے۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى اله وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ .
42. الٰہی ! جس گناہ کی طرف میرے پیر چلے ہوں میرے ہاتھ بڑھے ہوں ، میری نگاہوں نے ایسا ویسا دیکھا ہو ، زبان سے گناہ ہوتے ہوں ، آپ کا رزق بے جا برباد کر دیا ہو لیکن آپ نے باوجود اس کے اپنا رزق مجھ سے نہیں روکا اور عطا کیا ۔ میں نے پھر اس عطا کو تیری نافرمانی میں لگایا اس کے باوجود میں نے زیادہ رزق مانگا، آپ نے زیادہ دیا ، میں نے گناہ عَلَی الْاِعْلَان کیا لیکن آپ نے رسوا نہ ہونے دیا۔ میں گناہ پر اِصْرَار کرتا رہا آپ برابر حکم فرماتے رہے۔ پس اے اَکْرَمُ الْاَکْرَمِین میرے سب گناہ معاف فرما دیجئے ۔
فَصَلِّ وَسَلَّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الغَافِرِينَ .
43. اے اللہ ! جس گناہ کے صَغِيرَہ ہونے سے عذاب آئے ، جس گناہ کے كَبِيرَہ ہونے سے عذاب زیادہ ہو جائے اور ان کے وَبَال میں ابتلا ہو جائے اور ان پر اِصْرَار کرنے سے نعمت زائل ہو جائے ایسے سب گناہ میرے معاف کر دیجئے۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ .
44. اے اللہ ! جس گناہ کو صرف آپ نے دیکھا آپ کے سوا کسی نے نہ دیکھا اور سوائے آپ کے عَفْو و نجات کا کوئی ذریعہ نہیں انہیں بھی آپ معاف فرمادیجئے ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمُ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
45. الٰہی ! جس گناہ سے نعمت زائل ہو جائے، پَرْدَہ دَرِی ہو جائے ، مصیبت آجائے ، بیماری لگ جائے ، درد ہو جائے یادہ کل کو عذاب لائے ان گناہوں کو بھی معاف فرما دیجیئے۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى اله وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
46. اِلٰہَ الْعَالَمِین ! جس گناہ کی وجہ سے نیکی زائل ہو گئی ، گناہ پر گناہ بڑھے ، تکالیف اتریں اور تیرے غَضَب کا باعث ہوں ان سب گناہوں کو معاف فرمادے ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ و عَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الغَافِرِينَ
47. اے اللہ ! گناہ تو صرف آپ ہی معاف کر سکتے ہیں آپ نے بہت سے گناہ اپنے علم میں چھپا لئے ہیں آپ ان کو معاف کر دیجئے ۔
يَا أَهْلَ التَّقْوَى وَيَا أَهْلَ الْمَغْفِرَةِ فَصَلِّ وَسَلِّمُ وَبَارِ اجُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدِ عَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
48. اے اللہ ! میں نے تیری مخلوق پر کسی قسم کا ظلم کیا یا تیرے دوستوں کے خلاف چلا۔ تیرے دشمنوں کی امداد کی ہو ، اَہْلِ اِطَاعَت کے مخالف اَہْلِ مَعْصِيَت سے جاملا ہوں، ان کا ساتھ دیا ہو ، الٰہی ! ان گناہوں کو بھی معاف فرمادے ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ و عَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
49. اے اللہ ! جن گناہوں کے باعث ذلت و خواری میں آگیا ہوں یا تیری رحمت ہی سے نا امید ہو گیا ہوں یا طاعت کی طرف آنے سے گریز کرتا رہا، اپنے گناہ کو بڑا سمجھ کر، نا امیدی پیدا کر لی ہو اسے معاف فرمادیجئے ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ ةً عَلَى اللِه وَصَحْبِهِ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
50. اے اللہ ! بعض گناہ ایسے بھی کئے ہیں کہ میں جانتا تھا کہ یہ گناہ کی بات ہے اور آپ میرے حال کو جانتے ہیں لیکن گناہ کو ہلکا خیال کیا اور تیری پکڑ کا خیال نہ کیا۔ اپنی رو میں کر گزرا ، الٰہی ! ان کو بھی معاف فرما دیجئے۔
فَصَلِ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ.
51. اِلٰہَ الْعَالَمِین ! دن کی روشنی میں تیرے بندوں سے چھپ کر گناہ کیا اور رات کے اندھیرے میں تیرا حکم توڑا یہ صرف میری نادانی ہی تھی کیونکہ میں یہ جانتا ہوں کہ آپ کے نزدیک ہر پوشیدہ ظاہر ہے، آپ جو چاہیں کر سکتے ہیں آپ کے یہاں سوائے آپ کی رحمت کے نہ مال کام آئے گا ، نہ اولاد کام آئے گی ۔ اے اللہ ! مجھے قَلْبِ سَلِیم عطا فرما اور مجھے معاف فرما۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
52. اے اللہ ! ان گناہوں سے جن کی وجہ سے تیرے بندوں میں مَبْغُوض ہو جاؤں اور تیرے دوست نفرت کرنے لگیں اور تیرے اَہْلِ طَاعَت کو وَحْشَت ہونے لگے ایسے گناہوں کا اِرْتِکَاب کر لیا ہو تو آپ معاف فرمادیجئے اور ان حالات سے پناہ میں رکھئے ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى الهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الغَافِرِينَ ۔
53. الٰہی ! جو گناہ کفر تک پہنچائے تنگی اور محتاجی لائے تنگی سختی کا سبب ہو جائے، خیر سے دور کر دے ، پَرْدَہ دَرِی کا سبب بن جائے ، فراخی کو روک لے ، اگر کر لئے ہوں معاف فرما ورنہ محفوظ رکھ یا اِلٰہَ الْعَالَمِین !
فَصَلِّ وَسَلِّمُ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْ لِي يَا خَيْرَ الغَافِرِينَ ۔
54. اِلٰہَ الْعَالَمِین ! جو گناہ عمر کو خراب کریں امید سے ناامید کر دیں ، نیک اعمال کو برباد کر دیں الٰہی ! ایسے گناہوں سے بچا کر رکھنا اگر کر لئے ہوں تو معاف فرمانا
فَصَلِّ وَسَلِّمُ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ ۔
55. اے اللہ ! آپ نے قلب کو پاک کیا، میں نے گناہوں سے ناپاک کرلیا ، آپ نے پردہ رکھا میں نے خود اس کو چاک کر دیا اپنے بُرے اخلاق کو مُزَيَّن کیا اور نیک بنا رہا ایسے گناہ بھی معاف فرمادے۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ.
56. الٰہی ! وہ گناہ جن کے اِرْتِکَاب سے آپ کے وعدوں سے مَحْرُوم ہو جاؤں اور آپ کے غصہ و عذاب میں آجاؤں الٰہی ! مجھ پر رحمت رکھنا اور ایسے سب گناہ معاف فرمادیں۔
فَصَلِّ وَسَلَّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
57. اے اللہ ! ایسے گناہوں سے بھی معافی چاہتا ہوں جن کی وجہ سے آپ کے ذکر سے غَافِل رہا ہوں اور آپ کی وَعِيدوں اور ڈرانے کی آیات سے لاپرواہ ہو گیا اور سرکشی کرتا رہا الٰہی معاف فرمادے ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمُ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ.
58. اِلٰہَ الْعَالَمِین ! تکالیف میں مبتلا ہو کر کبھی میں نے شرک کر لیا ہو یا آپ کی شان میں گستاخی کرلی ہو، آپ کے بندوں سے آپ کی شکایت کی ہو بجائے آپ کے در پر آنے کے بندوں پر حاجت اتاری ہو یا آپ کی مخلوق کے سامنے اس طرح مسکینی کا اظہار کیا ہو یا چاپلوسی کی ہو کہ جیسے حاجت روائی اس کے قبضے میں ہے۔ اِلٰہَ الْعَالَمِین ایسے گناہوں کی بھی معافی عطا فرما۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ ۔
59. الٰہی ! ان مَعَاصِی کی مَغْفِرَت کا طلبگار ہوں کہ بوقتِ مَعْصِيَت تیرے سوا کسی دوسرے کو پکارا ہو اور غیر اللہ سے امداد کی دعا کی ہو ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكَ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ ۔
60. اِلٰہَ الْعَالَمِین ! تیری عبادت میں جانی و مالی گناہ کا اِخْتِلَاط کر لیا یا مال کی طمع میں شرع کا خیال نہ کیا ہو یا کسی مخلوق کی اِطَاعَت کی اور تیری نافرمانی کی ، تیرے حکم کو ٹالا اور اس کے برخلاف مخلوق کے حکم کو سراہا ہو محض دنیا کی خاطر ناجائز مَنَّت و سَمَاجَت کی ہو حالانکہ میں جانتا بھی ہوں کہ آپ کے سوا کوئی حاجت پورا کرنے والا نہیں الٰہی ! ان گناہوں کو بھی معاف فرما دے۔
فَصَلِّ وَسَلَّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى إِليه وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ ۔
61. الٰہی ! گناہ تو بڑا تھا مگر نفس نے معمولی سمجھا اور اس کے کرتے ہوئے نہ ڈرا نہ رکا الٰہی ! ان کی بھی معافی دیدے۔
فَصَلِّ وَسَلِّمُ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
62. اِلٰہَ الْعَالَمِین ! آخری سانس تک جتنے گناہ ہو چکے ہوں گے سب بخشد دیجئے اول بھی، آخر کے بھی ، بھولے سے کئے یا جان بوجھ کے کئے ، خطا ہو گئی ، قَلِیل و کَثِیر صَغِيرَہ و كَبِيرَہ ، باریک اور موٹے ، پرانے اور نئے ، پوشیدہ و ظاہر اِلٰہَ الْعَالَمِین ! ان سب گناہوں کو بخشد دیجئے ۔
فَصَلِّ وَسَلَّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى اله وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الغَافِرِينَ ۔
63. اے اللہ ! جتنے حقوق تیری مخلوق کے مجھ پر ہیں میں ان کے عوض مَرْہُون ہوں الٰہی ! ان سب کو میری طرف سے ان کے حقوق ادا کر دیجئے بلکہ ان کے حقوق سے اور ان کو زیادہ دید کیجئے اور مجھے ان سے معاف کرا دیجئے ، میرے تمام ہر قسم کے اَہْلِ حُقُوق کو بخش دیجئے ، ان کو دوزخ سے بچا کر جَنَّتُ الْفِرْدَوْس عطا فرمائیے ۔ اے اللہ ! اگر چہ حقوق بہت ہیں مگر آپ کے پَرْدَہِ عَفْو میں کچھ بھی نہیں مجھے سُبُکْدُوش فرما کر عَفْو و عَافِيَت و مُعَافَات کے ساتھ دنیا سے اٹھائیے
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى اله وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
64. اے اللہ ! کسی آپ کے بندے یا بندی کا مال ناحق لیا ہو، کسی کی آبرو خراب کر دی ہو ، اس کے جسم کے کسی حصہ پر مارا ہو ، اس پر ظلم کیا ہو ، انہوں نے مُطَالَبَہِ حَق کیا لیکن میں نے عَدَمِ اِسْتِطَاعَت کی وجہ سے نہ دیا ہو یا لاپروائی برتی ہو ان سے بھی معاف نہ کرا سکا ہوں آپ کے سب اختیار میں ہے میری معافی فرما دیجئے ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمُ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ .
65. اِلٰہَ الْعَالَمِین ! جتنے میرے گناہ آپ کے علم میں ہیں سب معاف فرمادیجیئے۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ.
66. اے اللہ ! آپ کا وعدہ ہے کہ اگر کوئی بندہ اتنے کہ زمین و آسمان بھر جائے گناہ لے کر بھی آئے تو میں اتنی مغفرت لے کر چلتا ہوں اور اسے معاف کر دیتا ہوں ، الٰہی ! مجھے بھی معاف فرما دیجئے
فَصَلِّ وَسَلِّمُ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ .
67. اِلٰہَ الْعَالَمِین ! جب بندہ تین مرتبہ رَبِّ اغْفِرْ لِی کہتا ہے تو آپ فرماتے ہیں اے بندے ! میں نے معاف کیا اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ اِلٰہَ الْعَالَمِین ! میں تین مرتبہ اِسْتِغْفَار کرتا ہوں رَبِّ اغْفِرْ رَبِّ اغْفِرْ لِی رَبِّ اغْفِرْ لِی
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى وصحبه أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ .
68. اِلٰہَ الْعَالَمِین ! کل حساب کے وقت مجھ سے حساب نہ لینا بلا حساب جن بندوں کو آپ جنت میں بھیجیں گے مجھے بھی معاف فرماکر ان کے ساتھ کر دینا ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى اليه وَأَصْحَابِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ
69. اِلٰہَ الْعَالَمِین ! أَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ الْأَهْوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ کہتا ہوں اور میری دعا یہ ہے کہ ہر آن ہر حَرَکَت و سُکُون پر اَبَدُ الْآبَاد تک میرے نَامَہِ اَعْمَال میں لکھے جانے کا حکم دیدیں کہ ہر وقت میری معافی ہوتی رہے اور میرے نَامَہِ اَعْمَال میں اتنے اِسْتِغْفَار کثرت سے ہو جائیں تاکہ اس دن مجھے خوشی حاصل ہو ۔
فَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى الهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَاغْفِرْهُ لِي يَا خَيْرَ الْغَافِرِينَ.
70. اے اللہ ! رسولِ کریم ﷺ روزانہ ستر بار اِسْتِغْفَار فرماتے تھے میں نے بھی یہ عدد پورا کیا ہے، اے اللہ ! حضورِ اَکْرَم صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم کے طفیل و واسطہ سے میری مَغْفِرَت فرمادے ۔ آپ ہر چیز پر قادر ہیں ۔
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِهِ صَلوةٌ دَائِمَةً بِدَوَامِكَ بَاقِيَةً بِبَقَائِكَ لَا مُنْتَهَى لَهَا دُونَ عِلْمِكَ صَلوةٌ تُرْضِيكَ وَتَرَضِيهِ وَتَرَضَى بِهَا عَنَا يَا رَبَّ الْعَلَمِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذلِكَ
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ العَلَمِينَ
حضرت علی کَرَّمَ اللّٰهُ وَجْهَهُ ان اِسْتِغْفَار کو روزانہ صبح پڑھا کرتے تھے یہ ان کا ترجمہ تقریبی ہے۔
اِلٰہَ الْعَالَمِین! اس در پر آئے جہاں سردارِ دو جہاں ﷺ آئے ، آپ کے صحابہِ کِرَام آئے ، قُطْبِ وغوث اور اَبْدَال آتے ہیں ، اَوْلِيَاءِ کِرَام آتے ہیں ۔ اے اللہ ! آپ کے نیک بندے اس جگہ آتے ہیں یہاں غَوْثِ اَعْظَم کنکریوں پر سر رکھ کر رو رہے تھے اور یوں کہتے تھے۔۔ اِلٰہَ الْعَالَمِین ! اگر لائقِ بَخْشِش ہوں تو ضرور بخش دیجئے، اگر بَخْشِش کے لائق نہیں ہوں تو بروزِ قیامت مجھے نابینا اٹھانا تا کہ نیکوں کے سامنے شَرْمْسَار نہ ہوں ۔ اسی مقام پر بندہِ عَاصِی حاضر ہوا ہے ، اپنے کئے پر نَادِم و تَائِب ہے اور معافی کا خواستگار ہے۔ اِلٰہَ الْعَالَمِین ! امن و سکون مل جائے ، ہر قسم کی دائمی عَافِيَت کا طلب گار ہے ، دنیا و آخرت میں مجھے ، میری اولاد و احباب اور تمام مسلمانوں کو عَافِيَت دے ۔ اے اللہ ! میرے عیبوں پر پردہ رکھنا اور جس بات سے میں ڈر رہا ہوں اس سے نجات دینا ، ہماری سامنے سے حفاظت فرما، ہماری پیچھے سے حفاظت فرما ، ہمارے دائیں اور بائیں سے حفاظت فرما ، ہمارے اوپر سے حفاظت فرما۔ الٰہی ! ہم اپنے پیروں کے نیچے سے ہلاک نہ ہو جائیں ! اے حَیُّ اے قَيُّوم ! تیری رحمت سے فریاد چاہتا ہوں دنیا کی ، دین کی جتنی بھلائیاں ہو سکتی ہیں سب ہی مانگنے آیا ہوں عطا فرمادے آپ اَرْحَمَ الرَّاحِمِین ہیں ۔
الٰہی ! میرے گناہ معاف فرمادے ، میرے گھر میں فراخی اور میری روزی میں ، میرے گھر والوں کی روزی میں برکت عطا فرما ، اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ۔ اور ہم پر روزی کے دروازے سہل و آسان کر دے ۔
اے جِبرِیل کے معبود ! اے مِیکَائِیل و اِسْرَافِیل کے خدا ! اے اِبْرَاہِیم و اِسْمَاعِیل و اِسْحَاق عَلَیْہِمُ السَّلَام کے معبود ! ہم کو عَافِيَت دے اور ہم پر کسی ایسی مخلوق کو مُسَلَّط نہ فرما جو ہم پر رحم نہ کرے اور ہم کو اس کی برداشت نہ ہو اور ہم کو ہمارے دین سے بَرْگَشْتَہ بنا دے۔
اِلٰہَ الْعَالَمِین ! آپ میری بات بالکل سن رہے ہیں اور جہاں بیٹھا دعا کر رہا ہوں آپ دیکھ رہے ہیں ، آپ میرے ظاہر کو بھی جانتے ہیں اور میرے باطن کو بھی جانتے ہیں ، میری ہر بات آپ کے نزدیک عَيَاں اور ظاہر ہے میری کوئی بات آپ سے پوشیدہ نہیں ہے اور میں محتاج ہوں سختی میں آیا ہوں ۔ آپ سے فریاد کر رہا ہوں ، آپ پناہ دینے والے ہیں، اپنے گناہوں کی وجہ سے خَوْفْزَدَہ ہوں ، عذاب سے ڈر رہا ہوں، اپنے گناہوں کا اِقْرَارِی ہوں آپ سے ہاتھ جوڑ کر اس طرح مانگ رہا ہوں جس طرح مسکین اور سائل مانگا کرتا ہے ، عاجزی کر رہا ہوں جس طرح ایک گنہگار ذلیل آپ کے سامنے عاجزی کیا کرتا ہے اور اس طرح پکار رہا ہوں جیسے کوئی خَوْفْزَدَہ نابینا اور بے یار و مددگار آپ سے مانگا کرتا ہے۔ آپ کے سب کچھ اختیار میں ہے ، ہماری گردنیں آپ کے سامنے جھکی ہوئی ہیں ۔ رو رہا ہوں ، میری ناک خاک آلُودَہ ہے ، میں نے اپنی آبرو گناہوں سے خراب کر لی ہے۔ مجھے امید ہے آپ میری دعا ضرور قبول کریں گے ، مجھے مَحْرُوم نہ کریں گے آپ ہم پر مہربان رَءُوف و رَحِیم ہو جائیے اور جتنے سوالی ہیں سب سے اچھا سوالی کر دیجئے ، آپ سے اچھا اور کون دینے والا ہے ۔ میں آپ کو اس نام کا واسطہ دیتا ہوں جس کو آپ نے زمین پر رکھا اس نام کی برکت سے زمین ٹھہر گئی ، اس نام کو آسمان پر رکھا تو اس کی برکت سے وہ بلند ہو گیا اسی نام کو پہاڑوں پر رکھا تو وہ قائم ہو گئے
الٰہی آپ کو اس نام کا واسطہ جس سے عرش ٹھہرا ہوا ہے آپ کا وہ نام جو طاہر و مُطَہَّر ہے جس کو آپ نے اپنی کتابوں میں نازل کیا ۔ جس نام کی برکت سے دن روشن ہو گیا اور رات اندھیری ہو گئی آپ کو اپنے جلال و عظمت کا واسطہ آپ کو آپ کی کِبْرِیَائِی کا واسطہ آپ قرآنِ کریم کو میری رگ و پے میں سمو دیجیئے ، اس کو کھال ، خون اور ہڈیوں میں بہادے ، آنکھ اور کان کو اسی میں لگا دے ، تمام بدن ، کو اس پر عامل بنا دے آپ کے سوا کس کو قوت و قدرت ہے۔ سب قسم کی طاقت و قدرت صرف آپ کو حاصل ہیں ۔ الٰہی ! جب دنیا سے چلوں تو آپ کی رحمت کی طرف چلوں ، سب سے امید ختم کر چکا ہوں آپ سے امید لگا کر آیا ہوں ، جتنے ہمارے برے حالات ہیں سب سے نجات دیدیجئے اور جو حالات سامنے ہیں جن کا انجام اچھا ہے سب پورے کر دیجیے ۔ جو مَصَائِب دکھ تکالیف و تنگی مجھ پر آئی ہیں یا اترنے والی ہیں سب سے نجات بخشئے۔ آپ کو آپ کی ذَاتِ کَرِیم کا واسطہ دیتا ہوں اور حضورِ اَکْرَم صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم کا واسطہ دیتا ہوں ، قبول فرمائیے آمین .
اِلٰہَ الْعَالَمِین ! اتنا خوف دیدے کہ گناہوں سے باز آجاؤں میرے اور میرے گناہوں کے درمیان یہ آپ کا خوف آڑ ہو جائے ۔ الٰہی اتنی اطاعت کی توفیق دیدے کہ جنت میں چلا جاؤں، اتنا یقین دیدے کہ دنیا کی مصیبتیں آسان ہو جائیں ۔
الٰہی ! میرے کانوں سے مجھے نفع بخش دیجئے میری آنکھ سے ، میری طاقت سے تاحیات نفع دیتے رہنا۔ ہمارا کوئی اچھا وارث بنا دے ۔ جو ہم پر ظلم کرے اس کا ظلم اسی پر ڈالدے ، جو دشمنی کرے تو ہماری اس پر مدد فرما، ہماری مصیبت دین کی مصیبت نہ بنا اور سب سے بڑا غم دنیا کا غم نہ بنا ۔
الٰہی ! آخرت چھوڑ کر ساری رغبت دنیا کو نہ بنا اِلٰہَ الْعَالَمِین ! ایسے لوگوں کو ہم پر حاکم نہ بنا جو ہم پر رحم نہ کریں ۔ اے اللہ ! ہم کو زیادہ کر کم نہ کر ۔ ہماری عزت کو ذلت سے بچا ، ہم کو عطا فرما، مَحْرُوم نہ کر ۔ ہم کو دوسروں پر بڑھا کر رکھ ، ہم سے راضی ہو جا اور ہم کو راضی فرما۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَصَلَّى اللّٰهُ تَعَالَى عَلَى النَّبِيِّ الْكَرِيمِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ
---