شریعت و تصوف - 4
حضرت مولانا شاہ محمد مسیح اللہ خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مولانا شاہ محمد مسیح اللہ خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ
[یہاں توحید سے مراد تَوْحِیْدِ اَفْعَالی[1] ہے۔]
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: "وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ" یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے عملوں کو پیدا کیا۔
نیز ارشاد ہے:
"وَمَا تَشَآءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُؕ" یعنی اور تم نہیں چاہتے ہو کسی چیز کو مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"وَاعْلَمْ اَنَّ الْاُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلٰى اَنْ يَنْفَعُوْكَ لَمْ يَنْفَعُوْكَ اِلَّا بِشَیْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللّٰهُ لَكَ وَلَوِ اجْتَمَعُوْا عَلٰى اَنْ يَّضُرُّوْكَ لَمْ يَضُرُّوْكَ اِلَّا بِشَیْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللّٰهُ عَلَيْكَ" (رواہ احمد والترمذی)۔
یعنی جان لو کہ اگر سب متفق ہو جائیں اس پر کہ تم کو کچھ نفع پہنچا دیں، ہرگز نہیں پہنچا سکتے۔ مگر اس چیز کا جو اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے، اور اگر سب متفق ہو جائیں کہ تم کو ضرر پہنچائیں ہرگز نہ پہنچا سکیں گے مگر اس چیز کا جو اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے۔
مَاہِیَّتِ تَوْحِیْد[2]: یہ یقین کر لینا کہ بِدُوْنِ اِرَادَۂ خُدَاوَنْدِی[3] کے کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔
طَرِیْقِ تَحْصِیْل[4]: مخلوق کے عجز اور خالق کی قدرت کو یاد کرنا اور سوچنا۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
﴿ وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُواْ ٱلزَّكَوٰةَۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلۡقَيِّمَةِ ﴾ [البينة: 5]
یعنی اور ان کو حکم نہیں ہوا مگر اس بات کا کہ عبادت کریں اللہ تعالیٰ کی، خالص کرنے والے ہوں اس کے واسطے دین اور ہر طرف سے منہ پھیرے ہوئے ہوں ۔[6]
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
اِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُورِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَلٰكِنْ يَنْظُرُ إِلَى نِيَّاتِكُمْ وَ أَعْمَالِكُمْ[7]
یعنی حق تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مالوں کی طرف نظر نہیں فرماتے ہیں، لیکن تمہاری نیتوں اور اعمال پر نظر فرماتے ہیں ۔
مَاھِیَّتِ اِخْلَاص: اپنی طاعت میں صرف اللہ کے تقرب اور رضا کا قصد رکھنا اور مخلوق کی خوشنودی اور رضا مندی یا اپنی کسی نفسانی و مالی و جاہی خواہش کے قصد کو نہ ملنے دینا اخلاص ہے ۔
طَرِیْقِ تَحْصِیْل: رِیَا کو دفع کرنا عین اخلاص کا حاصل کرنا ہے ۔
چاہے کیسا ہی نیک کام ہوا اور چاہے ذرا سا ہو مگر خلوص کے ساتھ ہو تو اس میں برکت ہوتی ہے چاہے اس کا کوئی بھی معاون نہ ہو، جس قدر اخلاص زیادہ ہو گا اسی قدر ثواب بڑھتا جائے گا ، اور اسی واسطے حدیث میں آیا ہے کہ میرا صحابی اگر نِصْف مَد[8]، یعنی آدھا سیر جو اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو وہ دوسروں کے اُحُد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرنے سے بہتر ہے ۔
بات یہ ہے کہ ان حضرات کے اندر خلوص اور محبت اس قدر تھا کہ اوروں کے اندر اتنا نہیں اسی واسطے ان کے صدقات و حَسَنات[9] بڑھے چلے جاتے ہیں ۔ اخلاص کا اعلیٰ درجہ تو یہ ہے کہ محض خدا کیلئے کام کرے، مخلوق کا اس میں تعلق ہی نہ ہو ۔ اس سے کم یہ ہے کہ مخلوق کو راضی کرنے کے لئے کام کرے مگر کوئی دنیوی غرض مطلوب نہ ہو، صرف اس کا خوش کرنا مقصود ہو تو یہ بھی دینی غرض ہے ۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ کچھ نیت نہ ہو، نہ دنیا مطلوب ہو نہ دین، یوں ہی خَالِیُ الذِّہْن[10] ہو کر کوئی عمل کیا، یہ بھی اخلاص یعنی عَدَمِ رِیَا[11] ہے ۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
﴿یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ تُوبُوۤا۟ إِلَى ٱللَّهِ تَوۡبَةࣰ نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمۡ ﴾ [التحريم ٨]
یعنی اے ایمان والو، اللہ تعالیٰ کی طرف خالص توبہ[12] کرو ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى اللهِ[13] (رواه مسلم)
یعنی اے لوگو اللہ کی طرف خالص توبہ کرو ۔
گناہ کو یاد کر کے دل کا دکھ جانا اور اس کے لئے لازم ہے اس گناہ کا ترک کر دینا اور آئندہ کو پختہ ارادہ کرنا کہ اب نہ کریں گے اور خواہش کے وقت نفس کو روکنا توبہ کہلاتا ہے ۔
توبہ کے معنی رجوع کرنے اور بُعد [14]سے قرب کی جانب لوٹ کر آنے کے ہیں ۔ مگر اس کے لئے بھی ایک اِبْتِداء ہے اور ایک اِنْتِہاء ہے ۔ ابتدا تو یہ ہے کہ قلب پر نورِ مَعْرِفَت کی شعاعیں پھیل جائیں اور دل کو مضمون کی آگاہی حاصل ہو جائے کہ گناہ سَمِّ قَاتِل[15] ہے اور تباہ کر دینے والی شے ہے ۔ اور پھر خوف اور نَدَامَت پیدا ہو کر گناہ کی تلافی کرنے کی سچی اور خالص رغبت اتنی پیدا ہو جائے کہ جس گناہ میں مبتلا تھا اس کو فوراً چھوڑ دے اور آئندہ کے لئے اس گناہ سے بچنے اور پرہیز کرنے کا مُصَمَّم قصد[16] کرے اور اس کے ساتھ ہی جہاں تک ہو سکے گذشتہ تقصیر[17]و کوتاہی کا تَدَارُک [18]کرے جب ماضی اور مُسْتَقْبِل اور حال تینوں زمانوں کے متعلق توبہ کا یہ ثمرہ پیدا ہو جائے گا تو گویا توبہ کا وہ کمال حاصل ہو گیا جس کا نام توبہ کی انتہا ہے ۔
توبہ کے معنی اور حقیقت سمجھنے کے بعد واضح ہو گیا ہو گا کہ توبہ ہر شخص پر وَاجِب ہے، کیوں کہ حق تعالیٰ تمام مسلمانوں کو مخاطب بنا کر فرماتے ہیں:
﴿یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ تُوبُوۤا۟ إِلَى ٱللَّهِ تَوۡبَةࣰ نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمۡ ﴾ [التحريم ٨]
یعنی اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کی طرف خالص توبہ کرو۔
چونکہ توبہ کی حقیقت یہی ہے کہ گناہوں کو اُخروی زندگی کے لیے سَمِّ قَاتِل اور مُہْلِک[19] سمجھے اور اُن کے چھوڑنے کا عزم کرے اور اتنا مضمون ایمان کا جز ہے، اس لیے ہر مومن پر اس کا واجب اور ضروری ہونا تو ظاہر ہے ۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿فَمَن تَابَ مِنۢ بَعۡدِ ظُلۡمِهِۦ وَأَصۡلَحَ فَإِنَّ ٱللَّهَ یَتُوبُ عَلَیۡهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورࣱ رَّحِیمٌ﴾ [المائدة ٣٩]
مطلب اس آیتِ کریمہ کا یہ ہے کہ جو شخص مُوَافِقِ قاعدۂ شریعت کے اپنی اس زیادتی یعنی گناہ کرنے کے بعد توبہ کرے اور آئندہ کے لیے اعمال کی درستی رکھے، یعنی تمام برائیوں کو چھوڑ دے، شریعت کے مطابق کام کرے اور اپنی توبہ پر اِسْتِقَامَت[20] رکھے تو بے شک اللہ تعالیٰ اس کے حال پر رحم کے ساتھ توجہ فرمائیں گے کہ توبہ سے پچھلے گناہ معاف فرما دیں گے اور توبہ پر استقامت عطا فرما کر مزید اِعَانَت[21] فرمائیں گے ۔
حدیثِ شریف میں ہے، حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر زمین و آسمان کے برابر بھی گناہ لے کر میرے پاس آئیں اور مجھ سے مغفرت چاہیں تو میں سب کو بخش دوں گا اور گناہوں کی کثرت کی پرواہ نہ کروں گا ۔[22] نیز دوسری حدیث میں ہے:
اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ[23]
یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسا وہ شخص جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو ۔
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اِنِّی لَاَسْتَغْفِرُ اللهَ فِی كُلِّ یَوْمٍ سَبْعِیْنَ مرّۃ[24]
یعنی بے شک میں ہر روز ستر دفعہ استغفار کرتا ہوں ۔
عِصْمَتِ اَنْبِیَاء[25] یعنی انبیاء علیہ السلام کا گناہوں سے پاک ہونا ایک مُسَلَّم مسئلہ[26] ہے پھر بھی آپ ﷺ استغفار فرما رہے ہیں ۔ یہ انبیاء علیہم السلام اور اکابرین کی حالت ہے تو پھر ہم کس شمار میں ہیں ۔
اس کی پرواہ نہ کریں کہ توبہ ٹوٹ جائے گی۔ جب توبہ ٹوٹ جائے دوبارہ پھر توبہ کرے مگر شرط یہ ہے کہ توبہ دل سے ہو یعنی توبہ کے وقت یہ عزمِ پختہ[27] ہو کہ اب یہ گناہ نہ کریں گے ۔ اس طرح توبہ کر کے اگر سو مرتبہ بھی توبہ ٹوٹے تو کچھ پرواہ نہیں، ہر دفعہ پھر توبہ کرتے رہیں۔ خدا تعالیٰ کے مقبول اور اہل طاعت میں سے شمار ہوں گے ۔
باز آ باز آ ہر آنچہ ہستی باز آ گر کافر و گبر و بت پرستی باز آ
ایں درگہِ ما درگہِ نومیدی نیست صد بار اگر توبہ شکستی باز آ
(ترجمہ): یعنی ہماری درگاہ کی طرف ضرور واپس آؤ، جو کچھ بھی تم ہو واپس آؤ ۔ اگر کافر و آتش پرست ہو تو بھی واپس آؤ، یہ ہماری درگاہ نا امیدی کی درگاہ نہیں ہے ۔ سینکڑوں بار اگر توبہ توڑ چکے ہو تو بھی واپس آؤ اور توبہ کرو ہم قبول کریں گے ۔
حق تعالیٰ کی وسعتِ رحمت ہے کہ ہر حالت میں اجازت دیدی کہ ہم سے باتیں کر لو، ہمارا نام لے لو، ہر حالت میں سماعت[28] ہوگی ۔
گذشتہ گناہوں پر ندامت اور معذرت ظاہر کرے، جو حقوق العباد واجب الادا[29] ہیں فی الحال ان کے ادا کا عزم کریں ۔ اور پھر اُن کے ادا کا اہتمام کریں یا اہل حقوق سے صاف کرائیں ۔ اگر گناہ صادر ہو جائے تو فوراً دو رکعت نماز توبہ کی نیت سے پڑھے، پھر توبہ کرے، زبان سے بھی توبہ کرے اور رونے کی شکل بنا کر خدا تعالیٰ سے خوب معافی مانگے ۔ توبہ کے لئے تو گناہوں کو یاد کرے، اس کے بعد جی بھر کے توبہ کرے ۔
مگر ان کو جان جان کر یاد نہ کرے کہ اس سے بندہ اور خدا تعالیٰ کے درمیان ایک حِجَاب[30] سا معلوم ہونے لگتا ہے، جو محبت اور ترقی سے مَانِع[31] ہے، جس کا اثر یہ ہو گا کہ وہاں سے بھی عطا میں کمی ہوگی کیوں کہ جزا اور ثمرات کا تَرَتُّب[32] عمل پر ہوتا ہے ۔ سچی توبہ کے بعد اگر از خود پرانے گناہ یاد آجائیں تو پھر تجدیدِ توبہ کر کے کام میں لگ جاوے اس سے زیادہ کاوش کرنا غُلُو[33] ہے ۔ نیز استغفار اور توبہ کے وقت مَعَاصِی[34] کے تذکرے اور استحضار میں ایک قسم کا تَوَسُّط[35] ہونا چاہیے یہ ضروری نہیں کہ سب گناہوں کی پوری فہرست پڑھنے بیٹھ جائے ۔
صرف اِجْمَالی[36] طور پر سب گناہوں سے توبہ کرے، ہر گناہ کا نام لینا ضروری نہیں ۔ حدیث میں ہے:
"وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي[37]" اور فرمایا: "وَأَتُوبُ إِلَيْهِ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِي أَعْلَمُ وَمِنَ الذَّنْبِ الَّذِي لَا أَعْلَمُ[38]" اور اس کی طرف اس گناہ سے توبہ کرتا ہوں جس کو میں جانتا ہوں اور اس گناہ سے بھی جس کو میں نہیں جانتا اس سے بھی ہیں، بات نکلتی ہے کہ اس میں سب گناہ آگئے ۔
اور اس کی طرف اس گناہ سے توبہ کرتا ہوں جس کو میں جانتا ہوں اور اس گناہ سے بھی جس کو میں نہیں جانتا اس سے بھی یہی بات نکلتی ہے کہ اس میں سب گناہ آگئے اگر چہ یاد نہ آئیں، کیوں کہ اس سوچ میں وقت ضائع کرنا مُطَالَعَۂ مَحْبُوْب[39] سے غافل ہونا ہے ۔
البتہ جو از خود یاد آجائیں ان سے بالخصوص توبہ کریں، خواہ مخواہ گُرِید کُردید (تلاش) کرنا یہ خود ایک مشغلۂ بَالِغُ الْحُضُوْر[40] ہے ۔ بس سب گناہوں سے توبہ کر کے اپنے کام میں لگیں، کیوں کہ مَقْصُوْد بِالذَّات[41] خدا تعالیٰ کی یاد ہے، نہ گناہوں کی یاد مقصود بالذات ہے نہ طاعات کی یاد مقصود ہے ۔ گناہوں کی یاد سے توبہ مقصود ہے جب وہ حاصل ہوگئی تو پھر قصداً گناہ کو یاد کر کے اس کی یاد کو مقصود بالذات نہ بنائیں اور اگر یاد آجائے تو پھر توبہ و استغفار کرلیں، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ مصیبت خود بخود یاد آجائے تو اِنَّا لِلّٰہ پڑھ لیں کہ اس وقت اِنَّا لِلّٰہ پڑھنے کا وہی ثواب ہو گا جو عین مصیبت کے وقت پڑھنے کا ثواب تھا ۔
شیخِ اکبر[42] کا قول ہے کہ مَعْصِیَت کی یاد کو مقصود بالذات نہ بنائیں، کیونکہ اس سے یہ خیال ہو جاتا ہے کہ حق تعالیٰ مجھ سے ناراض ہیں اور یہ خیال خطرناک ہے ۔ قرآن و حدیث میں جو وَعِید[43] گناہوں پر آئی ہے ان کو یاد کرے اور سوچے اس سے گناہ پر دل میں سُوْزش[44] پیدا ہوگی، یہی توبہ ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
﴿ یُحِبُّهُمۡ وَیُحِبُّونَهُۥۤ ﴾ [45]
اور اللہ تعالیٰ ان کو دوست رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو دوست رکھتے ہیں ۔ نیز ارشاد ہے:
﴿ وَٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ أَشَدُّ حُبࣰّا لِّلَّهِۗ ﴾ [46]
یعنی اور جو لوگ ایمان لائے وہ اللہ تعالیٰ سے محبت میں بہت مضبوط ہیں ۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَائَهٗ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَائَهٗ" (متفق علیہ)[47]
یعنی جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو دوست رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو دوست رکھتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو برا سمجھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو برا سمجھتا ہے ۔
مائل ہونا جس سے حاصل ہو محبت کہتے ہیں، میلان[48] اگر قوی ہو جاتا ہے تو اس کو عِشق کہتے ہیں ۔
محبت کی دو قسمیں ہیں، مَحَبَّتِ طَبْعِی[49] اور مَحَبَّتِ عَقْلِی[50] ۔ محبتِ طبعی اختیاری نہیں ہے، اس کا حُدُوْث اور بَقَا [51]بالکل غیر اختیاری ہے اور امرِ غیر اختیاری پر بعض اوقات دَوَام نہیں ہوتا لہٰذا محبتِ طبعی مَامُوْرٌ بِہِ[52] نہیں ہے ۔ بخلاف محبتِ عقلی کے کہ اس کا حدوث و بقا اختیاری ہے تو اس پر دوام بھی ہوتا ہے، اس لیے محبتِ عقلی مامورٌ بہِ ہے اور یہی افضل ہے اور راجح [53]ہے ۔ چونکہ محبتِ طبعی کا مَنْشَا[54] جوشِ طبیعت ہے اور جوش ہمیشہ نہیں رہا کرتا ۔
محبت کے تین سبب ہوا کرتے ہیں یا تو یہ کہ کوئی ہم پر احسان کرتا ہو اور اس کے احسان کی وجہ سے ہمیں اس سے محبت ہو یا یہ کہ وہ نہایت حَسِیْن و جَمِیْل ہو اور اس کے حُسن و جمال کی وجہ سے اس کی طرف میلان بخاطر ہو یا یہ کہ اس میں کوئی کمال پایا جاتا ہو اور وہ کمال باعثِ محبت ہو ۔
سو اِنْعَام و نَوَال[55] و حُسن و جمال و فضل و کمال علیٰ وجہ الکمال[56] خدا تعالیٰ ہی میں پائے جاتے ہیں، تو جب تک یہ کمالات باقی ہیں اس وقت تک محبت بھی رہے گی اور محبوبِ حقیقی کے کمالات ختم نہیں ہو سکتے تو ان کے ساتھ محبت بھی ختم نہ ہوگی ۔ اور چونکہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی میں بھی بالذات[57] کمالات نہیں اس لیے کاملین کو خدا تعالیٰ کے سوائے کسی سے محبتِ عقلی نہیں ہو سکتی، ہاں محبتِ طبعی یعنی عشق غیرِ خدا سے بھی ہو سکتا ہے ۔
اور خدا تعالیٰ کے ساتھ جس محبت کا امر ہے وہ حُبِّ عقلی ہے نہ کہ طبعی، اس کیلئے نصوص[58] میں حبِّ طبعی یعنی عشق کا عنوان کہیں مذکور نہیں، بلکہ جابجا حُب کا ذکر ہے اس سے معلوم ہوا کہ محبتِ طبعی مطلوب نہیں بلکہ حبِّ عقلی مطلوب[59] ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حبِّ عقلی والوں یعنی کاملین[60] میں حبِّ طبعی نہیں ہوتی بلکہ مطلب یہ ہے کہ غلبہ حبِّ عقلی کو ہوتا ہے باقی جن پر حبِّ عقلی کا غلبہ ہوتا ہے بعض اوقات اُن میں محبتِ طبعی بھی اُن لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے جن پر محبتِ طبیعی کا غلبہ ہے ۔ مگر وہاں محبتِ طبیعی پر حبِّ عقلی غالب ہوتی ہے اسلئے جوش دب رہا ہے لیکن گاہے گاہے کاملین پر بھی طبعی کا غلبہ ہوتا ہے ۔
بہر حال کاملین تو حبِّ عقلی اور حبِّ طبعی دونوں کے جامع ہوتے ہیں ، مگر ان میں غلبہ عقلی کو ہوتا ہے اور ناقصین[61] میں حبِّ طبعی کا غلبہ ہوتا ہے ۔یہ کمال کو مطلوب نہیں مگر مَحْمُوْد[62] ضرور ہے اور جو دونوں سے کورا [63]ہے وہ خطرہ میں ہے، پس محبت کا ہونا ضروری ہے۔ بغیر محبت کے نری طاعات و عبادات کافی نہیں، کیوں کہ ان کا بھروسہ کچھ نہیں ۔
طَرِیْقِ تَحْصِیْل: اللہ تعالیٰ کے کمالات و اوصاف و اِنْعَامات کو یاد کرے اور سوچے، احکامِ شرعیہ کی بجا آوری اور کثرتِ ذکر اللہ سے غیر اللہ کی محبت دل سے نکالے ۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
"مَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لَآتٍ"
یعنی جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا اُمید وار ہے تو اللہ تعالیٰ کی مدت یعنی موت تو آنے والی ہے ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
"أَسْأَلُكَ النَّظَرَ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ" (رواہ النسائی)[64]
یعنی تجھ سے تیرے وجہِ مبارک[65] کی زیارت اور تیری ملاقات کا شوق مانگتا ہوں ۔
حَقِیْقَتِ شَوْق: جس محبوب چیز کا مَنْ وَجْہٍ [66]علم ہو اور مَنْ وَجْہٍ علم نہ ہو اس کو یکمال جاننے اور دیکھنے کی خواہشِ طبعی ہونا شوق کہلاتا ہے ۔
ابتدا میں محبت شوق کے رنگ میں ہوتی ہے اور بعد میں اُنْس کا رنگ غالب آ جاتا ہے ۔ اس وقت وہ کیفیتیں نہیں رہتیں جو شوق کے وقت ہوا کرتی ہیں، مثلاً بات بات پر رونا اور اِسْتِغْرَاق[67] کا غلبہ ہونا وغیرہ ۔ مگر لوگ انہیں آثار کو مقصود سمجھتے ہیں اور اُنْس[68] کی حالت میں جب یہ آثار کم ہو جاتے ہیں تو پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں حالانکہ یہ مقصود نہیں کہ ہر وقت شوق غالب رہے اور تقاضۂ طبعی مرغوباتِ نفسانیہ[69] کا کبھی نہ ہو، نہ یہ مقصود ہے کہ دل میں حرکت پیدا ہو جائے ۔
آنحضرت ﷺ نے شوق کی ایک حد بیان فرمائی ہے:
"أَسْأَلُكَ الشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ مِنْ غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ"
یعنی اے اللہ! میں آپ سے آپ کی ملاقات کا شوق بغیر کسی تنگی (ضرر) میں پڑنے کے جو نقصان دینے والی ہو اور بغیر کسی گمراہ کن آزمائش میں مبتلا ہونے کے طلب کرتا ہوں ۔
چونکہ شوق اور عشق کا غلبہ کبھی ہلاکت اور مَضَرَّت کی نوبت پہنچاتا ہے جس سے اعمال میں خلل پڑتا ہے اور اصل مقصود اور ذرائعِ قرب اعمال اور اِمْتِثَالِ اَوَامِر[70] ہی ہیں ۔ اور کبھی غلبۂ شوق میں ادب کی حد سے گذر جاتا ہے اور بے ادبی کی باتیں کرنے لگتا ہے جیسا کہ اکثر عُشَّاق غلبۂ حال میں کرتے ہیں اور یہ بے ادبی موجبِ ضررِ[71] دین ہے ۔ اگرچہ غلبہ کی حالت میں معاف ہے مگر کمال نہیں اور آنحضرت ﷺ ادب اور طاعات اور محبت کے جامع ہیں، اس لیے یہ مذکورہ بالا دعا فرمائی ہے ۔
طریقِ تحصیلِ شوق:محبّت الٰہی پیدا کر لینا کیوں کہ محبت کے لیے شوق لازم ہے ۔
حقیقتِ اِنس: جو چیز منْ وَجْہٍ (ایک طرح) ظاہر اور معلوم ہو اور منْ وَجْہٍ (ایک طرح سے) مخفی و مجہول ہو، اگر وُجُوْہِ مَعْلُوْمَہ پر نظر واقع ہو کر اس پر فَرح و سُرُوْر[72] ہو اس کو اَنَس[73] کہتے ہیں ۔
طَرِیْقِ تَحْصِیْلِ اَنَس: چونکہ یہ بھی آثارِ محبت سے ہے اس لئے اس کی تحصیل کے لیے کوئی جداگانہ طریق نہیں ہے ۔ محبت کے ساتھ ہی حاصل ہو جاتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :
﴿ وَٱخۡشَوۡنِی ﴾ [74] یعنی اور مجھ سے ڈرو ۔
اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :
مَنْ خَافَ اَدْلَجَ وَمَنْ اَدْلَجَ بَلَغَ الْمَنْزِلَ اَلَا اِنَّ سِلْعَةَ اللهِ غَالِيَةً اَلَا اِنَّ سِلْعَةَ اللهِ الْجَنَّةُ[75]
یعنی جو ڈرتا ہے وہ رات ہی سے چلتا ہے[76] اور جو رات سے چلتا ہے وہ منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ سُن لو اللہ تعالیٰ کا سودا گراں[77] ہے، سُن لو اللہ تعالیٰ کا سودا جنت ہے ۔
حَقِیْقَتِ خَوْف: ناگوار طبع چیز کے خیال اور اس کے واقع ہونے کے اندیشے سے قلب کا دردناک ہونا ۔
تَشْرِیْح: خوف اِحْتِمَال[78] کا ہو کہ شاید مجھے عذاب ہو، اور یہ اِحْتِمَال مسلمانوں میں ہر شخص کو اپنے متعلق ہے اور یہی مَامُوْرٌ بِہِ[79] ہے اور اسی کا بندہ مُکَلَّف[80] کیا گیا ہے ۔ یہ تو شرطِ ایمان ہے اور اس کا نام خَوْفِ عَقْلِی[81] ہے کہ تقاضائے معصیت کے وقت وَعِید اور عذابِ خداوندی کو یاد کر کے سوچ سوچ کے گناہوں سے بچا جائے ۔
یہ درجہ فرض ہے اس کے فِقْدَان[82] سے گناہ ہو گا اور یہی حق تعالیٰ کا خوف جملہ[83] نیک کاموں میں رغبت کرنے اور تمام گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ہے ۔ خوف کرنے والوں کی شان میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت، رحمت، علم اور رضا کی محمود خصلتیں جمع فرمائی ہیں، جو شخص خدا سے ڈرتا ہے اس سے ہر چیز ڈرنے لگتی ہے ۔
حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں[84]: کسی بندے کو دو خوف نصیب نہ ہوں گے، یعنی جو بندہ دنیا میں خدا تعالیٰ کا خوف رکھے گا وہ آخرت میں بے خوف ہو گا اور جو دنیا میں نڈر رہا اس کو آخرت میں امن و اطمینان نصیب نہ ہو گا ۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا [85]کہ قیامت کے دن ہر آنکھ روتی ہوگی بجز [86]اس آنکھ کے جو اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیز کے دیکھنے سے روکی گئی اور وہ آنکھ جس نے اللہ کے راستے میں پہرہ دیا اور وہ آنکھ جس میں خوفِ الٰہی کی وجہ سے مکھی کے سر کے برابر آنسو نکل آیا ۔
نیز مِشْکٰوۃ شریف کی ایک حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر دوزخ کی آگ حرام کر دیتا ہے [87]۔
ایک دوسری روایت[88] میں ہے کہ خدا وند تعالیٰ قیامت کے دن فرشتوں سے فرمائے گا کہ آگ میں سے اس شخص کو نکال دو جو کسی مقام پر مجھ سے ڈرا ہے ۔ الغرض خَشْیَت[89] مومن کے لیے لازم ہے اور اس کی دو وجہ ہیں؛ ایک تو مال میں اِحْتِمَال[90] کہ شاید کوئی اِختیاری کوتاہی ہو جائے، دوسرے یہ کہ شاید کوئی اختیاری کوتاہی فی الحال ہو گئی ہو جس کا علم بھی اِلْتِفَات[91] سے ہو سکتا تھا اور التفات میں کوتاہی ہوئی کہ یہ بھی اختیاری ہے ۔ دیکھو ڈاکو سزا کے خوف سے ڈاکہ نہیں ڈالتا، بچہ پٹنے کے خوف سے شرارت سے رکتا ہے، جرمانے کے خوف سے لوگ جبراً جرائم سے باز رہتے ہیں، آدمی سُبکی[92] کے خوف سے محفل میں تہذیب سے بیٹھتا ہے ۔
خوف ہی تو اٹھ جاتا ہے جو ملک میں امن نہیں رہتا، گویا کہ خوف جملہ برائیوں کی جڑ کاٹنے والا ہے اور خوف ہی جملہ طاعات کا ذریعہ ہے ۔
طَرِیْقِ تَحْصِیْلِ خَوْف: اللہ تعالیٰ کے قہر[93] و عذاب کو یاد کیا کرے اور سوچا کرے ۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :
﴿لَا تَقۡنَطُوا۟ مِن رَّحۡمَةِ ٱللَّهِۚ ﴾ [الزمر ٥٣]
یعنی اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو ۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ مِنْ جَنَّتِهِ أَحَدٌ" ۔ (متفق علیہ)[95]
یعنی اگر کافر بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا حال جانے تو اس کی جنت سے نا امید نہ ہو ۔
رَجَا کی حَقِیْقَت: محبوب چیزوں یعنی فضل و مغفرت اور نعمت و جنت کے انتظار میں قلب کو راحت پیدا ہونا اور ان چیزوں کے حاصل کرنے کی تدبیر اور کوشش کرنا رَجَا ہے ۔
تَشْرِیْح: لہٰذا جو شخص رحمت اور جنت کا منتظر رہے اور اس کے حاصل کرنے کے اسباب یعنی عملِ صالح، توبہ وغیرہ کو اختیار نہ کرے اس کو مقامِ رَجَا حاصل نہیں وہ دھوکے میں ہے جیسا کہ کوئی شخص تُخْم پاشی[96] نہ کرے اور غَلّہ پیدا ہونے کا منتظر رہے کہ محض ہَوَسِ خَام[97] ہے ۔
طَرِیْقِ تَحْصِیْلِ رَجَا: اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عنایت[98] کو یاد کرے اور سوچا کرے ۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :
﴿لِّكَیۡلَا تَأۡسَوۡا۟ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُوا۟ بِمَاۤ ءَاتَىٰكُمۡۗ ﴾ [الحديد ٢٣]
یعنی تاکہ فوت شدہ چیز پر افسوس نہ کرو اور جو تم کو دیا ہے اس پر خوشی سے اترا نہ جاؤ ۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:
"اَوَّلُ صَلَاحِ ہٰذِہِ الْاُمَّۃِ الْیَقِیْنُ وَالزُّہْدُ وَاَوَّلُ فَسَادِھَا الْبُخْلُ وَالْاَمَلُ" (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)۔[100]
یعنی اول بہتری اس امت کی یقین اور زہد ہے اور اول بگاڑ اس امت کا بخل اور طولِ امل[101] ہے ۔
کسی رغبت کی چیز کو چھوڑ کر اس سے بہتر چیز کی طرف مائل ہونا زُہد ہے ۔ مثلاً دنیا کی رغبت علیحدہ کر کے آخرت کی رغبت کرنا زہد ہے ۔
زہد کی اصل وہ نور اور علم ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے قلب میں ڈالا جاتا ہے جس کی وجہ سے سینہ کھل جاتا ہے اور یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا کا ساز و سامان مکھی کے پر سے بھی زیادہ حقیر ہے اور آخرت ہی بہتر اور پائیدار ہے ۔ جس وقت یہ نور حاصل ہو جاتا ہے تو اس حقارتِ دنیا کی آخرت کے مقابلے میں اتنی بھی وقعت نہیں رہتی جتنی کہ بیش قیمت جواہر کے مقابلے میں پھٹے پرانے چیتھڑے کی ہوا کرتی ہے ۔
اور زہد کا ثمرہ یہ ہے کہ بقدرِ ضرورت و کفایت دنیا پر قناعت حاصل ہو جائے، پس زاہد اتنی مقدار پر کفایت کیا کرتا ہے جتنا کہ مسافر کو سفر کا توشہ اپنے پاس رکھنا ضروری ہوتا ہے ۔ نیز زہد ترکِ لذات کا نام نہیں بلکہ محض تَقْلِیْلِ لذات[102] زہد کے لئے کافی ہے یعنی لذات میں اِنْہِمَاک[103] نہ ہو، نفیس نفیس کھانوں اور کپڑوں کے فکر میں رہنا زہد کے منافی[104] ہے ورنہ بلا تکلف[105] و بلا اہتمامِ خاص کے لذات میسر ہو جائیں تو حق تعالیٰ کی نعمت ہیں۔ شکر کرنا چاہیے۔ نفس کو خوب آرام سے رکھے اور اس سے کام بھی لے کہ:
مزدور خوش دل کُند کارِ بیش
یعنی خوش دل مزدور کام زیادہ کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جن کی نظر اللہ پر ہے اُن کی نظر میں سونا چاندی تو کیا دنیا و ما فیہا بھی کچھ نہیں ۔ حضور ﷺ نے اپنے، اور اپنے جگر گوشوں[106] اور خاص لوگوں کے لئے دنیا کو پسند نہیں فرمایا[107] لہذا مخلوق کے ہاتھ میں جو کچھ ہے متاعِ دنیا ہے ۔ سب سے اُمید قطع[108] کر دی جائے۔ جو شخص ایسا کرے گا راحت میں رہے گا، کیوں کہ زہد سے قلب اور بدن دونوں کو راحت حاصل ہوتی ہے ۔
طَرِیْقِ تَحْصِیْلِ زُہْد: دنیا کے عیوب اور مَضَرَّتوں[109] اور فنا ہونے کو اور آخرت کے منافع اور بقا کو یاد کرے اور سوچا کرے ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
﴿إِذۡ هَمَّت طَّاۤىِٕفَتَانِ مِنكُمۡ أَن تَفۡشَلَا وَٱللَّهُ وَلِیُّهُمَاۗ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡیَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ﴾ [آل عمران ١٢٢]
یعنی اور چاہیے کہ ایمان والے اللہ ہی پر توکل[110] کریں ۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
"إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ" (رواہ الترمذی) ۔[111]
یعنی اور جب کچھ مانگو تو اللہ ہی سے مانگو اور جب مدد چاہو تو اللہ تعالیٰ ہی سے مدد چاہو ۔
صرف وکیل یعنی کارساز[112] پر قلب کا اعتماد کرنا حقیقتِ توکل ہے ۔
توکل کی حقیقت وہی ہے جو توکِیل یعنی وکیل بنانے کی ہے ۔ وکیل بنانے کا خلاصہ یہ ہے کہ جس کام کو خود نہیں سمجھ سکتے اس کو دوسروں کے سپرد کر دیا جاتا ہے کہ اُس کے بتلانے کے موافق کرتا رہے ۔ لہٰذا دین میں توکل یہی ہے کہ خدا کے سپرد کام کر کے تدبیر کریں اور جو وہ بتلائیں کرتے جائیں یعنی شریعت کے اصول کو پیش نظر رکھ کر ہر کام میں اسباب کے ماتحت[113] کوشش کریں ۔
توکل کے تین رکن ہیں: اول، مَعْرِفَت۔ دوم، حَالَت۔ سوم، اَعْمَال ۔ اب ان تینوں کو الگ الگ ذکر کیا جاتا ہے۔
رکنِ اول مَعْرِفَت ہے ۔ یعنی توحیدِ حق جس کا اقرار کلمۂ توحید سے ہوتا ہے کہ سوائے خدا کے کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کا ملک ہے اور اسی کی حمد و ثنا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ اس میں اس مضمون کا اقرار ہے کہ حق تعالیٰ قدرت اور وجود اور حکمت میں وہ کمال رکھتا ہے جس کی وجہ سے حمد کا مستحق ہے ۔ پس جس نے صدق اور اخلاص کے ساتھ اس کا اقرار کر لیا اس کے قلب میں اصلِ ایمان راسخ[114] ہو گیا اور اب توکل کی حالت ضرور پیدا ہو گی بشرطیکہ صدقِ دل سے اقرار کیا ہو ۔ اور صدقِ دل کے یہ معنی ہیں کہ اقرار کے معنی قلب پر ایسے غالب آجائیں کہ دوسرے کی اس میں گنجائش نہ رہے ۔
دوسرا رکن حَالِ تَوَکُّل ہے، اس کے یہ معنی ہیں کہ اپنا کام خدا کے حوالے کر دے اور قلب کو مطمئن رکھے کہ غیر اللہ کی طرف اِلْتِفَات[115] بھی نہ کرے ۔ یعنی ایسا ہو جائے جیسا کہ کسی ہوشیار اور شفیق و غم خوار وکیلِ عدالت کو اپنے مقدمے میں وکیل بنا کر مطمئن اور بے فکر ہو جایا کرتے ہیں کہ پھر کسی دوسرے کی جانب دل ڈانواں ڈول نہیں ہوتا کیوں کہ سمجھتے ہو کہ تمہارا وکیل ہر طرح عقل مند اور تمہارا خیر خواہ ہے ۔
پس تمہارے حَرِیْف[116] کو کبھی تم پر غلبہ نہ پانے دے گا اور مخالف سے اس کے سامنے بات ہی نہ کی جاوے گی ۔ اسی طرح جب جانتے ہو کہ رِزق اور موت و حیات اور مخلوق کے چھوٹے بڑے سارے کام خدا ہی کے قبضہ میں ہیں ۔ کوئی اس کا شریک نہیں نہ اس کی جُود و سَخَا[117] اور حکمت و رحمت کی انتہا ہے ۔ پھر وجہ کیا کہ اپنے قلب کو مطمئن نہ بنائیں ۔
تیسرا رکن اَعْمَال ہیں، جاہلوں کا خیال ہے کہ توکل تو محنت و مزدوری اور کَسْب[118] کو چھوڑ دینے کا نام ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بے کار بن کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ اگر بیمار ہو تو علاج نہ کرے بے سوچے سمجھے اپنے آپ کو خطرات اور ہلاکت میں ڈال دیا کرے کہ کہیں آگ میں گھس جائے اور کہیں شیر کے منہ میں ہاتھ دیدے تب مُتَوَکِّل[119] کہلایا جائے حالانکہ یہ خیال بالکل غلط ہے، کیوں کہ ایسا کرنا شرعاً حرام ہے اور شریعت ہی توکل کی خوبیاں بیان کر رہی ہے ۔
پھر بھلا جس بات کو شریعت خود حرام بتلائے اُسی کی رغبت اور حرص دلائے یہ کیوں کر ہو سکتا ہے ۔
طَرِیْقِ تَحْصِیْلِ تَوَکُّل: اللہ تعالیٰ کی عنایتوں اور وعدوں اور اپنی گذشتہ کامیابیوں کو یاد کرنا اور سوچنا ۔
حَقِیْقَتِ قَنَاعَت: (دنیا کی حرص کو) ترک کرنا ۔
طَرِیْقِ تَحْصِیْلِ قَنَاعَت: مُرَاقَبَۂ فَنَائے عَالَم[121] (دنیا کے مٹ جانے کا دھیان کرنا) ۔
حَقِیْقَتِ حِلْم: نفس کا ناگوار بات پر بھڑکنے سے روکنا ۔
طَرِیْقِ تَحْصِیْلِ حِلْم: غصہ کو زائل کرنا، اور غصہ کے علاج کو بار بار سوچنا جو کہ اخلاقِ رذیلہ کے بیان میں آرہا ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱصۡبِرُوا۟ ۟ ﴾ [آل عمران ٢٠٠]
یعنی اے ایمان والو! صبر کرو ۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
"عَجَبًا لِّاَمْرِ الْمُؤْمِنِ اِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِاَحَدٍ اِلَّا لِلْمُؤْمِنِ اِنْ اَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ وَ اِنْ اَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ" (رواہ مسلم) ۔[123]
یعنی مومن پر تعجب ہے کہ اس کی ہر بات بہتر ہے اور یہ کسی کو میسر نہیں مگر مومن ہی کو؛ اگر اس کو خوشی پہنچے، شکر کیا اور اگر اس کو سختی پہنچے صبر کیا، پس اس کے لئے بہتر ہے ۔
انسان کے اندر دو قوتیں ہیں ایک دِین پر ابھارتی ہے (محرکِ دینی) دوسری ہوائے نفسانی[124] پر، سو محرکِ دینی[125] کو محرکِ ہوا پر غالب کر دینا صبر ہے ۔ اور اس کی حقیقت ہے "جَبْسُ النَّفْسِ عَلٰی مَا تَكْرَہُ" یعنی ناگوار بات پر نفس کو جمانا اور مستقل رکھنا، آپے سے باہر نہ ہونا ۔
صبر کی تین قسمیں ہیں: اول، صَبْر عَلَی الْعَمَل، یعنی عمل کی پابندی پر صبر۔ دوم، صَبْر فِی الْعَمَل، یعنی کسی عمل کے کرتے وقت صبر۔ سوم، صَبْر عَنِ الْعَمَل، یعنی کسی عمل کے نہ کرنے پر صبر ۔
صبر علی العمل یہ ہے کہ نفس کو کسی کام پر روک لینا یعنی اس پر جم جانا اور قائم رہنا ۔ مثلاً نماز، زکوٰۃ وغیرہ کی پابندی کرنا، اور بلا ناغہ ان کو ادا کرتے رہنا ۔
اور صبر فی العمل یہ ہے کہ عمل کے وقت نفس کو دوسری طرف اِلْتِفَات کرنے سے روکنا ۔ طاعات بجا لانے کے وقت ان کے ارکان کو مع آداب کے اطمینان سے ادا کرنا اور ہمہ تن[126] متوجہ ہو کر کام کو بجا لانا، مثلاً نماز پڑھنے کھڑے ہوئے یا ذکر میں مشغول ہوئے تو نفس کو یہ سمجھا دیا کہ تم اتنی دیر تک سوائے نماز یا ذکر کے اور کوئی کام نہیں کر سکتے، پھر دوسرے کاموں کی طرف توجہ کرنا فضول ہے ۔ اتنی دیر تک تجھ کو نماز یا ذکر ہی کی طرف متوجہ رہنا چاہیے ۔
تیسری قسم ہے صَبْر عَنِ الْعَمَل یعنی نفس کو اللہ تعالیٰ کی منع کی ہوئی باتوں سے روکنا ۔ نیز حالات دو قسم کے ہوتے ہیں: نعمت اور مصیبت ۔ نعمت سے مَسَرَّت ہوتی ہے اور مسرت کی وجہ سے مُنْعِم[127] کے ساتھ محبت ہو جاتی ہے ۔ بخلاف مصیبت کے کہ اس میں ناگواری ہوتی ہے اور صبر کا موقع مصیبت ہے اور مصیبت کہتے ہیں اس حالت کو جو نفس کو ناگوار ہو ۔
اس کی دو قسمیں ہیں: ایک صُوْرَتِ مصیبت دوسری حَقِیْقَتِ مصیبت۔ جس سے اِنْقِبَاض[128] اور پریشانی بڑھے وہ تو گناہوں کی وجہ سے ہے اور حقیقتِ مصیبت ہے اور جس سے تعلق مع اللہ میں ترقی ہو، تسلیم و رضا زیادہ ہو، وہ حقیقت میں مصیبت نہیں، گو صورت مصیبت کی ہے ۔ عَارِفِیْن[129] کو مصیبت کا احساس تو ہوتا ہے بلکہ بوجہ اِدْرَاکِ لَطِیْف[130] ہونے کے دوسروں سے زیادہ احساس ہوتا ہے ۔ مگر اُن کا رنج و غم حد سے نہیں بڑھتا کیوں کہ اس میں ان کی نظر اللہ تعالیٰ پر ہوتی ہے ۔
مصائب سے بہت سے گناہوں کا کَفَّارَہ [131]ہو جاتا ہے ۔ بعض دفعہ حق تعالیٰ اپنے بندے کو خاص درجہ اور مرتبہ عطا فرمانا چاہتے ہیں جس کو وہ اپنے عمل سے حاصل نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ اس کو کسی مصیبت یا مرض میں مبتلا کر دیتے ہیں جس سے وہ اس درجہ عَالِیَہ[132] کو پا لیتا ہے ۔ حدیثِ شریف میں آیا ہے کہ قیامت میں اہل مصائب کو دیکھ کر اہل نعمت کہیں گے کہ کاش ہماری کھالیں دنیا میں قینچیوں سے کاٹی گئی ہوتیں ۔تاکہ آج ہم کو بھی یہ درجات ملتے جو اہل مصائب کو عطا کئے گئے ہیں ۔
نیز حدیثِ شریف میں ہے جو شخص اپنا اِنْتِقَام[133] خود لے لیتا ہے تو حق تعالیٰ معاملہ اسی کے سپرد کر دیتے ہیں اور جو صبر کرتا ہے اس کی طرف سے حق تعالیٰ انتقام لے لیتے ہیں ۔ کبھی دنیا میں مزہ چکھا دیتے ہیں اور کبھی آخرت پر پوری سزا کو مُلْتَوِی[134] رکھتے ہیں، حق تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ٱلَّذِینَ إِذَاۤ أَصَـٰبَتۡهُم مُّصِیبَةࣱ قَالُوۤا۟ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّاۤ إِلَیۡهِ رَ ٰجِعُونَ﴾ [البقرة ١٥٦]
مطلب یہ ہے کہ مصیبت اور غم کے وقت زبان کو "اِنَّا لِلّٰہِ" کے وِرْد میں مشغول کیا جائے اور دل کو اس کے معنی کے تصور میں کہ ہم اللہ تعالیٰ ہی کی مِلک ہیں اور مالک کو ہر قسم کے تَصَرُّف[135] کا اپنے مَمْلُوْک[136] میں اختیار ہے، غلام کو چاہیے کہ مالک کے تصرف پر راضی رہے اسلئے اس موقع پر تصرفِ حق پر راضی رہنا چاہیئے ۔
مصیبت کے وقت اول تو اپنے گناہوں کو یاد کریں تاکہ اپنی خطاؤں کا اِسْتِحْضَار[137] ہو کر مصیبت سے پریشان نہ ہو، کیوں کہ اپنی خطاؤں پر جو سزا ہوتی ہے اس سے دوسرے کی شکایت نہیں ہوتی بلکہ انسان خود نادم[138] ہوتا ہے کہ میں اسی قابل تھا، پھر اجر کو یاد کریں کہ اللہ تعالیٰ نے مصیبت کا بہت ثواب رکھا ہے یاد کر کے غم کو ہلکا کریں اور مصیبت میں ثابت قدم رہیں خدا تعالیٰ کی شکایت نہ کریں، کوئی بات ایمان اور اسلام کے خلاف زبان و دل پر نہ آئے اور یہ مت سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہو گئے ہیں کیوں کہ یہ خیال خطرناک ہے ۔ اس سے تعلق ضعیف ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ زائل ہو جاتا ہے ۔
مصائب کو سزا سمجھیں یا آزمائش سمجھیں اور اس کے ثواب کو یاد کریں ۔ شریعت نے مصیبت کے وقت صبر و تحمل کی تعلیم دی ہے۔ اسی پر کار بند رہیں ۔ اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ ہر مصیبت پر نِعْمَ الْبَدَل[139] ملتا ہے اس میں نفع ضرور ہو گا۔ آخرت میں بھی اور دنیا میں بھی، اگر چہ دنیوی نفع ابھی سمجھ میں نہ آوے ۔
طَرِیْقِ تَحْصِیْلِ صَبْر: قُوَّتِ ہَوٰی[140] یعنی خواہشات و جذباتِ نفسانی کو ضعیف و کمزور کرنا ۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿ وَٱشۡكُرُوا۟ لِی ﴾ [البقرة ١٥٢]
اور میرا شکر کرو ۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اِنْ اَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ" (رواہ مسلم)[141]
یعنی اگر اس کو خوشی پہنچی شکر کیا ۔
شُکْر کی حَقِیْقَت: نعمت کو مُنْعِمِ حقیقی[142] کی طرف سے سمجھنا جس کا اثر منعم سے خوش ہونا اور تعمیلِ حکم[143] میں سرگرمی کرنا ہے ۔
تَشْرِیْح: نعمت کو منعمِ حقیقی کی رو سے سمجھنے سے دو باتیں ضرور ہوتی ہیں ۔ ایک منعم سے خوش ہونا اور دوسرے اس کی خدمت گزاری اور اِمْتِثَالِ اَوَامِر[144] میں سرگرمی کرنا یعنی جو حالت طبعیت کے موافق ہو خواہ اختیاری ہو خواہ غیر اختیاری ہو، اس حالت کو دل سے خدا تعالیٰ کی نعمت سمجھنا اور اس پر خوش ہونا اور اپنی لیاقت [145]سے اس کو زیادہ سمجھنا اور زبان سے خدا تعالیٰ کی تعریف کرنا اور اس نعمت کا جَوَارِح[146] یعنی اعضاء سے گناہوں میں استعمال نہ کرنا بلکہ اس نعمت کو اس کی رضا مندی میں استعمال کرنا شکر ہے اور یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب کہ مخلوق کی پیدائش کے اغراض و مقاصد اور یہ بات معلوم ہو جائے کہ کیا کیا چیز کس کس کام کیلئے پیدا ہوئی ہے۔
مثلاً آنکھ اللہ کی ایک نعمت ہے اس کا شکریہ یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی قرآن مجید اور علمِ دین کی کتابوں کے پڑھنے اور آسمان و زمین جیسی بڑی مخلوقات کا اس غرض سے مشاہدہ کرنے میں صرف کرے کہ عبرت حاصل ہو اور خالقِ برتر کی عظمت و کبریائی سے آگاہی ہو نیز سَتَر کے دیکھنے اور غیر عورت پر نظر ڈالنے سے اور دیگر ممنوعات سے روکے رکھے۔ اسی طرح کان ایک نعمت ہے اس کا شکریہ یہ ہے کہ اس کو ذکرِ الٰہی اور ان باتوں کے سننے میں استعمال کرے جو آخرت میں نفع دیں اور ہَجو[147] اور لغو [148]اور فضول کلام سننے سے روکے۔ زبان کو یادِ خدا، حمد و ثناء اور اظہارِ شکر میں مشغول رکھے اور تنگی و دستی[149] یا تکلیف میں شکوہ و شکایت سے باز رکھے کہ اگر کوئی حال بھی پوچھے تو شکایت کا کلمہ زبان سے نہ نکلنے پائے، کیوں کہ شہنشاہ کی شکایت ایسے ذلیل اور بے بس غلام کے سامنے زبان سے نکالنی جو کچھ بھی نہیں کر سکتا بالکل فضول اور معصیت میں داخل ہے اور اگر شکر کا کلمہ نکل گیا تو طاعت میں شمار ہوگا صرف زبانی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا جب کہ دل میں مُنْعِم اور نعمت کی قدر نہ ہو محض درجہ عُنوان میں ہے یہ چھلکا ہے جس میں گِری نہیں، یعنی محض الفاظِ شکر ہیں، معنیٰ شکر نہیں اور جب معنیٰ شکر نہیں تو اس کی مثال بادام کے نرے چھلکے جیسی ہے جس میں گری نہ ہو کہ محض چھلکے کو بادام نہ کہیں گے۔
اسی طرح ہر عمل کا ایک مَغْز اور رُوح ہے اور ایک پُوْست اور صُورت ہے۔ پس شکر کی رُوح یہ ہے کہ مُنْعِم[150] اور نعمت کی دل سے قدر ہو۔ ابتدائی درجہ شکر تو مَرتبۂ عَقلی ہے کہ حق تعالیٰ کو مُنْعِمِ حقیقی جانے اور عقلاً اس کی قدر پہچانے اور انتہائی مرتبہ یہ ہے کہ اس کا اثر طَبع اور جَوارِح اور حَرکات و سَکَنات میں نمایاں ہو یعنی تمام اِعتقادات، عبادات، معاملات، اخلاق و معاشرت وغیرہ شریعت کے مطابق ہوں۔
طَرِیْقِ تَحْصِیْلِ شُکْر: حق تعالیٰ کی نعمتوں کو سوچنا اور یاد کرنا اور ہر نعمت کو اس کی طرف سے جاننا، اس سے رفتہ رفتہ حق تعالیٰ کی محبت ہوگی اور شکر کا درجہ کاملہ نصیب ہو جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
﴿إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ثُمَّ لَمۡ یَرۡتَابُوا۟ وَجَـٰهَدُوا۟ بِأَمۡوَ ٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِۚ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ هُمُ ٱلصَّـٰدِقُونَ﴾ [الحجرات ١٥]
یعنی مومن تو وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، پھر کچھ تَرَدُّد[151] نہیں کیا اور اپنی جان و مال سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا، یہی لوگ پورے سچے ہیں۔
اور حدیثِ شریف میں ہے:۔
مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ وَهُوَ يَلْعَنُ بَعْضَ رَقِیْقِہِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَعَّانِيْنَ وَصِدِّیْقِیْنَ كَلَّا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ (رواہ البیهقی فی شعب الایمان)۔[152]
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر گزر ہوا وہ اپنے کسی غلام پر لعنت کر رہے تھے آپ اُن کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ صِدِّیق[153] اور پھر لعنت کرنے والے، ہرگز نہیں (دونوں جمع نہیں ہو سکتے)۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب ایسا نہ کروں گا۔
جس مقام کو حاصل کرے کمال کو پہنچا دے کہ اس میں کسر نہ رہے۔
صِدق کے معنی پختگی کے ہیں اور اسی لیے ولیِ کامل کو صِدِّیق کہا جاتا ہے، کیوں کہ وہ تمام احوال و افعال[154] و اقوال میں مرتبۂ رُسُوْخ[155] حاصل کر چکا ہے شریعت میں صِدق عام ہے افعال کو بھی، اقوال کو بھی، احوال کو بھی، اقوال کا صدق تو یہ ہے کہ بات پکی اور سچی ہو یعنی واقعہ کے مطابق ہو، جو شخص اس صفت سے موصوف ہو اس کو صَادِقُ الْاَقْوَال[156] کہتے ہیں۔ اور افعال کا صِدق یہ ہے کہ ہر فعل مطابقِ امر ہو، حکمِ شرعی کے خلاف نہ ہو، پس جس شخص کے افعال ہمیشہ شریعت کے موافق ہوں اس کو صَادِقُ الْاَفْعَال[157] کہا جاتا ہے۔ اور احوال کا صِدق یہ ہے کہ احوال سنت کے مطابق ہوں، پس جو احوال خلافِ سنت ہیں وہ احوالِ کاذِبَہ[158] ہیں اور جس شخص کے احوال و کیفیات سنت کے مطابق ہوتے ہیں اس کو صَادِقُ الْاَحْوَال[159] کہتے ہیں۔
نیز صدقِ احوال میں یہ بھی ہے کہ وہ احوال ایسے ہوں جن کا اثر صاحبِ حال پر باقی رہے، یہ نہ ہو کہ آج ایک حالت پیدا ہوئی، پھر زائل ہوگئی اور اس کا کچھ بھی اثر باقی نہ رہا۔ یہ مطلب نہیں کہ احوال کا غلبہ ہمیشہ رہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کا اثر ہمیشہ رہنا چاہیے، کہ جو حالت طاری ہو وہ مقام ہو جائے، خلاصہ یہ ہے کہ جس طاعت کا ارادہ ہوا اس میں کمال کا درجہ اختیار کیا جائے۔ مثلاً نماز کو اس طرح پڑھنا کہ جس کو شریعت نے صَلٰوۃِ کَامِلَہ[160] کہا ہے یعنی اس کو مع آدابِ ظاہر و باطنہ کے ادا کرنا، اسی طرح تمام طاعات میں جو درجۂ کمال کا شریعت نے بتلایا ہے اس کا اختیار کرنا صِدق ہے۔
صِدق مَابِہِ الْکَمَال[161] کے جاننے پر موقوف ہے، لہٰذا ہمیشہ نگراں رہے اگر کچھ کمی ہو جائے اس کا تدارک[162] کرے۔ اسی طرح چند روز میں کمال حاصل ہو جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
﴿ وَأُفَوِّضُ أَمۡرِیۤ إِلَى ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بَصِیرُۢ بِٱلۡعِبَادِ ﴾ [غافر ٤٤-٤٥]
یعنی اور میں اپنا معاملہ حق تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں، خدا تعالیٰ سب بندوں کا نگراں ہے ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:
إِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَكَ بِالْمَسَاءِ وَإِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تُحَدِّتْ نَفْسَكَ بِالصَّبَاحِ [164]
مطلب یہ ہے کہ جب صبح کرو تو شام کے متعلق اپنے دل میں خیال نہ لاؤ اور جب شام کرو تو صبح کے متعلق اپنے دل میں خیال نہ لاؤ ۔
حَقِیْقَتِ تَفْوِیْض: اپنے کو خدا کے سپرد کر دینا کہ جو وہ چاہیں تصرف[165] کریں، اپنے لیے کوئی حالت تجویز نہ کرنا ۔ یعنی خدا کے سوائے کسی پر نظر نہ رکھے، تدبیر کرے اور نتیجے کو خدا کے سپرد کر دے ۔
تَشْرِیْح:-
تفویض کے معنی اَتْرَکِ تَدْبِیْر (تدبیر چھوڑنا) نہیں بلکہ اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی پر نظر نہ رکھیں، تدبیر کرے اور تدبیر کے نتیجہ کو خدا تعالیٰ کے سپرد کرے ۔ اور جن امور میں تدبیر کا کچھ تعلق و دخل نہیں ان میں تو ابتدا ہی سے تفویض و تسلیم[166] اختیار کرے، اپنی طرف سے کوئی حالت یا نظام تجویز نہ کرے ۔
تَجْوِیْز[167] ہی تمام پریشانیوں کا سبب ہے کہ ہم نے ہر چیز کا ایک نظامِ خاص اپنے ذہن میں قائم کر رکھا ہے کہ یہ کام اس طرح ہونا چاہیے، پھر اس نظام کے خلاف واقع ہونے سے کُلْفَت[168] ہوتی ہے ۔ اور زیادہ حصہ اس نظام کا جو ہماری طرف سے تجویز ہوتا ہے غَیر اِختِیَاری[169] ہوتا ہے، تو غیر اختیاری امور کے لیے نظام تجویز کرنا حَمَاقَت نہیں تو کیا ہے ۔
اسی لیے اَہلِ اللہ نے تجویز قطع کر کے یہ مذہب اختیار کر لیا ہے ۔
زِندہ کُنی عطائی تو دَر یَکشی فِدائے تو دِل شُدہ مُبتلائے تو ہَر چہ کُنی رَضا تو
یعنی زندہ کریں تو آپ کی عطا ہے اور اگر موت دیں تو بھی آپ پر فدا ہوں، چونکہ جب دل ہی آپ پر آگیا ہے تو اب جو بھی آپ کی مرضی ہو تسلیم ہے ۔
اَلغَرَض اپنی تجویز کو دخل نہ دے، اسی طرح تربیت کے سلسلہ میں بھی اپنی تربیت کو خدا کے سپرد کرے کہ جس طرح چاہے وہ تربیت کرے، حالات و کیفیات عطا کریں یا سب کو سَلْب کریں، اپنی تجویز کو خدا تعالیٰ کی تجویز میں فنا کر دیں یعنی کامل عَبْدِیَّت[170] اختیار کریں ۔
طَرِیْقِ تَحْصِیْل: تو فوراً یہ سوچے کہ یہ حق تعالیٰ کا تَصَرُّف ہے جس میں حِکمت ضرور ہے اور مصلحت ہے ۔ ابتدا میں تَکَلُّف[171] سے یہ بات حاصل ہوگی، پھر سوچتے رہنے سے تجویز کو فنا کرنا پڑتا ہے اور پھر یہ پھر یہ حالت اہل اللہ کے لئے طَبْعِی بن جاتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿ رَّضِیَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوا۟ عَنۡهُۚ ۥ﴾ [البينة ٨]
یعنی اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے ۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ رَضَاهُ بِمَا قَضَى اللهُ لَهُ" (رواہ الترمذی واحمد)۔[172]
یعنی آدمی کی سعادت[173] سے ہے راضی رہنا اس پر جو اس کے لئے اللہ نے مقرر کر دیا ہو ۔
رِضا کی حَقِیْقَت: قضا[174] پر اعتراض نہ کرنا نہ زبان سے نہ دل سے ۔
تَشْرِیْح:-
رضا بر قضا کا بعض مرتبہ ایسا غلبہ ہوتا ہے کہ تکلیف بھی محسوس نہیں ہوتی، پس اگر اَلَم (دکھ) کا احساس ہی نہ ہو تو رِضائے طَبْعِی ہے اور اگر الم کا احساس باقی رہے تو رِضائے عَقْلِی[175] ہے ۔ اول (رضائے طبعی) حال ہے جس کا بندہ مُکَلَّف نہیں اور ثانی (رضائے عقلی)[176] مقام ہے جس کا بندہ مکلف ہے ۔
قضا پر راضی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ تکلیف کی صورتوں میں تکلیف تو محسوس ہوتی ہے مگر چونکہ عقل نے اس کے بہتر انجام یعنی ملنے والے ثواب پر مطلع[177] کر دیا ہے اس لیے طبیعت اس تکلیف کو بلا تکلف گوارا کرتی ہے ۔
اس کی مثال ایسی ہے جیسے طَبِیب کسی مریض کو پینے کیلئے تلخ دوا بتائے یا آپریشن کرانے کی ہدایت کرے تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ اس تلخ دوا کا پینا اور آپریشن کرانا تکلیف کی باتیں ہیں مگر چونکہ اس کے ساتھ ہی عمدہ نتیجہ یعنی صحت و تندرستی سے مریض کو آگاہی حاصل ہے لہذا وہ ان تکلیف دہ باتوں کے بتانے والے طبیب سے راضی بلکہ اس کا احسان مند و ممنون[178] رہتا ہے ۔
اسی طرح جو شخص سچے دل سے اس کا یقین کئے ہوئے ہے کہ دنیا کی ہر تکلیف پر حق تعالیٰ کی طرف سے اجر مرحمت ہو گا اور ہر مصیبت و صدمہ پر اس قدر ثواب عطا ہو گا جس کے مقابلہ میں اس عارضی تکلیف کی کچھ حقیقت نہیں ہے تو اس یقین سے وہ ضرور مَسرُور و شَادَاں[179] رہے گا ۔ مولائے حقیقی کی جانب سے جو عطا ہوتا ہے اس وقت کے لیے وہی مناسب ہوتا ہے، اس کے خلاف کی تمنا نہ چاہیے جب اللہ تعالیٰ بظاہر ہمارے نقصانات ہی کو بہتر سمجھ رہے ہیں تو ہم کو اس میں صدمہ کی کون سی بات ہے ۔
جس کو اللہ تعالیٰ نے جیسا بنا دیا ہے اس کے لئے وہی مناسب تھا، گو ہر شخص دوسروں کو دیکھ کر یہ تمنا کرتا ہے کہ میں ایسا ہوتا اور اپنی حالت پر قناعت نہیں ہوتی لیکن غور کر کے دیکھے اور سوچے تو اس کو معلوم ہو گا کہ میرے لیے مناسب حالت وہی ہے جس میں خدا تعالیٰ نے مجھ کو رکھا ہے ۔ البتہ دُعا کرنا خلافِ رضا نہیں ۔ اہل اللہ محض حکم کی وجہ سے اظہارِ عَبْدِیَّت[180] کے لیے دعا کرتے ہیں۔ اس واسطے دعا نہیں کرتے کہ ہم نے جو مانگا ہے ضرور وہی مل جائے، بلکہ ہر حال میں خدا کی رضا پر راضی رہتے ہیں خواہ قبول ہو یا نہ ہو ۔ قبول نہ ہونے سے شَاکی اور تنگ دل نہیں ہوتے ہیں یہی رضا کی علامت ہے ۔
طَرِیْقِ تَحْصِیْلِ رِضا: یہ آثارِ محبت سے ہے اس لیئے اس کے لئے جداگانہ طریق نہیں ہے ۔ محبت کے ساتھ ہی رضا بھی حاصل ہو جاتی ہے ۔
حَقِیْقَتِ فَنَا[181]: اَفْعَالِ ذَمِیمَہ و مَلَکَاتِ رَذِیلہ و رَدِّیَہ کا زائل ہو جانا یعنی معاصی کا ترک اور قلب سے حُبِّ غیر اللہ، حرص، طولِ امل، کبر و عجب، ریا وغیرہ کا نکل جانا اور ملکۂ یادداشت کا راسخ ہو جانا کہ غیر اللہ کے ساتھ تعلقِ عملی نہ رہے ۔
طَرِیْقِ تَحْصِیْلِ فَنَا: مجاہدہ و کثرتِ ذکرِ لسانی و قلبی ہے ۔
حَقِیْقَتِ فَنَاءُ الْفَنَا: اس فنا کا بھی علم بعض اوقات نہیں ہوتا یہ فناءُ الفنا ہے، اس کو بَقَا بھی کہتے ہیں یعنی وہ بے خودی جو فنا کہلاتی تھی جاتی رہی۔ فنائے صفاتِ بَشَرِیَہ کو قربِ نوافل و فنائے ذات کو قربِ فرائض بھی کہتے ہیں یعنی جیسا التفات اور استحضارِ غیر کا پہلے تھا وہ نہ رہا۔ غیر سے ذَہُول[182] ہو گیا پھر اس میں کسی کو صَحْو[183] بھی ہو جاتا ہے، کسی پر سُکر غالب ہو جاتا ہے کوئی مجذوب محض ہو جاتا ہے ۔ نیز فنا کے اَضداد یعنی افعالِ حَسَنہ کا طبعی بن جانا اور اخلاقِ حمیدہ میں ملکۂ رسوخ ہو جانا اور اسی کو بَقَا[184] بھی کہتے ہیں ۔
طَرِیْقِ تَحْصِیْلِ فَنَاءُ الْفَنَا: ذکر و فکر میں مُدَاوَمَت رکھنا ۔
(تنبیہ) یہاں تک اخلاقِ حمیدہ کا بیان تھا اب اخلاقِ رذیلہ کو بیان کیا جاتا ہے ۔
[1] یہ عقیدہ کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس کا اصل کرنے والا (خالق) اللہ تعالیٰ ہے۔
[2] اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی اصل حقیقت۔
[3] کائنات کا ہر چھوٹا بڑا کام اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کے حکم سے ہوتا ہے
[4] حاصل کرنے کا طریقہ یا راستہ۔
[5] کسی بھی نیک کام کو کرنا اور کسی بھی برے کام سے رکنا صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے ۔
[6] حُنَفَاء: ہر باطل راستے سے ہٹ کر صرف ایک اللہ کی طرف متوجہ ہونے والے۔
[7] إنَّ اللهَ لا يَنظُرُ إلى صُوَرِكُم وأموالِكُم، ولَكِن يَنظُرُ إلى قُلوبِكُم وأعمالِكُم.
الراوي: أبو هريرة • مسلم، صحيح مسلم (٢٥٦٤) • [صحيح] • أخرجه ابن ماجه (٤١٤٣)، وأحمد (١٠٩٦٠)، وابن حبان (٣٩٤) واللفظ لهم۔
[8] ایک خاص پیمانہ؛ مراد بہت تھوڑی سی مقدار (تقریباً آدھا سیر) ۔
[9] نیکیاں یا اچھے کام ۔
[10] کسی خاص ارادے یا نیت کے بغیر ۔
[11] دکھاوے کا نہ ہونا ۔
[12] تَوْبَۂ نَصُوْح: ایسی سچی اور خالص توبہ جس میں گناہ کی طرف لوٹنے کا ارادہ نہ ہو ۔
[13] يا أيُّها النّاسُ توبوا إلى اللهِ؛ فإنِّي أتوبُ في اليَومِ إليه مِئةَ مَرَّةٍ.
الراوي: الأغر المزني أبو مالك • مسلم، صحيح مسلم (٢٧٠٢) • [صحيح] • أخرجه النسائي في ((الكبرى)) (١٠٢٠٧)، والبخاري في ((الأدب المفرد)) (٦٢١) واللفظ لهما، وأحمد (١٧٨٤٧) باختلاف يسير.
[14] دوری (اللہ سے دوری کی حالت) ۔
[15] ہلاک کر دینے والا زہر؛ یہاں گناہ کو روح کے لیے زہر کہا گیا ہے ۔
[16] پختہ اور اٹل ارادہ ۔
[17] غلطی، کوتاہی یا گناہ ۔
[18] کسی نقصان کی تلافی کرنا یا غلطی کی اصلاح کرنا ۔
[19] تباہ کر دینے والا یا ہلاک کرنے والا ۔
[20] کسی نیک کام پر مضبوطی سے جمے رہنا ۔
[21] مدد اور دستگیری ۔
[22] قال اللهُ تعالى: يا ابنَ آدَمَ، إنَّك ما دَعَوْتَني ورَجَوْتَني غَفَرْتُ لك على ما كان منك ولا أُبالي، يا ابنَ آدَمَ، لو بَلَغَتْ ذُنوبُكَ عَنانَ السَّماءِ ثم استَغفَرْتني غَفَرْتُ لك ولا أُبالي، يا ابنَ آدَمَ، إنَّك لو أَتَيْتَني بقُرابِ الأرضِ خَطايا، ثم لَقيتَني لا تُشرِكُ بي شيئًا، لأَتَيْتُكَ بقُرابِها مَغفِرةً.
الراوي: أنس بن مالك • شعيب الأرنؤوط، تخريج رياض الصالحين (١٨٧٨) • قوي • أخرجه الترمذي (٣٥٤٠) باختلاف يسير، وأحمد (١٣٤٩٣) بمعناه مختصراً۔
[23] التائبُ من الذنبِ كمن لا ذنبَ لهُ [الراوي: عبدالله بن مسعود • الألباني، صحيح ابن ماجه (٣٤٤٦) • حسن • أخرجه ابن ماجة(٤٢٥٠ )،والطبراني في ((المعجم الكبير)) (١٠٢٨١ )، والقضاعي في ((مسند الشهاب)) (١٠٨ )۔]
[24] إِنَّي لأستغفرُ اللهَ في اليومِ سبعينَ مرَّةً | الراوي: أبو هريرة • الألباني، صحيح الجامع (٢٤٨٣) • صحيح • أخرجه الترمذي (٣٢٥٩) واللفظ له بزيادة في أوله، وأخرجه البخاري (٦٣٠٧) مطولاً باختلاف يسير
إنِّي لأستغفرُ اللهَ وأتوبُ إليهِ في اليومِ مائةَ مرةٍ | الراوي: أبو هريرة • الألباني، صحيح ابن ماجه (٣٠٩١) • حسن صحيح • أخرجه ابن ماجة (٣٨١٥)، وأحمد (٩٨٠٧)، والنسائي في ((الكبرى)) (١٠١٩٥) واللفظ لهم.
[25] یہ عقیدہ کہ انبیاء کرام گناہوں سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں ۔
[26] وہ بات جو سب کے نزدیک تسلیم شدہ اور متفقہ ہو ۔
[27] مضبوط اور اٹل ارادہ ۔
[28] سننا ۔
[29] وہ حقوق یا قرض جو ادا کرنا ضروری ہوں ۔
[30] پردہ یا رکاوٹ؛ یہاں مراد بندے اور اللہ کے درمیان دوری کا احساس ہے ۔
[31] روکنے والا یا رکاوٹ ڈالنے والا ۔
[32] ترتیب وار ہونا یا کسی عمل کے نتیجے میں کسی چیز کا حاصل ہونا ۔
[33] حد سے بڑھ جانا یا مبالغہ کرنا ۔
[34] گناہ (معصیت کی جمع) ۔
[35] میانہ روی اور درمیانی راستہ اختیار کرنا ۔
[36] مختصر یا خلاصہ؛ یعنی تفصیل میں جائے بغیر مجموعی طور پر ۔
[37] اللهُمَّ اغفِرْ لي خَطيئَتي وجَهلي، وإسرافي في أمري، وما أنتَ أعلَمُ به مِنِّي. اللهُمَّ اغفِرْ لي هَزْلي وجِدِّي، وخَطايايَ وعَمْدي، وكُلُّ ذلك عِندي.
الراوي: أبو موسى الأشعري • البخاري، صحيح البخاري (٦٣٩٩) • [صحيح] • أخرجه البخاري (٦٣٩٩)، ومسلم (٢٧١٩)
[38] كان رسولُ اللهِ ﷺ يدعو بهذا الدُّعاءِ: ربِّ اغفِرْ لي خَطِيئتي وجَهْلي وإسرافي في أمري وما أنتَ أعلَمُ به منِّي اللَّهمَّ اغفِرْ لي خطاياي وعَمْدي وجَهْلي وجِدِّي وهَزْلي وكلُّ ذلكَ عندي اللَّهمَّ اغفِرْ لي ما قدَّمْتُ وما أخَّرْتُ وما أسرَرْتُ وما أعلَنْتُ إنَّك أنتَ المُقدِّمُ وأنتَ المُؤخِّرُ وأنتَ على كلِّ شيءٍ قديرٌ
الراوي: أبو موسى الأشعري • شعيب الأرنؤوط، تخريج صحيح ابن حبان (٩٥٧) • إسناد صحيح، على شرطهما • أخرجه البخاري (٦٣٩٨)، ومسلم (٢٧١٩)، والروياني في ((المسند)) (٥١١)، وأبو عوانة (١١٩٠٧) ، وابن حبان (٦٧٣٣) واللفظ لهم.
[39] محبوب (اللہ تعالیٰ) کا دھیان کرنا یا اس کی یاد میں غرق ہونا ۔
[40] پوری توجہ طلب کام؛ یہاں مراد وہ مشغلہ جو اللہ کی یاد سے توجہ ہٹا دے ۔
[41] وہ اصل مقصد جس کے لیے کوئی کام کیا جائے؛ یعنی اصل ہدف ۔
[42] مشہور صوفی بزرگ حضرت ابنِ عربیؒ ۔
[43] اللہ کی طرف سے گناہوں پر دی جانے والی سزا کی خبر ۔
[44] جلن؛ یہاں مراد گناہ پر ہونے والا دلی پچھتاوا اور کڑھن ہے ۔
[45] ﴿یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ مَن یَرۡتَدَّ مِنكُمۡ عَن دِینِهِۦ فَسَوۡفَ یَأۡتِی ٱللَّهُ بِقَوۡمࣲ یُحِبُّهُمۡ وَیُحِبُّونَهُۥۤ أَذِلَّةٍ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِینَ أَعِزَّةٍ عَلَى ٱلۡكَـٰفِرِینَ یُجَـٰهِدُونَ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِ وَلَا یَخَافُونَ لَوۡمَةَ لَاۤىِٕمࣲۚ ذَ ٰلِكَ فَضۡلُ ٱللَّهِ یُؤۡتِیهِ مَن یَشَاۤءُۚ وَٱللَّهُ وَ ٰسِعٌ عَلِیمٌ﴾ [المائدة ٥٤]
[46] ﴿وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن یَتَّخِذُ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَندَادࣰا یُحِبُّونَهُمۡ كَحُبِّ ٱللَّهِۖ وَٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ أَشَدُّ حُبࣰّا لِّلَّهِۗ وَلَوۡ یَرَى ٱلَّذِینَ ظَلَمُوۤا۟ إِذۡ یَرَوۡنَ ٱلۡعَذَابَ أَنَّ ٱلۡقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِیعࣰا وَأَنَّ ٱللَّهَ شَدِیدُ ٱلۡعَذَابِ﴾ [البقرة ١٦٥]
[47] قال اللهُ تعالى: إذا أَحَبَّ عبدي لقائي أحببتُ لقاءَه، وإذا كره لقائي كرهتُ لقاءَه
الراوي: أبو هريرة • الألباني، صحيح الجامع (٤٣٠٣) • صحيح • أخرجه البخاري (٧٥٠٤) واللفظ له، ومسلم (٢٦٨٥)، ، والنسائي (١٨٣٥)، ومالك (٨٢١)، وأحمد (٩٤١٠)۔
[48] کسی کی طرف جھکاؤ یا رغبت ہونا ۔
[49] وہ فطری محبت جو انسان کے بس میں نہ ہو، جیسے بھوک لگنے پر کھانے سے محبت ۔
[50] وہ محبت جو سوچ سمجھ کر اور کمالات دیکھ کر اختیار کی جائے ۔
[51] پیدا ہونا اور قائم رہنا ۔
[52] وہ چیز جس کا حکم دیا گیا ہو ۔
[53] برتر، بہتر یا وزن دار ۔
[54] اصل بنیاد یا وجہ ۔
[55] بخشش، عطا اور فضل و کرم ۔
[56] مکمل طور پر؛ جس میں کوئی کمی نہ ہو ۔
[57] اپنی ذات سے؛ یعنی کسی دوسرے سے ادھار نہ لیا گیا ہو ۔
[58] قرآن و حدیث کے قطعی دلائل ۔
[59] وہ چیز جس کی طلب کی گئی ہو یا جس کا حکم ہو ۔
[60] وہ بزرگ جو معرفت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوں ۔
[61] وہ لوگ جو روحانیت میں ابھی ابتدائی درجے پر ہوں ۔
[62] پسندیدہ یا تعریف کے قابل ۔
[63] خالی یا محروم؛ یعنی جس کے دل میں اللہ کی کوئی بھی محبت نہ ہو ۔
[64] وأَسألُكَ لَذَّةَ النَّظرِ إلى وجْهِكَ، وأَسألُكَ الشَّوقَ إلى لِقائِكَ، في غيرِ ضَرّاءَ مُضِرَّةٍ، ولا فِتنةٍ مُضِلَّةٍ.
الراوي: عمار بن ياسر • شعيب الأرنؤوط، تخريج أقاويل الثقات (٧٩) • صحيح • أخرجه النسائي (١٣٠٥)، وأحمد (١٨٣٢٥) باختلاف يسير.
اللهمَّ بعلْمِك الغيبِ، وقدْرتِك على الخلقِ أحْيِني ما علمتَ الحياةَ خيرًا لي، وتوفَّني إذا علِمْتَ الوفاةَ خيرًا لي. اللهمَّ وأسألُك خشيتَك في الغيبِ والشهادةِ، وأسألُك كلمةَ الإخلاصِ في الرضا والغضبِ، وأسألُك القصدَ في الفقرِ والغنى، وأسألُك نعيمًا لا ينفدُ وأسألُك قرةَ عينٍ لا تنقطعُ، وأسألُك الرضا بالقضاءِ، وأسألُك بَرْدَ العيْشِ بعدَ الموتِ، وأسألُك لذَّةَ النظرِ إلى وجهِك، والشوقَ إلى لقائِك، في غيرِ ضرّاءَ مضرةٍ، ولا فتنةٍ مضلَّةٍ. اللهمَّ زيِّنا بزينةِ الإيمانِ، واجعلْنا هداةً مُهتدينَ
الراوي: عمار بن ياسر • الألباني، صحيح الجامع (١٣٠١) • صحيح • أخرجه النسائي (١٣٠٥)، وأحمد (١٨٣٥١) باختلاف يسير.
عن عمّارِ بنِ ياسرٍ أنَّهُ صلّى صلاةً فأوجزَ فيها فأنكَروا ذلك فقالَ ألَم أُتِمَّ الرُّكوعَ والسُّجودَ فقالوا بلى قالَ أما إنِّي دعوتُ فيها بدعاءٍ كانَ رسولُ اللَّهِ ﷺ يدعو بِهِ اللَّهمَّ بعلمِكَ الغيبَ وقدرتِكَ على الخلقِ أحيِني ما علمتَ الحياةَ خيرًا لي وتوفَّني إذا كانتِ الوفاةَ خيرًا لي أسألُكَ خشيتَكَ في الغيبِ والشَّهادةِ وَكلمةَ الحقِّ في الغضبِ والرِّضا والقصدَ في الفقرِ والغِنى ولذَّةَ النَّظرِ إلى وجْهِكَ والشَّوقَ إلى لقائِكَ وأعوذُ بِكَ من ضرّاءَ مضرَّةٍ ومِن فتنةٍ مضلَّةٍ اللَّهمَّ زيِّنّا بزينةِ الإيمانِ واجعلنا هداةً مُهتدينَ
الراوي: عمار بن ياسر • الشوكاني، نيل الأوطار (٢/٣٣٣) • رجال إسناده ثقات • أخرجه النسائي (١٣٠٥)، وأحمد (١٨٣٢٥)، والبزار (١٣٩٣) واللفظ لهم.
[65] اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کا دیدِار ۔
[66] ایک پہلو سے یا ایک لحاظ سے ۔
[67] اللہ کی یاد میں اس طرح ڈوب جانا کہ گرد و پیش کی خبر نہ رہے ۔
[68] اللہ کے قرب کی وہ حالت جس میں دل کو سکون اور اطمینان حاصل ہو جائے ۔
[69] نفس کی پسندیدہ چیزیں یا خواہشات ۔
[70] اللہ کے احکامات پر عمل کرنا اور ان کی پیروی کرنا ۔
[71] نقصان کا باعث یا وجہ بننا ۔
[72] انتہائی خوشی، شادمانی اور دل کا کھل جانا ۔
[73] اللہ کے ساتھ ایسی دلی وابستگی کہ تنہائی میں بھی سکون محسوس ہو ۔
[74] ﴿وَمِنۡ حَیۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۚ وَحَیۡثُ مَا كُنتُمۡ فَوَلُّوا۟ وُجُوهَكُمۡ شَطۡرَهُۥ لِئَلَّا یَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَیۡكُمۡ حُجَّةٌ إِلَّا ٱلَّذِینَ ظَلَمُوا۟ مِنۡهُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَٱخۡشَوۡنِی وَلِأُتِمَّ نِعۡمَتِی عَلَیۡكُمۡ وَلَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ﴾ [البقرة ١٥٠]
[75] من خاف أدلج، ومن أدلج بلغ المنزلَ، ألا إنَّ سِلعةَ اللهِ غاليةٌ، ألا إنَّ سِلعةَ اللهِ الجنَّةُ
الراوي: أبو هريرة • الألباني، السلسلة الصحيحة (٢٣٣٥) • صحيح بمجموع طرقه • أخرجه الترمذي (٢٤٥٠)، وعبد بن حميد في ((المسند)) (١٤٥٨)، وابن أبي الدنيا في ((قصر الأمل)) (١١٥)
من خافَ أدلجَ، ومن أدلجَ بلغ المنزلَ، ألا إنَّ سِلعةَ اللهِ تعالى غاليةٌ، ألا إنَّ سِلعةَ اللهِ الجنةُ، جاءتِ الراجفةُ، تتبعُها الرادفةُ، جاء الموتُ بما فيه
الراوي: أبي بن كعب • الألباني، السلسلة الصحيحة (٩٥٤) • إسناده حسن • أخرجه الترمذي (٢٤٥٧) آخره في أثناء حديث، وأحمد (٢١٢٤١) مختصراً، والحاكم (٧٨٥٢) باختلاف يسير
[76] اَدْلَجَ: رات کے آخری حصے میں سفر کرنا ۔ (استعارہ ہے کہ جو دنیا میں اللہ سے ڈرتا ہے وہ نیکیوں کی تیاری جلدی شروع کر دیتا ہے)۔
[77] قیمتی یا مہنگا۔
[78] کسی بات کا امکان ہونا یا شک و شبہ ہونا ۔
[79] وہ چیز جس کا (شریعت میں) حکم دیا گیا ہو ۔
[80] وہ شخص جس پر شرعی ذمہ داری ڈالی گئی ہو ۔
[81] وہ ڈر جو جذبات کے بجائے عقل اور انجام کو سوچ کر پیدا ہو ۔
[82] کمی، غائب ہونا یا نہ ہونا ۔
[83] تمام یا سارے ۔
[84] قال اللهُ عزَّ وجلَّ: وعِزَّتي وجَلالي، لا أجمَعُ على عَبدي خَوفينِ، ولا أجمَعُ له أمنَينِ؛ إنْ أمِنَني في الدُّنيا أخَفْتُه يومَ القيامةِ، وإنْ خافَني في الدُّنيا، أمَّنْتُه يومَ القيامةِ. ]الراوي: أبو هريرة • شعيب الأرنؤوط، تخريج منهاج القاصدين (٣٠٥) • سنده حسن • أخرجه البزار (٨٠٢٩)، وابن حبان (٦٤٠)، والبيهقي في ((شعب الإيمان)) (٧٧٧)[.
[85] كلُّ عينٍ باكيةٌ يومَ القيامةِ، إلا عَيْنًا غَضَّتْ عن مَحارِمِ اللهِ تعالى، وعَيْنًا سَهِرَتْ في سبيلِ اللهِ تعالى، وعَيْنًا خرج منها مِثْلُ رأسُ الذُّبابِ من خشيةِ اللهِ تعالى ]الراوي: أبو هريرة • السيوطي، الجامع الصغير (٦٣١٦) • حسن • أخرجه أبو نعيم في ((الحلية)) (٣/ ١٦٣)، وابن أبي عاصم في ((الجهاد)) (١٤٨)، وإسماعيل الأصبهاني في ((الترغيب والترهيب)) (٤٩٧) جميعهم بلفظه.[
[86] کے علاوہ یا سوائے ۔
[87] عَينانِ لا تَمَسُّهما النارُ: عينٌ بَكَتْ من خَشيةِ اللهِ، وعينٌ باتتْ تَحرُسُ في سَبيلِ اللهِ. [الراوي: عبدالله بن عباس • شعيب الأرنؤوط، تخريج رياض الصالحين (١٣٠٥) • صحيح • أخرجه الترمذي (١٦٣٩) واللفظ له، وابن أبي عاصم في ((الجهاد)) (١٤٦)، وابن شاهين في ((الترغيب في فضائل الأعمال)) (٢٢٥)۔]
لا يلِجُ النارَ رجلٌ بكى من خشيةِ اللهِ حتى يعودَ اللبنُ في الضِّرعِ، ولا يجتمعُ غبارٌ في سبيلِ اللهِ ودخانُ جهنمَ. [الراوي: أبو هريرة • ابن عثيمين، شرح رياض الصالحين لابن عثيمين (٣/٣٤٢) • مشهور • أخرجه الترمذي (١٦٣٣)، والنسائي (٣١٠٨)، وأحمد (١٠٥٦٠)، والطيالسي (٢٥٦٥) واللفظ لهم.]
ما من مؤمنٍ يخرجُ من عينيه دموعٌ وإنْ كان مثلَ رأسِ الذبابِ من خشيةِ اللهِ ثم تصيبُ شيئًا من حرِّ وجهِه إلا حرَّمَه اللهُ على النارِ. [الراوي: عبدالله بن مسعود • الدمياطي، المتجر الرابح (٣٤١) • إسناده حسن • أخرجه ابن ماجه (٤١٩٧)، وابن أبي الدنيا في ((الرقة والبكاء)) (٢)، والطبراني (١٠/٢٠) (٩٧٩٩) باختلاف يسير۔]
قال: لما نزلتْ ﴿أَفَمِنْ هَذا الْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ وَتَضْحَكُونَ وَلا تَبْكُونَ﴾ [النجم: ٥٩-٦٠] بكى أصحابُ الصفةِ حتى جرَت دموعُهم على خدودِهم، فلما سمع رسولُ اللهِ صلّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ حسَّهم بكى معهم فبكينا ببكائِه فقال رسولُ اللهِ صلّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ: لا يلجُ النارَ من بكى من خشيةِ اللهِ ولا يدخلُ الجنَّةَ مُصرٌّ على معصيةٍ ولو لم يذنبوا لجاءَ اللهُ بقومٍ يُذنبون فيغفرُ لهم [الراوي: أبو هريرة • الدمياطي، المتجر الرابح (٣٤١) • سنده سقيم [كما نص على ذلك في المقدمة] • أخرجه ابن شاهين في ((الترغيب في فضائل الأعمال)) (٢٢٨)، والبيهقي في ((شعب الإيمان)) (٧٩٨)۔]
خطَب رسولُ اللهِ ﷺ فبكى رجلٌ بين يدَيْه، فقال النَّبيُّ ﷺ: لو شهِدكم اليومَ كلُّ مؤمنٍ عليه من الذُّنوبِ كأمثالِ الجبالِ الرَّواسي لغُفِر لهم ببكاءِ هذا الرَّجلِ، وذلك أنَّ الملائكةَ تبكي وتدعو له، وتقولُ: اللَّهمَّ شفِّعِ البكّائين فيمن لم يبكِ ]الراوي: الهيثم بن مالك الطائي • المنذري، الترغيب والترهيب (٤/١٩٣) • مرسل • أخرجه البيهقي في ((شعب الإيمان)) (٧٨٩) واللفظ له.[
[88] يقولُ اللَّهُ عزَّ وجلَّ: أخرِجوا منَ النّارِ مَن كانَ في قلبِه مثقالُ شعيرةٍ منَ الإيمانِ أخرِجوا منَ النّارِ مَن كانَ في قلبِه مثقالُ بُرَّةٍ منَ الإيمانِ أخرِجوا منَ النّارِ من قال لا إلهَ إلّا اللَّهُ أو ذَكرني أو خافَني في مَقامٍ [الراوي: أنس بن مالك • ابن خزيمة، التوحيد لابن خزيمة (٧٠٨/٢) • [أشار في المقدمة أنه صح وثبت بالإسناد الثابت الصحيح] • أخرجه ابن خزيمة في ((التوحيد)) (٢/٧٠٨) واللفظ له، والحاكم (٢٣٤) باختلاف يسير، والبيهقي في ((شعب الإيمان)) (٧٤٠) مختصراً۔]
يقولُ اللهُ عزَّ وجلَّ: أخرِجوا من النّارِ من ذكَرني يومًا أو خافني في مَقامٍ [الراوي: أنس بن مالك • المنذري، الترغيب والترهيب (٤/٢٠٩) • [إسناده صحيح أو حسن أو ما قاربهما] • أخرجه الترمذي (٢٥٩٤)، وابن أبي عاصم في ((السنة)) (٨٣٣)، وابن خزيمة في ((التوحيد)) (٢/٧١٠)، و الحاكم فی (المستدرك على الصحيحين) (٢٣٦)، والبيهقي في ((شعب الإيمان)) (٧٤٠).]
قال رجلٌ: يا رسولَ اللهِ بِمَ أتقي النارَ؟ قال: بدموعِ عينَيْكَ فإنَّ عينًا بكتْ من خشيةِ اللهِ لا تمسُّها النارُ أبدًا [الراوي: زيد بن أرقم • الدمياطي، المتجر الرابح (٣٤١) • سنده سقيم [كما نص على ذلك في المقدمة] • أخرجه ابن أبي الدنيا في ((الرقة والبكاء)) (٤)، وقوام السنة الأصبهاني في ((الترغيب والترهيب)) (٥٠٧)، والخطيب في ((تاريخ بغداد)) (٩/ ٣٣٠) واللفظ لهم.]
[89] اللہ کی عظمت کے پیشِ نظر اس کا خوف رکھنا ۔
[90] کسی بات کا امکان یا شک ہونا ۔
[91] توجہ کرنا یا دھیان دینا ۔
[92] رسوائی، بے عزتی یا ہلکا پن ۔
[93] غصہ، غضب یا اللہ کی پکڑ ۔
[94] اللہ کی رحمت اور فضل سے نیک امید وابستہ رکھنا (یہ خوف کا متبادل اور توازن پیدا کرنے والا وصف ہے) ۔
[95] لو يَعلَمُ المُؤمِنُ ما عِندَ اللهِ مِنَ العُقوبةِ؛ ما طَمِعَ بالجنَّةِ أحدٌ، ولو يَعلَمُ الكافِرُ ما عِندَ اللهِ مِنَ الرَّحمةِ؛ ما قنَطَ مِنَ الجنَّةِ أحدٌ، خلَقَ اللهُ مِئةَ رَحمةٍ، فوضَعَ واحِدةً بَينَ خَلقِهِ يَتراحَمون بها، وعِندَ اللهِ تِسعٌ وتِسعونَ رَحمةً. [الراوي: أبو هريرة • شعيب الأرنؤوط، تخريج المسند لشعيب (١٠٢٨٠) • إسناده صحيح على شرط مسلم • أخرجه البخاري (٦٤٦٩) بنحوه، ومسلم (٢٧٥٢) مختصراً ۔]
إنَّ اللهَ خَلَقَ الرَّحمةَ يَومَ خَلَقَها مِائةَ رَحمةٍ، فأمسَك عِندَه تِسعًا وتِسعينَ رَحمةً، وأرسَلَ في خَلقِه كُلِّهم رَحمةً واحِدةً، فلو يَعلَمُ الكافِرُ بكُلِّ الذي عِندَ اللهِ مِنَ الرَّحمةِ، لم يَيئَسْ مِنَ الجَنَّةِ، ولو يَعلَمُ المُؤمِنُ بكُلِّ الذي عِندَ اللهِ مِنَ العَذابِ، لم يَأمَنْ مِنَ النّارِ. [الراوي: أبو هريرة • البخاري، صحيح البخاري (٦٤٦٩) • [صحيح] • أخرجه مسلم (٢٧٥٢) بنحوه مختصراً۔]
[96] بیج بونا؛ یہاں مراد نیک اعمال کرنا ہے ۔
[97] ایسی نامکمل یا بیوقوفانہ خواہش جس کے لیے محنت نہ کی گئی ہو ۔
[98] مہربانی یا اللہ کا خاص فضل ۔
[99] دنیا کی محبت دل سے نکال دینا اور اسے حقیر سمجھنا ۔
[100] أولُ صلاحِ هذهِ الأمةِ: اليقينُ والزهدُ، وأولُ فسادِها: البخلُ والأملُ. [الراوي: [جد عمرو بن شعيب] • الألباني، هداية الرواة (٥٢١٠) • حسن • أخرجه أحمد في ((الزهد)) (٥٢)، والطبراني في ((المعجم الأوسط)) (٧٦٥٠) والبيهقي في ((شعب الإيمان)) ((١٣/ ١١٧)) بنحوه.]
نجا أوَّلُ الأمَّةِ باليقينِ والزُّهدِ وهلك آخرُ هذه الأمَّةِ بالبخلِ والأملِ. [الراوي: [جد عمرو بن شعيب] • العراقي، تخريج الإحياء للعراقي (٥/١٩٨) • من رواية ابن لهيعة • أخرجه ابن أبي الدنيا في ((اليقين))(٣) واللفظ له، والطبراني في ((الأوسط))، (٧٦٥٠)، والبيهقي في ((شعب الإيمان)) ((١٣/ ١١٧)) بنحوه۔]
[101] دنیا میں ہمیشہ رہنے کی لمبی امیدیں رکھنا ۔
[102] مزے دار چیزوں (کھانے، لباس) میں کمی کرنا ۔
[103] کسی کام میں حد سے زیادہ مگن یا ڈوب جانا ۔
[104] خلاف ہونا یا ضد ہونا ۔
[105] بغیر کسی بناوٹ یا خاص کوشش کے ۔
[106] پیارے یا قریبی لوگ؛ یہاں مراد حضور ﷺ کی آل اور اہل بیت ہیں۔
[107] اللهمَّ اجعَلْ رِزقَ آلِ مُحَمَّدٍ قوتًا. وفي رِوايةِ عَمرٍو: اللهمَّ ارزُقْ. [وفي روايةٍ]: وقال: كَفافًا]. الراوي: أبو هريرة • مسلم، صحيح مسلم (١٠٥٥) • [صحيح] • أخرجه البخاري (٦٤٦٠)، ومسلم (١٠٥٥).]
دخلتُ على رسولِ اللَّهِ ﷺ، وَهوَ على حصيرٍ، قال: فجلَستُ، فإذا عليْهِ إزارٌ، وليسَ عليْهِ غيرُه، وإذا الحصيرُ قد أثَّرَ في جنبِهِ، وإذا أنا بقبضةٍ من شعيرٍ، نحوِ الصّاعِ، وقَرظٍ في ناحيةٍ في الغرفَةِ، وإذا إِهابٌ معلَّقٌ، فابتدرتُ عينايَ، فقال: ما يبْكيكَ يا ابنَ الخطّابِ؟، فقلتُ: يا نبيَّ اللَّهِ، ومالي لا أبْكي؟ وَهذا الحصيرُ قد أثَّرَ في جنبِكَ، وَهذِهِ خزانتُكَ لا أرى فيها إلّا ما أرى، وذلِكَ كسرى، وقيصَرُ في الثِّمارِ والأنْهارِ، وأنتَ نبيُّ اللَّهِ وصفوتُهُ، وَهذِهِ خزانتُكَ، قال: يا ابنَ الخطّابِ ألا ترضى أن تَكونَ لنا الآخرةُ، ولَهمُ الدُّنيا؟ قلتُ: بلى [الراوي: عمر بن الخطاب • الألباني، صحيح ابن ماجه (٣٣٦٧) • حسن • أخرجه ابن ماجة (٤١٥٣) واللفظ له، والبخاري (٤٩١٣)، ومسلم (١٤٧٩) بلفظه تامًا.]
نام رسولُ اللهِ ﷺ على حَصِيرٍ فقام وقد أَثَّرَ في جَنْبِهِ فقُلْنا يا رسولَ اللهِ لو اتَّخَذْنا لك وِطاءً فقال ما لِي وللدنيا، ما أنا في الدنيا إلا كراكِبٍ استَظَلَّ تحتَ شجرةٍ، ثم راح وتَرَكَها [الراوي: عبدالله بن مسعود • الترمذي، سنن الترمذي (٢٣٧٧) • حسن صحيح • أخرجه الترمذي (٢٣٧٧) واللفظ له، وابن ماجه (٤١٠٩)، وأحمد (٣٧٠٩). ]
[108] امید ختم کر دینا؛ یعنی مخلوق سے آس لگانا چھوڑ دینا ۔
[109] نقصانات یا برائیاں ۔
[110] اللہ کو اپنا کارساز (وکیل) مان کر اس پر پورا بھروسہ کرنا ۔
[111] كنتُ خلْفَ النَّبيِّ صلّى اللهُ عليه وسلَّمَ يومًا، فقال: يا غلامُ، ألا أُعلِّمُك كَلماتٍ؟ احفَظِ اللهَ يحفَظْك، احفَظِ اللهَ تجِدْه تُجاهَك، إذا سألتَ فاسأَلِ اللهَ، وإذا استَعنتَ فاستَعِنْ باللهِ، واعلَمْ أنَّ الأمَّةَ لو اجتمَعَت على أن ينفَعوك بشيءٍ لم ينفَعوك إلّا بشيءٍ قد كتَبه اللهُ لك، ولو اجتمَعوا على أن يضُرُّوك بشيءٍٍ لم يضُرُّوك إلّا بشيءٍ قد كتَبَه اللهُ علَيك؛ رُفِعَت الأقلامُ، وجَفَّت الصُّحُفُ. [الراوي: عبدالله بن عباس • شعيب الأرنؤوط، تخريج شرح الطحاوية (٣٤٦) • سنده قوي • أخرجه الترمذي (٢٥١٦)، وأحمد (٢٦٦٩) باختلاف يسير۔]
[112] کام بنانے والا، بگڑے کام سنوارنے والا ۔
[113] دنیاوی ذرائع (مثلاً محنت، دوا) کو استعمال کرتے ہوئے ۔
[114] مضبوطی سے جما ہوا، پکا ۔
[115] توجہ کرنا یا دھیان دینا ۔
[116] دشمن، مخالف یا مقابلہ کرنے والا ۔
[117] سخاوت، بخشش اور فیاضی ۔
[118] روزی کمانا یا محنت مزدوری کرنا ۔
[119] اللہ پر بھروسہ کرنے والا ۔
[120] جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس پر راضی رہنا اور زیادہ کی ہوس نہ کرنا ۔
[121] اس بات پر غور کرنا کہ یہ دنیا اور اس کی ہر چیز ایک دن ختم ہو جائے گی ۔
[122] بردباری؛ یعنی غصہ آنے پر اپنے آپ پر قابو پانا ۔
[123] عَجَبًا لأمرِ المُؤمِنِ، إنَّ أمرَه كُلَّه خَيرٌ، وليسَ ذاك لأحَدٍ إلّا للمُؤمِنِ، إن أصابَتْه سَرّاءُ شَكَرَ فكانَ خَيرًا له، وإن أصابَتْه ضَرّاءُ صَبَرَ فكانَ خَيرًا له. [الراوي: صهيب بن سنان الرومي • مسلم، صحيح مسلم (٢٩٩٩) • [صحيح] • من أفراد مسلم على البخاري، أخرجه ابن حبان، صحيح ابن حبان (٢٨٩٦)، الطبراني، المعجم الأوسط (٤/١٥٣)۔]
[124] نفس کی وہ خواہشات جو انسان کو برائی کی طرف مائل کریں۔
[125] وہ قلبی طاقت جو انسان کو نیکی اور دین کے کاموں پر آمادہ کرے۔
[126] مکمل طور پر، سر سے پاؤں تک (پوری توجہ کے ساتھ)۔
[127] نعمت دینے والا؛ مراد اللہ تعالیٰ ۔
[128] دل کا گھٹنا، تنگی محسوس کرنا یا بے چینی ۔
[129] اللہ کی پہچان رکھنے والے اور اس کے قرب میں رہنے والے بزرگ ۔
[130] باریک بینی سے محسوس کرنے کی قوت؛ یعنی حساس طبیعت ۔
[131] وہ چیز جو گناہوں کے اثر کو مٹا دے یا بدل دے ۔
[132] بلند مقام یا رتبہ ۔
[133] بدلہ لینا؛ یہاں مراد ہے کہ صبر کرنے والے کا بدلہ اللہ خود لیتا ہے ۔
[134] دیر کرنا یا آگے کے لیے ٹال دینا ۔
[135] کسی چیز کو اپنی مرضی سے استعمال کرنا ۔
[136] وہ جس کا کوئی مالک ہو؛ یہاں مراد بندہ ہے جو اللہ کی ملکیت ہے ۔
[137] ذہن میں لانا، یاد کرنا یا حاضر کرنا ۔
[138] شرمندہ یا پشیمان ۔
[139] بہترین بدلہ یا عوض ۔
[140] نفسانی خواہشات کی طاقت جو انسان کو بے صبری پر اکساتی ہے ۔
[141] عَجَبًا لأمرِ المُؤمِنِ، إنَّ أمرَه كُلَّه خَيرٌ، وليسَ ذاك لأحَدٍ إلّا للمُؤمِنِ، إن أصابَتْه سَرّاءُ شَكَرَ فكانَ خَيرًا له، وإن أصابَتْه ضَرّاءُ صَبَرَ فكانَ خَيرًا له. [الراوي: صهيب بن سنان الرومي • مسلم، صحيح مسلم (٢٩٩٩) • [صحيح] • من أفراد مسلم على البخاري، أخرجه ابن حبان، صحيح ابن حبان (٢٨٩٦)، الطبراني، المعجم الأوسط (٤/١٥٣)۔]
[142] اصل نعمت دینے والا (اللہ تعالیٰ) ۔
[143] حکم پر عمل کرنا ۔
[144] احکامات کی تعمیل کرنا، حکم ماننا۔
[145] قابلیت یا استحقاق (کہ میں اس کا مستحق نہ تھا)۔
[146] جسم کے اعضاء (ہاتھ، پاؤں، آنکھ وغیرہ)۔
[147] کسی کی برائی کرنا یا مذمت آمیز کلام۔
[148] فضول اور بے معنی باتیں۔
[149] غریبی، افلاس یا معاشی تنگی۔
[150] نعمت دینے والا (اللہ تعالیٰ)۔
[151] شک، تذبذب یا ہچکچاہٹ۔
[152] مرَّ النبيُّ - ﷺ - بأبي بكرٍ وهو يلعنُ بعضَ رقيقهِ، فالتفتَ إليهِ؛ فقال:لعّانِينَ وصدِّيقِينَ؟ ! كلاَّ وربِّ الكعبةِ، فأعتق أبو بكرٍ - يومئذٍ - بعضَ رقيقِهِ، ثمَّ جاء النبيُّ - ﷺ -، فقال: لا أعودُ۔ [الراوي: عائشة أم المؤمنين • الألباني، هداية الرواة (٤٧٩٦) • صحيح • أخرجه البيهقي في ((شعب الإيمان)) (٤٧٩١) بلفظه، والبخاري في ((الأدب المفرد)) (٣١٩)، وابن أبي الدنيا في ((الصمت)) (٦٨٩) كلاهما بنحوه۔]
[153] بہت زیادہ سچا؛ وہ جس کا ظاہر و باطن ایک ہو (یہ ولایت کا بہت اونچا مقام ہے)۔
[154] دل کی کیفیات اور جسم کے اعمال۔
[155] پختگی، مضبوطی یا گہرا اثر۔
[156] وہ شخص جس کی ہر بات سچی اور حقیقت کے مطابق ہو۔
[157] وہ شخص جس کے تمام کام شریعت کے مطابق ہوں۔
[158] وہ باطنی کیفیات جو سنت کے خلاف ہوں (جھوٹے احوال)۔
[159] وہ شخص جس کی قلبی کیفیات اور روحانی حالت سنت کے مطابق ہو۔
[160] وہ نماز جو ظاہری ارکان اور باطنی خشوع و خضوع کے ساتھ مکمل ہو۔
[161] وہ چیز جس کے ذریعے کسی کام میں کمال (پختگی) پیدا ہو۔
[162] تلافی کرنا، کمی کو پورا کرنا یا اصلاح کرنا۔
[163] اپنے اختیارات یا معاملات کسی دوسرے (اللہ) کے حوالے کر دینا ۔
[164] كُن في الدُّنيا كأنك غريبٌ أو عابرُ سبيلٍ وعُدَّ نفسَك في أصحابِ القبورِ وقال لي يا ابنَ عمرَ إذا أصبحْتَ فلا تُحَدِّثْ نفسَك بالمساءِ وإذا أمسَيت فلا تُحَدِّثْ نفسَك بالصباحِ وخُذْ من صِحَّتِك قبلَ سَقَمِك ومن حياتِك قبل موتِك فإنك لا تدري يا عبدَ اللهِ ما اسمُك غدًا۔ [الراوي: عبدالله بن عمر • الألباني، صحيح الترغيب (٣٣٤١) • حسن لغيره • أخرجه البخاري (٦٤١٦) مختصراً۔]
أخذ رسولُ اللهِ ﷺ بمنكِبي، فقال: كُنْ في الدُّنيا كأنَّك غريبٌ أو كعابرِ سبيلٍ. وكان ابنُ عمرَ رضِي اللهُ تعالى عنه يقولُ: إذا أصبحتَ فلا تنتظِرِ المساءَ، وإذا أمسيْتَ فلا تنتظِرِ الصَّباحَ، وخُذْ من صِحَّتِك لمرضِك، وفي حياتِك لموتِك۔ [الراوي: عبدالله بن عمر • أبو نعيم، حلية الأولياء (٣/٣٤٣) • صحيح متفق عليه [أي:بين العلماء] من حديث الأعمش • أخرجه البخاري (٦٤١٦) بنحوه، والترمذي (٢٣٣٣)، وابن ماجه (٤١١٤)، وأحمد (٤٧٦٤)، وأبو نعيم في ((حلية الأولياء)) (٣/٣٠١) واللفظ له۔]
[165] ادل بدل کرنا یا اپنی مرضی سے چلانا ۔
[166] سرِ تسلیم خم کرنا، یعنی اللہ کے فیصلے کو مان لینا ۔
[167] اپنی مرضی سے کوئی خاص صورت یا نتیجہ پہلے سے طے کر لینا ۔
[168] رنج، دکھ یا ذہنی بوجھ ۔
[169] وہ معاملات جو انسان کے بس میں نہ ہوں ۔
[170] بندگی اور غلامی کا کامل اظہار ۔
[171] زبردستی کوشش کرنا یا مشقت اٹھانا ۔
[172] مِن سَعادةِ ابنِ آدَمَ استِخارَتُه اللَّهَ، ومِن سَعادةِ ابنِ آدَمَ رِضاه بما قَضى اللهُ، ومِن شَقاوةِ ابنِ آدَمَ تَركُه استِخارةَ اللهِ، ومِن شَقاوةِ ابنِ آدَمَ سَخَطُه بما قَضى اللهُ له۔ [الراوي: سعد بن أبي وقاص • ابن حجر العسقلاني، فيض القدير (٦/ ١٥) • إسناده حسن؛ • السيوطي، الجامع الصغير (٨٢٣٣) • صحيح • أخرجه أحمد (١٤٤٤)، والحاكم (١٩٠٣)، والبزار (١٠٩٧) باختلاف يسير؛ • شعيب الأرنؤوط، تخريج المسند لشعيب (١٤٤٤) • إسناده ضعيف • أخرجه الترمذي (٢١٥١)، وأحمد (١٤٤٤) واللفظ له؛ • الترمذي، سنن الترمذي (٢١٥١) • غريب • أخرجه أحمد (١٤٤٤) بلفظه، وإسماعيل الأصفهاني في ((الترغيب والترهيب)) (١٤١٨) باختلاف يسير.]
[173] خوش بختی اور کامیابی ۔
[174] اللہ کا فیصلہ یا تقدیر ۔
[175] وہ فطری حالت جس میں انسان کو تکلیف کا احساس ہی نہ ہو ۔
[176] وہ حالت جس میں تکلیف تو محسوس ہو مگر انسان عقل و ایمان کی بنیاد پر اس پر راضی رہے ۔
[177] باخبر کرنا یا آگاہ کرنا ۔
[178] احسان مند یا شکر گزار ۔
[179] بہت زیادہ خوش اور خرم ۔
[180] اپنی بندگی اور عاجزی کا ثبوت دینا ۔
[181] برائیوں کا دل سے مٹ جانا اور اللہ کی مرضی میں گم ہو جانا ۔
[182] کسی چیز سے غافل ہو جانا یا اسے بھول جانا ۔
[183] صحو کا مطلب روحانی ہوش اور سکر کا مطلب وجدانی مستی ہے ۔
[184] فنا کے بعد نیکیوں کا طبعی طور پر انسان میں رچ بس جانا ۔