شریعت و تصوف - 6
حضرت مولانا شاہ محمد مسیح اللہ خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مولانا شاہ محمد مسیح اللہ خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ
حدیثِ شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لئے اُن کے خیالات سے تَجَاوُز[1] فرما دیا ہے جن کی وہ اپنے جی سے باتیں کرتے ہیں، جب تک کہ ان کو منہ سے نہ نکالیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا ان کو عمل میں نہ لاویں[2]۔ دوسری روایت میں ہے کہ ان کے سینوں میں جو وساوس پیدا ہوں ۔[3]
خیال کے مَرَاتِب[4] پانچ ہیں: ۱- ہَاجِس، ۲- خَاطِر، ۳- حَدِیْثُ النَّفْس، ۴- ہَمّ، ۵- عَزْم ۔
۱۔ ہَاجِس: پس جب کوئی بات قلب میں ابتداءً واقع ہوئی اور اس نے نفس میں کوئی حرکت نہیں کی اس کو ہاجس کہتے ہیں ۔
۲۔ خَاطِر: پھر اگر اس شخص کو توفیق ہوئی اور اول ہی سے اس کو دفع کر دیا تو وہ مابعد کے مراتب کی تحقیق کا محتاج نہ ہوگا اور اگر وہ نفس میں دورہ کرنے لگے یعنی وقوعِ ابتدائی کے بعد اس کے نفس میں اس کی آمد و رفت ہونے لگے مگر اس کے کرنے نہ کرنے کا کوئی منصوبہ نفس نے نہیں باندھا اس کو خاطر کہا جاتا ہے ۔
۳۔ حَدِیْثُ النَّفْس: اور جب نفس کرنے نہ کرنے کا برابر درجے میں منصوبہ باندھنے لگا اور ان سے کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں ہوئی اس کو حدیثِ نفس کہتے ہیں ۔
سو یہ تین درجے ایسے ہیں کہ ان پر نہ عقاب ہے اور نہ ثواب ہے، اگر یہ شر میں ہے اور نہ ثواب ہے، اگر خیر میں ہے پھر جب اس فعل کو کر لیا تب اس فعل پر عِقَاب یا ثواب ہوگا اور ہَاجِس اور خَاطِر اور حَدِیْثُ النَّفْس پر نہ ہوگا ۔
۴۔ ہَمّ: پھر جب نفس میں فعل یا عدمِ فعل کا منصوبہ تَرْجِیْحِ فعل کے ساتھ ہونے لگا، لیکن وہ ترجیح قوی نہیں ہے، بلکہ مَرْجُوْح[5] ہے جیسا کہ وَہْم ہوتا ہے اس کو ہَمّ کہتے ہیں اس پر ثواب بھی ہوتا ہے اگر وہ خیر میں ہے اور عِقَاب[6] ابھی (نہیں) ہوتا ہے اگر وہ شر میں ہے ۔
۵۔ عَزْم: پھر جب فعل کا رُجْحَان قوی ہو گیا یہاں تک کہ جَازِم مُصَمَّم[7] بن گیا اس کو عَزْم کہتے ہیں۔ اس پر بھی ثواب ہوتا ہے اگر خیر میں ہے اور عِتَاب[8] ہوتا ہے، اگر شر میں ہے ۔
نِسْبَت کے معنی تعلق کے ہیں اور تعلق دو جانب سے ہوتا ہے ۔ یہاں پر نسبت مع اللہ کے معنیٰ یہ ہوں گے، ایک تعلق اللہ تعالیٰ کا بندے کے ساتھ اور ایک تعلق بندے کا اللہ کے ساتھ اور حُصُولِ نسبت مع اللہ کو حُصُول اِلَی اللہ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
بندے کے ساتھ تعلق ہونے کے یہ معنیٰ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا تعلق بندے کے ساتھ رِضَاء کا ہو اور بندے کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونے کے یہ معنی ہیں کہ دَوَامِ طاعت[9]، کثرتِ ذکر مع مَلکہ یاد داشت[10] جس کی علامت یہ ہے کہ طاعات و عبادات کی طرف ایک اِضْطِرابی رَغْبَت[11] ہوتی ہے اور مَعْصِیَت ظاہری و باطنی سے ایسی نفرت ہو جیسے پیشاب پاخانہ سے ہوتی ہے اور اِتِّباعِ سُنَّت کا بکمالِ اہتمام [12]ہو ۔
تَنْبِیْہ:- عبادات میں نماز ایسی عظیم عبادت ہے کہ اگر اس کو پورے اہتمام، آداب و شرائط کے ساتھ ادا کیا جائے تو کسی دوسری مستقل ریاضت کی ضرورت نہیں ۔ اس میں ذِکْر، شُغْل، مُرَاقَبَہ اور تسبیحات، اِستغفار، دُرُود شریف وغیرہ سب جمع ہے ۔
ذِکْر: نماز میں کلامِ پاک کی تلاوت جامعِ اذکار ہے ۔
شُغْل: اس کی صورت یہ ہے کہ:
بحالتِ قِیام سجدہ کی جگہ پر نظر رکھنا ۔
بحالتِ رُکُوع قدم پر نگاہ رکھنا ۔
بحالتِ سَجْدَہ بینی (ناک) پر نگاہ رکھنا ۔
بحالتِ جَلْسَہ و قَعْدَہ گود پر نگاہ جمانا ۔
بحالتِ سَلام دائیں بائیں کندھے پر نگاہ رکھنا ۔
مُرَاقَبَہ:- بحالتِ تحریمہ باستحضارِ نیت[13] اور کُل صلوٰۃ میں "اللہ نَاظِرِی" کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو دیکھ رہے ہیں، خیال رکھنا یہ مَقَامِ اِحْسَان[14] کہلایا جاتا ہے جس کے لئے تمام مجاہدے اور ریاضتیں اختیار کی جاتی ہیں ۔
جیسے کہ حدیثِ شریف میں ہے، جبرئیل علیہ السلام نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ "مَا الْاِحْسَان؟" کہ احسان کیا چیز ہے؟ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ"[15] کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے کیونکہ اگر تو نہیں دیکھ رہا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھ کو دیکھ رہے ہیں ۔
غرض نماز کو اس کے آداب و مُسْتَحَبَّات اور شروط کے ساتھ ادا کرنے سے راہِ سُلُوک اور اس کا انتہائی درجہ مَقَامِ اِحْسَان حاصل ہو سکتا ہے اور لَطَائفِ سِتَّہ کے آثار ظہور کر سکتے ہیں ۔
نفس، قلب، روح، سِرّ، خفی، اَخفیٰ، یہ چھ لطیفے ہیں۔ ان کے آثار یہ ہیں ۔
نَفْس: یعنی نفسِ مطمئنہ کی غذا مَعَاصِی[17] (گناہوں) سے قرار نہ پکڑنا ہے یعنی معاصیسے نَفُور[18] رہنا ہے ۔
قَلْب: قلب کی غذا ذِکْر ہے ۔
رُوح: روح کی غذا حُضُوری ہے ۔
سِرّ: سرّ کی غذا اِنکشافِ حقائق ہے ۔
خَفِی: خفی کی غذا شُہُود و فَنَا ہے ۔
اَخْفٰی: اخفیٰ کی غذا فَنَاءُ الْفَنَا ہے ۔
بعض نے اس میں کسی قدر اختلاف کیا ہے، نماز میں ان لطائفِ ستہ کے آثار کے ظہور کی صورت یہ ہے، کہ صلوٰۃ (نماز) سات درجے کی ہے ۔ صلوٰۃِ تَن، صلوٰۃِ نَفْس، صلوٰۃِ قَلْب، صلوٰۃِ رُوح، صلوٰۃِ سِرّ، صلوٰۃِ خَفِی، صلوٰۃِ اَخْفٰی ۔
1. صلوٰۃِ تَن: مانع عن المَعاصی (گناہوں سے روکنے والی) ہوتی ہے ۔
2. صلوٰۃِ بِنفس: مانع عن العَلائق (دنیاوی تعلقات سے کاٹنے والی) ہوتی ہے ۔
3. صلوٰۃِ قلب: مانع عن النقلہ الکثیرہ (کثرتِ خیالات سے روکنے والی) ہوتی ہے ۔
4. صلوٰۃِ روح: غیر کے دیکھنے سے مانع ہوتی ہے ۔
5. صلوٰۃِ سرّ: مانعِ توجہ عن ماسویٰ اللہ ہوتی ہے (اللہ کے سوا ہر چیز سے توجہ ہٹاتی ہے) ۔
6. صلوٰۃِ خفی: انسان کو مرتبہ اِنَابت[19] میں پہنچاتی ہے کہ اس سے اس پر حقیقت ظاہر ہوتی ہے ۔
7. صلوٰۃِ اَخْفیٰ:- مُشاہدۂ ذاتِ بَحْت[20] اور جامعیتِ مقام معراج ہوتی ہے ۔
شیخ طالب کو جب برابر مُجَالَسَت و مُکَاتَبَت[21] وغیرہ سے مسلسل اصلاح کی طرف باستقلال و استقامت متوجہ پاتا ہے اور وہ اس راہِ سلوک کو طے کرتا ہوا "سیر اِلی اللہ" تک پہنچ جاتا ہے تو اس وقت شیخ اس مریدِ طالب کو خلافت و بیعت سے نوازتا ہے ۔
۱۔ سیر اِلی اللہ:
سیر الی اللہ یہ ہے کہ اَمراضِ نفسانیہ جو کہ اخلاقِ رذیلہ ہیں ان سے نفس کا پاک ہونا جس کو تَزْکِیَۂ نَفْس کہتے ہیں جس کا ذکر ﴿قَدۡ أَفۡلَحَ مَن زَكَّىٰهَا﴾ [الشمس ٩] (یعنی بے شک جس نے نفس کو صاف کیا کامیاب رہا) میں ہے ۔
اور قلب کا اخلاقِ حمیدہ و فاضلہ سے آراستہ ہونا جس کو تَحْلِیَہ و تَجْلِیَہ[22] کہتے ہیں، ان کا حاصل ہونا جس کو سلوک میں مَقَامات سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ جب ان مقامات کے حصول اور تزکیہ نفس میں رُسُوخ[23] ہو جاتا ہے اور اس کے اِزالہ اور حصول کے طرق و تدابیر سے واقفیت ہو جاتی ہے، اس وقت اس کو سیر اِلی اللہ پر پہنچنے کے بعد اس طالب کو اجازت دی جاتی ہے ۔
۲۔ سیر فی اللہ:
سیر اِلی اللہ کے بعد قلب کے اندر تزکیہ اور تقویٰ سے ایک خاص جِلاء اور نور پیدا ہوتا ہے اور برابر قلب اِنْقِطَاع[24] عَن مَاسِویٰ اللہ کے ساتھ شُغلِ بحق رکھتا ہے تو حق تعالیٰ کی ذات و صفات اور افعال نیز حقائقِ کَوْنِیَہ[25] و حقائقِ اَعمالِ شرعیہ و معاملات مابین اللہ و بین العبد منکشف ہوتے ہیں ۔
اس کو "سیر فی اللہ" کہتے ہیں اور اس کی کوئی نِہَایت (انتہا) نہیں کہ حسبِ استعداد بہ شُغلِ حق "تَفْرِیْد" (کسی چیز کو اپنی طرف منسوب نہ کرنے) و "تَجْرِیْد" (دنیاوی اور اخروی اغراض کو ترک کر دینے) کے ساتھ ترقی ہوتی رہتی ہے ۔
تَنْبِیْہ:- شیخ مرید کو سیر اِلی اللہ کے مرتبے پر پہنچنے کے بعد ہی مَجَازِ بیعت کر دیتا ہے اور کبھی سیر فی اللہ کے حصول کا انتظار کرتا ہے۔ یہ مرید کے حال اور شیخ کے ذوق پر منحصر ہے ۔
دُوسرا شیخ تجویز کرنا
اس کی چند صورتیں ہیں۔
1. شیخِ اول کا مُتَّبِعِ شرع نہ پانا یعنی بدعت یا اِصرارِ کبیرہ پر پانا ۔
2. شیخِ اول سے باوجود متشرع، متبعِ سنت ہونے کے مُنَاسَبَت[26] کا نہ ہونا۔
3. یا شیخِ اول کا انتقال کر جانا ۔
اس تعبیری صورت میں بِدُونِ بیعت کسی دوسرے شیخ سے صرف اپنی اصلاح کی تکمیل کرانا یا دوسرے شیخ سے بیعت ہونے کے ساتھ اصلاح کیلئے متوجہ ہونا ۔
چنانچہ ہمارے حضرت دادا پیر حاجی اِمداد اللہ صاحب (نور اللہ مرقدہ) اول سلسلہ نقشبندیہ سے مجازِ بیعت تھے اُن کا انتقال ہونے کے بعد چونکہ ابھی طبیعت کو سَیْرِی[27] نہ ہوئی تھی، اس لئے سلسلہ چشتیہ میں حضرت میانجیو نور محمد صاحب جھنجھانوی (نور اللہ مرقدہ) سے بیعت فرمائی اور حضرت میانجیو صاحب کی طرف سے بھی مجازِ بیعت ہوئے جن کے فیوض و برکات سے آج عرب و عجم فیض یاب ہیں ۔
تَنْبِیْہ:- دُوسرا شیخ تجویز کرنے پر پہلے شیخ کی شان میں کبھی سُوءِ اَدبی[28] قولاً، فعلاً، حاضراً یا غائباً نہ کرے اگرچہ شیخِ اول متشرع نہ رہا ہو کہ یہ سخت وبال [29]ہے ۔
مَوَانِع (رکاوٹیں)
یوں تو جتنے بھی مَعَاصِی اور تعلقاتِ مَاسِویٰ اللہ ہیں سب اس راہِ سُلُوک کے رہزن[30] ہیں ۔ مگر چند ضروری چیزوں کو بیان کیا جاتا ہے جن سے سالک کو بے حد پرہیز کرنا چاہیے ورنہ تو ساری محنت رائیگاں[31] اور بے کار جائے گی ۔
۱۔ ایک مانع مُخالفتِ سُنّت ہے: افسوس اس زمانے میں رُسُوم و بِدعات کی بڑی کثرت ہے اور تصوف بھی انہی رسوم و بدعات[32] کا نام رہ گیا ہے ۔ جیسا کہ حدیثِ شریف میں ہے فرمایا حضور اکرم ﷺ نے:۔
يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ (الحدیث - رواہ بیہقی)[33]
یعنی عنقریب لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آوے گا کہ نہ باقی رہے گا اس میں اسلام سے مگر نام ہی نام اور نہ باقی رہے گا قرآن سے مگر صرف خُطُوط و نُقُوش ۔
۲۔ یہ کہ غلطی سے کسی بے شَرع پیر [34]سے بیعت کر لی، اب ساری عمر اسی کو نباہتا ہے جب وہ خود واصِل[35] نہیں تو اس کو کیسے واصل کرے گا ۔
۳۔ یہ کہ لڑکوں اور عورتوں کو دیکھنا یا اُن کے پاس بیٹھنا اٹھنا ہے ۔ جَواہرِ غَیبی میں لکھا ہے کہ ایک شخص طواف کرتا جاتا تھا اور کہتا تھا۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوذُ بِکَ مِنْکَ (یعنی اے اللہ میں تجھ سے تیری پناہ میں آتا ہوں)
کسی نے اس کا حال دریافت کیا کہنے لگا ایک بار کسی حسین اَمْرَد کو نظرِ شہوت سے دیکھا اسی وقت غیب سے ایک طمانچہ لگا جس سے آنکھ جاتی رہی ۔
یوسف بن حسین فرماتے ہیں:۔
"رَاَیْتُ اٰفَاتِ الصُّوفِیَّۃِ فِی صُحْبَۃِ الْاَحْدَاثِ وَمُعَاشَرَۃِ الْاَقْدَادِ وَرِفَقِ النِّسْوَانِ"
یعنی دیکھا میں نے آفاتِ صوفیہ[36] کو اَمْرَدوں[37] کے میل جول کرنے اور نا جنسوں سے ملنے میں اور عورتوں سے نرمی برتنے میں۔ شہوت بالنساء سے زیادہ اَشد اَمْرَدوں (یعنی بے ریش لڑکوں) کی شہوت ہے۔ آج کل امردوں کے ساتھ اِبتلاء [38]عام ہو رہا ہے ۔ یہ فعل حرمت میں سب سے بڑھا ہوا ہے، اسی لئے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بڑا ڈر مجھ کو اپنی امت پر قومِ لُوط کے فعل کا ہے۔ (ابنِ ماجہ) [39]
دُوسری حدیث میں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ سات قسم کے گنہگاروں پر ساتوں آسمان کے فرشتے لعنت کرتے ہیں یہ لعنت بھی اس کثرت سے ہوتی ہے کہ مَلْعُون[40] کو تباہ کرنے کے لئے کافی ہو جاتی ہے (ان میں سے اول، اِغْلَام[41] کرنے والا ملعون ہے آپ نے یہ تین بار فرمایا) (الحدیث طبرانی) ۔[42]
نیز ایک حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ اس مَرد کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے جو کسی مرد سے لَوَاطَت کرے (الحدیث) ۔[43]
بعض لوگ ایسے ہیں جو شہوت سے پاک و صاف ہیں، مگر ان میں بھی اکثر نَظر کے مَرض میں مبتلا ہیں ۔ حالانکہ زنا آنکھوں سے بھی ہوتا ہے۔[44] اس میں بھی بہت کم لوگ احتیاط کرتے ہیں، حالانکہ نظر فعل کا مُقَدَّمَہ[45] ہے اور فقہ کا قاعدہ ہے کہ حرام فعل کا مقدمہ بھی حرام ہوتا ہے، خوب اچھی طرح سمجھ لیں ۔
۴۔ ایک مانع زبان درازی [46]اور دعویٰ کمالات[47] اور شریعت اور یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ گستاخی اور بے ادبی ہے، جیسے بعض جاہل پیر کرتے ہیں ۔
۵۔ ایک مانع یہ ہے کہ شیخ کی تعلیم کے علاوہ از خود مجاہدہ [48]کرنا کہ چند روز میں گھبرا کر وہ تھوڑا تعلیم کیا ہوا بھی چھوٹ جاتا ہے، چنانچہ بہت سے لوگوں کو ایسا اتفاق ہوا اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اعمال میں اتنا اختیار کرو کہ اکتا[49] نہ جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا جب تک تم نہ اکتا جاؤ ۔[50]
۶۔ ایک مَانِع مُجاہِدات کے ثمرات میں عَجَلَت[51] اور تقاضا کرنا ہے کہ اتنے دن مجاہدہ کرتے ہو گئے اب تک کچھ نتیجہ نہیں ہوا پھر اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ یا تو شیخ سے بَد اعتقاد[52] ہو جاتا ہے یا مجاہدہ کو ترک کر دیتا ہے ۔
طالب کو سمجھنا چاہیے کہ کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو دُفْعَتَہً (اچانک) حاصل ہو جاتی ہو، دیکھو یہی شخص خود کسی وقت بچہ تھا کتنے دنوں میں جوان ہوا، پہلے جاہل تھا، کتنے دنوں میں عالم ہوا۔ عرض عجلت و تقاضا اپنے شیخ پر فرمائش ہے جو بہت مُضِر ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر ایسا شخص اپنے پیر پر قناعت نہیں رکھتا ۔ ہر کس و ناکس سے چارہ جوئی کرتا ہے اور پھر ہرجائی ہونے کی وجہ سے اس کے اوپر سے شیخ کی عِنَایت و لُطف بھی جاتا رہتا ہے اور پھر مزید برآں یہ کہ جس چیز کو جلدی چاہتا ہے اس کا حصول اختیار سے خارج ہوتا ہے اس سے اور بھی پریشانی بڑھتی ہے غرض ظاہر و باطناً ہر طرح سے برائی ہی برائی ہاتھ آتی ہے ۔
۷۔ ایک مانع شیخ سے محبت و عقیدت میں فُتُور[53] ڈالنا یا اس سے بھی بڑھ کر شیخ کو رنجیدہ کرنا اور اس کو ایذا [54] پہنچانا ہے کہ اس سے مُنَاسَبَت باقی نہیں رہتی اور بِدُوںِ مناسبت کے طالب کو نفع نہیں ہو سکتا اور مناسبتِ شیخ کے یہ معنی ہیں کہ شیخ سے مرید کو اس قدر مُوَانِسَت[55] و عقیدت ہو جائے کہ شیخ کے کسی قول و فعل و حال سے مرید کے دل میں طَبْعِی نَکِیْر[56] نہ پیدا ہو، گو یہ عقیدت عقلی[57] ہی ہے یعنی شیخ کی سب باتیں مرید کو پسند ہوں اور یہی مُنَاسَبَت بیعت کی شرط ہے لہذا اس کا بہت اہتمام چاہیے اس کی سخت ضرورت ہے جب تک یہ نہ ہو مجاہدات، ریاضات، مراقبات و مکاشفات سب بیکار ہیں، کوئی نفع نہ ہو گا ۔
اگر طبعی مناسبت نہ ہو تو عقلی پیدا کر لی جائے ۔ اس پر نفع موقوف ہے، اسی لئے جب تک پوری طرح مناسبت نہ ہو بیعت نہ کرنا چاہیے ۔ جب پوری طرح محبت و مناسبت ہو جائے اُس وقت پیر سے بیعت زیادہ نافع ہے ۔
منجملہ مَوانِعِ طریقِ سُلوک کے دو اَمراضِ خاص ہیں جو اس قدر کثیر الوقوع ہیں کہ شاید ہی کوئی سالک ان میں مبتلا ہونے سے بچا ہو بلکہ بعض اہل علم بھی ان میں مبتلا ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ بعض امورِ غیر اختیاریہ[58] کی تَحصیل[59] کی فکر میں پڑ جاتے ہیں جیسے ذوق و شوق، اِستغراق و لذت، یک سوئی و دفعِ خطرات و سوزش و اِنجذاب و عشقِ طبعی وغیرہ اور ان امور کو ذکر و شغل و مجاہدات کے ثمرات سمجھ جاتے ہیں اور ان کے حاصل نہ ہونے کو حِرمان[60] سمجھتے ہیں ۔
میں لگ جاتے ہیں جیسے قَبْض[61]، ہُجُومِ خطرات اور دل نہ لگنا یا کسی آدمی یا مال کی طبعی محبت یا شہوت یا غَضَبِ طبعی کا غلبہ یا قلب میں رِقَّت[62] نہ ہونا یا رونا نہ آنا یا کسی دنیوی غم کا غلبہ یا کسی دنیوی خوف کا غلبہ وغیرہ اور ان امور کو طریق کے لیئے مُضِر اور مقصود سے مَانِع سمجھتے ہیں اور اُن کے زائل نہ ہونے کو اللہ تعالیٰ سے بُعْد (دوری) کا مُوجِب[63] سمجھتے ہیں ۔
یہ ہیں وہ دو امر جن میں عام طور پر اہلِ سلوک مبتلا ہیں اور امرِ مشترک ان دونوں امروں میں یہ امر ہے کہ امورِ غیر اختیاریہ کے دَرپے[64] ہوتے ہیں حاصل کرنے میں یا اِزالہ کرنے میں اور امورِ غیر اختیاریہ کے درپے ہونا بہت سے مَفاسِد پر مشتمل ہے ان میں سے ایک مفسدہ[65] یہ ہے اور یہ اِعتقادی مفسدہ ہے کہ درپردہ اس میں حق تعالیٰ کے ارشادِ ﴿لَا یُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۚ ﴾ [البقرة ٢٨٦] کی مزاحمت ہے ۔
کیوں کہ جب یہ غیر اختیاری ہیں تو انسان کی وُسعت میں نہ ہوئے اور جس چیز کی تحصیل اختیار میں نہیں اس کا اِزالہ بھی اختیار میں نہیں، اسی طرح جس چیز کا ازالہ اختیار میں نہیں اس کی تحصیل بھی اختیار میں نہیں۔ جب یہ انسان کی وسعت میں نہ ہوئے اور سالک نے ان کی تحصیل یا ازالہ کو مَوْقُوف علیہِ مقصود کا سمجھنا جو کہ مَامُور بِہ[66] ہےتو گویا یہ معتقد ہوا اس امر کا کہ مامور بہ کیلئے وسعت شرط نہیں، تو صریح مزاحمت ہوئی اِرشادِ "لَا يُكَلِّفُ اللہ" کی اور یہ کتنی بڑی غلطی ہے ۔
دوسرا مفسدہ یہ ہے اور یہ عملی مفسدہ ہے کہ جب یہ امور اختیاری نہیں تو کوشش کرنے سے نہ حاصل ہوں گے اور نہ زائل ہوں گے اور یہ تحصیل اور اِزالہ کے لئے کوشش کرے گا اور جب کامیابی نہ ہوگی تو روز بروز پریشانی ہی بڑھے گی ۔ پھر اس پریشانی کے یہ آثار مُحْتَمَل[67] ہیں:۔
۱۔ اول: پریشانی کے تَوَاتُر[68] سے کبھی بیمار ہو جاتا ہے پھر بیماری میں بہت سے اَوراد[69] و طاعات سے محروم رہ جاتا ہے ۔
۲۔ دوم: پریشانی و غم کے غلبہ سے بعض اوقات اخلاق میں تنگی ہو جاتی ہے اور دوسروں کو اس سے اذیت پہنچتی ہے ۔
۳۔ سوم: غم و فکر کے غلبہ سے بعض اوقات اہلِ و عِیال و دیگر اہلِ حُقوق کے حقوق میں کوتاہی ہونے لگتی ہے اور مَعْصِیَت تک نوبت پہنچ جاتی ہے ۔
۴۔ چہارم: کبھی یہ پریشانی اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ مقصود سے مایوس ہو کر خُودکشی کر لیتا ہے اور "خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ"[70] کا مصداق بن جاتا ہے ۔
۵۔ پنجم: کبھی مایوس ہو کر اعمال و اطاعت کو بے کار سمجھ کر سب چھوڑ بیٹھتا ہے اور بَطَالَت و تَعَطُّلِ[71] محض کی نوبت پہنچ جاتی ہے ۔
۶۔ ششم: کبھی شیخ سے بَد اعتقاد ہو جاتا ہے کہ مقصود کا راستہ شیخ کو معلوم نہیں ۔
۷۔ ہفتم: کبھی حق تعالیٰ سے ناراض ہو جاتا ہے کہ ہم اتنی کوشش اور مجاہدہ کر رہے ہیں مگر کامیابی ہی نہیں ہوتی مجاہدہ کر رہے ہیں مگر کامیابی ہی نہیں ہوتی، ذرا رحمت نہیں فرماتے بالکل توجہ نہیں ہے، خدا جانے:۔
﴿وَٱلَّذِینَ جَـٰهَدُوا۟ فِینَا لَنَهۡدِیَنَّهُمۡ سُبُلَنَاۚ ﴾ [العنكبوت ٦٩] (الآیہ) اور مَنْ تَقَرَّبَ اِلَیَّ شِبْراً تَقَرَّبْتُ اِلَیْہِ ذِرَاعاً (الحدیث)[72] یہ تمام وعدے کہاں گئے؟ تو نَعُوذُ بِاللہ نُصُوص کی صریح تَکْذِیْب کرنے لگتا ہے۔ نَعُوذُ بِاللہ مِنْہُ ۔
شَجَرۃُ الْمُرَاد: تصوف کے امور کا خلاصہ
اس نقشے کو دو بنیادی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو ایک سالک کی پوری زندگی کا احاطہ کرتے ہیں:
شجرۃ المراد یعنی نقشہ امور تصوف
۱۔ مَقْصُود (اصل مقصد)
تصوف کا اصل مقصد دو چیزیں ہیں:
جَلْب (حاصل کرنا): بندے کے اندر اخلاقِ حَمِیْدَہ (جیسے صبر، شکر، اخلاص) کا پیدا ہونا ۔
سَلْب (پاک کرنا): بندے کے باطن سے اخلاقِ رَذِیْلَہ (جیسے رِیا، کبر، حُبِّ دنیا) کا ختم ہونا ۔
۲۔ ثَمَرَہ (نتیجہ)
جب مقصد حاصل ہو جائے تو اللہ کی طرف سے یہ انعامات ملتے ہیں:
حُضُور و رِضَا: اللہ کی دائمی موجودگی کا احساس اور اس کی رضا کا ملنا ۔
عَبْدِیَت و قُربِ خاص: اللہ کی سچی بندگی اور اس کا خاص قرب حاصل ہونا ۔
۲۔غیر مَقْصُود
1۔ ذَرَائع (نیکی کے ذرائع):مقصد تک پہنچنے کے لیے درج ذیل محنتیں ضروری ہیں:
۱۔ مُجاہدہ: ۱۔ قِلَّتِ طعام (کم کھانا)، ۲۔ قِلَّتِ منام (کم سونا)، ۳۔ قِلَّتِ کلام (کم بولنا)، ۴۔ قِلَّتِ اختلاط (لوگوں سے کم ملنا) ۔
۲۔ فاعلہ
مفید بلا خطر: وہ کام جن میں کوئی روحانی خطرہ نہیں، جیسے ذِکر، شُغل، مُراقبہ، اور تصورِ شیخ ۔
مفید مع الخطر: وہ کام جو فائدہ مند تو ہو سکتے ہیں مگر خطرناک بھی ہیں، جیسے عشقِ مجازی یا سماع ۔
2۔. توابع
۱۔ احوال غیر محتملۃ الضرر:
1. اجابت دعا 2. الہام 3. رویائے صالحہ 4. فراست صادقہ 5. فنا و بقا ء 6. وجد 7. وحدۃ الوجود
۲۔ احوال محتملۃ الضرر
1. استغراق 2. تصرف و تاثیر المعروف بہ توجہ 3. سکر 4. قبض و بسط 5. مشاہدہ 6. کرامت
3۔ مَوَانِع (راستے کے ڈاکو): وہ چیزیں جو سالک کو منزل سے روک دیتی ہیں:
مُخالفتِ سُنّت: رسول اللہ ﷺ کے طریقے سے ہٹ جانا ۔
مُخالفتِ شیخ: اپنے روحانی مرشد کی ہدایات کو نہ ماننا ۔
تصنع، تعجیل، حسن پرستی،
یہ جدول، جسے شجرہ المُراد (مراد کا درخت) کہا گیا ہے، تصوف کے نظری اور عملی امور کا ایک جامع نقشہ ہے ۔ یہ ایک سالک (روحانی مسافر) کے لیے روڈ میپ کی حیثیت رکھتا ہے، جو بتاتا ہے کہ اصل منزل کیا ہے، وہاں تک پہنچنے کے طریقے کیا ہیں، اور راستے میں کون سی رکاوٹیں آ سکتی ہیں۔
ذیل میں اس جدول کی تفصیلی تشریح درج ہے:
۱۔ مقصود (اصل مقصد: عمل اور طریقہ)
تصوف میں ہر محنت کا رخ ان دو پہلوؤں کی طرف ہوتا ہے:
جَلْب (حاصل کرنا): اس سے مراد اخلاقِ حمیدہ (پسندیدہ صفات) کو اپنے اندر پیدا کرنا ہے ۔ جیسے صبر، شکر، اخلاص اور اللہ کی محبت ۔
سَلْب (پاک کرنا): اس سے مراد اخلاقِ رذیلہ (بری صفات) کو دل سے نکال پھینکنا ہے ۔ جیسے دکھاوا (ریا)، غرور (کبر) اور دنیا کی لالچ ۔
۲۔ ثمرہ (نتیجہ اور انعام)
جب کوئی شخص اپنے اخلاق درست کر لیتا ہے، تو اسے یہ روحانی ثمرات حاصل ہوتے ہیں:
حضور و رضا: اللہ کی دائمی یاد کا احساس پیدا ہونا اور اللہ کا اس بندے سے راضی ہو جانا ۔
عبدیت و قربِ خاص: بندے میں سچی بندگی کی تڑپ پیدا ہونا اور اسے اللہ کا خاص قرب نصیب ہونا ۔
۳۔ غیر مقصود (ذرائع اور وسائل)
یہ وہ چیزیں ہیں جو منزل تک پہنچنے میں مددگار ہیں، لیکن یہ خود "منزل" نہیں ہیں۔
الف: ذرائع (مجاہدہ اور محنت)
سالک کو اپنے نفس پر قابو پانے کے لیے چار قسم کی "قلتوں" (کمی) کی مشق کرنی پڑتی ہے:
1. قلتِ طعام: کم کھانا۔
2. قلتِ منام: کم سونا۔
3. قلتِ کلام: ضرورت کے بغیر نہ بولنا۔
4. قلتِ اختلاط: لوگوں سے میل جول کم کر کے اللہ سے لو لگانا۔
ب: فاعلہ (روحانی مشقیں)
ان مشقوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے :
مفید بلا خطر: وہ کام جن کا فائدہ ہی فائدہ ہے، جیسے ذکر، مراقبہ، اور اپنے مرشد کا تصور کرنا ۔
مفید مع الخطر: وہ کام جو فائدہ دے سکتے ہیں مگر ان میں پھسلنے کا ڈر ہوتا ہے، جیسے عشقِ مجازی (کسی مخلوق سے لگاؤ) یا سماع (روحانی قوالی وغیرہ) ۔
۴۔ توابع (روحانی احوال و کیفیات)
سلوک کے دوران سالک پر مختلف حالتیں طاری ہوتی ہیں، جنہیں توابع کہتے ہیں ۔
احوال غیر محتملۃ الضرر (محفوظ حالتیں)
احوال محتملۃ الضرر (آزمائشی حالتیں)
یہ وہ حالتیں ہیں جن سے سالک کو نقصان کا خطرہ نہیں ہوتا ۔
یہ وہ حالتیں ہیں جن پر فخر کرنا یا رک جانا سالک کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔
۱۔ دعا کی قبولیت
۱۔ استغراق (بے خودی)
۲۔ الہام اور سچے خواب
۲۔ تصرف و تاثیر (دوسروں پر اثر ڈالنا)
۳۔ وجد اور فنا و بقا
۳۔ کرامت اور مشاہدہ
۴۔ وحدۃ الوجود کا ادراک
۴۔ قبض و بسط (دل کی تنگی و کشادگی)
۵۔ موانع (راستے کے ڈاکو)
یہ وہ چیزیں ہیں جو روحانی ترقی کو جڑ سے کاٹ دیتی ہیں:
مخالفتِ سنت: رسول اللہ ﷺ کے طریقے کو چھوڑ کر اپنی مرضی یا بدعات پر چلنا ۔
مخالفتِ شیخ: اپنے مرشد کی اصلاحی ہدایات کو نہ ماننا ۔
دیگر رکاوٹیں: بناوٹ (تصنع)، جلد بازی (تعجیل) کہ "نتیجہ کیوں نہیں نکل رہا"، اور ظاہری خوبصورتی میں کھو جانا (حسن پرستی) ۔
کیا آپ ان میں سے کسی مخصوص اصطلاح، جیسے "قبض و بسط" یا "فنا و بقا" کی مزید گہرائی میں وضاحت جاننا چاہیں گے؟
[1] درگزر کرنا، معاف کرنا یا پکڑ نہ کرنا۔
[2] إنَّ اللهَ تَجاوزَ عن أُمَّتي ما حَدَّثَت به أنفُسَها، ما لم تَعمَلْ أو تَتَكَلَّمْ، قال قَتادةُ: إذا طَلَّقَ في نَفسِه فليسَ بشيءٍ. [الراوي: أبو هريرة • البخاري، صحيح البخاري (٥٢٦٩) • [صحيح] • أخرجه مسلم (١٢٧)، والنسائي (٣٤٣٤)، وابن ماجة (٢٠٤٤) بنحوه.]
[3] إنَّ اللهَ تَجاوزَ لي عن أُمَّتي ما وسوسَت به صُدورُها، ما لَم تَعمَلْ أو تَكَلَّمْ. [الراوي: أبو هريرة • البخاري، صحيح البخاري (٢٥٢٨) • [صحيح] • أخرجه مسلم (١٢٧)، والنسائي (٣٤٣٤)، وابن ماجة (٢٠٤٤) بنحوه.]
[4] درجے یا مراحل (واحد: مرتبہ)۔
[5] وہ پہلو جو کمزور ہو یا جس کے ہونے کا امکان کم ہو۔
[6] سزا یا عذاب۔
[7] پختہ ارادہ جس میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے۔
[8] ناراضگی، پکڑ یا ملامت کرنا۔
[9] ہمیشہ فرمانبرداری اور بندگی میں لگے رہنا۔
[10] اللہ کی یاد کا دل میں ایسا رچ بس جانا کہ بھولنا مشکل ہو جائے۔
[11] ایسی بے چین کر دینے والی خواہش کہ جب تک نیکی نہ کر لے، سکون نہ آئے۔
[12] مکمل پابندی اور بہترین انتظام کے ساتھ۔
[13] نیت کو دل میں حاضر رکھتے ہوئے (توجہ کے ساتھ)۔
[14] تصوف کا وہ بلند درجہ جہاں بندہ اللہ کی حضوری محسوس کرے۔
[15] كان رسولُ اللهِ صلّى اللهُ عليه وسلَّم يومًا بارزًا للنّاسِ إذ أتاه رجُلٌ يمشي فقال: يا محمَّدُ ما الإيمانُ؟ قال: (أنْ تُؤمِنَ باللهِ وملائكتِه ورُسلِه ولقائِه وتُؤمِنَ بالبعثِ الآخِرِ) قال: يا رسولَ اللهِ فما الإسلامُ؟ قال: (لا تُشرِكُ باللهِ شيئًا وتُقيمُ الصَّلاةَ المكتوبةَ وتُؤدِّي الزَّكاةَ المفروضةَ وتصومُ رمضانَ) قال: يا مُحمَّدُ ما الإحسانُ؟ قال: (أنْ تعبُدَ اللهَ كأنَّك تراه فإنْ لَمْ تكُنْ تراه فإنَّه يراكَ) قال يا مُحمَّدُ فمتى السّاعةُ؟ قال: (ما المسؤولُ عنها بأعلَمَ مِن السّائلِ وسأُحدِّثُكَ عن أشراطِها: إذا ولَدَتِ الأَمَةُ ربَّتَها ورأَيْتَ العُراةَ الحُفاةَ رؤوسَ النّاسِ في خَمسٍ لا يعلَمُهنَّ إلّا اللهُ: ﴿إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السّاعَةِ﴾ [لقمان: ٣٤] ثمَّ انصرَف الرَّجُلُ فالتمَسوه فلَمْ يجِدوه فقال: ( ذاك جِبريلُ جاء لِيُعلِّمَ النّاسَ دِينَهم) [الراوي: أبو هريرة ، و عمر بن الخطاب ، و عبد الله بن عمر • ابن حبان، صحيح ابن حبان (١٥٩) • أخرجه في صحيحه • أخرجه البخاري (٥٠)، ومسلم (٩)، وابن ماجه (٦٤)، والترمذي (٢٦١٠)، والنسائي (٤٩٩٠)، وأحمد (٩٥٠١) ۔ • أحمد شاكر، تخريج المسند لشاكر (٨/١٣١) • إسناده صحيح • أخرجه أحمد (٥٨٥٦) بلفظه، ومحمد بن نصر في ((تعظيم قدر الصلاة)) (٣٧١)، والآجري في ((الشريعة)) (٢٠٧) كلاهما مطولًا بلفظه، وأخرجه ابن خزيمة (١)، والدارقطني (٢٧٠٨)، وأبو نعيم في ((مستخرجه)) (٨٢) جميعًا بلفظ مقارب، وأصل الحديث في صحيح مسلم (٨) .]
[16] انسانی وجود کے چھ لطیف یا غیر مادی روحانی مراکز ۔
[17] گناہ (واحد: معصیت) ۔
[18] بیزار رہنا یا دور بھاگنا ۔
[19] اللہ کی طرف رجوع کرنے اور اس کی طرف لوٹنے کا مقام ۔
[20] اللہ تعالیٰ کی خالص ذات (بغیر صفات کے تصور کے)۔
[21] شیخ کی محفل میں بیٹھنا اور خط و کتابت کے ذریعے اصلاح لینا۔
[22] دل کو نیکیوں سے سجانا اور اسے نورِ الٰہی سے روشن کرنا۔
[23] کسی چیز کا پختہ ہو جانا یا جڑ پکڑ لینا (عادت بن جانا)۔
[24] کٹ جانا یا الگ ہو جانا (اللہ کے سوا ہر چیز سے دل کا کٹنا) ۔
[25] کائنات کی چھپی ہوئی سچائیاں۔
[26] مرید اور شیخ کے درمیان ذہنی اور قلبی ہم آہنگی ہونا ۔
[27] سیراب ہونا یا باطنی تشنگی کا ختم ہونا ۔
[28] بے ادبی یا گستاخی کرنا۔
[29] گناہ، عذاب یا کسی برے فعل کا برا نتیجہ۔
[30] راستہ لوٹنے والا، ڈاکو یا قزاق۔
[31] ضائع ہو جانا یا بے کار چلا جانا۔
[32] دین میں اپنی طرف سے نکالی گئی نئی باتیں یا رسوم (واحد: بدعت)۔
[33] يوشَكُ أن يأتيَ على النّاسِ زمانٌ لا يبقى من الإسلامِ إلّا اسمُه ولا يبقى من القرآنِ إلّا رسمُه مساجدُهم عامرةٌ وهي خرابٌ من الهُدى علماؤُهم أشرُّ مَن تحتَ أديمِ السَّماءِ من عندهم تخرُجُ الفتنةُ وفيهم تعودُ [الراوي: علي بن أبي طالب • البيهقي، شعب الإيمان (٢/٧٨٨) • منقطع • أخرجه ابن أبي الدنيا في ((العقوبات)) (٨)، وابن عدي في ((الكامل في الضعفاء)) (٤/ ٢٢٧) والبيهقي في ((شعب الإيمان)) (١٧٦٣) بلفظه.]
[34] وہ پیر جو شریعت کا پابند نہ ہو اور گناہوں میں ملوث ہو۔
[35] وہ شخص جو اللہ تک پہنچ چکا ہو اور اس کی معرفت رکھتا ہو۔
[36] صوفیاء کے راستے میں آنے والی تباہ کن بیماریاں یا فتنے۔
[37] وہ خوبصورت لڑکا جس کی ابھی داڑھی نہ نکلی ہو۔
[38] آزمائش یا کسی گناہ میں مبتلا ہو جانا۔
[39] إنَّ أخوَفَ ما أخافُ على أمَّتي من عملِ قومِ لوطٍ [الراوي: جابر بن عبدالله • المنذري، الترغيب والترهيب (٣/٢٧٠) • [إسناده صحيح أو حسن أو ما قاربهما] • أخرجه الترمذي (١٤٥٧)، وابن ماجه (٢٥٦٣)، وأحمد (١٥٠٩٣) ، والحاكم (٨٠٥٧) جميعهم بلفظه.]
[40] جس پر اللہ اور فرشتوں کی لعنت ہو۔
[41] غیر فطری فعل (Sodomy)۔
[42] لعن اللهُ سبعةً من خلقِه من فوق سبعِ سماواتِه وردَّد اللَّعنةَ على واحدٍ منهم ثلاثًا ولعن كلَّ واحدٍ منهم لعنةً تكفيه قال: ملعونٌ من عمِل عملَ قومِ لوطٍ، ملعونٌ من عمِل عملَ قومِ لوطٍ، ملعونٌ من عمِل عملَ قومِ لوطٍ، ملعونٌ من ذبح لغيرِ اللهِ، ملعونٌ من أتى شيئًا من البهائمِ، ملعونٌ من عقَّ والدَيْه، ملعونٌ من جمع بين امرأةٍ وابنتِها، ملعونٌ من غيَّر حدودَ الأرضِ، ملعونٌ من ادَّعى إلى غيرِ مواليه
الراوي: أبو هريرة • المنذري، الترغيب والترهيب (٣/٢٧٠) • رجاله رجال الصحيح إلا محرز بن هارون التيمي ويقال فيه محرر بالإهمال واه لكن قد حسن له الترمذي ومشاه بعضهم • أخرجه الطبراني في ((المعجم الأوسط)) (٨٤٩٧) واللفظ له، وأخرجه ابن حبان في ((المجروحين-ت حمدي السلفي)) (١٦/٣٥٣)، والحاكم (٨٠٥٣) باختلاف يسير
[43] لا ينظر اللهُ إلى رجلٍ أتى رجلًا أو امرأةً في الدُّبر
الراوي: عبدالله بن عباس • الترمذي، سنن الترمذي (١١٦٥) • حسن غريب • أخرجه النسائي في ((السنن الكبرى)) (٩٠٠١)، وابن الجارود في ((المنتقى)) (٧٢٩)، وابن حبان (٤٤١٨)
[44] عن ابنِ عَبّاسٍ، قال: ما رَأيتُ شيئًا أشبَهَ باللَّمَمِ، ممّا قال أبو هُرَيرةَ: عَنِ النَّبيِّ ﷺ: إنَّ اللهَ كَتَبَ على ابنِ آدَمَ حَظَّه مِنَ الزِّنا، أدرَكَ ذلك لا مَحالةَ؛ فزِنا العَينِ النَّظَرُ، وزِنا اللِّسانِ المَنطِقُ، والنَّفسُ تَمَنّى وتَشتَهي، والفَرجُ يُصَدِّقُ ذلك أو يُكَذِّبُه.
الراوي: أبو هريرة • البخاري، صحيح البخاري (٦٦١٢) • [صحيح] • أخرجه مسلم (٢٦٥٧) باختلاف يسير
[45] کسی کام کی طرف پہلا قدم یا اس کا ذریعہ۔
[46] گستاخی کرنا یا بے ہودہ گفتگو کرنا۔
[47] اپنی بزرگی اور کرامات کا خود ہی دعویٰ کرنا۔
[48] مرشد کی اجازت کے بغیر اپنی مرضی سے سخت روحانی مشقیں کرنا۔
[49] بیزار ہو جانا یا تھک کر ہمت ہار دینا۔
[50] أنَّ النَّبيَّ صلّى اللهُ عليه وسلَّم دَخَلَ عليها وعِندَها امرَأةٌ، قال: مَن هذه؟ قالت: فُلانةُ، تَذكُرُ مِن صَلاتِها، قال: مَهْ، علَيكُم بما تُطيقونَ، فواللهِ لا يَمَلُّ اللهُ حتّى تَمَلُّوا، وكان أحَبَّ الدِّينِ إليه ما دامَ عليه صاحِبُه.
الراوي: عائشة أم المؤمنين • البخاري، صحيح البخاري (٤٣) • [صحيح] • أخرجه مسلم (٧٨٢)، النسائي (١٦٤٢)، وابن ماجه (٤٢٣٨) جميعهم باختلاف يسير.
[51] جلد بازی کرنا۔
[52] یقین کا اٹھ جانا یا شک میں پڑ جانا۔
[53] خرابی یا کمزوری آ جانا۔
[54] تکلیف یا دکھ پہنچانا۔
[55] انسیت، محبت اور اپنائیت۔
[56] انکار، ناپسندیدگی یا دل میں بوجھ محسوس ہونا۔
[57] سوچ سمجھ کر کسی کی علمی و عملی برتری کو تسلیم کرنا۔
[58] وہ معاملات یا کیفیات جو انسان کے بس میں نہ ہوں (مثلاً خود بخود رونا آنا)۔
[59] حاصل کرنا۔
[60] محرومی یا ناکامی۔
[61] روحانی تنگی یا دل کا بوجھل ہونا (بسط کی ضد) ۔
[62] دل کا نرم ہونا یا آنکھوں میں آنسو آنا ۔
[63] سبب یا وجہ ۔
[64] پیچھے پڑ جانا یا کسی چیز کی فکر میں لگ جانا ۔
[65] خرابی، فتنہ یا نقصان ۔
[66] وہ کام جس کا (اللہ کی طرف سے) حکم دیا گیا ہو ۔
[67] جس کا امکان ہو یا جو بات ہو سکتی ہو۔
[68] لگاتار یا مسلسل ہونا۔
[69] وظائف یا وہ ذکر جو روزانہ مقرر کیا گیا ہو (واحد: وِرد)۔
[70] جس نے دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان اٹھایا۔
[71] بالکل بے کار ہو جانا یا کام کاج (عبادت) چھوڑ دینا۔
[72] قال اللهُ عزَّ وجلَّ: أنا عِندَ ظَنِّ عَبدي بي، وأنا معه حين يَذكُرُني، ولَلَّهُ أفرَحُ بتَوبةِ عَبدِهِ مِن أحدِكم يَجِدُ ضالَّتَهُ بالفَلاةِ -قال أبو عَبدِ اللهِ: أُراهُ ضالَّتَهُ- ومَن تقرَّبَ إليَّ شِبرًا تقرَّبتُ إليه ذراعًا، ومَن تقرَّبَ إليَّ ذراعًا تقرَّبتُ إليه باعًا، فإذا أقبَلَ إليَّ يَمشي أقبَلتُ إليه أُهَروِلُ.
الراوي: أبو هريرة • شعيب الأرنؤوط، تخريج المسند لشعيب (١٠٩٠٩) • إسناده صحيح على شرط الشيخين • أخرجه البخاري (٧٤٠٥)، ومسلم (٢٦٧٥)، والترمذي (٣٦٠٣)، والنسائي في ((السنن الكبرى)) (٧٧٣٠)، وابن ماجه (٣٨٢٢)، وأحمد (١٠٩٠٩) واللفظ له