شریعت و تصوف - 5
حضرت مولانا شاہ محمد مسیح اللہ خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مولانا شاہ محمد مسیح اللہ خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ
(بُری خصلتیں، بُرے کام یا قابلِ ملامت اعمال ۔)
ارشادِ باری ہے:
﴿وَلَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعۡنَا بِهِۦۤ أَزۡوَ ٰجا مِّنۡهُمۡ زَهۡرَةَ ٱلۡحَیَوٰةِ ٱلدُّنۡیَا ﴾ [طه ١٣١]
یعنی اپنی آنکھیں اس چیز کی طرف مت بڑھاؤ جس سے ہم نے نفع دیا ان کافروں کے مختلف گروہوں کو آرائشِ زندگانی دنیا کی ۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
"يَهْرُمُ ابْنُ آدَمَ وَيَشِبُّ مِنْهُ اثْنَانِ: الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُمُرِ" (متفق علیہ) ۔[2]
یعنی آدمی بوڑھا ہوتا رہتا ہے اور اس کی دو چیزیں جوان ہوتی رہتی ہیں (یعنی بڑھتی رہتی ہیں): مال پر حرص کرنا اور عمر پر حرص کرنا ۔
مال وغیرہ کے ساتھ قلب کا مشغول ہونا حِرص ہے ۔
تَشْرِیْح: حرص تمام بیماریوں کی جڑ ہے ۔ یہ ایسا مرض ہے کہ اس کو اُمُّ الْاَمْرَاض[3] کہنا چاہیےکیوں کہ اسی کی وجہ سے جھگڑے فساد ہوتے ہیں، اسی کی وجہ سے مقدمہ بازیاں ہوتی ہیں، اگر لوگوں میں حِرصِ مال نہ ہو تو کوئی کسی کا حق نہ دبائے ۔ بدکاری کا مَنْشَاء[4] بھی لذت کی حرص ہے۔ اخلاقِ رذیلہ کی جڑ بھی یہی حرص ہے، کیوں کہ عارفین کا قول ہے کہ تمام اخلاقِ رذیلہ کی اصل کِبْر ہے اور کبر میں حُبِّ جَاہ [5]ہی کا نام ہے پس کبر کا منشاء بھی حرص ہوا ۔
انسان کا طبعی خاصہ[6] ہے کہ اگر اس کے پاس مال کے دو جنگل بھی ہوں جن میں سونا، یا چاندی پانی کی طرح بہتے ہوں پھر بھی وہ تیسرے کا طالب ہوگا، جتنا ہوس کو پورا کرو گے اتنا ہی بڑھے گی جیسا کہ خارش والا جتنا کھجاتا ہے خارش بڑھتی رہتی ہے ۔
حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿أَمۡ لِلۡإِنسَـٰنِ مَا تَمَنَّىٰ﴾ [النجم ٢٤] یعنی بھلا انسان کی ہر آرزو پوری ہو سکتی ہے یعنی کبھی پوری نہیں ہو سکتی یہی وجہ ہے کہ کبھی حریص کو راحت نہیں مل سکتی اس کی ہوس کے پیٹ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی ، کیوں کہ ایک آرزو ختم نہیں ہوتی کہ دوسری شروع ہو جاتی ہے اور جب تقدیر پر راضی ہی نہ ہو تو ہر کام میں یوں دل چاہتا ہے کہ یہ بھی ہو جاوے اور وہ بھی ہو جاوے اور سب امیدوں کا پورا ہونا دشوار ہے ۔ اس لیئے نتیجہ اس کا پریشانی ہی پریشانی ہے گو ظاہر میں اولاد اور مال سب کچھ ہو مگر حریص[7] کا دل ہمیشہ پریشان رہتا ہے ۔
خرچ کو گھٹائے تا کہ زیادہ آمدنی کی فکر نہ ہو، اور آئندہ کی فکر نہ کرے کہ کیا ہو گا ۔ اور یہ سوچے کہ حریص و طامع[8] ہمیشہ ذلیل[9] رہتا ہے ۔
خلافِ شریعت امور کو پسند کرنا خواہشِ نفسانی اور حقیقتِ طمع ہے ۔ اس کا اعلیٰ درجہ کفر و شرک ہے وہ تو اسلام ہی سے خارج کر دیتا ہے اور جو ادنیٰ درجہ ہے وہ کمالِ اِتباع [11]سے ڈگمگا دیتا ہے ۔ ہر طمع و خواہشِ نفسانی میں یہ خاصیت ہے کہ راہِ مستقیم[12] سے ہٹا دیتی ہے ۔
ارشادِ باری ہے:
﴿ وَلَا تَتَّبِعِ ٱلۡهَوَىٰ فَیُضِلَّكَ عَن سَبِیلِ ٱللَّهِۚ ﴾ [ص ٢٦] " ۔ یعنی اور نفسانی خواہشات کی پیروی مت کرنا، اگر ایسا کرو گے تو وہ خدا کے رستہ سے تم کو بھٹکا دے گی ۔
اور ارشادِ نبوی ﷺ ہے:
"وَ الْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ" ۔[13] یعنی عاجز[14] وہ ہے جو اپنی خواہشات کی اِتباع کرے اور پھر خدا سے نیک اجر کی امید رکھے ۔
عِلَاجِ طَمَع: مجاہدہ کرنا ہے، یعنی مخالفتِ نفس کی عادت ڈالے تاکہ نفس کی جانی و مالی خواہشات و مرغوبات[15] کو رضائے حق تعالیٰ کے مقابلے میں مغلوب رکھا جاسکے اور مجاہدہ[16] نام ہے نفس کے تقاضوں کو روکنا تکلف ہو یا بلا تکلف ۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿ وَٱلۡكَـٰظِمِینَ ٱلۡغَیۡظَ وَٱلۡعَافِینَ عَنِ ٱلنَّاسِۗ وَٱللَّهُ یُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِینَ﴾ [آل عمران ١٣٤] یعنی اور غصہ کو ضبط[17] کرنے والے اور لوگوں کی تقصیرات[18] سے درگذر کرنے والے اور اللہ تعالیٰ ایسے نیکوکاروں کو محبوب رکھتا ہے ۔
اور حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
"لَا تَغْضَبْ" (رواہ البخاری) [19]یعنی غصہ مت کر ۔
حَقِیْقَتِ غُصَّہ: خونِ قلب کا بدلہ لینے کے لئے جوش مارنا غصہ ہے ۔
تَشْرِیْح: رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بڑا پہلوان اور طاقتور وہ نہیں ہے جو لوگوں کو پچھاڑے بلکہ قوی اور پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے ۔[20] ایک روایت میں ہے قَوی (طاقتور) وہ ہے جو غُصّہ کا مالک ہو یعنی غُصّے پر غالِب ہو، یہ نہ ہو کہ غُصّہ کے مَنْشَاء [21]کے مُطابِق فوراً عمل کرے بلکہ اس کو شریعت کی تعلیم کے مُطابِق استعمال کرے۔ اس لئے کہ غُصّہ میں جوش پیدا ہونا طَبْعِی امر ہے ۔ اس میں مَلامَت نہیں مگر انسان کو خدا تعالیٰ نے اختیار بھی دیا ہے اس لئے اس کو روکنا چاہئیے اس اختیار کو صَرف نہ کرنا انسانیت کے خلاف ہے ۔ غُصّہ کو بھی حق تعالیٰ نے بہت سی مَصْلَحَتوں سے انسان کی سِرِشْت[22] میں داخل کیا ہے ۔
اس سے بہت سے کام نکلتے ہیں۔ لیکن اِختیار کو بھی ساتھ ساتھ رکھ دیا ہے کہ جس جگہ غُصّہ کا کام ہو وہاں کام لے اور جو جگہ غُصّہ کے کام کی نہیں وہاں کام نہ لے ۔ غُصّہ فی نَفْسِہ غَیر اِختیاری ہے، لیکن اس کے اِقْتِضَاء[23] پر عمل کرنا اِختیاری ہے، اس لیئے اس کا ترک بھی اِختیاری ہے اور اِختیاری کا علاج بجز استعمالِ اِختیار کے کچھ نہیں گو اس میں کچھ تَکَلُّف و مَشَقَّت بھی ہو ۔ اسی استعمال کی تکرار اور مُدَاوَمَت[24] سے وہ اِقْتِضَاء ضَعِیف ہو جاتا ہے اور اس کے ترک میں زیادہ تَکَلُّف نہیں ہوتا البتہ اس اِختیار کے استعمال میں کبھی قَدْرِے تَکَلُّف ہوتا ہے ۔
اسی لئے حدیثِ شریف میں ہے: "لَا يَقْضِيَنَّ قَاضٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ" ۔[25] مطلب یہ ہے کہ حاکم[26] کو چاہئے کہ غُصّہ کی حالت میں فیصلہ کبھی نہ کرے بلکہ اس وقت مقدمہ مُلْتَوِی[27] کر دے اور تاریخ بڑھا دے، یہاں حاکم سے مراد ہر وہ شخص ہے جس کی دو آدمیوں پر حکومت ہو اس میں گھر کا مُعَلِّم، اُستاد اور گھر کا مالک بھی شامل ہے ۔ لہٰذا غُصّہ کی حالت میں بچوں یا دیگر ماتحتوں اور کمزوروں کو کسی جُرم پر بھی سزا دینے میں جلدی نہ کریں ۔
بلکہ غُصّہ فَرُود[28] (ختم) کرنے کے بعد سوچ سمجھ کر سزا دی جائے اور یاد رکھیں کہ جس حق کا مطالبہ کرنے والا کوئی نہ ہو اس کا مطالبہ حق تعالیٰ کی طرف سے ہوگا ۔ یہاں تک کہ اگر کافر ذِمِّی[29] پر کوئی حاکم ظلم کرے تو حدیث میں آیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ اس کی طرف سے مطالبہ کریں گے ۔[30]
لہٰذا سزا دینے کے وقت احتیاط لازمی ہے اور اگر طبعی طور پر غُصّہ زیادہ ہوا اور ذرا سی بات پر حد سے زیادہ غصہ آجاتا ہو کہ اس وقت عقل نہ رہتی ہو تو جس پر غصہ کیا جاوے بعد غصہ فَرُود ہو جانے کے مجمع میں اس کے سامنے ہاتھ جوڑیں پاؤں پکڑیں بلکہ اس کے جوتے اپنے سر پر رکھ لیں، ایک دو بار ایسا کرنے سے نفس کو عقل آجائے گی ۔ قول یا فعل میں ہرگز تعمیل نہ کریں، تکلف اس تقاضے کی مخالفت کریں ۔
جب کوتاہی ہو جائے استغفار کریں اور اگر کسی شخص کے حق میں زیادتی و حدودِ شرعیہ سے تجاوز [31]ہو گیا ہو تو اس سے معاف کرائیں، زبان سے اَعُوذُ بِاللہِ پڑھیں[32] اگر کھڑے ہوں تو بیٹھ جائیں اور اگر بیٹھے ہوں تو لیٹ جائیں[33] اور ٹھنڈے پانی سے وضو کر ڈالیں یا ٹھنڈا پانی پی لیں[34] فوراً کسی کام میں لگ جائیں بالخصوص مطالعہ کتب میں مصروف ہو جائیں ۔[35] اگر اس سے بھی غصہ نہ جائے تو اس شخص سے علیحدہ ہو جائیں یا اس کو علیحدہ کردیں، جیسا موقع ہو ۔
طَرِیْقِ عِلَاج (غُصّہ):-
یہ یاد کریں کہ اللہ تعالیٰ کو مجھ پر زیادہ قدرت ہے اور میں اس کی نافرمانی بھی کرتا ہوں، اگر وہ بھی مجھ سے یہی معاملہ کریں تو کیا ہو اور یہ سوچیں کہ بِدُونِ اِرادہِ خداوندی کے کچھ واقع نہیں ہوتا سو میں کیا چیز ہوں کہ مَشِیَّتِ اِلٰہی سے مُزَاحِمَت[36] کروں ۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: " ﴿وَٱجۡتَنِبُوا۟ قَوۡلَ ٱلزُّورِ﴾ [الحج ٣٠] " یعنی اور جھوٹی بات سے کنارہ کش رہو ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ" (متفق علیہ)[37] یعنی ہمیشہ سچ بولو، جھوٹ مت بولو ۔
حَقِیْقَتِ دَرُوغ: خِلَافِ واقعہ بات کہنا کذب (جھوٹ) ہے ۔ آدمی کے جھوٹے ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ جو بات سنے بیان کر دے، بلا تحقیق بات کو نقل کر دے ۔[38]
تَشْرِیْح: حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جھوٹ بولنے سے (ایسی بدبو آتی ہے کہ) فرشتے دور ہو جاتے ہیں[39] ۔ اور فرمایا جھوٹی شہادت تین مرتبہ شرک کے برابر ہے ۔[40]
نیز دوسری حدیث میں ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے اور دوسرا کھڑا ہوا ہے اور اس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک زَنْبُور[41] (چمٹا) ہے اور وہ اس بیٹھے ہوئے شخص کے کَلّے (جبڑے) کو چیر رہا ہے یہاں تک کہ گُدِّی [42](گردن کی جڑ) تک جا پہنچتا ہے، پھر وہ کلہ درست ہو جاتا ہے، پھر وہ اس کے ساتھ ایسا ہی کرتا ہے ۔ میں نے اپنے ساتھی حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا تو کہا وہ شخص جھوٹا ہے، اس کے ساتھ قیامت تک یوں ہی کرتے رہیں گے (یعنی قبر میں یہ عذاب ہوتا رہے گا) ۔[43]
ایک حدیثِ شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ کسی عورت نے اپنے چھوٹے سے بچے کو بلایا اور کہا کہ آؤ ہم تمہیں ایک چیز دیں گے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت سے دریافت فرمایا کہ اگر بلانے سے بچہ آگیا تو کیا چیز دے گی؟ عورت نے کہا چھوہارہ[44] دے دوں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کچھ دینے کا ارادہ نہ ہوتا صرف بہلانے کے لئے ایسا لفظ نکلتا تو یہ بھی زبان کا جھوٹ شمار ہوتا ۔[45]
طَرِیْقِ عِلَاج (دَرُوغ):-
اِسْتِحْضَار[46] قبل از وقت، ہمت در عین وقت، تَدَارُک[47] بعد الوقت۔ نظامِ کلام میں احتیاط ہو بدون سوچے کوئی کلام نہ کرے ۔ نیز اگر کوئی بات کبھی منہ سے خلافِ شریعت نکل جاوے تو فوراً خوب توبہ کرے ۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: " ﴿وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ﴾ [الفلق ٥] " یعنی تم کہو میں حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے پناہ مانگتا ہوں ۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لَا تَحَاسَدُوا" (رواہ البخاری) [48]یعنی آپس میں حسد نہ کرو ۔
حَقِیْقَتِ حَسَد: کسی شخص کی اچھی حالت کا ناگوار گزرنا اور یہ آرزو کرنا کہ یہ اچھی حالت اس کی زائل ہو جائے، یہ حَسَد ہے ۔
تَشْرِیْح:-حسد کے تین درجے ہیں:۔
1. ایک کَیْفِیَّتِ اِنْسَانِیَہ ہے، جس میں انسان مَعْذُور[49] ہے ۔
2. ایک اس کے مُقْتَضَا[50] پر عمل ہے، اس میں انسان گنہگار ہے ۔
3. ایک اُس کے مقتضا کی مخالفت ہے، اس میں انسان مَاجُور[51] ہے یعنی ثواب پانے والا ہے ۔
حسد کا باعث عموماً تکبر و غرور ہوتا ہے یا عداوت و خیانتِ نفس کہ بلا وجہ خدا تعالیٰ کی نعمت میں بخل کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ جس طرح میں کسی کو کچھ نہیں دیتا حق تعالیٰ بھی دوسرے کو کچھ نہ دے ۔ البتہ دوسرے کو نعمت میں دیکھ کر حرص کرنا، اور یہ چاہنا کہ اس کے پاس بھی یہ نعمت رہے اور مجھے بھی ایسی ہی نعمت حاصل ہو جائے تو یہ غِبْطَہ[52] اور رَشْک کہلاتا ہے اور غبطہ شرعاً جائز ہے ۔
حسد قلبی مرض ہے اس میں دین کا بھی نقصان ہے اور دنیا کا بھی ۔ دین کا نقصان تو یہ ہے کہ اس کے کئے ہوئے نیک اعمال سَاقِط[53] ہو جاتے ہیں ۔ نیکیاں چلی جاتی ہیں اور حق تعالیٰ کے غصہ کا نشان بن جاتا ہے ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، حسد نیکیوں کو اس طرح جلا دیتا ہے جس طرح آگ سوکھی لکڑیوں کو جلا دیتی ہے ۔[54]
اور دنیا کا نقصان یہ ہے کہ حاسد ہمیشہ رنج و غم میں مبتلا رہتا ہے اور اسی غم میں گھلتا رہتا ہے کہ کسی طرح فلاں شخص کو ذلت و افلاس نصیب ہو ۔ اس طرح عذابِ آخرت بھی اپنے سر رکھا اور اپنی قناعت و آرام کی زندگی کو رخصت کر کے ہر وقت کی خلش اور دنیوی کُوْفَت [55] خریدی ۔ اسی کو کسی نے کہا ہے:۔
حاسد کو ایک دم نہیں راحت جہان میں رنجِ حسد ہے جان ہے جب تک کہ جان ہے
طَرِیْقِ عِلَاج (حَسَد):-
گو تَکَلُّف سہِی اس شخص کی خوب تعریف کیا کرو اور اس کے ساتھ خوب احسان و سلوک و تَوَاضُع سے پیش آؤ ۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: "وَمَنْ يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَفْسِهِ" یعنی اور جو بُخل کرتا ہے وہ اپنے آپ سے بخل کرتا ہے ۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "وَالْبَخِيلُ بَعِيدٌ مِنَ اللَّهِ بَعِيدٌ مِنَ الْجَنَّةِ بَعِيدٌ مِنَ النَّاسِ قَرِيبٌ مِنَ النَّارِ" (رواہ الترمذی) ۔[56]
یعنی کنجوس اللہ تعالیٰ سے دُور ہے، جنت سے دُور ہے، لوگوں سے دُور ہے، دوزخ سے قریب ہے ۔
جس چیز کا خرچ کرنا شَرْعاً یا مُرُوَّتاً[57] ضروری ہو اس میں تنگ دلی کرنا بُخْل کہلاتا ہے ۔
تَشْرِیْح:-بُخْل کے دو درجے ہیں۔ ایک خلافِ مُقْتَضائے شریعت ہے اور یہ مَعْصِیَت (گناہ) ہے، اور دوسرا مُقْتَضائے مُرُوَّت کے خلاف ہے اور معصیت نہیں ہے، لیکن خِلَافِ اَوْلٰی[58] ہے ۔ فضیلت تو یہ ہے کہ یہ بخل بھی نہ ہو، نیز جو ضرورتیں اِتِّفَاقِیَہ طور پر پیش آجائیں ان کو پورا کرنا بھی ضروری ہے ۔
حدیثِ شریف میں آیا ہے کہ جس مال کے ذریعے سے آدمی اپنی آبرو کو بچائے وہ بھی صَدَقَہ ہے ۔[59] مثلاً کسی مال دار کو اندیشہ ہو کہ یہ شاعر یا ڈوم یا ہیجڑا یا بہروپیہ تیری ہَجْو[60] (مذمت) کرے گا اور اگر اس کو کچھ دے دوں گا تو اس کا منہ بند ہو جائے گا، اور باوجود اس علم کے اگر اس کو کچھ نہ دے تو وہ شخص بَخِیْل سمجھا جائے گا ۔ کیوں کہ اس نے اپنی آبرو محفوظ رکھنے کی تدبیر نہ کی اور بد گو[61] کو بد گوئی کا موقع دیا ۔
بخل بہت بڑا مرض ہے اس لیے نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ اپنے آپ کو بخل سے بچاؤ کہ اس نے پہلی امتوں کو ہلاک کر دیا ۔[62] پس مسلمان کو شایان نہیں کہ بخل کرے اور جہنم میں جائے اور چونکہ بخل در حقیقت مال کی محبت ہے اور مال کی محبت دنیا کی طرف متوجہ کر دیتی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا علاقہ ضعیف اور کمزور ہو جاتا ہے ۔ اور بخیل مرتے وقت حسرت بھری نظروں سے اپنا جمع کیا ہوا محبوب مال دیکھتا اور جبراً و قہراً[63] آخرت کا سفر کرتا ہے، اس لئے کہ اس کو خالق جل جلالہ کی ملاقات محبوب نہیں ہوتی ۔ اور حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص مرتے وقت اللہ تعالیٰ کی ملاقات پسند نہ کرے وہ جہنمی ہے ۔
طَرِیْقِ عِلَاج (بُخل):-مال کی محبت کو دل سے نکالنا بذریعہ کثرتِ یادِ موت ۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: " ﴿ یُرَاۤءُونَ ٱلنَّاسَ﴾ [النساء ١٤٢] " یعنی وہ لوگوں کو دکھلاتے ہیں ۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "إِنَّ يَسِيرَ الرِّيَّاءِ شِرْكٌ" (رواہ ابن ماجہ)[64] یعنی بے شک تھوڑی ریا بھی شرک ہے ۔
حَقِیْقَتِ رِیَا: اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں لوگوں کے نزدیک اپنی قدر ہونے کا قصد کرنا ۔
تَشْرِیْح: رِیا کی اصلیت یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اپنی عبادت اور عملِ خیر کے ذریعے سے وَقْعَت اور مَنْزِلَت کا خواہاں ہو ۔ اور یہ عبادت کے مقصود کے بالکل خلاف ہے کیوں کہ عبادت سے مقصود حق تعالیٰ کی رضا مندی ہے اور اب چونکہ اس مقصد میں دوسرا شریک ہوگیا کہ رضائے خَلْق[65] اور حصولِ مَنْزِلَت [66] مقصود ہے لہذا اس کا نام شِرکِ اَصْغَر [67]ہے ۔
نیز آیتِ کریمہ " ﴿فَمَن كَانَ یَرۡجُوا۟ لِقَاۤءَ رَبِّهِۦ فَلۡیَعۡمَلۡ عَمَلࣰا صَـٰلِحࣰا وَلَا یُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهِۦۤ أَحَدَۢا﴾ [الكهف ١١٠] " میں مفسرین نے "وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ" کی تفسیر "ریا نہ کرنے" سے فرمائی ہے ۔[68] چنانچہ قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی قدس سرہ تفسیرِ مظہری میں اس آیتِ کریمہ کے تحت لکھتے ہیں: "أَنْ لَا يُرَائِيَ بِعَمَلِهِ وَلَا يَطْلُبُ عَلَى عَمَلِهِ أَجْراً مِّنْ أَحَدٍ غَيْرِهِ تَعَالَى جَزَاءً وَلَا ثَنَاءً" [69]یعنی اپنے عمل کو دکھلاوے کے لیئے نہ کرے اور نہ اپنے عمل پر خدا تعالیٰ کے سوا کسی سے کسی قسم کے بدلے یا تعریف کا طلب گار ہو ۔
نیز حدیثِ شریف میں آیا ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ بندوں کو جزا و سزا اور انعامات فرمائے گا تو ریا کاروں کو حکم دے گا کہ انہیں کے پاس جاؤ جن کے دکھلانے کو تم نمازیں پڑھتے تھے اور عبادتیں کیا کرتے تھے، اپنی عبادتوں کا ثواب اور طاعت کا صلہ بھی انہیں سے لو اور دیکھو کیا دیتے ہیں؟[70]
دوسری طویل حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن اَحْکَمُ الْحَاکِمِین کی عدالت میں نمازی، عالم اور سخی کی پیشی ہوگی اور تینوں اپنے جہاد فی سبیل اللہ، تعلیم و تعلم[71] اور مشغلۂ علمِ دین اور اپنی خیرات و صدقات کا اظہار کریں گے ۔ حکم ہوگا کہ یہ سب اعمال تم نے چونکہ محض دِکھلاوے، اور نام آوری کے لیے اسی غرض سے کئے تھے تاکہ لوگ تمہیں کہیں کہ فلاں شخص نمازی ہے، فلاں شخص بڑا عالم ہے، فلاں شخص بڑا سخی ہے، سو یہ باتیں حاصل ہوئیں کہ دنیا میں تم کو شہرت حاصل ہوئی اور لوگوں نے تم کو نمازی اور عالم اور سخی کہہ کر پکارا ۔ پھر جس مقصود کے لئے اعمال کئے تھے جب وہ حاصل ہو چکا تو اب کیا اِسْتِحْقَاق[72] رہا اور یہاں کیا چاہتے ہو۔ لہذا جاؤ جہنم میں ۔[73]
نیز رسولِ مقبول ﷺ فرماتے ہیں کہ جس عمل میں ذرہ برابر بھی رِیا ہوگا اس کو اللہ تعالیٰ قبول نہ فرمائے گا ۔[74] جنابِ رسول ﷺ کے اس ارشاد کو بگوشِ ہوش[75] سنو اور عبرت پکڑو۔ لہذا کسی عمل میں نہ اظہار کا قصد کریں نہ اِخْتِفَاء[76] کا، اپنے کام سے کام رکھیں، اپنے اختیار سے ہر کام میں رضائے حق کا قصد کریں اور اپنے اختیار سے رضائے خَلْق[77] کا قصد نہ کریں ۔ بلا قصد کے اگر رضائے خلق کا وسوسہ یا خیال آوے تو اس کی مطلق پرواہ نہ کریں اور عمل سے پہلے مُرَاقَبَہ ومُحَاسَبَہ[78] کرتے رہیں کہ اس میں میرا کیا قصد ہے، آیا رضائے حق ہے یا رضائے خلق ہے اور نیت کو خالص کر کے عمل کیا کریں۔
طَرِیْقِ عِلَاج (رِیَا):-حُبِّ جَاہ[79] کو دل سے نکالیں، کیوں کہ ریا اسی کا ایک شعبہ ہے اور عبادت پوشیدہ کیا کریں، یعنی جو عبادت کہ جماعت سے نہیں ہے اور جس عبادت کا اظہار ضروری ہے اس کے اندر اِزَالَہِ[80] رِیا کے لئے اِزَالَہِ حُبِّ جَاہ کافی ہے ۔
اور طریقِ مُعَالجے کا یہ ہے کہ جس عبادت میں رِیا ہو اس کو کثرت سے کریں، پھر نہ کوئی التفات[81] کرے گا نہ اس کو یہ خیال رہے گا وہ چند روز میں ریا سے عادت پھر عادت سے عبادت اور اخلاص بن جائے گی ۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:۔
﴿ إِذۡ أَعۡجَبَتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ ﴾ [التوبة ٢٥] یعنی جب کہ تم کو تمہارا زیادہ ہونا بھلا معلوم ہوا ۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔
وَأَمَّا الْمُهْلِكَاتُ فَهَوَىً مُتَّبَعٌ وَ شُحٌّ مُطَاعٌ وَاعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ وَهِيَ أَشَدُّهُنَّ (رواہ البیہقی) ۔[82]
یعنی رہے مُہْلِکَات[83] سو وہ خواہش ہے جس کی پیروی کی جائے[84] اور بخل ہے جس کے موافق عمل کیا جائے اور آدمی کا اپنے آپ کو اچھا سمجھنا اور یہ سب سے بڑھ کر ہے ۔
حَقِیْقَتِ عُجْب: اپنے کمال کو اپنی طرف نسبت کرنا اور اس کا خوف نہ ہونا کہ شاید سَلْب ہو جائے ۔ یہ عُجب ہے۔
تَشْرِیْح: عُجْب کی حقیقت یہ ہے کہ نفس کا ایک خَفِی کینہ[85] ہے کہ وہ یہ چاہتا ہے کہ مُمْتَاز [86]ہو کر رہے اور اس میں اس کو مزا آتا ہے سو یہ عجب ہے اور عجب ایسی بُری چیز ہے کہ جس وقت کوئی شخص اپنی نظر میں پسندیدہ ہوتا ہے اس وقت اللہ کی نظر میں نا پسندیدہ ہوتا ہے۔
البتہ اگر اللہ کی نعمت پر خوش ہووے اور اس کے چھن جانے کا خوف بھی دل میں رکھے اور اتنا ہی سمجھے کہ یہ نعمت حق تعالیٰ نے فلاں علم یا عمل کے سبب مجھ کو مرحمت فرمائی ہے اور وہ مالک و مختار ہے جس وقت چاہے اس کو مجھ سے لے لے تو یہ خود پسندی اور عجب نہیں ہے۔ کیوں کہ خود پسند شخص نعمت کا مُنْعِمِ حقیقی[87] کی جانب منسوب کرنا ہی بھول جاتا ہے اور جملہ نعمتوں کو اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔
عجب میں صرف ایک قید کم ہے یعنی اس میں دوسروں کو چھوٹا سمجھنا نہیں صرف اپنے کو بڑا سمجھنا ہے باقی سب اجزاء وہی ہیں جو تکبر کے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے جو شخص اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اور اتراتا ہوا چلتا ہے وہ قیامت کے روز خدا تعالیٰ سے ایسی حالت میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر سخت غضب ناک ہوگا۔ (مسند احمد)[88]
طَرِیْقِ عِلَاج: اس کمال کو عَطائے خُداوندی سمجھے اور اس کی قدرت کو یاد کر کے ڈرے کہ شاید سلب ہو جاوے دوسرا علاج یہ ہے کہ کامل کا اعلیٰ درجہ پیشِ نظر رکھ کر غور سے اپنی لغزش[89] اور کوتاہی ظاہری و باطنی دیکھے تاکہ اپنی بزرگی اور کمال کا گمان پیدا نہ ہو۔
ارشادِ خداوندی ہے:۔
﴿لَا جَرَمَ أَنَّ ٱللَّهَ یَعۡلَمُ مَا یُسِرُّونَ وَمَا یُعۡلِنُونَۚ إِنَّهُۥ لَا یُحِبُّ ٱلۡمُسۡتَكۡبِرِینَ﴾ [النحل ٢٣]
یعنی تحقیق اپنی بڑائی کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔
لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ (رواہ مسلم)[90]
یعنی جس کے دل میں رائی کے برابر بھی تکبر ہو وہ جنت میں نہیں جائے گا۔
حَقِیْقَتِ کِبْر: اپنے آپ کو صفاتِ کمال میں دوسرے سے بڑھ کر سمجھنا۔
تَشْرِیْح: تکبر کے اقسام بہت ہیں اور اکثر ان میں بہت باریک اور مخفی[91] ہیں کہ کسی کی نظر سوائے شیخِ کامل کے وہاں تک نہیں پہنچتی اور اس میں علمائے ظاہر کو بھی کسی محقق کی تقلید کرنی پڑتی ہے۔ تکبر کا حاصل یہ ہے کہ کسی کمالِ دینی یا دنیوی میں اپنے آپ کو باختیار خود دوسرے سے اس طرح افضل سمجھنا کہ اپنے مقابلے میں دوسرے کو حقیر سمجھے تو اس میں دو جز ہوں گے اول اپنے آپ کو بڑا سمجھنا دوم دوسرے کو حقیر سمجھنا یہ تکبر کی حقیقت ہے جو حرام اور معصیت ہے اور ایک تکبر کی صورت ہے کہ اس میں سب اجزاء ہیں۔ بجز ایک جزوِ اختیار کے یعنی بلا اختیار ان اجزاء کا خیال آگیا۔ یہاں تک تو معصیت نہیں لیکن اگر اس کے بعد اس خیال کو با اختیار خود اچھا سمجھایا باوجود اچھا نہ سمجھنے کے با اختیار خود اس کو باقی رکھا تو یہ حقیقتِ کبر کی ہو جائے گی اور معصیت ہوگی۔
اور یہ جو قید لگائی ہے کہ دوسرے کو حقیر سمجھے یہ اس لئے ہے کہ اگر وہ واقعی کوئی بڑائی چھوٹائی کا اس طرح مُعْتَقِد [92] ہو کہ دوسرے کو ذلیل نہ سمجھے تو وہ تکبر نہیں ہے۔ جیسا کہ ایک بیس برس کی عمر والا دو برس کے بچے کو سمجھے کہ یہ عمر میں مجھ سے چھوٹا ہے مگر اس کو حقیر نہیں سمجھتا تو یہ کبر نہیں۔ الغرض جو شخص با اختیار خود اپنے آپ کو دوسروں سے اچھا سمجھتا ہے اس کا نفس پھول جاتا ہے اور پھر اس کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں۔
مثلاً دوسروں کو نظرِ حقارت سے دیکھنا یا اگر کوئی سلام کرنے میں پیش قدمی نہ کرے تو اس پر غصہ ہونا کوئی اگر تعظیم نہ کرے تو ناراض ہونا کوئی اگر نصیحت کرے، تو ناک بھوں چڑھا[93]نا حق بات کے معلوم ہونے کے بعد بھی اس کو نہ ماننا اور عوام الناس کو ایسی نظر سے دیکھنا جس طرح گدھوں کو دیکھتے ہیں۔
تکبر سے اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے یہ بہت برا مرض ہے۔ اور تمام امراض کی جڑ ہے۔ تکبر ہی سے کفر پیدا ہوتا ہے۔ تکبر ہی سے شیطان گمراہ ہوا۔
اس لئے حدیث میں اس پر سخت وعیدیں[94] آئی ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تکبر کرنے والے کا بہت بُرا ٹھکانہ ہے۔ کِبْرِیائی[95] میری چادر ہے پس جو شخص اس میں شریک ہونا چاہے گا میں اس کو قتل کر دوں گا[96] اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کے قلب میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں نہ جائے گا اور فرمایا کبر سے بچو، کبر ہی وہ گناہ ہے جس نے سب سے پہلے شیطان کو تباہ کیا اور فرمایا دوزخ میں اس قسم کے آتشیں صندوق[97] ہیں جن میں متکبروں کو بند کر دیا جائے گا۔[98]
عِلَاجِ کِبْر: اللہ تعالیٰ کی عظمت کو یاد کرے تاکہ اپنے کمالات ہِیْچ[99] نظر آویں، اور جس شخص سے اپنے کو بہتر سمجھتا ہے اس کے ساتھ تَوَاضُع اور تعظیم سے پیش آوے تاکہ اس کا عادی ہو جاوے۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:۔
﴿خُذِ ٱلۡعَفۡوَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡعُرۡفِ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡجَـٰهِلِینَ﴾ [الأعراف ١٩٩]
یعنی اختیار کرو معاف کر دینے کو اور حکم کرو اچھی بات کا اور منہ موڑ لو جاہلوں سے۔
اور فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: [101]
"وَلَا تَبَاغَضُوا" یعنی آپس میں بغض[102] نہ رکھو۔
حَقِیْقَتِ کِیْنَہ: جب غُصّہ میں بدلہ لینے کی قوت نہیں ہوتی تو اس کے ضبط کرنے سے اس شخص کی طرف سے دل پر ایک قسم کی گرانی[103] کا ہو جانا۔
تَشْرِیْح:-کینہ صرف ایک عیب نہیں بلکہ بہت سے گناہوں کا بیج ہے۔ جب غُصّہ نہیں نکلتا تو اس کا خُمَار[104] دل میں بھرا رہتا ہے اور بات بڑھتی اور رنجیدگیاں پیدا ہوتی چلی جاتی ہیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ کینہ یہ ہے کہ اپنے اختیار اور قصد سے کسی کی برائی اور بدخواہی دل میں رکھی جائے اور اس کو اِیذَا [105]پہنچانے کی تدبیر بھی کرے۔ اگر کسی سے رنج کی کوئی بات پیش آوے اور طبیعت اس سے ملنے کو نہ چاہے تو یہ کینہ نہیں بلکہ اِنْقِبَاضِ طَبْعِی[106] ہے جو گناہ نہیں۔
کینہ کے متعلق حدیثِ شریف میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کینہ پرور[107] بخشا نہیں جاتا، اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے پیر اور جمعرات کو جب بندوں کے نامہ اعمال اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہر استغفار کرنے والے کی مغفرت کر دیتا ہے، لیکن اہل کینہ کی مغفرت نہیں ہوتی۔[108] نیز فرمایا کہ ان دو آدمیوں کی بخشش نہیں ہوتی جن کے درمیان عداوت و کینہ ہو۔
یہاں پر عداوت سے مراد وہ عداوت ہے جس کا مَبْنِی [109] ناحق امور ہوں۔ اسی لئے اگر کسی مسلمان کو کسی سے دین کے متعلق خدا تعالیٰ کے واسطے دشمنی ہو تو یہ عداوت مُسْتَحْسَن [110]، اور قابلِ اجر ہے جیسا کہ حدیثِ شریف میں اَلْحُبُّ لِلہِ وَالْبُغْضُ لِلہِ [111]کا امر ہے۔[112]
طَرِیْقِ عِلَاج (کینہ): جس شخص سے کینہ ہوا اس شخص کا قصور معاف کر دینا اور اس سے میل جول شروع کر دینا گو بِتَکَلُّف [113] ہی ہو۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:۔
﴿تِلۡكَ ٱلدَّارُ ٱلۡـَٔاخِرَةُ نَجۡعَلُهَا لِلَّذِینَ لَا یُرِیدُونَ عُلُوࣰّا فِی ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فَسَادࣰاۚ وَٱلۡعَـٰقِبَةُ لِلۡمُتَّقِینَ﴾ [القصص ٨٣]
یعنی وہ جو دارالآخرت ہے ہم اس کو انہیں لوگوں کے لئے کریں گے، جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ اودھم مچانا اور انجام کار متقیوں ہی کے لئے ہے۔
اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے:۔
"مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ" (رواہ الترمذی)۔[114]
یعنی دو بھوکے بھیڑیئے بکریوں کے گلہ میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ اس گلہ کو اتنا تباہ نہیں کرتے جتنا آدمی کی حرص مال پر اور جاہ پر اس کے دین کو تباہ کر دیتی ہے۔
حَقِیْقَتِ حُبِّ جَاہ: لوگوں کے دلوں کے مُسَخَّر[115] ہونے کی خواہش کرنا تاکہ اس کی تعظیم اور اطاعت کریں۔
تَشْرِیْح: حُبِّ جَاہ ایسا مرض ہے کہ اس کا پتہ چلنا مشکل ہے، جب کوئی واقعہ پیش آوے اور گِرَانی ہو تب پتہ چلتا ہے کہ میرے اندر حُبِّ جَاہ کا مرض ہے۔
یہ محض وہمی اور چھن جانے والا کمال ہے اور چھن جانے والا بھی ایسا کہ جو دوسرے کے خیال کے ساتھ قائم ہے۔ کیوں کہ جاہ دوسروں کی نظر میں مُعَزَّز ہونے کا نام ہے جس کا مدار دوسرے کے خیال پر ہے وہ جب چاہے اپنا خیال بدل دے پس ساری جاہ خاک میں مل جاتی ہے مگر اس کے باوجود طالبِ جاہ خوش ہے کہ آہاہ لوگ مجھے اچھا کہتے ہیں۔
واضح رہے کہ جاہِ مَذْمُوم[116] وہ ہے جو طلب اور خواہش سے حاصل ہو اور یہ وہ بلا ہے جو دین و دنیا دونوں کو مُضِر[117] ہے۔ دینی ضرر تو یہ ہے کہ جب آدمی دیکھتا ہے کہ دنیا مجھ پر فدا ہے تو اس میں عُجْب و کِبْر پیدا ہو جاتا ہے، آخر کار اس عُجب و کبر کی وجہ سے برباد ہو جاتا ہے، بہت سے لوگ اس میں آ کر ہلاک ہو گئے۔ یہ تو دین کا ضرر[118] ہوا۔
اور دنیا کا ضرر یہ ہے کہ مشہور آدمی کے حاسد بہت پیدا ہو جاتے ہیں، پس صاحبِ جاہ کا دین بھی خطرہ میں رہتا ہے اور دنیوی خطروں کا بھی اندیشہ لگا رہتا ہے۔
ہاں جب حق تعالیٰ کی طرف سے بِدُونِ طَلَب[119] کے جاہ حاصل ہو وہ نعمت ہے، کیوں کہ مال کی طرح انسان جاہ کا بھی بَقَدَرِ ضرورت محتاج ہے تاکہ اس کی وجہ سے مخلوق کے ظلم و تَعَدِّی [120] سے محفوظ اور بے خوف ہو کر باطمینانِ قلب عبادت میں مشغول رہ سکے، لہذا اتنی طلبِ جاہ میں مُضَائِقَہ [121] نہیں۔
طَرِیْقِ عِلَاج (حُبِّ جَاہ):-یوں سوچے کہ نہ تعظیم و اطاعت کرنے والے رہیں گے اور نہ میں رہوں گا پھر ایسی مَوْہُوم[122] اور فانی چیز پر خوش ہونا نادانی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:۔
﴿ وَمَا ٱلۡحَیَوٰةُ ٱلدُّنۡیَاۤ إِلَّا مَتَـٰعُ ٱلۡغُرُورِ﴾ [آل عمران ١٨٥]
یعنی اور نہیں ہے زندگانیِ دنیا مگر دھوکے کی ٹٹی [متاع]۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔
اَلدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَ جَنَّةُ الْكَافِرِ (رواہ مسلم)
یعنی دنیا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے۔[123]
حَقِیْقَتِ دُنْیا: جس چیز میں فی الحال حَظِّ نَفْس[124] ہو اور آخرت میں اس کا کوئی نیک ثمرہ مرتب نہ ہو وہ دنیا ہے۔
تَشْرِیْح:-ہر چند ہمارے اندر مختلف امراض پائے جاتے ہیں لیکن حسبِ فرمانِ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اصل تمام امراض کی صرف ایک ہی چیز حُبِّ دنیا ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔
حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ۔[125]
یعنی دنیا کی محبت تمام خرابیوں کی جڑ ہے اور جڑ یعنی اصل مرض ہی بقیہ امراض کا سبب ہوا کرتی ہے اور اصل کے علاج کرنے سے جملہ امراض خود ہی دفع ہو جائیں گے۔ جس میں حُبِّ دنیا ہو گی اس کو آخرت کا اہتمام ہی نہ ہو گا اور جب آخرت کا اہتمام ہی نہ ہو گا تو وہ شخص نہ تو اعمالِ حسنہ کو انجام دے گا اور نہ برائیوں سے بچے گا اور اس کے برعکس جب آخرت کی فکر ہوتی ہے تو جرائم صادر[126] نہیں ہوتے۔
کیوں کہ حُبِّ دنیا میں فکرِ دین کم ہوتی ہے۔ جس درجہ کی حُبِّ دنیا ہو گی اُسی درجہ فکرِ دین کم ہو گی، اگر کامل درجہ کی حُبِّ دنیا ہو گی تو کامل درجہ کی دین سے بے فکری ہو گی۔ جیسی کہ کفار میں ہے اور مسلمانوں میں جس درجہ کی حُبِّ دنیا ہو گی اسی درجہ کی دین سے بے فکری ہو گی۔ مگر یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہیے کہ حقیقت میں دنیا مال و دولت، زن و فرزند[127] کا نام نہیں بلکہ دنیا کسی ذی اختیار کے ایسے مذموم فعل یا حالت کا نام ہے جو اللہ سے غافل کرا دے خواہ کچھ بھی ہو، اسی کو کہا ہے:۔
چیست دنیا از خدا غافل بُدن نے قماش و نقره و فرزند و زن[128]
یعنی دنیا کیا ہے خدا تعالیٰ سے غافل ہو جانا نہ کہ مال و اسباب اور چاندی اور اولاد اور بیوی۔
خلاصہ یہ ہے کہ طَلَبِ دُنیا[129] یعنی دنیا کمانا تو بری نہیں لیکن حُبِّ دنیا بری ہے۔ مال مِثْل پانی کے ہے اور قلب مِثْل کشتی کے ہے اسی کو کہا ہے:۔
آب دَر کِشْتِی ہَلَاکِ کِشْتِی اَسْت آب اَنْدَر زِیرِ کِشْتِی پُشْتِی اَسْت
یعنی پانی کشتی کا مُعِین[130] بھی ہے اور اس کو ڈبونے والا بھی ہے اس طرح کہ کشتی سے باہر اور نیچے رہے تو معین اور مددگار ہوتا ہے اور اگر کہیں پانی کشتی کے اندر آجائے تو کشتی کو ڈبو دیتا ہے۔ اسی طرح مال ہے کہ اگر قلب سے باہر صرف ہاتھ میں ہے تو معین ہے اور اگر قلب کے اندر اس کی محبت ہے تو مُہْلِک[131]ہے جیسا کہ کہا ہے:۔
مال را کُو بَہْرِ دِیں باشد حَمُول نِعْمَ مَالُ صَالِحٌ" گُفْتَشْ رسول ﷺ
حدیثِ شریف میں ہے "نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ"[132] یعنی نیک آدمی کے لئے مالِ حلال بہت ہی اچھا ہے چونکہ مومن صالح اس مال میں سے اقارب کو دے گا، ضروریاتِ دین میں چندہ دے گا، لوگوں کی مدد کرے گا۔ اور اگر دل میں مال کی محبت ہے تو اوروں کے حقوق دبا دے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے جب فارس کا خزانہ آیا تو آپ نے یہ آیتِ کریمہ پڑھی۔
﴿زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ ٱلشَّهَوَ ٰتِ ﴾ [آل عمران ١٤] (الآیہ) اور فرمایا اے اللہ اس سے معلوم ہوا کہ ہمارے اندر اس کی رغبت[133] تو پیدا کی گئی ہے تو اس کا تو اِزَالَہ نہیں چاہتے۔ مگر یہ دعا ہے کہ مال تیری محبت میں مُعِین ہو جائے اور وہ دنیائے مَذْمُوم جو آخرت سے غافل کرے اس کی مثال سانپ کی سی ہے جس کا ظاہر تو اچھا ہے اور نقش و نگار سے آراستہ ہے مگر اندر زہر بھرا ہوا ہے اسی کو کہا ہے:۔
زہرِ ایں مارِ مُنَقَّش قَاتِل است بَاشَد از وے دُور ہر کو عاقل است
یعنی زہر اس نقش و نگار سے مُزَیَّن سانپ کا قاتل ہے لہذا جو بھی عاقل ہے وہ اس سے دور رہے گا۔
اگر بچے کے سامنے سانپ چھوڑ دیں تو وہ اس کی ظاہری خوبصورتی کو دیکھ کر اس پر فَرِیْفْتَہ[134] ہو جاتا ہے اور اس کو پکڑ لیتا ہے، چونکہ اس کو یہ خبر نہیں کہ اس کے اندر زہر بھرا ہوا ہے اور اس کا انجام کیا ہو گا؟ ہماری حالت بھی اس بچے کی سی ہے کہ ہم دنیا کی ظاہری آب و تاب نقش و نگار اور رنگ و روپ پر فَرِیْفْتَہ ہیں اور اندر کی خبر نہیں اور یہ بھی تجربہ ہے کہ سانپ جس قدر خوبصورت ہوتا ہے اسی قدر زہریلا ہوتا ہے۔ اسی لئے حَقِیْقَت شناس[135] اس کی طرف رغبت نہیں کرتے دنیا کی حقیقت معلوم نہ ہونے سے لوگ اس پر فَرِیْفْتَہ ہو رہے ہیں اگر اس کی حقیقت معلوم ہو جائے تو سخت نفرت ہو جائے۔ چنانچہ حدیثِ شریف میں ہے:۔
لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَةٍ مَّا سَقٰی كَافِرًا مِّنْهَا شَرْبَةَ مَاءٍ۔[136]
یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی قدر مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کافر کو ایک گھونٹ پانی کا بھی نہ دیتے چونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی قدر کچھ بھی نہیں ہے اس لیے مَبْغُوض[137] شے اپنے دشمنوں کو دے دیتے ہیں اور حقیقت شناس[138] آدمی ہمیشہ ایسی چیز سے گھبراتا ہے جو خدا تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ہو۔
نیز جنابِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو ایک مثال میں بیان فرمایا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں:۔
مَالِیْ وَلِلدُّنْیَا اِنَّمَا مَثَلِیْ مِثْلُ رَاکِبٍ اِسْتَظَلَّ بِشَجَرَةٍ۔[139]
یعنی مجھ کو دنیا سے کیا علاقہ ہے میری مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی سوار راستے میں جا رہا ہو اور کسی درخت کے سائے میں سستانے کیلئے ٹھہر جائے اور پھر راستہ اپنی راہ لے۔
طَرِیْقِ عِلَاج (حُبِّ دُنْیا):-موت کو کثرت سے یاد کرتے رہنا اور مدتوں کے لئے منصوبے اور سامان نہ کرنا اور نہ سوچنا۔
یہی وہ مقامات ہیں جو انتہائی سلوک ہیں ان سے نقدِ حال "مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا"[140] یعنی مرنے سے پہلے اپنے اندر مرنے والوں کے اوصاف پیدا کر لو کے معنی حاصل ہو جاتے ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ واصلِ حق ہونے اور
وُصُول اِلیَ اللہ [141]کے تین طریقے ہیں:۔
۱۔ اَطْوَلُ (سب سے لمبا راستہ)
۲۔ اَوْسَطُ (درمیانہ راستہ)
۳۔ اَقَلُّ وَ اَقْرَبُ (مختصر اور قریب ترین راستہ)
اَوَّل اَطْوَلُ:
یہ ہے کہ کثرتِ صوم و صلوٰۃ، قرأتِ قرآن پاک و حج و جہاد وغیرہ کرنا، یہ طریقِ اَخْیَار[142] کا ہے۔
دوم اَوْسَطُ:
ان امور کے علاوہ مُجَاہِدَہ اور رِیَاضَت، اخلاقِ ذَمِیْمَہ کے اِزَالہ اور اخلاقِ حَمِیْدَہ کی تحصیل میں مشغول ہونا اور اکثر اسی طریقے سے واصل ہوتے ہیں، یہ طریقِ اَبْرَار[143] کا ہے۔
سوم اَقَلُّ وَ اَقْرَبُ:
طریقِ عشق کہ ریاضتوں اور صحبتِ خَلْق سے گھبراتے ہیں۔ صرف ذکر، فکر، شکر اور درد و شوق و اشتیاق ان کا کام ہوتا ہے اس سے...
واصلِ بحق ہوتے ہیں۔ اسی طریق سے تَزْکِیَۂ نَفْس اور تَصْفِیَۂ قَلْب[144] اور تَجْلِیَۂ رُوْح[145] میں مشغول ہوتے ہیں اور کَشْف و کَرَامات کو بَعِوَض ایک جَو[146] کے بھی نہیں خریدتے اور "مُؤْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا" پر مُسْتَقِیْم ہوتے ہیں۔ یہ طریق شَطَّارِیَہ[147] کا ہے۔
"مُؤْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا" کے ساتھ اِنْطِبَاق[148] اور مرنے سے پہلے مرنے کی نوعیت یہ ہے کہ موت کے وقت مُردے کے یہ احوال ہوتے ہیں:۔ توبہ، زہد، توکل، قناعت، عزلت، توجہ الی اللہ، صبر، رضا، ذکر، مراقبہ جو کہ شطاریہ کا شیوہ ہے۔
· تَوْبَہ: یعنی ہر فعلِ بد سے نکل جانا جیسا کہ موت کے وقت ہوتا ہے۔
· زُہْد: دنیا و مافیہا کا ترک کرنا، جیسا کہ موت کے وقت ہوتا ہے۔
· تَوَکُّل: اسبابِ ظاہرہ غیر عادیہ کا ترک کرنا جیسا کہ موت کے وقت ہوتا ہے۔
· قَنَاعَت: شہوات کا ترک کرنا جیسا کہ موت کے وقت ہوتا ہے۔
· عُزْلَت: خَلْق سے قطع کرنا (جدائی) جیسا کہ موت کے وقت ہوتا ہے۔
· تَوَجُّہ اِلَی اللہ: ماسویٰ اللہ[149] سے اعراض کرنا جیسا کہ موت کے وقت ہوتا ہے۔
· صَبْر: ترکِ حُظُوْظ[150] کرنا جیسا کہ موت کے وقت ہوتا ہے۔
· رِضَا: رضائے نفس کو ترک کرنا اور رضائے حق پر راضی رہنا اور خدا کے حکم کو تسلیم کرنا، جیسا کہ بوقتِ موت ہوتا ہے۔
· ذِکْر: غیرِ حق کو ترک کرنا اور یادِ حق میں مشغول ہونا جیسا کہ بوقتِ موت ہوتا ہے۔
· مُرَاقَبَہ: اپنے وقت کے لوٹنے کے خیال کا ترک کرنا جیسا کہ بوقتِ موت ہوتا ہے۔
یہ ہے "مُؤْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا" ہونا کہ جو موت کے وقت حالت ہوتی ہے۔
وہ حالتِ حیات میں نقدِ حال ہو کہ جسم دنیا میں ہو اور روح متوجہ بآخرت ہو اور واصل بحق ہو، مال و دولت ہَفْت اِقْلِیْم [151]کی سلطنت ہاتھوں میں ہو پر دل سب سے فارغ ہو جس کی پہچان یہ ہے کہ مَمْنُوعَات و مَکْرُوْہَاتِ شرعیہ سے قولاً و فعلاً و حالاً جَوَارِح [152] و زبان کو بند کرے قلب کو ماسویٰ اللہ سے فارغ اور اخلاقِ حَمِیْدَہ سے آراستہ کرے۔ بیہودہ مجالس سے پرہیز ہو جو چیز طالب کو یادِ الہی سے باز رکھے وہی بیہودہ اور لایعنی[153] ہے۔ باطل لوگوں کی صحبت سے اجتناب کرے جو طالبِ خدا کا نہیں وہی باطل ہے۔ آئے عزیز یہ ہے۔ 'مُوتُوا قَبْلَ اَنْ تَمُوتُوا' کا مصداق جو کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ آپ نے امت سے اس طرح رہنے کو چاہا ہے۔
اخلاق کے رسوخ[154] کی علامت یہ ہے کہ جس وقت جس خُلق کا موقع پیش آوے اس وقت بلا اِلْتِفَات، بلا اختیار تدبیر فوراً یا ادنیٰ تدبیر سے اس خُلق کا با محل استعمال ہو۔
بندہ کے دل پر جو خطاب گزرتا ہے اسے خاطر[155] کہتے ہیں۔ وہ کبھی خیر ہوتا ہے کبھی شر ہوتا ہے کبھی خیر کا دل میں واقع ہونا کبھی من جانب اللہ ہوتا ہے، کبھی من جانبِ ملک جس کا نام مُلْہِم[156] ہے اور کبھی من جانب الشیطان اور شر شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، کبھی نفس کی طرف سے اور کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو خیر ہوتا ہے وہ اِکْرَاماً ہوتا ہے یا اِلْزَامِ حُجَّت [157]کے لئے ہوتا ہے اور جو شر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے وہ اِمْتِحَاناً ہوتا ہے اور محنت میں ڈالنے کیلئے ہوتا ہے۔ مُلْہِم کی طرف سے ہمیشہ خیر ہی وارد ہوتا ہے۔ اس لئے کہ ملک (فرشتہ) ملہمِ مرشدِ نا صح ہے، اس لئے اس کو ساتھ کیا گیا ہے۔
شیطان کی طرف سے جو خیر ہوتا ہے وہ مکر و اِسْتِدْرَاج [158]ہوتا ہے صورتاً خیر ہوتا ہے۔ حقیقتاً شر مثلاً کسی اعلیٰ خیر سے روک کر چھوٹی خیر میں مبتلا کرنا اور جو شر ہوتا ہے وہ اِغْوَاء[159] اور اِسْتِذْلَال[160] (یعنی ذلیل کرنے کیلئے) ہوتا ہے۔
نفس کی طرف سے جو شر ہوتا ہے وہ تَعَسُّفاً[161] (یعنی بے راہ چلانے کے لئے) ہوتا ہے اور تَمَنُّعاً[162] (یعنی راہِ حق سے روکنے کے لئے) ہوتا ہے اور بہت کم خیر ہوتا ہے۔ مثلِ شیطان کے۔
جو شر اس طرح وارد ہو کہ نہایت مضبوط ہو اور ایک حالت میں جما رہے نفس نہایت شدت سے اس کے کرنے پر بے قرار ہوتا ہو، تمام تدابیرِ دفع کی کرتا ہو، مگر کسی طرح دفع نہیں ہوتا وہ شر من جانب اللہ ہے اس کا علاج بغیر اس کے کچھ نہیں کہ حق تعالیٰ کی درگاہ میں اعانت اور توفیق...
طلب کرے اور تَضَرُّع[163] اور گریہ وزاری رکھے اور اس قدر شدت نہ ہو مگر ایک حالت پر رہے وہ نفس کی جانب سے ہے اور اگر کسی گناہ کے بعد خَطَرَۂ شَر[164] قوت کے ساتھ پیدا ہو تو وہ من جانب اللہ عاصی[165] کی اِہانت اور اس گناہ کی ظلمت کی سزا میں ہے اور اگر گناہ کے بعد خَطَرَۂ شَر قوت کے ساتھ نہ ہو، اوّل ہی ہو تب وہ شیطان کی جانب سے ہے، بشرطیکہ ذکر کرنے کی وجہ سے دفع ہو جائے یا کمزور ہو جائے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔
إِنَّ الشَّيْطَانَ جَاثِمٌ عَلَىٰ قَلْبِ ابْنِ آدَمَ فَإِذَا ذَكَرَ اللَّهَ خَنَسَ وَ إِذَا غَفَلَ وَسْوَسَ
یعنی شیطان آدم کی اولاد کے قلب پر ٹیک جما کر بیٹھتا ہے[166]، جب اللہ کا ذکر کرتا ہے، تو ہٹ جاتا ہے[167] اور جب اللہ کی یاد سے غافل ہو جاتا ہے تو وسوسے ڈالتا ہے۔[168]
اور اگر وہ شر ذکر کی وجہ سے دفع نہ ہو نہ کمزور ہو تو وہ نفس کی طرف سے ہے۔ جس طرح کہ شیطان کو خَطَرَہ " ﴿ خَلَقۡتَنِی مِن نَّار وَخَلَقۡتَهُۥ مِن طِین﴾ [ص ٧٦] " (یعنی آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا اور اس کو آپ نے خاک سے پیدا کیا ہے) نفس کی جانب سے تھا جس کا دفعیہ نہ اس کا ذکر کر سکا اور نہ حق تعالیٰ کی تلقین و تذکیر سے ہوا اس کا سبب عبدیت اور عجز کا نہ ہونا تھا۔
نیز مُشَاہِدَہ سے محرومی تھی وہ طاعت و عبادت محض جسمانی تَعَب[169] تھا، قلبی مشاہدہ[170] نہ تھا کیوں کہ بعدِ مشاہدہ حجت کا پیش کرنا نہیں ہوتا۔
بلکہ تعمیل میں تسلیم و رضا ہوتی ہے یہ کَیْف و لِم[171] مُشاہدے سے قبل ہی ہوا کرتے ہیں۔**
جو خیر قوت اور صَمِیْمِ قلب[172] کے ساتھ وارد ہو کہ اس پر بلا عمل کئے چین نہیں آتا یا وہ خیر مُجَاہِدَہ اور طاعت کے بعد ہو یا وہ خیر اصول[173] اور اعمالِ باطنہ میں سے ہو تو وہ من جانب اللہ ہے۔
" ﴿وَٱلَّذِینَ جَـٰهَدُوا۟ فِینَا لَنَهۡدِیَنَّهُمۡ سُبُلَنَاۚ ﴾ [العنكبوت ٦٩] " یعنی اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم ان کو اپنے قرب کے ثواب یعنی جنت کے رستے ضرور دکھاویں گے، یہ آیتِ کریمہ اس پر دلیل ہے اور اگر ایسی قوت و حالت نہ ہو یا بدونِ مجاہدہ ابتداءً ہو یا فُرُوْع[174] و اعمالِ ظاہرہ کے متعلق ہو تو وہ خیر من جانبِ ملہم ہے۔
جو خطرۂ خیر اس طرح وارد ہو کہ اس سے نِشَاط بلا خوف ہو اور عجلت بلا رکاوٹ ہو اور عمل بلا نظرِ انجام ہو وہ من جانبِ شیطان ہے جیسا کہ حدیثِ شریف میں ہے کہ "عجلت من جانبِ شیطان ہے" مگر پانچ مواقع میں: نکاحِ باکرہ، اداءِ قرض، تَجْہِیزِ مَیِّت[175]، اِطْعَامِ[176] مہمان، توبہ از گناہ۔[177]
اور اگر خطرۂ خیر کا وارد ہونا اس طرح نہ ہو بلکہ نشاط[178] مع الخوف اور انجام پر نظر ہونے کے ساتھ ہو تو وہ من جانبِ اللہ ہے اور من جانبِ ملک بھی کہا جاتا ہے۔
تَنْبِیْہ:- خوف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس خیر کے پورے طور پر ادا ہونے اور اس کو اس کے حق کے طریق پر ادا...
ہونے کا خوف ہو، نیز قبول ہونے نہ ہونے کا احتمال ہو کر خوف ہو کہ انجام پر نظر نہ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس کے متعلق رُشْد و خیر[179] اور ثوابِ آخرت میں دیکھنے اور امید رکھنے پر نظر ہو، دوسرا مطلب اور غرض نہ ہو۔
تَنْبِیْہ:- مُلْہَم ایک فرشتے کا نام ہے جو دائیں جانب ابنِ آدم کے قلب پر جما بیٹھا ہے اور وَسْوَاس ایک شیطان کا نام ہے جو بائیں جانب ابنِ آدم کے قلب پر جا بیٹھا ہے، جیسا کہ حدیثِ شریف میں ہے:۔
إِذَا وُلِدَ لِابْنِ آدَمَ مَوْلُودٌ قَرَنَ اللهُ مَلَكًا وَقَرَنَ بِهِ شَيْطَانًا فَالشَّيْطَانُ جَاثِمٌ عَلَى أُذُنِ قَلْبِ ابْنِ آدَمَ الْأَيْسَرِ وَالْمَلَكُ جَاثِمٌ عَلَى أُذُنِ قَلْبِهِ الْأَيْمَنِ فَهُمَا يَدْعُوَانِهِ۔[180]
یعنی جب بھی انسان کے کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ایک فرشتہ پیدا فرماتے ہیں اور ایک شیطان بھی، شیطان تو اس کے قلب کی بائیں جانب بیٹھ جاتا ہے اور فرشتہ اس کے قلب کی دائیں جانب پر اور وہ دونوں اس کو اپنی اپنی طرف بلاتے ہیں۔
تَنْبِیْہ:- شیطان کے خطرے اور شر کو دفع کرنے کے لئے معمولی توجہ اور ذکر اور لَاحَوْل کا ورد کفایت[181] کرتا ہے، کیوں کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ " ﴿ إِنَّ كَیۡدَ ٱلشَّیۡطَـٰنِ كَانَ ضَعِیفًا﴾ [النساء ٧٦] " یعنی واقع میں شیطانی تدبیر لچر[182] ہوتی ہے۔ اصل علاج شیطانی وساوس کا یہ ہے کہ قطعاً اس طرف اِلْتِفَات[183] نہ ہو اور اِلْتِفَات نہ ہونے کی پہچان یہ ہے کہ...
ان وساوس پر مَغْمُوْم[184] و مُتَفَکِّر نہ ہو، بلکہ وسوسہ سے پہلے جو حال تھا اسی طرح رہے بلکہ وسوسے کا آنا اپنے مومن ہونے پر دلیل سمجھ کر مسرور ہو۔ چنانچہ صحابہ کرامؓ نے جب وساوس کے آنے پر اپنا حال ذکر کیا کہ یا رسول اللہ! اب تو ایسے وسوسے آتے ہیں کہ اس سے تو ہمارا جل کر کوئلہ ہو جانا اچھا ہے، تو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
ذَالِكَ صَرِيْحُ الْإِيْمَانِ
یعنی یہ کھلی ہوئی ایمان کی دلیل ہے۔[185]
چور وہیں آتا ہے جہاں کچھ ہوتا ہے البتہ ہوائے نفس کے دفع کے واسطے بہت ہی جد و جہد اور اس پر غیظ و قہر[186] کی ضرورت ہے اس لئے ہوائے نفس کے دفع کے تین طریق ہیں:۔
۱۔ اوّل شہوات سے روکنا، اس کی خوراک اس کو نہ دی جائے اس کی خواہشاتِ مُبْتَغَاتِ[187] نفس پوری نہ کی جائے جیسے کہ چوپایہ شہ زور کا جب چارہ روک دیا جاتا ہے یا کم کر دیا جاتا ہے، تو نرم پڑ جاتا ہے، اسی طرح خواہشِ نفس بھی آہستہ آہستہ مضمحل[188] ہو کر منقطع ہو جاتی ہے۔
۲۔ دوم عبادت کا بوجھ اس پر لادنا، جس طرح گدھا کہ جب اس کو چارہ کی کمی کے ساتھ بوجھ زیادہ لادا جاتا ہے تو پست و تابع اور منقاد[189] ہو جاتا ہے، دولتی نہیں پھینکتا، اسی طرح نفس پر عباداتِ نافعہ کا بوجھ ڈالا جائے تو وہ رام ہو جاتا ہے- کشاکشی سے نکل جاتا ہے۔
۳۔ سوم اِسْتِعَانَت[190] بِاللہ اور تَضَرُّع اِلی اللہ عَزَّ وَ جَلَّ جیسا کہ فرمایا:۔
﴿۞ إِنَّ ٱلنَّفۡسَ لَأَمَّارَةُۢ بِٱلسُّوۤءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیۤۚ ﴾ [يوسف ٥٣]یعنی نفس تو ہر ایک کا بُری ہی بات بتلاتا ہے۔ بجز اس نفس کے جس پر میرا رب رحم کرے۔
جب ان تینوں امور پر مُوَاظِبَت[191] کی جائے گی تو ان شاء اللہ تعالیٰ نفسِ شریر[192] مُنْقَاد[193] و مطیع ہو جائے گا اور اس کے شر سے مَامُون[194] و محفوظ رہے گا، مگر فکر رکھے غافل نہ ہو، کہیں غافل پا کر غلبہ نہ پالے۔
تَنْبِیْہ:- حَقِیْقَتِ نَفْس: انسان کے اندر ایک قوت ہے جس سے کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے اسی کا نام نفس ہے۔ خواہ وہ خواہش خیر ہو یا شر اور یہ نفس تین طرح پر ہے۔ اَمَّارہ، لَوَّامَہ، مُطْمَئِنَّہ۔
نَفْسِ اَمَّارہ: یہ ہے کہ اکثر شر کی خواہش کرے اور نادم [195]بھی نہ ہو اسی درجے کا نام ہوائے نفس ہے۔
لَوَّامَہ: شر کی طرف خواہش کرے اور نادم (شرمندہ) بھی ہو۔
مُطْمَئِنَّہ: بیش از بیش (ہمیشہ) خواہش خیر کی کرے۔ اس کو مطمئنہ کہتے ہیں۔
[1] کسی چیز کو حاصل کرنے کا شدید لالچ یا ہوس ۔
[2] يهرَمُ ابنُ آدَمَ وتشِبُّ فيه اثنتانِ: الحرصُ على المالِ والحرصُ على العُمرِ [الراوي: أنس بن مالك • ابن حبان، صحيح ابن حبان (٣٢٢٩) • أخرجه في صحيحه • أخرجه البخاري (٦٤٢١) ، مسلم (١٠٤٧).]
[3] بیماریوں کی ماں؛ یعنی وہ بنیادی برائی جس سے دوسری برائیاں جنم لیں ۔
[4] بنیاد، سبب یا آغاز ہونے کی جگہ ۔
[5] عہدے، رتبے اور واہ واہ کی خواہش ۔
[6] فطری صفت یا عادت ۔
[7] لالچی انسان ۔
[8] لالچ کرنے والا، وہ جو دوسروں کی چیزوں پر نظر رکھے۔
[9] رسوا یا بے وقعت؛ حرص انسان کی عزت ختم کر دیتی ہے۔
[10] نفس کی وہ خواہش جو شریعت کے حدود سے باہر ہو۔
[11] فرمانبرداری کا اعلیٰ ترین درجہ۔
[12] سیدھا راستہ (دین کا راستہ)۔
[13] الكيِّسُ من دان نفسَهُ وعمِلَ لما بعدَ الموتِ والعاجزُ من أَتبعَ نفسَهُ هواها وتمنّى على اللهِ الأمانيَّ [الراوي: شداد بن أوس • السفاريني الحنبلي، شرح كتاب الشهاب (٢٨٩) • إسناده صحيح • أخرجه الترمذي (٢٤٥٩)، وأحمد (١٧١٦٤) مختصراً، وابن ماجه (٤٢٦٠) باختلاف يسير، والديلمي في ((الفردوس)) (٤٩٣٠) واللفظ له. • قال ابن عثيمين فی لقاء الباب المفتوح (١/ ٢١٥) • مشهور، ومعناه صحيح • قال الحاكم فی المستدرك على الصحيحين (١٩٢) • صحيح على شرط البخاري • محمد ابن عبد الوهاب، الخطب المنبرية (٤٩) • صحيح ۔]
[14] بے بس یا ناکام شخص (یہاں مراد روحانی طور پر پست شخص ہے)۔
[15] وہ چیزیں جن کی طرف نفس رغبت کرے یا جنہیں پسند کرے ۔
[16] نفس کی خواہشات کے خلاف کوشش کرنا اور اسے اللہ کے حکم کے تابع کرنا ۔
[17] غصہ پی جانے والے یا اسے ضبط کرنے والے ۔
[18] غلطیاں یا قصور ۔
[19] أنَّ رَجُلًا قال للنَّبيِّ ﷺ: أوصِني، قال: لا تَغضَبْ. فرَدَّدَ مِرارًا، قال: لا تَغضَبْ. ]الراوي: أبو هريرة • البخاري، صحيح البخاري (٦١١٦) • [صحيح] • من أفراد البخاري على مسلم[
يا رسولَ اللهِ قُلْ لي قولًا ينفعْني اللهُ به لا تغضَبْ. فأعاد عليه مرارًا، كلُّ ذلك يقولُ: لا تَغْضَبْ. ]الراوي: جارية بن قدامة السعدي • الألباني، صحيح الترغيب (٢٧٤٨) • صحيح • أخرجه الطبراني في ((الأوسط)) (٧٤٩١) واللفظ له، وأحمد (١٥٩٦٤).[
أَتى النَّبيُّ ﷺ رجُلٌ، فقالَ: مُرْني بأمرٍ، ولا تُكثِرْ علَيَّ حتى أَعقِلَه، قال: لا تَغضَبْ، فأعادَ عليه: لا تَغضَبْ.
]الراوي: أبو هريرة • شعيب الأرنؤوط، تخريج المسند لشعيب (٨٧٤٤) • إسناده صحيح على شرط الشيخين • أخرجه البخاري (٦١١٦)، والترمذي (٢٠٢٠)، وأحمد (٨٧٤٤) واللفظ له [
لا تغضبْ، ولَكَ الجنَّةُ [يعني حديث: قُلْتُ يا رسولَ اللهِ دُلَّني على عملٍ يُدخِلُني الجنَّةَ قال رسولُ اللهِ ﷺ لا تغضَبْ ولك الجنَّةُ]
]الراوي: أبو الدرداء • الألباني، صحيح الجامع (٧٣٧٤) • صحيح • أخرجه الطبراني في ((المعجم الأوسط)) (٢٣٥٣) واللفظ له، وابن عدي في ((الكامل في الضعفاء)) (٦/١٦٨)، والخطيب في ((الموضح)) (٢/٤١٢) باختلاف يسير[
[20] ليس الشَّديدُ بالصُّرَعةِ، ولكنَّ الشَّديدَ الذي يَملِكُ نَفْسَهُ عِندَ الغَضَبِ. ]الراوي: أبو هريرة • شعيب الأرنؤوط، تخريج المسند لشعيب (١٠٧٠٢) • إسناده صحيح على شرط الشيخين • أخرجه البخاري (٦١١٤)، ومسلم (٢٦٠٩)، والنسائي في ((السنن الكبرى)) (١٠٢٢٦)، وأحمد (١٠٧٠٢) واللفظ له[
[21] خواہش، ارادہ یا مقصد۔
[22] فطرت، خمیر یا جبلت۔
[23] تقاضا یا کسی چیز کی ضرورت۔
[24]
[25] كَتَبَ أبو بَكرةَ إلى ابنِه -وكان بسِجِستانَ- بأن لا تَقضيَ بينَ اثنَينِ وأنتَ غَضبانُ؛ فإنِّي سَمِعتُ النَّبيَّ ﷺ يقولُ: لا يَقضيَنَّ حَكَمٌ بينَ اثنَينِ وهو غَضبانُ. [الراوي: أبو بكرة نفيع بن الحارث • الألباني، صحيح أبي داود (٣٥٨٩) • صحيح • أخرجه البخاري (٧١٥٨)، ومسلم (١٧١٧)، وأبو داود (٣٥٨٩) واللفظ له، والترمذي (١٣٣٤)، والنسائي (٥٤٠٦)، وأحمد (٢٠٤٨٥)، وابن ماجه (٢٣١٦)، و ابن حيان في ((أخبار القضاة)) (١/ ٨٨)۔]
[26] فیصلہ کرنے والا یا جج؛ یہاں اس سے مراد ہر با اختیار شخص ہے۔
[27] ٹال دینا یا آگے کے وقت کے لیے رکھ دینا۔
[28] غصہ ٹھنڈا ہونا یا لہر کا ختم ہونا ۔
[29] وہ غیر مسلم شہری جو اسلامی ریاست کی حفاظت میں ہو ۔
[30] من آذى ذمِّيًّا فأنا خصمُه يومَ القيامةِ [الراوي: - • أحمد شاكر، الباعث الحثيث (٢/٤٥٧) • بهذا اللفظ لا أصل له ولكن ورد معناه بأسانيد لا بأس بها]
ألا من ظلَم مُعاهَدًا أو انتقصَه، أو كلَّفه فوقَ طاقتِه، أو أخذ منه شيئًا بغيرِ طيبِ نفسٍ؛ فأنا حجيجُه يومَ القيامةِ [الراوي: بعض أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم • الألباني، صحيح الترغيب (٣٠٠٦) • حسن • أخرجه أبو داود (٣٠٥٢)، وابن زنجويه في ((الأموال)) (٦٢١)، والبيهقي (١٨٧٦٥) واللفظ لهم.]
[31] حد سے بڑھ جانا ۔
[32] استَبَّ رَجُلانِ عِندَ النَّبيِّ ﷺ ونَحنُ عِندَه جُلوسٌ، وأحَدُهما يَسُبُّ صاحِبَه، مُغضَبًا قدِ احمَرَّ وجهُه، فقال النَّبيُّ ﷺ: إنِّي لَأعلَمُ كَلِمةً لو قالها لَذَهَبَ عنه ما يَجِدُ، لو قال: أعوذُ باللهِ مِنَ الشَّيطانِ الرَّجيمِ، فقالوا للرَّجُلِ: ألا تَسمَعُ ما يقولُ النَّبيُّ ﷺ؟ قال: إنِّي لَستُ بمَجنونٍ. [الراوي: سليمان بن صرد • البخاري، صحيح البخاري (٦١١٥) • [صحيح] • أخرجه ابن حبان ((٥٦٩٢)) بلفظه، ومسلم ((٢٦١٠)) وأبو داود ((٤٧٨١)) بنحوه]
[33] إذا غضب أحدُكم وهو قائمٌ فلْيَجْلِسْ، فإن ذهب عنه الغضبُ وإلا فليضطجِعْ [الراوي: أبو ذر الغفاري • أبو داود، سنن أبي داود (٤٧٨٢) • سكت عنه [وقد قال في رسالته لأهل مكة كل ما سكت عنه فهو صالح] • أخرجه ابن حبان (٥٦٨٨)، والبيهقي في ((شعب الإيمان)) (٨٢٨٤)، واللفظ لهما، وأحمد (٢١٣٨٦)، واللفظ له وفي أوله قصة.]
[34] الغضبُ من الشيطانِ وإن الشيطانَ خُلِق من النارِ وإنما تُطفأُ النارُ بالماءِ فإذا غضب أحدُكم فليتوضأْ [الراوي: عطية بن عروة السعدي • ابن حبان، المجروحين (١/٥١٨) • أخرجه أبو داود (٤٧٨٤)، وأحمد (١٨٠١٤)۔]
[35] إذا غَضِبَ أحدُكم فلْيسكتْ [الراوي: عبدالله بن عباس • الألباني، صحيح الجامع (٦٩٣) • صحيح • أخرجه أحمد (٢١٣٦)۔]
[36] رکاوٹ ڈالنا یا ٹکر لینا ۔
[37] علَيكُم بالصِّدقِ؛ فإنَّ الصِّدقَ يَهدي إلى البِرِّ، وإنَّ البِرَّ يَهدي إلى الجَنَّةِ، وما يَزالُ الرَّجُلُ يَصدُقُ ويَتَحَرّى الصِّدقَ حتّى يُكتَبَ عِندَ اللهِ صِدِّيقًا، وإيّاكُم والكَذِبَ؛ فإنَّ الكَذِبَ يَهدي إلى الفُجورِ، وإنَّ الفُجورَ يَهدي إلى النّارِ، وما يَزالُ الرَّجُلُ يَكذِبُ ويَتَحَرّى الكَذِبَ حتّى يُكتَبَ عِندَ اللهِ كَذّابًا. بهذا الإسنادِ، لَم يَذكُرْ في حَديثِ عيسى: ويَتَحَرّى الصِّدقَ، ويَتَحَرّى الكَذِبَ. وفي حَديثِ ابنِ مُسهرٍ: حتّى يَكتُبَه اللهُ. [الراوي: عبدالله بن مسعود • مسلم، صحيح مسلم (٢٦٠٧) • [صحيح] • أخرجه البخاري (٦٠٩٤)، ومسلم (٢٦٠٧) ، أبو داود، (٤٩٨٩) ، وأحمد (٤١٠٨)، الترمذي (١٩٧١) ، النسائي (١٠٧١٩)، وابن ماجه (٣٨٤٩)، وابن حبان (٥٧٣٤) ، وابن عبد البر، الاستذكار (٧/٥٨٥) .]
[38] كفى بالمرءِ كذبًا أن يحدِّثَ بِكلِّ ما سمِع۔ [الراوي: أبو هريرة • ابن حجر العسقلاني، هداية الرواة (٤/٣٨١) • [حسن كما قال في المقدمة] • أخرجه مسلم في ((مقدمة الصحيح)) (٥)، وأبو داود (٤٩٩٢)، وابن حبان (٣٠) ، والحاكم (٣٨٦)۔]
[39] إذا كذب العبدُ كذِبةً تباعدَ عنه الملَكُ ميلًا من نتنِ ما جاء به [الراوي: عبدالله بن عمر • محمد جار الله الصعدي، النوافح العطرة (٣٨) • حسن • أخرجه الترمذي (١٩٧٢)، والطبراني في ((المعجم الأوسط)) (٧٣٩٨)، وابن عدي في ((الكامل في الضعفاء)) (٥/٢٨٣)، وأبو نعيم في ((حلية الأولياء)) (٨/١٩٧)۔]
[40] صلّى رسولُ اللَّهِ ﷺ صلاةَ الصُّبحِ فلمّا انصرفَ قامَ قائمًا وقالَ عدلت شهادةُ الزُّورِ بالإشراكَ باللَّهِ ثلاثَ مرّاتٍ. ثمَّ قرأَ ﴿فاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثانِ واجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ حُنَفاءَ لِلَّهِ غَيرَ مُشْرِكِينَ بِهِ﴾ [الراوي: خريم بن فاتك الأسدي • ابن حجر العسقلاني، هداية الرواة (٢/٤٩٤) • [حسن كما قال في المقدمة] • أخرجه أبو داود (٣٥٩٩)، وابن ماجة (٢٣٧٢)، وأحمد (١٨٨٩٨)، وابن أبي شيبة في ((مسنده)) (٧٤٤) جميعهم بلفظ قريب .]
[41] لوہے کا آلہ یا چمٹا جس سے چیزیں پکڑی یا چیری جاتی ہیں ۔
[42] گردن کا پچھلا حصہ ۔
[43] كان رَسولُ اللهِ ﷺ ممّا يُكثِرُ أن يَقولَ لأصحابِه: هل رَأى أحَدٌ منكم مِن رُؤيا، قال: فيَقُصُّ عليه مَن شاءَ اللهُ أن يَقُصَّ، وإنَّه قال ذاتَ غَداةٍ: إنَّه أتاني اللَّيلةَ آتيانِ، وإنَّهما ابتَعَثاني، وإنَّهما قالا لي: انطَلِقْ، وإنِّي انطَلَقتُ معهُما، وإنّا أتَينا على رَجُلٍ مُضطَجِعٍ، وإذا آخَرُ قائِمٌ عليه بصَخرةٍ، وإذا هو يَهوي بالصَّخرةِ لرَأسِه فيَثلَغُ رَأسَه، فيَتَدَهدَه الحَجَرُ هاهُنا، فيَتبَعُ الحَجَرَ فيَأخُذُه، فلا يَرجِعُ إليه حتّى يَصِحَّ رَأسُه كما كانَ، ثُمَّ يَعودُ عليه فيَفعَلُ به مِثلَ ما فعَلَ المَرَّةَ الأولى، قال: قُلتُ لهما: سُبحانَ اللهِ، ما هذانِ؟ قال: قالا لي: انطَلِقِ انطَلِقْ، قال: فانطَلَقنا، فأتَينا على رَجُلٍ مُستَلقٍ لقَفاه، وإذا آخَرُ قائِمٌ عليه بكَلُّوبٍ مِن حَديدٍ، وإذا هو يَأتي أحَدَ شِقَّي وجهِه فيُشَرشِرُ شِدقَه إلى قَفاه، ومَنخِرَه إلى قَفاه، وعَينَه إلى قَفاه، -قال: ورُبَّما قال أبو رَجاءٍ: فيَشُقُّ- قال: ثُمَّ يَتَحَوَّلُ إلى الجانِبِ الآخَرِ فيَفعَلُ به مِثلَ ما فعَلَ بالجانِبِ الأوَّلِ، فما يَفرُغُ مِن ذلك الجانِبِ حتّى يَصِحَّ ذلك الجانِبُ كما كانَ، ثُمَّ يَعودُ عليه فيَفعَلُ مِثلَ ما فعَلَ المَرَّةَ الأولى، قال: قُلتُ: سُبحانَ اللهِ، ما هذانِ؟ قال: قالا لي: انطَلِقِ انطَلِقْ، فانطَلَقنا، فأتَينا على مِثلِ التَّنُّورِ -قال: فأحسِبُ أنَّه كان يقولُ- فإذا فيه لَغَطٌ وأصواتٌ، قال: فاطَّلَعنا فيه، فإذا فيه رِجالٌ ونِساءٌ عُراةٌ، وإذا هم يَأتيهم لَهَبٌ مِن أسفَلَ منهم، فإذا أتاهم ذلك اللَّهَبُ ضَوضَوا، قال: قُلتُ لهما: ما هؤلاء؟ قال: قالا لي: انطَلِقِ انطَلِقْ، قال: فانطَلَقنا، فأتَينا على نَهَرٍ - حَسِبتُ أنَّه كان يقولُ- أحمَرَ مِثلِ الدَّمِ، وإذا في النَّهَرِ رَجُلٌ سابِحٌ يَسبَحُ، وإذا على شَطِّ النَّهَرِ رَجُلٌ قد جَمع عِندَه حِجارةً كَثيرةً، وإذا ذلك السّابِحُ يَسبَحُ ما يَسبَحُ، ثُمَّ يَأتي ذلك الذي قد جَمع عِندَه الحِجارةَ، فيَفغَرُ له فاه، فيُلقِمُه حَجَرًا فيَنطَلِقُ يَسبَحُ، ثُمَّ يَرجِعُ إليه، كُلَّما رَجَعَ إليه فغَرَ له فاه فألقَمَه حَجَرًا، قال: قُلتُ لهما: ما هذانِ؟ قال: قالا لي: انطَلِقِ انطَلِقْ، قال: فانطَلَقنا، فأتَينا على رَجُلٍ كَريهِ المَرآةِ، كَأكرَهِ ما أنتَ راءٍ رَجُلًا مَرآةً، وإذا عِندَه نارٌ يَحُشُّها ويَسعى حَولَها، قال: قُلتُ لهما: ما هذا؟ قال: قالا لي: انطَلِقِ انطَلِقْ، فانطَلَقنا، فأتَينا على رَوضةٍ مُعتَمَّةٍ، فيها مِن كُلِّ لَونِ الرَّبيعِ، وإذا بينَ ظَهرَيِ الرَّوضةِ رَجُلٌ طَويلٌ، لا أكادُ أرى رَأسَه طولًا في السَّماءِ، وإذا حَولَ الرَّجُلِ مِن أكثَرِ وِلدانٍ رَأيتُهم قَطُّ، قال: قُلتُ لهما: ما هذا؟ ما هؤلاء؟ قال: قالا لي: انطَلِقِ انطَلِقْ، قال: فانطَلَقنا فانتَهَينا إلى رَوضةٍ عَظيمةٍ، لم أرَ رَوضةً قَطُّ أعظَمَ مِنها ولا أحسَنَ، قال: قالا لي: ارقَ فيها، قال: فارتَقَينا فيها، فانتَهَينا إلى مَدينةٍ مَبنيَّةٍ بلَبِنِ ذَهَبٍ ولَبِنِ فِضَّةٍ، فأتَينا بابَ المَدينةِ فاستَفتَحنا ففُتِحَ لنا فدَخَلناها، فتَلَقّانا فيها رِجالٌ شَطرٌ مِن خَلقِهم كَأحسَنِ ما أنتَ راءٍ، وشَطرٌ كَأقبَحِ ما أنتَ راءٍ، قال: قالا لهم: اذهَبْوا فقَعوا في ذلك النَّهَرِ، قال: وإذا نَهَرٌ مُعتَرِضٌ يَجري كَأنَّ ماءَه المَحضُ في البَياضِ، فذَهَبوا فوقَعوا فيه، ثُمَّ رَجَعوا إلينا قد ذَهَبَ ذلك السُّوءُ عنهم، فصاروا في أحسَنِ صورةٍ، قال: قالا لي: هذه جَنَّةُ عَدنٍ، وهذاكَ مَنزِلُك، قال: فسَما بَصَري صُعُدًا، فإذا قَصرٌ مِثلُ الرَّبابةِ البَيضاءِ، قال: قالا لي: هذاكَ مَنزِلُك، قال: قُلتُ لهما: بارَك اللهُ فيكُما ذَراني فأدخُلَه، قالا: أمّا الآنَ فلا، وأنتَ داخِلُه، قال: قُلتُ لهما: فإنِّي قد رَأيتُ مُنذُ اللَّيلةِ عَجَبًا، فما هذا الذي رَأيتُ؟ قال: قالا لي: أما إنّا سَنُخبِرُك؛ أمّا الرَّجُلُ الأوَّلُ الذي أتَيتَ عليه يُثلَغُ رَأسُه بالحَجَرِ فإنَّه الرَّجُلُ يَأخُذُ القُرآنَ فيَرفُضُه، ويَنامُ عَنِ الصَّلاةِ المَكتوبةِ، وأمّا الرَّجُلُ الذي أتَيتَ عليه يُشَرشَرُ شِدقُه إلى قَفاه، ومَنخِرُه إلى قَفاه، وعَينُه إلى قَفاه؛ فإنَّه الرَّجُلُ يَغدو مِن بَيتِه، فيَكذِبُ الكَذبةَ تَبلُغُ الآفاقَ، وأمّا الرِّجالُ والنِّساءُ العُراةُ الذينَ في مِثلِ بناءِ التَّنُّورِ؛ فإنَّهمُ الزُّناةُ والزَّواني، وأمّا الرَّجُلُ الذي أتَيتَ عليه يَسبَحُ في النَّهَرِ ويُلقَمُ الحَجَرَ؛ فإنَّه آكِلُ الرِّبا، وأمّا الرَّجُلُ الكَريهُ المَرآةِ، الذي عِندَ النّارِ يَحُشُّها ويَسعى حَولَها؛ فإنَّه مالِكٌ خازِنُ جَهَنَّمَ، وأمّا الرَّجُلُ الطَّويلُ الذي في الرَّوضةِ فإنَّه إبراهيمُ ﷺ، وأمّا الوِلدانُ الذينَ حَولَه فكُلُّ مَولودٍ ماتَ على الفِطرةِ، قال: فقال بَعضُ المُسلِمينَ: يا رَسولَ اللهِ، وأولادُ المُشرِكينَ؟ فقال رَسولُ اللهِ ﷺ: وأولادُ المُشرِكينَ، وأمّا القَومُ الذينَ كانوا شَطرٌ منهم حَسَنًا وشَطرٌ قَبيحًا؛ فإنَّهم قَومٌ خَلَطوا عَمَلًا صالِحًا وآخَرَ سَيِّئًا، تَجاوزَ اللهُ عنهم. [الراوي: سمرة بن جندب • البخاري، صحيح البخاري (٧٠٤٧) • [صحيح] • أخرجه مسلم (٢٢٧٥)، النسائي في ((السنن الكبرى)) (٧٦٥٨)، والترمذي(٢٢٩٤) ، وابن حبان (٦٥٥) ، وأحمد (٢٠٠٩٤)]
[44] خشک کھجور؛ حدیث میں اسے بچوں سے کیے گئے وعدے کی مثال کے طور پر ذکر کیا گیا ۔
[45] دعتني أمي يوما ورسول اللهِ ﷺ قاعد في بيتنا فقالت ها تعال أعطيك فقال لها رسول اللهِ ﷺ وما أردت أن تعطيه؟ قالت: أعطيه تمرا، فقال لها رسول اللهِ ﷺ: أما إنك لو لم تعطيه شيئا كتبت عليك كذبة
الراوي: عبدالله بن عامر بن ربيعة • أبو داود، سنن أبي داود (٤٩٩١) • سكت عنه [وقد قال في رسالته لأهل مكة كل ما سكت عنه فهو صالح] • أخرجه ابن أبي شيبة (٢٦١٢٢)، واللفظ له، وأحمد (١٥٧٠٢)، والخرائطي في ((مكارم الأخلاق)) (٢٠٢)، الترغيب والترهيب (٤/٥٦)، قال شعيب الأرنؤوط فی تخريج سنن أبي داود (٤٩٩١) • حسن لغيره • وقال ابن حجر العسقلاني فی هداية الرواة (٤/٣٩٥) • [حسن].
[46] بات کرنے سے پہلے ذہن میں اس کی سچائی کا دھیان رکھنا ۔
[47] تلافی کرنا؛ یعنی اگر جھوٹ نکل جائے تو فوراً اس کی اصلاح کرنا ۔
[48] إيّاكُم والظَّنَّ؛ فإنَّ الظَّنَّ أكذَبُ الحَديثِ، ولا تَحَسَّسوا، ولا تَجَسَّسوا، ولا تَحاسَدوا، ولا تَدابَروا، ولا تَباغَضوا، وكونوا عِبادَ اللهِ إخوانًا. [الراوي: أبو هريرة • البخاري، صحيح البخاري (٦٠٦٤) • [صحيح] • أخرجه مسلم (٢٥٦٣) ، وأبو داود (٤٩١٠)، والترمذي (١٩٣٥) مطولاً، وأحمد (١٤٠١٦) ]
[49] جس کی پکڑ نہ ہو یا جسے معاف رکھا گیا ہو (صرف دل میں خیال آنے کی حد تک) ۔
[50] تقاضا؛ یعنی حسد کے جذبے کے تحت کسی کو نقصان پہنچانے کا عمل کرنا ۔
[51] اجر پانے والا؛ جو حسد کے خیال کو دبا دے اور اس کے خلاف عمل کرے ۔
[52] کسی کی نعمت دیکھ کر ویسی ہی نعمت کی تمنا کرنا مگر دوسرے سے چھن جانے کی خواہش نہ کرنا (رشک) ۔
[53] ضائع ہو جانا یا ختم ہو جانا ۔
[54] إيّاكم والحَسَدَ؛ فإنَّ الحَسَدَ يأكُلُ الحسَناتِ كما تأكُلُ النّارُ الحَطَبَ، أو قال: العُشْبَ. [الراوي: أبو هريرة • أبو داود، سنن أبي داود (٤٩٠٣) • سكت عنه [وقد قال في رسالته لأهل مكة كل ما سكت عنه فهو صالح] • أخرجه البيهقي في ((شعب الإيمان)) (٦٦٠٨)، وعبد بن حميد (١٤٢٨)، والخرائطي في ((مساوئ الأخلاق)) (٧٢٢)، واللفظ لهم.]
[55] صدمہ، رنج یا ذہنی اذیت ۔
[56] السخيُّ قريبٌ من اللهِ قريبٌ من الجنةِ قريبٌ من الناسِ بعيدٌ من النارِ والبخيلُ بعيدٌ من اللهِ بعيدٌ من الجنةِ بعيدٌ من الناسِ قريبٌ من النارِ ولَجاهلٌ سخيٌّ أحبُّ إلى اللهِ من عابدٍ بخِيلٍ [الراوي: أبو هريرة • ابن حجر العسقلاني، هداية الرواة (٢/٢٧٩) • [حسن كما قال في المقدمة] • أخرجه الترمذي (١٩٦١ )، والبيهقي في ((شعب الإيمان)) (١٠٣٥٦ )، والعقيلي في ((الضعفاء الكبير)) (٢/ ١١٧) باختلاف يسير۔]
[57] اخلاق، مروت یا انسانی ہمدردی کے ناطے ۔
[58] وہ کام جو گناہ تو نہ ہو لیکن بہتر طریقے کے خلاف ہو ۔
[59]
[60] کسی کی برائی کرنا یا اس کی تذلیل کرنا ۔
[61] بُرا کہنے والا یا غیبت کرنے والا ۔
[62] اتَّقوا الظُّلمَ؛ فإنَّ الظُّلمَ ظُلُماتٌ يَومَ القيامةِ، واتَّقوا الشُّحَّ؛ فإنَّ الشُّحَّ أهلَك مَن كانَ قَبلكم، حَمَلَهم على أن سَفَكوا دِماءَهم، واستَحَلُّوا مَحارِمَهم. [الراوي: جابر بن عبدالله • مسلم، صحيح مسلم (٢٥٧٨) • [صحيح] • أخرجه الطبراني في ((الأوسط)) (٨٥٦١)، والبيهقي (١١٦١٢)، وأبو عوانة في ((مستخرجه)) (١١٢٦٠) ، وأحمد (١٤٤٦١)، والبخاري في ((الأدب المفرد)) (٤٨٨).]
اتَّقوا الظُّلْمَ؛ فإنَّه الظُّلُماتُ يَوْمَ القِيامةِ، واتَّقوا الفُحْشَ؛ فإنَّ اللهَ لا يُحِبُّ الفُحْشَ والتَّفَحُّشَ، وإيّاكم والشُّحَّ؛ فإنَّه أَهلَكَ مَن كانَ قَبْلَكم؛ أمَرَهم بالظُّلْمِ فظَلَموا، وأمَرَهم بالفُجورِ ففَجَروا، وأمَرَهم بالقَطيعةِ فقَطَعوا. [الراوي: عبدالله بن عمرو • الوادعي، الصحيح المسند (١/٦٢٠) • [ذكره في الصحيح المسند] • أخرجه النسائي في ((السنن الكبرى)) (١١٥١٩) واللفظ له، وأحمد (٦٤٨٧)، وابن حبان (١٩٦٨)، والحاكم (٢٦) مطولا.]
[63] زبردستی اور ناگواری کے ساتھ ۔
[64] إنَّ يسيرَ الرِّياءِ شِرْكٌ. [الراوي: معاذ بن جبل • شعيب الأرنؤوط، تخريج شرح السنة (١٠/ ٧) • [فيه] عيسى بن عبد الرحمن بن فروة قال الحافظ في التقريب: متروك • أخرجه ابن ماجه (٣٩٨٩)، والطحاوي في ((شرح مشكل الآثار)) (١٧٩٨)، والطبراني (٢٠/ ١٥٣) (٣٢١)، والبيهقي في ((شعب الإيمان)) (٦٣٩٣) بلفظه وفيه قصة.]
عن أسْلَمَ: أنَّ عمَرَ بنَ الخَطّابِ رَضيَ اللهُ عنه خرَجَ إلى مَسجدِ رسولِ اللهِ ﷺ، فإذا هو بمُعاذِ بنِ جبَلٍ رَضيَ اللهُ عنه عندَ قبْرِ رسولِ اللهِ ﷺ يَبْكِي، فقال: ما يُبكِيكَ يا مُعاذُ؟ قالَ: يُبكِيني شَيءٌ سَمِعْتُهُ مِن صاحبِ هذا القَبْرِ، قالَ: وما سَمِعتَهُ؟ قالَ: سَمِعتُه يقولُ: إنَّ اليسيرَ مِن الرِّياءِ شِركٌ، وإنَّ مَن عادى وَلِيَّ اللهِ، فقَدْ بارَزَ اللهَ تَعالى بالمُحارَبةِ، وإنَّ اللهَ يُحِبُّ الأَخفياءَ الأتقياءَ الَّذين إنْ غابوا لم يُفتَقَدوا، وإنْ حَضَروا لم يُدعَوا ولَمْ يُعرَفوا، قُلوبُهم مَصابيحُ الهُدى، يَخرُجونَ مِن كُلِّ غَبراءَ مُظلِمةٍ. [الراوي: معاذ بن جبل • الحاكم، المستدرك على الصحيحين (٨١٤٦) • صحيح الإسناد • أخرجه ابن ماجه (٣٩٨٩)، والطبراني (٢٠/ ١٥٣) (٣٢١)، وابن أبي الدنيا في ((الأولياء)) (٦) واللفظ لهم.]
[65] لوگوں کی خوشنودی یا مخلوق کو راضی کرنا ۔
[66] مرتبہ، مقام یا رتبہ ۔
[67] چھوٹا شرک؛ یعنی عبادت میں اللہ کے ساتھ کسی اور کی نیت شامل کرنا ۔
[68] أنَّ قائلًا من المُسلِمينَ قال يا رسولَ اللهِ ما النجاةُ غدٌا قال لا تخادعِ اللهَ قال وكيف نخادعُ اللهَ قال أن تعملَ بما أمرك اللهُ به تريدُ به غيره فاتقوا الرياءَ فإنه الشركُ باللهِ فإن المرائيَ يُنادى يومَ القيامةِ على رؤوسِ الخلائقِ بأربعةِ أسماءَ يا كافرُ يا فاجرُ يا خاسرُ يا غادرُ ضل عملُك وبطل أجرُك فلا خلاق لك اليومَ عند اللهِ فالتمس أجرك ممن كنت تعملُ له يا مخادعُ وقرأ آياتٍ من القرآنِ ﴿فَمَنْ كانَ يَرْجُو لِقاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صالِحًا﴾ الآية و﴿إِنَّ الْمُنافِقِينَ يُخادِعُونَ اللَّهَ﴾ [الراوي: رجل من الصحابة • الشوكاني، فتح القدير (١/٥٧) • سنده ضعيف • أخرجه السمرقندي في ((تنبيه الغافلين)) (١٦)، وأحمد بن منيع كما في ((المطالب العالية)) (٣٢١٥) واللفظ لهما.]
كان عبدُ الرحمنِ بنُ غَنَمٍ في مسجدِ دمشقٍ في نفرٍ من أصحابِ النبيِّ ﷺ فيهم معاذُ بنُ جبلٍ فقال عبدُ الرحمنِ بنُ غنمٍ يا أيُّها الناسُ إنَّ أخوفَ ما أخافُ عليكم الشركُ الخفِيُّ فقال معاذٌ اللهم غَفْرًا فقال يا معاذُ أما سمِعْتَ رسولَ اللهِ ﷺ يقولُ من صام رياءً فقدْ أشركَ ومن تصدَّقَ رياءً فقدْ أشركَ ومن صلّى رياءً فقدْ أشركَ قال بلى ولكن رسولَ اللهِ ﷺ تَلا هذِهِ الآيةَ فَمَنْ كانَ يَرْجُو لِقاءَ رَبِّهِ الآيةَ فشَقَّ ذَلِكَ على القومِ واشتَدَّ عليهم فقال ألا أُفْرِجُها عنكم قالوا بلى فرَّجَ اللهُ عنْكَ الهمَّ والأذى فقال هيَ مثلُ الآيةِ التي في الرومِ وَما آتَيْتُمْ مِن رِّبا لِيَرْبُوا فِي أَمْوالِ الناسِ فَلا يَرْبُو عِندَ اللهِ الآيةَ من عمِلَ عملًا رياءً لم يُكْتَبْ لا لَهُ ولا عَليه
الراوي: عبدالرحمن بن غنم ومعاذ بن جبل • الهيثمي، مجمع الزوائد (٧/٥٧)، أخرجه البزار (٢٦٦٣)، والبيهقي في ((الشعب)) (٦٨٥٢)، وابن عساكر في ((تاريخ دمشق)) (٣٥/ ٣١٤) بنحوه.]
[69] تفسير المظهري (عربی) مصنفہ: محمد ثناء الله العثماني الحنفي المظھري النقشبندي رحمة الله تعالى علیه المتوفی 1143 ھ، الناشر: دار احیاء التراث العربی، ج :۵، ص: ۴۲۷۔
[70] إنَّ أخوفَ ما أخافُ عليكم الشركُ الأصغرُ الرياءُ، يقولُ اللهُ يومَ القيامةِ إذا جزى الناسُ بأعمالِهم: اذهبوا إلى الذين كنتم تُراؤون في الدنيا، فانظروا هل تجدون عندَهم جزاءً [الراوي: محمود بن لبيد الأنصاري • الألباني، صحيح الجامع (١٥٥٥) • صحيح • أخرجه أحمد (٢٣٦٣٠)، والطبراني في ((الكبير)) (٤/ ٢٥٣) (٤٣٠١)، والبيهقي في ((الشعب)) (٦٨٣١) باختلاف يسير.]
[71] علم سکھانا اور علم سیکھنا ۔
[72] حق دار ہونا یا کسی چیز کا دعویٰ کرنا ۔
[73]
[74]
[75] ہوش کے کانوں سے؛ یعنی پوری توجہ اور سمجھداری کے ساتھ ۔
[76] چھپانا؛ یعنی نیکی کو جان بوجھ کر چھپانے کا بھی زیادہ تکلف نہ کرنا ۔
[77]
[78] اپنے دل کی نگرانی کرنا اور اپنے نفس کا جائزہ لینا ۔
[79] شہرت، ناموری اور عہدے کی محبت ۔
[80] دور کرنا یا ختم کرنا ۔
[81] توجہ کرنا یا دھیان دینا ۔
[82] ثلاثٌ مُنْجِياتٌ، وثلاثٌ مُهْلِكاتٌ: فأما المُنْجِياتُ: فتقوى اللهِ في السِّرِّ والعلانيةِ، والقولُ بالحقِّ في الرِّضى والسَّخَطِ، والقَصْدُ في الغِنى والفقرِ. وأما المُهْلِكاتُ: فهوًى مُتَّبَعٌ، وشُحٌّ مُطاعٌ، وإعجابُ المرءِ بنفسِهِ، وهي أَشَدُّهُنَّ. [الراوي: أبو هريرة • الألباني، هداية الرواة (٥٠٤٩) • حسن لغيره • أخرجه البيهقي في ((شعب الإيمان)) (٧٢٥٢)]
[83] وہ گناہ یا برائیاں جو انسان کو روحانی طور پر ہلاک کر دیں ۔
[84] وہ بخل جس کی بات مانی جائے (یعنی بندہ اپنی کنجوسی کا غلام ہو جائے) ۔
[85] نفس کی چھپی ہوئی وہ برائی یا میل جو انسان کو خود پر ناز کرنے پر اکساتی ہے۔
[86] دوسروں سے الگ اور نمایاں نظر آنا۔
[87] حقیقی نعمت دینے والا، یعنی اللہ تعالیٰ۔
[88] من تعظَّم في نفسِه أو اختال في مِشيتِه، لقيَ اللهَ تبارك وتعالى وهو عليه غَضبانُ [الراوي: عبدالله بن عمر • الألباني، صحيح الترغيب (٢٩١٨) • صحيح • أخرجه أحمد (٥٩٩٥)، والبخاري في ((الأدب المفرد)) (٥٤٩) ، والبيهقي في ((شعب الإيمان)) (٨١٦٧)، والطبراني (١٣/٦٤) (١٣٦٩٢) جميعا بلفظه، والحاكم (٢٠١) بلفظ مقارب.]
[89] پھسلن، غلطی یا چوک۔
[90] لا يدخلُ الجنَّةَ من كانَ في قلبِه مثقالُ ذرَّةٍ من خردلٍ من كبرٍ ولا يدخلُ النّارَ من كانَ في قلبِه مثقالُ حبَّةٍ من خردلٍ من إيمانٍ [الراوي: عبدالله بن مسعود • الألباني، صحيح ابن ماجه (٥٠) • صحيح • أخرجه ابن ماجه (٤١٧٣) واللفظ له، وأخرجه مسلم (٩١) باختلاف يسير ، وأبو يعلى (٥٠١٣)]
لا يَدخُلُ الجَنَّةَ مَن كانَ في قَلبِه مِثقالُ ذَرَّةٍ مِن كِبرٍ، قال رَجُلٌ: إنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أن يَكونَ ثَوبُه حَسَنًا ونَعلُه حَسَنةً، قال: إنَّ اللهَ جَميلٌ يُحِبُّ الجَمالَ، الكِبرُ بَطَرُ الحَقِّ، وغَمطُ النّاسِ. [الراوي: عبدالله بن مسعود • مسلم، صحيح مسلم (٩١) • [صحيح] •
[91] چھپا ہوا یا پوشیدہ۔
[92] کسی بات کا یقین رکھنا یا ماننا۔
[93] بیزاری یا ناگواری کا اظہار کرنا (محاورہ)۔
[94] ڈراوے یا سخت سزاؤں کی خبریں۔
[95] بڑائی اور عظمت (جو صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے)۔
[96] قال اللهُ تعالى: الكبرياءُ رِدائِي، فمَنْ نازعَنِي في رِدائِي قَصَمْتُهُ [الراوي: أبو هريرة • الألباني، صحيح الجامع (٤٣٠٩) • صحيح • أخرجه أبو داود (٤٠٩٠)، وابن ماجه (٤١٧٤)، وأحمد (٧٣٨٢) أوله في أثناء حديث، والحاكم (٢٠٣) واللفظ له۔]
[97] آگ سے بنے ہوئے بکس یا کوٹھریاں۔
[98] يُحْشَرُ المُتَكَبِّرُونَ يومَ القيامةِ أَمْثالَ الذَّرِّ في صُوَرِ الرِّجالِ يَغْشاهُمُ الذُّلُّ من كلِّ مَكانٍ يُساقُونَ إلى سِجْنٍ في جهنمَ يُسَمّى: بُولَسَ تَعْلوهُمْ نارُ الأنْيارِ، يُسْقَوْنَ من عُصارَةِ أهلِ النارِ طِينَةَ الخَبالِ [الراوي: [جد عمرو بن شعيب] • الترمذي، سنن الترمذي (٢٤٩٢) • حسن صحيح • أخرجه البخاري في ((الأدب المفرد)) (٥٥٧) واللفظ له، وأحمد (٦٦٧٧) باختلاف يسير والبيهقي في ((شعب الإيمان)) (٧٨٣٤) ، والحميدي (٦٠٩) ، وابن المبارك في ((الزهد)) (٢/ ٥٢) بنحوه۔]
[99] معمولی، بے حقیقت یا کچھ بھی نہیں۔
[100] دل میں کسی کی دشمنی چھپا کر رکھنا اور بدلہ لینے کی تاک میں رہنا۔
[101] لا تَدابَروا، ولا تَباغَضوا، ولا تَحاسَدوا، وكونوا عِبادَ اللهِ إخوانًا. [الراوي: أنس بن مالك • شعيب الأرنؤوط، تخريج المسند لشعيب (١٤٠١٦) • إسناده صحيح على شرط مسلم • أخرجه البخاري (٦٠٦٥)، ومسلم (٢٥٥٩)، وأبو داود (٤٩١٠)، والترمذي (١٩٣٥) مطولاً، وأحمد (١٤٠١٦) واللفظ له۔]
[102] دل میں چھپی ہوئی دشمنی یا نفرت۔
[103] بوجھ یا بھاری پن (دل کا بوجھل ہونا)۔
[104] نشے کا اثر؛ یہاں مراد غصے کا باقی رہ جانے والا زہریلا اثر ہے۔
[105] تکلیف یا دکھ پہنچانا۔
[106] فطری کھنچاؤ؛ یعنی دکھ کی وجہ سے دل کا خود بخود کسی سے دور ہونا۔
[107] دشمنی پالنے والا۔
[108] تُفتَحُ أبوابُ السَّماءِ كُلَّ يَومِ اثنيْنِ وخميسٍ، فيُغفَرُ ذلك اليَومَ لكُلِّ عَبدٍ لا يُشرِكُ باللهِ شَيئًا، إلّا امرَأً كان بَينَه وبَينَ أخيه شَحناءُ، فيُقالُ: أنْظِروا هذيْنِ حتى يَصطَلِحا. [الراوي: أبو هريرة • شعيب الأرنؤوط، تخريج المسند لشعيب (٩٠٥٣) • إسناده صحيح على شرط مسلم • أخرجه أحمد (٩٠٥٣) واللفظ له، والطيالسي (٢٥٢٥)، وعبدالرزاق (٧٩١٤)۔]
[109] بنیاد یا جس پر کسی چیز کا دارومدار ہو۔
[110] پسندیدہ یا اچھا کام۔
[111] اللہ ہی کے لیے کسی سے محبت کرنا اور اللہ ہی کے لیے دشمنی کرنا۔
[112] أَفضَلُ الأعْمالِ: الحُبُّ في اللهِ، والبُغْضُ في اللهِ. [الراوي: أبو ذر • المنذري، مختصر سنن أبي داود (٣/٢٤٧) • [فيه] يزيد بن أبي زياد الكوفي، ولا يحتج بحديثه، وقد أخرج له مسلم متابعة، وفيه أيضا رجل مجهول • أخرجه أبو داود (٤٥٩٩) واللفظ له، وأحمد (٢١٣٠٣)، وابن شاهين في ((الترغيب في فضائل الأعمال)) (٤٩٨)، والشجري في ((ترتيب الأمالي الخميسية)) (٢٠٥٨) مطولا.، والبزار كما في ((البحر الزخار)) (٤٠٧٦) ۔]
[113] زبردستی یا مشقت کے ساتھ (طبیعت کے خلاف)۔
[114] ما ذئبانِ جائعانِ أُرسِلا في غَنمٍ بأفسَدَ لها مِن حِرصِ الرَّجلِ على المالِ والشَّرفِ لدِينِه [الراوي: كعب بن مالك • ابن حبان، صحيح ابن حبان (٣٢٢٨) • أخرجه في صحيحه • أخرجه الترمذي (٢٣٧٦)، وأحمد (١٥٧٩٤)، والنسائي في ((السنن الكبرى)) (١١٧٩٦) بلفظه۔]
[115] تابع کرنا، قبضہ کرنا یا کسی کو اپنا گرویدہ بنا لینا۔
[116] بُرا، قابلِ ملامت یا ناپسندیدہ۔
[117] نقصان دہ یا تکلیف پہنچانے والا۔
[118] نقصان یا خسارہ۔
[119] بغیر مانگے یا بغیر خواہش کیے۔
[120] زیادتی یا ظلم کرنا۔
[121] حرج، رکاوٹ یا برائی۔
[122] وہمی، خیالی یا جس کی حقیقت نہ ہو۔
[123] الدُّنيا سِجنُ المُؤمِنِ، وجَنَّةُ الكافِرِ. [الراوي: أبو هريرة • مسلم، صحيح مسلم (٢٩٥٦) • صحيح]
الدُّنيا سجنُ المؤمنِ، وجنَّةُ الكافرِ [الراوي: أبو هريرة وسلمان الفارسي وعبدالله بن عمر • الألباني، صحيح الجامع (٣٤١٢) صحيح ]
[124] نفس کی لذت یا جسمانی فائدہ۔
[125] حبُّ الدُّنيا رأسُ كلِّ خطيئةٍ. [الراوي: الحسن البصري • العراقي، تخريج الإحياء للعراقي (٣/٢٤٩) • مرسل • أخرجه ابن أبي الدنيا في ((الزهد)) (٩) واللفظ له، وأخرجه البيهقي في ((شعب الإيمان)) (١٠٥٠١) بلفظ: "حب الدينار"]
[126] سرزد ہونا یا (گناہ کا) ہو جانا۔
[127] بیوی اور بچے۔
[128] ترجمہ: دنیا کیا ہے؟ اللہ سے غافل ہو جانا؛ نہ کہ کپڑا، چاندی، اولاد اور بیوی دنیا ہیں
[129] دنیا کمانا یا معاش کے لیے کوشش کرنا۔
[130] مددگار یا سہارا دینے والا۔
[131] ہلاک کرنے والا یا تباہ کن۔
[132] نِعْمَ المالُ الصّالِحُ للرَّجُلِ الصّالِحِ. [الراوي: عمرو بن العاص • شعيب الأرنؤوط، تخريج شرح السنة (١٢/ ٢٢٨) • [ثابت] • أخرجه البغوي في ((شرح السنة)) (٢٤٩٦)، وأحمد (١٧٨٠٢)، والحاكم (٢١٣٠)، وأبو يعلى في ((المسند)) (٧٣٣٦)، واللفظ لهم جميعا.۔ • شعيب الأرنؤوط، تخريج رياض الصالحين (١/ ١٧٨) • إسناده صحيح • أخرجه مطولاً أحمد (١٧٧٦٣)، وابن أبي شيبة (٢٢٦٢٧) باختلاف يسير، وابن قانع في ((معجم الصحابة)) (٢/٢١٣) واللفظ له • • العراقي، تخريج الإحياء للعراقي (٣/٢٨٩) • إسناده صحيح بلفظ : نعما وللمرء • أخرجه أحمد (١٧٧٦٣)، والبخاري في ((الأدب المفرد)) (٢٩٩)، وابن حبان (٣٢١٠) باختلاف يسير.]
[133] شوق، میلان یا دلی خواہش۔
[134] دیوانہ ہونا یا کسی کی ظاہری خوبصورتی پر مر مٹنا۔
[135] وہ جو چیزوں کی اصل حقیقت اور انجام کو جانتا ہو۔
[136] لو كانت الدُّنيا تعدِلُ عند اللهِ جناحَ بعوضةٍ ما سقى كافرًا منها شرْبةَ ماءٍ [الراوي: سهل بن سعد الساعدي • المنذري، الترغيب والترهيب (٤/١٥٨) • [إسناده صحيح أو حسن أو ما قاربهما] • أخرجه الترمذي (٢٣٢٠) واللفظ له، وابن ماجه (٤١١٠) مطولاً باختلاف يسير۔]
[137] ناپسندیدہ، مبغوض یا جس سے نفرت کی جائے۔
[138] وہ جو چیزوں کی اصلیت اور انجام سے واقف ہو۔
[139] مالي وللدنيا إنما مثلي ومثلُ الدُّنيا كراكبٍ استظلَّ تحت شجرةٍ ثم راحَ وتركها [الراوي: عبدالله بن مسعود • ابن حبان، المجروحين (١/٢٨٩) • ما رواه عن إبراهيم إلا المسعودي والمسعودي لا تقوم الحجة بروايته • أخرجه الترمذي (٢٣٧٧)، وابن ماجه (٤١٠٩)، وأحمد (٣٧٠٩) مطولاً، وابن حبان في ((المجروحين)) (١/٢٧٦) واللفظ له.]
دخل عمرُ بنُ الخطابِ على النبيِّ ﷺ وهو على حصيرٍ قد أثَّر في جنبِه فقال يا رسولَ اللهِ لو اتخذت فراشًا أوثرَ من هذا فقال يا عمرُ مالي وللدنيا أو ما للدنيا ولي والذي نفسي بيدِه ما مثَلي ومثلُ الدُّنيا إلا كراكبٍ سار في يومٍ صائفٍ فاستظلَّ تحتَ شجرةٍ ساعةً من نهارٍ ثم راح وتركها [الراوي: عبدالله بن عباس • ابن حبان، المجروحين (٢/٤٣٥) • أخرجه أحمد (٢٧٤٤)، والطبراني (١١/٣٢٧) (١١٨٩٨)، والحاكم (٧٨٥٨) باختلاف يسير]
[140] قال العجلوني: موتوا قبل أن تموتوا: قال الحافظ ابن حجر: هو غير ثابت، وقال القاري: هو من كلام الصوفية<[ كشف الخفاء، ج2، ص291].
[141] اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کا قرب حاصل کرنا۔
[142] وہ نیک لوگ جو کثرتِ عبادت (نماز، روزہ) پر توجہ دیتے ہیں۔
[143] وہ صالحین جو عبادات کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کی اصلاح (تزکیہ) بھی کرتے ہیں۔
[144] دل کو گناہوں سے صاف کرنا
[145] روح کو نورِ الٰہی سے روشن کرنا۔
[146] ایک جَو کے دانے کے بدلے بھی؛ یعنی بالکل بے قیمت سمجھنا۔
[147] تصوف کا ایک سلسلہ جو بہت تیزی سے روحانی منزلیں طے کرنے کے لیے مشہور ہے۔
[148] مماثلت، برابری یا ایک جیسا ہونا۔
[149] اللہ کے سوا ہر چیز (پوری کائنات)۔
[150] نفس کی لذتیں اور مرغوبات۔
[151] سات براعظم یا پوری دنیا کی بادشاہت۔
[152] جسم کے اعضاء (ہاتھ، پاؤں وغیرہ)۔
[153] بے مقصد، فضول یا جس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔
[154] پختگی؛ کسی عادت کا طبیعت میں رچ بس جانا۔
[155] دل میں اچانک آنے والے خیالات یا وسوسے۔
[156] الہام کرنے والا فرشتہ جو نیکی کی طرف بلاتا ہے۔
[157] اتمامِ حجت؛ یعنی کسی پر گناہ ثابت کر دینا تاکہ وہ عذر نہ کر سکے۔
[158] بظاہر نیکی کی آڑ میں دھوکہ دینا یا آہستہ آہستہ تباہی کی طرف لے جانا۔
[159] بہکانا یا راہِ راست سے بھٹکا دینا۔
[160] کسی کو ذلیل و خوار کرنے کی کوشش کرنا۔
[161] زبردستی غلط راستے پر چلنا یا بے راہ روی اختیار کرنا۔
[162] روکنا یا رکاوٹ ڈالنا (حق کے راستے میں)۔
[163] عاجزی، انکساری اور گڑگڑا کر دعا کرنا۔
[164] دل میں آنے والا برا خیال یا گناہ کا ارادہ۔
[165] گناہگار یا نافرمان۔
[166] جَاثِم: ڈیرے ڈال کر بیٹھنے والا یا جم کر بیٹھنے والا۔
[167] خَنَسَ: پیچھے ہٹ جانا یا چھپ جانا (شیطان کا نام اسی لیے "خناس" ہے)۔
[168] الشَّيطانُ جاثمٌ على قلبِ ابنِ آدمَ؛ فإذا ذَكَرَ اللَّهَ خنسَ وإذا غفلَ وَسوَسَ [الراوي: عبدالله بن عباس • ابن حجر العسقلاني، هداية الرواة (٢/٤٢٦) • ذكره البخاري تعليقا. ووصله الطبري وهو عندهما موقوف على ابن عباس • أخرجه ابن أبي شيبة (٣٤٧٧٤ )، وأبو داود في ((الزهد)) (٣٣٧ )، والطبري في ((جامع البيان)) (٢٤/ ٧٥٤)]
[169] تھکن، مشقت یا جسمانی محنت۔
[170] دل کی آنکھ سے اللہ کی عظمت کا ادراک کرنا۔
[171] کیوں اور کیسے (اعتراض یا بحث کرنا)۔
[172] دل کی گہرائی یا دل کی تہہ سے۔
[173] بنیادی عقائد یا اہم باطنی اعمال۔
[174] شاخیں؛ یعنی ظاہری یا جزوی اعمال۔
[175] میت کو غسل و کفن دے کر دفنانے کی تیاری۔
[176] کھانا کھلانا۔
[177] العجلةُ مِنَ الشيطانِ إلا في خمسةٍ فإنَّها سنةُ رسولِ اللهِ ﷺ إطعامُ الضيفِ وتجهيزُ الميتِ وتزويجُ البكرِ وقضاءُ الدينِ، والتوبة من الذنب . [الراوي: حاتم الأصم • السبكي (الابن)، طبقات الشافعية الكبرى (٦/٣٠٩) • [لم أجد له إسنادا] • أخرجه أبو نعيم في ((حلية الأولياء)) (٨/٧٨) مطولاً.]
[178] جوش، خروش یا غیر معمولی خوشی و چستی۔
[179] ہدایت، بھلائی اور نیکی۔
[180] ما منكم مِن أحدٍ إلا وقد وُكِّلَ به قرينُه من الجنِّ وقرينُه من الملائكةِ قالوا: وإيّاك يا رسولَ اللهِ قال: وإيّايَ لكنَّ اللهَ أعانني عليه فأسلمَ فلا يأمرُني إلا بخيرٍ [الراوي: عبدالله بن مسعود • أحمد شاكر، تخريج المسند لشاكر (٥/٣٠٦) • إسناده صحيح • أخرجه مسلم (٢٨١٤)، وأحمد (٣٨٠٢) واللفظ له]
سَمِعتُ رَسولَ اللهِ ﷺ يقولُ: ما مِن بَني آدَمَ مَولودٌ إلّا يَمَسُّه الشَّيطانُ حينَ يولَدُ، فيَستَهِلُّ صارِخًا مِن مَسِّ الشَّيطانِ، غيرَ مَريَمَ وابنِها. ثُمَّ يقولُ أبو هُرَيرةَ: ﴿وإنِّي أُعيذُها بكَ وذُرِّيَّتَها مِنَ الشَّيطانِ الرَّجيمِ﴾ [آل عمران: ٣٦]. [الراوي: أبو هريرة • البخاري، صحيح البخاري (٣٤٣١) • [صحيح] • أخرجه البخاري (٣٤٣١) واللفظ له، ومسلم (٢٣٦٦)]
[181] کافی ہونا یا پورا پڑ جانا۔
[182] بودی، کمزور، بے حقیقت اور ناپائیدار۔
[183] دھیان دینا، توجہ کرنا یا اس کی طرف مڑ کر دیکھنا۔
[184] غمگین یا دکھی۔
[185] أنَّ رجُلًا أتى النَّبيَّ ﷺ فقال: يا رسولَ اللهِ إنِّي لَأجِدُ في صدري الشَّيءَ لَأَنْ أكونَ حُمَمةً أحَبُّ إليَّ مِن أنْ أتكلَّمَ به فقال رسولُ اللهِ ﷺ: (اللهُ أكبرُ اللهُ أكبرُ الحمدُ للهِ الَّذي ردَّ أمرَه إلى الوسوسةِ) [الراوي: عبدالله بن عباس • شعيب الأرنؤوط، تخريج صحيح ابن حبان (٤٥٩٩) • إسناده صحيح على شرط مسلم • أخرجه ابن حبان (٦١٨٨)، وأبو داود (٥١١٢)، وأحمد (٢٠٩٧)، والنسائي في ((السنن الكبرى)) (١٠٤٣٤) بلفظه.]
جاءَ رَجُلٌ إلى رسولِ اللهِ ﷺ، فقال: إنِّي أُحدِّثُ نَفْسي بالشَّيءِ؛ لَأنْ أَخِرَّ منَ السَّماءِ أحبُّ إليَّ من أنْ أتكلَّمَ به، فقال: ذاك مَحضُ الإيمانِ، أو قال: صريحُ الإيمانِ. [الراوي: عبدالله • شعيب الأرنؤوط، تخريج مشكل الآثار (١٦٣٧) • إسناده صحيح على شرط الصحيح • أخرجه أبو عوانة (٢٢٩)، والطحاوي في ((شرح مشكل الآثار)) (١٦٣٧)، وابن حبان (١٤٩) واللفظ لهم، ومسلم (١٣٣) مختصرا.]
قال رجلٌ للنَّبيِّ ﷺ: إنِّي أجِدُ في نفسي الشَّيءَ لأن أكونَ حُمَمةً أحبُّ إليَّ من أن أتكلَّمَ به. فقال: ذاك صريحُ الإيمانِ [الراوي: عبدالله بن عباس • الهيثمي، مجمع الزوائد (١/٣٩) • رجاله رجال الصحيح خلا شيخ الطبراني منتصر • أخرجه أبو داود (٥١١٢)، وأحمد (٣١٦١) بنحوه، والطبراني في ((المعجم الصغير)) (١٠٩٠) واللفظ له]
[186] غصہ اور سختی (نفس کے ساتھ سختی برتنا)۔
[187] وہ چیزیں جن کی نفس تمنا یا خواہش کرتا ہے۔
[188] کمزور، تھکا ہوا یا بے دم ہو جانا۔
[189] فرمانبردار یا تابعدار بن جانا۔
[190] اللہ سے مدد مانگنا۔
[191] ہمیشگی اختیار کرنا یا کسی کام پر ڈٹے رہنا۔
[192] حکم ماننے والا، تابع یا فرمانبردار۔
[193] برائی پر اکسانے والا سرکش نفس۔
[194] امن میں آ جانا یا خطرے سے باہر ہو جانا۔
[195] شرمندہ یا توبہ کرنے والا۔