ہندو مندر اور اورنگ زیب کے فرامین
ہندو مندر اور اورنگ زیب کے فرامین
ہندو مندر
اور
اورنگزیب عالمگیر کے فرامین
ڈاکٹر بی این، پانڈے
مولا نا مفتی عطاء الرحمن قاسمی
مولانا آزادا کیڈمی
نئی دہلی
حرفے چند
عالمگیر اورنگزیب اور شہید وطن ٹیپو سلطان ۔ تاریخ ہند کی وہ مظلوم شخصیتیں ہیں جنہیں انگریز مورخوں اور برطانوی عہد کے ضلع گزیٹیر کے مرتبوں نے بہت شکن، ہندوکش اور ظالم و جابر بادشاہ کی حیثیت سے مشتہر اور متعارف کرایا ہے ، اور سب سے تعجب خیز بات یہ ہے کہ آزاد ہندوستان کے غلام مورخوں نے اسے بلا چوں و چرا قبول بھی کر لیا ہے۔ بقول مولانا شبلی:
تمہیں لے دے کے ساری داستان میں یاد ہے اتنا
کہ عالمگیر ہندو کش تھا، ظالم تھا، ستمگر تھا
حقیقت حال یہ ہے کہ ان دونوں حکمرانوں نے اپنے قلم رو میں ہندور عایا کے ساتھ وہ حسن سلوک کیا ہے، جس کی نظیر تاریخ ہند میں نہیں ملتی ہے۔
اورنگزیب اور ٹیپو سلطان کو متعصب و تنگ نظر کہنے والے فاضل مورخین اور یونیورسٹی کے پروفیسر حضرات یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے دور حکومت میں مندروں اور گوردواروں کو جتنی جاگیریں دی گئی ہیں، شاید ہی کسی اور راجہ و مہاراجہ کے دور میں دی گئی ہوں، دور جانے کی ضرورت نہیں ہے خود تلا یعلی ( لال قلعہ ) کے سامنے چاندنی چوک کے مشرقی کنارے پر واقع جین مندر کے پجاری کو اورنگزیب کی طرف سے باضابطہ وظیفہ دیا جاتا تھا، اور یہ سلسلہ سلطنت مغلیہ کا آخری چراغ بہادر شاہ ظفر تک جاری رہا، اور اس مندر کی پیشانی پر فارسی کتبہ ۴۷ء کے بہت بعد تک نصب رہا ہے، جس کو دیکھنے والے آج بھی دہلی میں موجود ہیں، اورنگزیب نے تربت (بہار) کا بھی دورہ کیا تھا۔
چمپارن کا مشہور تاریخی مقام لوریا بھی گیا تھا جو کبھی بڑ سٹوں کا مرکز تھا، کہا جاتا ہے کہ یہاں گوتم بدھ بھی آئے تھے، آج بھی وہاں بدھوں کے آثار موجود ہیں لوریا میں واقع مہاراجہ اشوک کی لاٹ پر دکھن جانب تقریب ڈیڑھ فٹ اوپر کلمہ طیبہ کندہ کیا گیا ہے اور اس کے بالکل برابر نیچے نہایت ہی عمدہ خط میں محی الدین اورنگزیب عالمگیر غازی الحناء کندہ ہے ۔ عالمگیر نے غالباً اسی اثنا سفر میں جنڈیا مٹھ ، ارے راج مٹھ اور اندروا مٹھ کو جاگریں دی تھیں۔ آج بھی ان مٹھوں کے نام کئی کئی ہزار ہیکھے زمین ہیں اور ان کے اصلی مہلتوں کے پاس اورنگزیب کے فرامین محفوظ ہیں ، اور ان میں بعض فرامین کی نقول چمپارن کے مشہور وکیل عزیر ہاشمی صاحب کے پاس بھی ہیں۔ جو مٹھوں کی اراضی کے تنازعات کے موقع پر عدالت میں داخل کئے گئے تھے یہ ان دنوں کی بات ہے جب محترم ہاشمی صاحب مٹھ کے مقدمات کی پیروی کر رہے تھے۔
مشہور تاریخی ضلع مونگیر میں خانقاہ رحمانی سے کچھ فاصلے پر سیتا کنڈ ہے، جہاں گرم پانی کا چشمہ ابلتا ہے، جو ایک تفریحی مقام ہے، جس کو دیکھنے کے لئے دور دراز کے علاقوں سے لوگ آتے ہیں ، مجھے بھی وہاں جانے کا اتفاق ہوا ہے ، جب میں وہاں حاضر ہوا تو سیتا کنڈ کے نگراں پنڈتوں نے مجھ سے بیان کیا کہ سیتا کنڈ کے لئے اورنگزیب بادشاہ نے غالبا ۷۰ بیگھ زمین وقف کی ہے۔ ہمارے بڑے پنڈت کے پاس عالمگیر کا شاہی فرمان موجود ہے۔
فارسی کے مشہور ادیب برادرم پروفیسر شریف حسین قاسمی صاحب صدر شعبہ فارسی دلی یونیورسٹی نے مجھ سے بیان فرمایا کہ سال گذشتہ کسی نے ایک انگریز عورت کو (جو دراصل ایک اسکالر تھی) میرے پاس بھیج دیا، جب وہ میرے پاس آئی تو کہنے لگی کہ میں مسلم حکمرانوں کی طرف سے مندروں کو دی گئی جاگیروں کے متعلق فرامین پر کام کر رہی ہوں اس تعلق سے میں ہریانہ کے مندروں اور مٹھوں کا سروے کیا ہے، میں نے ہر قدیم مندر کے پجاری سے رابطہ قائم کیا اور ان سے استفسار کیا کہ آپ کے پاس کوئی شاہی فرمان ہو تو مجھے از راہ کرم دکھائیں، مجھے انگریز سمجھ کر ہر مندر کا پجاری اپنے اپنے مندر کے پرانے کاغذات لاتے تھے، میں اپنے کیمرہ سے ان کا فوٹو کھینچ لیتی تھی اور اصل کا غذات انکو واپس کر دیتی تھی چلتے وقت تھوڑا بہت پیسہ بھی دے دیتی تھی، جس سے وہ خوش ہو جاتے تھے۔ میں آپ سے یہ چاہتی ہوں کہ ان فرامین کا خلاصہ تحریر کر دیں۔ میں فارسی سے ناواقف ہوں۔
برادر موصوف نے انگریز عورت سے کہا کہ میں دو تین روز میں ان فرامین کا خلاصہ تیار کر دوں گا، آپ دو تین روز کے بعد آکر لے جائیں۔
پروفیسر شریف حسین قاسمی صاحب نے ان فرامین کا فوٹو فرصت کے اوقات میں دیکھنا شروع کیا تو ان میں کچھ فرامین ہندی میں تھے اور کچھ سنسکرت میں تھے اور زیادہ تر فارسی میں تھے، ان فارسی فرامین کا خلاصہ لکھنے کے بعد ان کو شمار کیا تو ۳۰۰ ر سوفاری فرامین تھے ، یہ صرف ہریانہ کے مندروں کو مسلم سلاطین و امراء کی طرف سے دیئے گئے تھے جو عطیات و جاگیروں سے متعلق تھے حسب وعدہ دو تین روز کے بعد جب وہ انگریز عورت آئی تو پروفیسر نے ان تمام فرامین کا خلاصہ، جو تیار کر رکھا تھا، پیش کر دیا، جس سے وہ بہت متاثر ہوئی اور بطور معاوضہ کچھ دینا چاہی تو پروفیسر شریف حسین قاسمی صاحب نے اپنی خاندانی و طبیعی شرافت کا ثبوت دیتے ہوئے فرمایا کہ میں غیر ممالک کے لوگوں سے کوئی معاوضہ نہیں لیتا ہوں جس سے وہ کافی متاثر ہوئی۔
مسئلہ یہ ہے کہ جب ہریانہ سے تین سو اصلی فرامین برآمد ہو سکتے ہیں ، جو ایک جھوٹا سا صوبہ ہے تو پورے ہندوستان میں کتنے فرامین ہوں گے ؟ اس کی صحیح تعداد کا اندازہ ہندوستان کے تمام مندروں اور گوردواروں کا سروے کرنے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ پیشکل کٹھن کام کون سر انجام دے گا اور وہ بھی ایسے دور میں جب تعصب و تنگ نظری کا ماحول اپنے جو بن پر ہے۔
مشہور مجاہد آزادی اور گاندھیائی لیڈر ڈاکٹر بشمر ناتھ پانڈے سابق گور نر اڑیسہ نے ڈاکٹر تیج بہادر سپرو کے ایما پر عالمگیر اورنگزیب کی طرف سے ہندو مندروں کو دیئے گئے فرامین و دستاویزات ( برائے جاگیر و عطیات) پر کام کیا تھا، ڈاکٹر صاحب نے بڑی محنت و لگن کے ساتھ ملک کے مختلف مندروں سے عالمگیری فرامین حاصل کئے۔ اور ان کو برادران وطن کے سامنے پیش کیا، جن کی روشنی میں اورنگزیب کا ایک نیا چہرہ ملک کے سامنے آیا۔
ڈاکٹر بی این، پانڈے نے ۲۹ جنوری ۱۹۷۷ء کو ہندوستانی پارلیمنٹ میں انگریز مورخوں کی فتنہ پردازیوں و شر انگیزیوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے اورنگزیب کو بت شکن اور ہندوگش ہونے کے بجائے مندروں اور گوردواروں کو جاگریں اور عطیات دینے والا بادشاہ کے روپ میں پیش کیا تو تمام ارکان پارلیمنٹ پر سکتہ طاری ہو گیا، اور کسی کے اندر ان کی مخالفت کی ہمت نہ ہو سکی تھی۔
ڈاکٹر بی این پانڈے نے عالمگیر کی طرح شہید وطن ٹیپو سلطان پر بھی معرکتہ الآراء کام کیا، اور اس شہید وطن پر انگریزوں کی طرف سے عائد کئے گئے الزامات و اتہامات کا مدلل جواب دیا، بڑے افسوس و صدمہ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایک طویل عرصہ سے منصوبہ بند طریقہ سے اسلامیان ہند کی روشن و تابناک تاریخ کو مسخ کرنے کی مذموم سازش کی جاتی رہی ہے اور کیسے کیسے فاضل مورخ اور پروفیسر حضرات محض سنی سنائی باتوں کو نقل کر کے نئی نسل کا ذہن و دماغ کو مسموم کرتے رہے ہیں اور ہند و مسلم اتحاد و یکجہتی کی فضا کو خراب کرتے رہے ہیں۔ جس کی تفصیل خود پانڈے جی کی زبانی سنیئے:
اسی طرح ٹیپو سلطان کے متعلق بھی نئی روشنی ملی ۱۹۳۵ء میں میں ٹیپو سلطان کے سلسلے میں الہ آباد میں کچھ تاریخی چھان بین کر رہا تھا۔ ایک دن دوپہر کو اینگلو بنگالی کالج کے کچھ طلباء آئے اور انہوں نے یہ درخواست کی کہ میں ان کے ہسٹری ایسوسی ایشن کا افتتاح کردوں ۔ چونکہ وہ کالج سے سیدھے آئے تھے تو ان کے ساتھ اُن کی کتابیں بھی تھیں۔ میں ان کتابوں میں سے ہندوستان کی تاریخ کے ورق الٹنے لگا۔ جب میں ٹیپو سلطان کے سبق پر پہنچا تو دیکھا اس میں درج تھا۔ تین ہزار برہمنوں نے اس لئے خودکشی کرلی کہ ٹیپو سلطان انہیں زبردستی مسلمان بنانا چاہتا تھا۔ “ میں نے مورخ کا نام دیکھا تو لکھا تھا مہا مہر پار حیانے ڈاکٹر ہر پر ساد شاستری، کلکتہ یونیورسٹی کے سنسکرت ڈپارٹمنٹ کے صدر۔
دوسرے دن ہی میں نے انہیں خط لکھا اور ان سے التجا کی کہ مہربانی فرما کر مجھے یہ اطلاع دیں کہ یہ واقعہ انہوں نے کہاں سے لیا۔ چار بار یاد دہانی کے بعد انہوں نے مجھے اطلاع دی کہ یہ واقعہ انہوں نے میسور گزیٹیر سے لیا ہے۔
میسور گزیٹر کی کوئی جلد نہ الہ آباد میں ملی نہ کلکتہ میں۔ میں نے ڈاکٹر (تیج بہادر ) سپرو کے مشورے سے اس کے متعلق میسور کے دیوان سرمرزا اسمعیل کو خط لکھا۔ سرمرزہ اسمعیل نے میرا خط یونی ورسٹی کے وائس چانسلر سر بر جیند رناتھ سیل کے پاس بھیج دیا۔ سیل صاحب نے مجھے اطلاع دی کہ میرادہ خط انہوں نے پروفیسر سری کانتیہ کے پاس بھیجا ہے جو اس وقت میسور گز بیٹر کو ایڈٹ کر رہے ہیں۔ ایک ہفتے کے بعد پر و فیسرسری کا منیہ نے مجھے اطلاع دی کہ میسور گزیٹر میں یہ واقعہ کہیں نہیں ہے۔ تاریخ کی وہ کتاب اتر پردیش، بہار، اڑیسہ ، بنگال اور آسام کے ہائی اسکول کی ٹکسٹ بک تھی۔ لاکھوں معصوم لڑکے ہر سال اس کتاب کو پڑھتے ہیں، اس واقعہ کا ان کے دل پر کیا اثر ہوتا ہو گا ؟۔
میں نے پروفیسر سری کاتیہ کو لکھا کہ وہ مہربانی فرما کر مجھے اطلاع فرمائیں کہ ٹیپو سلطان میں کیا قصب تھا؟ مجھے پھر اطلاع دی گئی کہ ٹیپو سلطان کا سپہ سالار کر شنار او برہمن تھا، اور اس کا وزیر اعظم پورنیہ بھی برہمن، پروفیسر کائنیہ نے ۱۵۶ مندروں کی فہرست بھیجی جنہیں ٹیپو سلطان ہر سال تحفے اور چڑھاوا بھیجا کرتا تھا۔ خود ٹیپو سلطان کے قلعے کے اندر سری رنگناتھ کا مندر تھا۔[1] مجھے سرینگری مٹھ کے جگت گرد شنکر آچاریہ کے ٹیپو سلطان کے نام لکھے ہوئے ایک درجن کنڑ زبان کے خطوط کی فوٹو کاپی بھیجی گئی جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ آچاریہ اور ٹیپو سلطان میں بے حد محبت تھی۔ اپنے زمانے کے ہندوستان کے راجاؤں اور نوابوں میں ٹیپو سلطان اور اس کے والد ہی ایسے شخص تھے جنہوں نے انگریزوں کے ساتھ مل کر کسی کو دھو کہ نہیں دیا۔ ٹیپو سلطان کے ساتھ انگریزوں کی کئی بار جنگ ہوئی اور آخر میں ایک بہادر وطن پرست کی طرح لڑتے ہوئے اس نے شہادت حاصل کی۔ نامعلوم لاشوں کے ڈھیر سے جب اسے کھوج کر نکالا گیا تو انگریز جنرل نے دیکھا کہ اس نے تلوار کی مٹھ کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا! میں نے یہ تمام خط و کتابت کلکتہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو بھیجی اور ان سے درخواست کی کہ اگر وہ اس خط و کتابت سے مطمئن ہیں کہ شاستری کی کتاب میں دیا ہوا واقعہ غلط ہے تو اس پر کارروائی کریں، ورنہ یہ خط و کتابت مجھے واپس کر دیں۔ بہت جلد نہ صرف وائس چانسلر کا جواب آیا، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کا حکم نامہ بھی آیا کہ شاستری کی تاریخ کی کتاب ہائی اسکول سے خارج کی جاتی ہے۔ [2]
اس سلسلہ میں تھوڑی وضاحت ضروری ہے کہ ۱۴ / فروری ۱۹۹۲ء کو میری کتاب الواح الصنادید حصہ دوم کی رونمائی ڈاکٹر بی این پانڈے جی نے کی تھی، کتاب کی رونمائی کے بعد ڈاکٹر بی این پانڈے نے تاریخ ہند میں تحریف و ترمیم کے موضوع پر ایک کلیدی خطبہ دیا، جس میں یہ دلچسپ واقعہ بیان فرمایا ( جس سے پروفیسر ہر پر ساد شاستری کی شرانگیزی و فتنہ گرمی کے معیار تحقیق کا اندازہ ہوتا ہے) کہ میرے پاس جب پروفیسر کا تیہ کا خط آیا کہ میں ۲۵ سال سے میسورگز بیٹز کو مرتب کر رہا ہوں، اس میں مذکورہ بالا واقعہ موجود نہیں ہے تو میں نے مہام ہو پادھیائے ڈاکٹر ہر پرساد شاستری صدر شعبہ سنسکرت کلکتہ یو نیورٹی کو خط لکھا کہ آپ نے اپنی کتاب میں ٹیپو سلطان کے متعلق میسور گزیز سے جو واقعہ نقل کیا ہے وہ واقعہ میسورگز بیٹر میں موجود نہیں ہے، تو ایک عرصہ کے بعد پروفیسر شاستری کا جواب آیا کہ میرا خیال تھا کہ میسور گزیٹیر میں یہ واقعہ موجود ہے اور اگر میسور گز یز میں موجود نہیں ہے تو مجھے معلوم نہیں ہے کہ میں نے یہ واقعہ کہاں سے نقل کیا کر دیا ہے ؟
اس تقریب میں ڈاکٹر پانڈے نے یہ بھی بیان کیا کہ میں نے پروفیسر کا نیہ کو لکھا کہ ٹیپو سلطان کے تعصب و تنگ نظری کے تعلق سے کوئی واقعہ میسور گز پیر میں ہو تو ضرور مطلع کیا جائے۔ پروفیسر کا نتیہ کا خط آیا کہ ٹیپو سلطان بڑا منصف، عادل اور سیکولر بادشاہ تھا اس کے دور میں کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ملتا ہے کہ جس سے اسکو متعصب ، تنگ نظر قرار دیا جا سکے ، صرف ایک واقعہ گزبیر میں مذکور ہے جس سے متعصب و تنگ نظر کہا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ میسور کے ایک علاقہ کو رگ میں چھوٹی ذاتی کے ہندو آباد تھے ،اونچی ذاتی کے ہندوؤں کے مظالم و شدائد سے تنگ آکر عیسائی مذہب قبول کرنے جا رہے تھے ، جب بادشاہ کو اس کی اطلاع ملی تو وہاں کے لوگوں کو دربار میں طلب فرمایا، اور کہا کہ میں کیا سن رہا ہوں کہ تم لوگ عیسائی مذہب اختیار کرنے جا رہے ہوں، ان لوگوں نے ایک زبان ہو کر کہا کہ حضور بادشاہ سلامت ہم عیسائی مذہب اختیار کرنے جارہے ہیں، آپ کو صحیح اطلاع ملی ہے۔
ٹیپو سلطان نے ان لوگوں کو سمجھایا کہ تم لوگوں کو اپنے آبائی دھرم (ہندو مذہب) پر قائم رہنا چاہنے ، نئے مذہب کو اختیار کرنے سے پر ہیز کرنا چاہئے ہم لوگ اپنے اپنے گھروں کو جاؤ، اس پر غور و فکر کرو پھر مجھے اطلاع کرو۔
چند روز کے بعد پھر یہ لوگ آئے اور بادشاہ نے کہا کہ حضور ہم نے عیسائی مذہب کو اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، ہمیں اس کی اجازت دے دی جائے! بادشاہ نے پھر سمجھایا کہ دیکھو تم لوگوں کو اپنے آبا و اجداد کے مذہب کو نہیں چھوڑنا چاہئے اور اپنے قدیم مذہب پر قائم رہنا چاہئے اور اگر تم لوگوں نے تبدیلی مذہب کا فیصلہ ہی کر لیا ہے تو سات سمندر پار کا مذہب اختیار کرنے کے بجائے اپنے بادشاہ کے مذہب کو اختیار کرنا چاہئے ، چنانچہ انہوں نے اپنے بادشاہ کا مذہب اختیار کر لیا ۔ بس یہی ایک واقعہ ہے، وہ بھی اس پس منظر میں ! اس کے علاوہ کوئی اور واقعہ نہیں ملتا ہے جس سے اس کو متعصب قرار دیا جا سکے۔
ڈاکٹر بی این پانڈے زندگی بھر اورنگزیب عالمگیر اور شہید وطن ٹیپو سلطان کی مدافعت کرتے رہے، اور ان کے خلاف زبان درازی کرنے والوں اور لکھنے والوں کو مدلل جواب دیتے رہے، آخر عمر میں با وجود پیرانہ سالی وضعیف العمری کے جب کبھی کسی سیاسی ، سماجی ، اور ثقافتی جلسہ میں شریک ہوتے تو اورنگزیب اور ٹیپو سلطان کی طرف سے مندروں اور مٹھوں کو دیئے گئے وظائف اور جاگیروں کا ذکر ضرور کرتے تھے اور ان مسلم سلاطین کا نام بڑی عظمت کے ساتھ لیا کرتے تھے، جس کی وجہ سے ان سے ایک طبقہ خفا رہتا تھا۔ دراصل ان پر پنڈت سندر لال کا رنگ تھا ، وہ بھی جب سلاطین ہند کا ذکر کرتے تو ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے تھے۔
ڈاکٹر بی این پانڈے جی کا ایک پر مغز مقالہ ہندو مندر اور اورنگ ب کے فرامین کے عنوان سے مختلف اخبارات میں شائع ہوا تھا ، اب اس تاریخی مقالہ کی افادیت و اہمیت کی بنا پر مولانا آزاد اکیڈمی نئی دہلی کی طرف سے شائع کیا جا رہا ہے، امید ہے کہ قارئین کی دلچسپی کا سبب ہوگا۔ اور بہت ساری غلط فہمیوں و بد گمانیوں کے ازالے کا باعث ہوگا۔
الحمد للہ مولانا آزادا کیڈمی کے زیر اہتمام عالمگیر اورنگزیب کے مزید فرامین و وصایا پر تحقیق و تعلیق کا کام جاری ہے۔ حال ہی میں جو لینا گرجا گھر بیچ گڑھ بنئی دہلی کے متعلق عالمگیر اورنگزیب کے ایک شاہی فرمان کا سراغ لگا ہے۔ جونئی دہلی کے گول ڈاکخانہ چرچ میں آویزان ہے۔ عالمگیر اورنگ زیب کی خادمہ میں جو یا تھی، جو عیسائی مذہب تھی جب یہ بالغ ہوئی اور اس کی شادی کا وقت قریب ہوا تو بادشاہ سے اس کی شادی کی اجازت طلب کی گئی بادشاہ نے بعد ملاحظہ احوال اس کی شادی کی اجازت مرحمت کی۔ اور اس کے مصارف شادی اور اس کے عقیدہ و مذہب کے تحفظ کے لئے گرجا گھر کی تعمیر اور آئندہ اخراجات کے لئے عالمگیر کی طرف سے وہ شاہی فرمان جاری کیا گیا تھا۔
آخر میں عالمگیر اورنگ زیب کے وصیت نامہ کا فارسی متن اور اس کا ترجمہ شائع کیا جارہا ہے یہ وصیت نامہ رام پور ضالا بریری جنرل ۷۔ میں شائع ہوا ہے۔ اس وصیت نامہ عالمگیری زاہدانہ و فقیرانہ زندگی اور ان کی سیاسی بصیرت اور مردم شناسی کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ یہ وصیت اتنا دردناک ہے کہ شاید ہی کوئی ایسی آنکھ ہوگی جو اس وصیت نامہ کو پڑھنے کے بعد نہ اشکبار ہو۔
میرے بعض کرم فرماؤں ، خاص طور پر حضرت مولانا شمس الحق اعظمی صاحب ( جو موجودہ دور میں بزرگان سلف کی یادگار ، صاحب فکر و نظر عالم دین اور صاحب زہد و تقوی بزرگ ہیں ، ان کا شمار ان گنے چنے علماء، ائمہ اور دعاۃ میں ہوتا ہے جن کے اندر کتابوں کو پڑھنے پڑھانے اور پھیلانے کا جذبہ صادق ہے۔ ان کی نہ صرف خواہش تھی بلکہ ان کا شدید اصرار تھا کہ ہندو مندر اور اور نگ زیب کے فرامین کو اردو، ہندی اور انگریزی زبانوں میں شائع کیا جائے تا کہ عالمگیر اور نگ زیب سے متعلق انگریزوں اور ہندوستانی متعصب مورخوں کی پھیلائی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکے۔ جو ہندوستان کے تناظر میں امت کی بڑی خدمت ہے۔
حضرت مولانا شمس الحق اعظمی صاحب کی رائے سے مجھے صد فیصد اتفاق ہے کیونکہ میرے پاس بھی ملک کے متعدد حلقوں بالخصوص غیر مسلموں کے خطوط بھاری تعداد میں آئے ہیں جنہوں نے اس مختصر کتابچہ کو پڑھ کر اورنگ زیب عالمگیر اور اسلام کے متعلق اپنی آبائی و سمائی غلط فہمیوں و بد گمانیوں کو دور کیا اور عالمگیر کو ایک سیکولر اور سالمیت کا علمبردار بادشاہ اور اسلام کو مذہب امن کی حیثیت سے تسلیم کیا ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر پانڈے کے اس مقالے میں مندروں کو دی گئی جا گیروں سے متعلق فرامین کا ذکر ضرور ہے لیکن ان میں فرامین کے متون شائع نہیں کئے گئے ہیں۔
میں نے کوشش کی ہے کہ اورنگ زیب کے فرامین کے کچھ متون بھی شائع کر دیئے جائیں تاکہ قارئین کو صحیح رائے قائم کرنے میں سہولت ہو جائے ۔ اور نگ زیب کے جملہ فرامین کو جمع و ترتیب دینے کا کام بھی اکیڈمی کے پیش نظر ہے۔ مولانا آزادا کیڈمی کے علمی وتحقیقی منصوبوں میں ایک اہم منصوبہ یہ ہے کہ امت کے نو نہالوں کے لئے چھوٹے چھوٹے رسائل و کتا بچے شائع کئے جائیں، جو عام فہم اور مسری اسلوب میں ہوں ، تاکہ بچوں کی ذہن سازی کی جاسکے، اسی طویل المیعاد منصوبہ کے تحت یہ مقالہ شائع کیا جارہا ہے۔ انشاء اللہ آئندہ بھی یہ مفید سلسلہ سلسلہ جاری رہے گا۔واللہ المستعان
عطاء الرحمن قاسمی
جنرل سکریٹری
مولانا آزادا کیڈمی
N-80/C ابو الفضل انکلیو او کھلا نئی دہلی
ہندو مندر اور اورنگ زیب کے فرامین
۱۹۴۸- ۱۹۵۳ء کے دوران جب میں الہ آباد میونسپلٹی کا چیئرمین تھا تو ترمیم ( یعنی داخل خارج) کا ایک کیس میرے زیر غور آیا۔ یہ تنازعہ ایک جائیداد کے بارے میں تھا جو سو میشور نا تھ مہادیو مندر کو وقف کی گئی تھی۔ مندر کے مہنت کے مرنے کے بعد اس سو میشورنا جائیداد کے دو فریق دعویدار ہوئے۔ مدعیان میں سے ایک نے کچھ ایسے دستاویزات پیش کئے جو اس کے خاندان کے قبضے میں تھے۔ اور جو ان فرامین پر مشتمل تھے جنہیں اور نگ زیب نے جاری کیا تھا۔ میں شش و پنج میں پڑ گیا۔ قیاس یہ تھا کہ یہ فرامین گڑھے ہوئے ہیں۔ مجھے تعجب اس بات پر بھی تھا کہ اور نگ زیب جو مندروں کے انہدام کے بارے میں خاص شہرت رکھتا تھا وہ مندروں کو جاگیر عطا کرنے کے سلسلے میں اس طرح کے احکام کیسے جاری کر سکتا تھا۔
جاگیر ، پوجا اور دیوتاؤں کے بھوگ کے لئے عطا کی جارہی ہے مجھے یہ سوال پریشان کئے ہوئے تھا کہ ... اورنگزیب اپنی شناخت بت پرستی کے ساتھ کسی طرح کروا سکتا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ یہ دستاویزات اصل نہیں ہیں۔ لیکن کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے میں نے بہتر سمجھا کہ ڈاکٹر مریج بہادر سپر و صاحب سے مشورہ لوں جو فارسی اور عربی کے بڑے عالم تھے۔ میں نے کاغذات ان کے سامنے رکھ کر مشورے کی درخواست کی۔ دستاویزات کے مطالعے کے بعد ڈاکٹر پرو صاحب نے کہا کہ اورنگ زیب کے یہ فرامین بالکل اصل ہیں۔ پھر انہوں نے اپنے منشی سے وارانسی کے جنگمیری شیوا مندر کے کیس کی فائل منگوائی جس کی کئی اپیلیں الہ آباد ہائیکورٹ میں گذشتہ ۱۵ ار سال سے زیر سماعت تھیں۔ جنگبری شیو مندر کے پاس مندر کو جاگیر عطا کرنے کے سلسلے میں اور نگ زیب کے کئی دوسرے فرامین بھی تھے۔
اور نگزیب کی یہ نئی شبیہ جب میرے سامنے آئی تو میں بہت متعجب ہوا۔
ڈاکٹر سپرو صاحب کے ایما پر میں نے کئی اہم منادر کے منہتوں کو خطوط لکھے کہ اگر ان کے پاس ان کے مندروں کو جاگیر عطا کرنے کے سلسلے میں اور نگ زیب کے کوئی فرامین ہوں تو مجھے ان کی فوٹو کاپی ارسال کی جائے۔ مجھ پر اس وقت حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے جب مجھے بڑے مندروں جیسے مہا کالیشور مندر (اجین) بالا جی مندر (چترکوٹ) مانند مندر ( گوہائی) جین مندر (شترنجیا) اور دوسرے کئی منادر اور گوردوارے سے جو شمالی ہند میں بکھرے ہوئے ہیں، کی طرف سے اور نگ زیب کے فرامین کی نقول موصول ہوئیں۔ یہ فرامین ۱۰۶۵۰۰۰-۱۰۹۱ (۱۶۹۵۱۶۵۹ء) کے درمیان جاری کئے گئے تھے۔
مندرجہ بالا مشاوں سے ہندو اور ان کے مندروں کے تئیں جہاں اور نگ زیب کی سخاوت ظاہر ہوتی ہے وہیں یہ بات بھی ثابت ہو جاتی ہے کہ مورخین نے اس کے بارے میں جو کچھ بھی لکھا وہ محض تعصب کی بناء پر تھا اور وہ تصویر کا صرف ایک رخ تھا۔ ہندوستان ایک وسیع و عریض ملک ہے جہاں ہزار ہا مندر جابجا بکھرے ہوئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر مناسب تحقیقات کی جائیں تو اور بھی ایسی مثالیں سامنے آئیں گی جو اس بات کا ثبوت ہو نگی کہ غیر مسلموں کے تئیں اور نگ زیب کا طرز عمل مخیر انہ تھا۔
اور نگزیب کے فرامین کی تحقیقات کے دوران میرا سابقہ جناب گیان چندر اور ڈاکٹر پی ایل گپتا سے بھی پڑا جو پٹنہ میوزیم کے سابق منتظم تھے ۔ اور جو اور نگ زیب پر قابل قدر تھے۔ جو دور تاریخی اہمیت کی حامل تحقیق کر رہے تھے۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ حق کے متلاشی کچھ ایسے محقق بھی ہیں جو اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ اور نگ زیب کی اس بد نام اور متہم شبیہ کی صفائی کی جائے جسے متعصب مورخین نے ہندوستان میں مسلم دور حکومت کی علامت قرار دیا ہے اور جس کی عکاسی ایک شاعر نے نہایت ہی دکھ بھرے انداز میں کی ہے ۔
تمہیں لے دے کے ساری داستان میں یاد ہے اتنا
کہ عالمگیر ہندو کش تھا، ظالم تھا، ستمگر تھا
اور نگ زیب پر ہندو مخالف حکمراں ہونے کی الزام تراشی کرتے ہوئے اس کے اس فرمان کو بہت اچھالا گیا ہے جو بنارس فرمان کے نام سے مشہور ہے۔ یہ فرمان بنارس کے ایک برہمن کنبہ سے متعلق تھا جو محلہ گوری میں رہائش پذیر تھا ۔ ۱۹۰۵ء میں گوپی اپادھیائے کے نواسے منگل پانڈے نے اس فرمان کو سٹی مسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا تھا یہ فرمان پہلی بار 1911ء میں "جنرل آف دی ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال" میں شائع ہوا جس سے اسکالرس ( عالماء و فضلا ) کی توجہ اس جانب منعطف ہوئی اور بھی سے مؤرخین بکثرت اپنی تحریروں میں اس کا حوالہ دیتے چلے آرہے ہیں .... اس بات کو پس پشت ڈالتے ہوئے کہ فرمان کی اصل غرض و غایت اور اہمیت کیا تھی انہوں نے اور نگ زیب پر یہ الزام تراشی بھی کی ہے کہ انہوں نے ہندو مندروں کی تعمیرات پر پابندی عاید کر دی تھی۔
یہ فرمان اور نگ زیب نے ۱۵ جمادی الاولی ۱۰۲۵ ھ (۱۰ر مارچ ۱۶۵۹ء) کو بنارس کے مقامی عہدیدار کے نام جاری کیا تھا جو ایک شکایت نامے کے سلسلے میں تھا جے ایک برہمن نے داخل کیا تھا جو کسی مقامی مندر کا نگراں تھا اور جسے کچھ لوگ ستار ہے تھے۔ فرمان اس طرح سے ہے۔
ابوالحسن (جو شاہی فیض کے لائق اور قابلِ اعتماد ہے ) کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ہماری فطری رحم دلی اور طبعی کرم کا تقاضا ہے کہ ہماری مکمل انتھک قوت اور نیک ارادے عوام و خواص امیر و غریب کی فلاح و بہبود پر صرف ہوں، ہمارے موقر قانون کے تحت ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ قدیم مندروں کو منہدم نہ کیا جائے لیکن نئے مندروں کی تعمیر کی اجازت بھی نہ دی جائے ۔ [3] ہمارے عدل کے دوران ہمارے قابل اکرام و احترام دربار میں یہ اطلاع پہنچی ہے کہ کچھ لوگ بنارس اور اطراف کے ہند و باشندگان اور قدیم مندروں کے برہمن حکمرانوں کے معاملات میں دخیل ہو کر انہیں ستارہے ہیں۔ نیز وہ لوگ ان برہمنوں کو ان کے عہدوں سے بے دخل بھی کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس طرح کی دھمکیاں اس قوم ( ہندو قوم کے لئے باعث اذیت ہیں۔ لہذا ہمار احکم شاہی یہ ہے کہ اس واضح حکم کے موصول ہوتے ہی فوری طور سے احکام صادر کیا جائے کہ مستقبل میں ان علاقوں کے رہنے والے برہمنوں اور ہندو باشندگان کے معاملات میں غیر قانونی طور پر مداخلت نہ کیجائے اور نہ ان میں اضطراب پیدا کیا جائے تاکہ وہ حسب سابق اپنے عہدوں پر بحال رہ کر بشاشت قلب سے اپنی عبادات کر سکیں اور ہماری مملکت خداداد ہمیشہ ہمیش کے لئے برقرار رہے۔ اس حکمنامے کو فوری تعمیل طلب تصور کیا جائے۔
یہ فرمان واضح طور سے اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اورنگ زیب نے نئے مندروں کی تعمیر کے خلاف کوئی نیا حکمنامہ نہیں جاری کیا تھا بلکہ اس نے صرف مروجہ دستور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے موجودہ مندروں کی موجودگی کی توثیق کی تھی اور ساتھ ہی ساتھ مندروں کے انہدام کے خلاف غیر مہم اور واضح احکامات صادر کئے تھے۔ فرمان اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ وہ دل سے چاہتا تھا کہ اس کی ہندور عایا سکھ چین سے زندگی بسر کرے۔
اس طرح کا یہ واحد فرمان نہیں تھا۔ بنارس میں ایک اور فرمان بھی پایا جاتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ اورنگ زیب کی دلی خواہش تھی کہ ہند و سکون قلب سے زندگی بسر کریں۔ فرمان کے الفاظ حسب ذیل ہیں۔
مہاراجہ دھیرج راجا رام سنگھ نے ہمارے قابل اکرام اور رفیع الشان دربار میں ایک عرضداشت داخل کی ہے بنارس میں گنگا کے کنارے محلہ مادھو رام میں اس کے والد نے ایک مکان بھگوت گو سائیں (جو اس کا مذہبی معلم تھا) کی رہائش کے لئے تعمیر کیا تھا۔ چونکہ کچھ لوگ گو سائیں کو تنگ کرتے ہیں لہذا ہمار ا حکم شاہی یہ ہے کہ اس واضح حکم کے موصول ہوتے ہی موجودہ اور تقبل کے تمام عہدیداران یہ حکم صادر کریں کہ مستقبل میں کوئی بھی شخص کو سائیں کے کسی معاملے میں نہ دخیل ہو اور نہ اسے کسی طرح پریشان کیا جائے تاکہ وہ بطیب خاطر اپنی عبادات کی ادائیگی کر سکے اور ہماری مملکت خداداد ہمیشہ ہمیش کے لئے قائم رہے۔ اس حکم کو "فوری تحمیل طلب" معاملہ تصور کیا جائے۔
کچھ دوسرے فرامین جو جنگ میری مٹھ کے مہنت کے قبضے میں ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اورنگ زیب کے لئے یہ بات نا قابل برداشت تھی کہ اس کی رعایا کے حقوق میں مداخلت کی جائے (خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلم ) وہ مجرموں سے سختی سے پیش آتا تھا۔ ان فرامین میں سے ایک اس شکایت نامے سے تعلق تھا جو اورنگ زیب کے دربار میں جنگم جماعت نے (جنگم فرقے کو ماننے والا سائی طبقہ) بنارس کے ایک مسلم باشندے بنام نذیر بیگ کے خلاف دائر کیا تھا۔ اس معاملے میں حسب ذیل فرمان جاری کیا گیا۔
"محمد آباد ، جو بنارس ( صو بہ اللہ آباد ) کے نام سے جانا جاتا ہے ، کہ علمبرداروں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ حال میں ارجن مل اور جنگم جو پرگنہ بنارس کے مکین ہیں، دربار شاہی میں حاضر ہوئے اور شکایت کی کہ نذیر بیگ نے جو بنارس کا باشندہ ہے ، ان کی ان پانچ حویلیوں پر بزور قبضہ کر لیا ہے جو قصبہ بنارس میں واقع ہیں اس لئے حکم دیا جاتا ہے کہ اگر ان کا دعوی سچا ہو اور مذکورہ حویلیوں پر ان کے مالکانہ حقوق ثابت ہو جائیں تو نذیر بیگ کی ان حویلیوں میں داخل نہ ہونے دیا جائے ۔ تاکہ جنگم جماعت مستقبل میں ہمارے دربار میں شکایت کنندگان کی حیثیت سے نہ پیش ہو ۔ ( فرمان مورخه ۱۶۷۲ء)
ایک دوسرا فرمان جو اسی مٹھ کے قبضہ میں ہے یکم ربیع الاول ۱۰۷۸ھ کو جاری کیا گیا تھا یہ اس قطعہ زمین سے متعلق ہے جو جنگم جماعت کو عطا کیا گیا تھا اور اس فرمان کے رو سے انہیں دوبارہ لوٹایا گیا ہے فرمان حسب ذیل ہے۔
"پر گنہ حویلی (صوبہ اللہ آباد) کے تمام موجودہ اور مستقبل کے جاگیر داروں اور کروڑیوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ بحکم شاہی ، جنگم جماعت کو ۷۸ اربیکھ قطعہ زمین ان کی کفالت کیلئے عطا کیا جاتا ہے اس کے قبل پرانے حاکم اس امر کی تحقیق کر چکے ہیں اس موقعہ پر بھی انہوں نے وہ ثبوت پیش کئے ہیں جن پر مذکورہ پرگنہ کے ملک کی مہر ثبت ہے۔ اور جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حسب سابق یہ قطعہ زمین نہ صرف یہ کہ ان کے قبضے میں ہے بلکہ اس پر ان کا حق بھی واضح طور سے ثابت ہوتا ہے لہذا بحکم شاہی یہ قطعہ زمین راس شاہی کے صدقے (شار) کے بطور عنایت کیا جاتا ہے۔ مذکورہ قطعہ زمین فصل خریف کے آغاز سے حسب سابق کی طرح انہیں لوٹا دیا جائے اور ان سے کسی طرح کا تعرض نہ کیا جائے تا کہ یہ جنگم جماعت فصل کی آمدنی کو اپنی کفالت کے لئے استعمال میں لائے اور بر باد نہ ہو۔"
اس فرمان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اورنگ زیب کا عدل نہ صرف یہ کہ خلقی تھا بلکہ "نثار " تقسیم کرنے میں وہ ہند و مساکین میں بھی امتیاز نہیں کرتا تھا۔ عین ممکنات میں سے ہے کہ مذکورہ ۷۸ ار بیگھ قطعہ زمین اور نگ زیب نے نفس نفیس جنگم فرقے کو بطور عطیہ دی ہو ، کیونکہ اس قطعہ زمین سے تعلق حسب ذیل فرمان بھی ہے جو ۱۵ رمضان المبارک ۱۰۸۱ھ میں جاری کیا گیا تھا۔
"پرگنہ حویلی بنارس ( جو صو بہ اللہ آباد کے تحت ہے) کے موجودہ اور متقبل کے تمام عہدیداروں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ بحکم شاہی پر گنہ بنارس کا ۷۸ ار بیگھہ قلعہ زمین جنگام جماعت کو ان کی گزر بسر کے لئے عطا کیا گیا ہے حال ہی میں وہ لوگ دوبارہ دربار شاہی میں حاضر ہوئے تھے ان کے حقوق ثابت ہو چکے ہیں اور یہ کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کے تصرف میں مذکورہ قطعہ زمین ہے لہذا درج ذیل تفصیل کے تحت مذکورہ زمین کو معافی زمین تصور کیا جائے تا کہ یہ لوگ اسے استعمال کر سکیں اور شہنشاہ کی حکومت کی بقاء کے لئے دعاء کریں۔"
ایک دوسرے فرمان جاری شده ۱۰۸۵ ء کی رو سے جو درج ذیل ہے۔ اور نگ زیب نے بنارس شہر کے ایک ہند و معلم کو بھی زمین عطا کی تھی۔
"اس مبارک موقع پر ایک موقر فرمان جاری کیا گیا تھا جو دو قطعات زمین سے متعلق تھا جن کی پیمائش ۵۸۸ و یرا ہے یہ قطعات زمین بنارس میں گنگا کے کنارے بینی مادھو گھاٹ پر واقع ہیں۔ ان میں سے ایک قطعہ رام جیون گو سائیں کے مکان کے رو برو اور مرکزی مسجد کے پچھواڑے اور دوسرا کچھ اوپر واقع ہے۔ یہ قطعے جو خالی ہیں اور جن پر کوئی تعمیر نہیں کی گئی ہے بیت المال کے تصرف میں ہیں۔ لہذا ہم نے اس قطعات کو رام جیون گوسا میں اور اس کے فرزند کو بطور انعام عطا کئے ہیں تاکہ وہ ان قطعات زمین پر مقدس برہمنوں اور فقیروں کے لئے رہائشی مکان بنوائیں اور یاد الہی میں مصروف رہتے ہوئے ہماری مملکت خداداد کے لئے دعا کریں ، جو ہمیشہ ہمیش کے لئے قائم رہیں۔ لہذا ہمارے عالی مرتبت شہزادگان ، وقیع وزراء شریف امراء عالی عہدیداران ، ڈوگرے اور موجودہ اور متقبل کے کوتوالوں کو واجب ہے کہ وہ اس مو قرحکم نامے کے مستقل اور مستمر نفاذ کے لئے ہر ممکن کوشش کریں تاکہ کہ مذکوره قطعات مذکورہ بالا لوگوں کے تصرف میں رہیں اور ان کی اولاد کو تمام بقایا جات اور محاصل سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ نیز ان سے ہر سال نئی سند کا مطالبہ نہ کیا جائے ۔"
گو ہاٹی کا مندر
اورنگ زیب اپنی رعایا کے مذہبی جذبات کے احترام کے سلسلے میں بہت ہی محتاط تھا۔ ہمارے پاس شہنشاہ کا ایک فرمان ہے جسے اس کے عہد حکومت کے نویں سال میں ۲ صفر کو سدا من برہمن کے حق میں جاری کیا گیا تھا ۔ یہ شخص آسام میں گوہانی کے امانند مندر کا پجاری تھا۔ آسام کے ہندورا جاؤں نے دیوتا کے بھوگ ( چڑھاوے) اور پجاری کے گزر بسر کے لئے زمین کا ایک قطعہ اور جنگل کی کچھ آمدنی مختص کی تھی۔ جب اور نگ زیب نے اس صوبہ پر قبضہ کیا تو فوری طور پر ایک فرمان جاری کیا جس کی رو سے مذکورہ مندر اور اس کے پجاری کے حق میں زمین کے عطیہ اور جنگل کی آمدنی کی توثیق کی گئی۔ کو ہائی فرمان کا متن حسب ذیل ہے۔
اہم معاملات کے موجودہ اور تقبل کے تمام عمال ، چودھری، قانون گو، متقادم اور کل سرکار میں واقع پانڈو پر گنہ میں پٹہ ہنگیسار کے کسانوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ سابق را جاؤں کے فرمان کے مطابق سکارا گاؤں کا ایک قطعہ زمین ( جس کی پیمائش بسوا ہے ) اور جس کی مال گزاری کی جملہ رقم مبلغ ۳۰ روپے ہے سدا من اور اس کے لڑکے (المانند مندر کے پجاری) کو عطا کی گئی تھی۔ حال ہی میں مندرجہ بالاد عوی کی صحت ثابت ہو گئی ہے کہ مذکورہ بالا نان و نفقہ کی رقم میں سے مبلغ ۲۰ روپے جو مذکورہ گاؤں کے محصول سے حاصل ہوتے ہیں اور بقایا رقم جو جنگل کی آمدنی سے حاصل ہوتی ہیں باستثناء مال گذاری کی رقم کے جو انتخابی گاؤں سے حاصل ہوتی ہے۔ مذکورہ بالا عطیہ داروں کو عطا کی گئی تھی۔ لہذ اندکورہ بالا تمام عمال پر لازم ہے کہ مذکورہ نقد رقم اور قطعہ زمین (دونوں محلوں سے علیحدہ کر کے ) مذکورہ عطیہ داروں کے قبضے میں ہمیشہ ہمیش تاحیات بخش دی جائے تا کہ وہ اس رقم اور قطعہ زمین کو اپنی گزر بسر اور اپنے دیوتاؤں کے بھوگ کے لئے استعمال کر سکیں اور اپنی عبادت میں منہمک ہوں تاکہ ہماری حکومت ابد الآباد تک قائم رہے۔ وہ (یعنی عمال) اس جگہ کو کرایہ پر اٹھانے کی اجازت نہ دیں اور نہ ہی مال گزاری یا کسی دوسرے محاصل یا نئی سند کے بارے میں (ان عطیہ داروں سے) کسی قسم کا تعرض کریں اگر کوئی نئی سند پیش کرے تو اسے قابل اعتبار نہ گردانیں ۔ تمام عمال اس حکمنانے کے پابند رہیں اور اس سے سرمو بھی انحراف نہ کریں۔
(یہ فرمان شہنشاہ کی تخت نشینی کے نویں سال میں ۲ صفر کو لکھا گیا۔)
اجین کا مہا کالیشور مندر
ہندور عایا اور ان کے دھرم کے تعلق سے اور نگ زیب میں مثالی رواداری پائی جاتی ہے اس کا ثبوت اجین کے مہا کالیشور مندر کے پجاری پیش کرتے ہیں یہ مندر شیوا کے اہم مندروں میں سے ایک ہے جہاں دن اور رات کے ہر لمحے ایک " دیا جسے انداد کہتے ہیں روشن رہتا ہے اور اسے بجھنے نہیں دیا جاتا۔ عہد قدیم سے ہی اس دیے کو روشن رکھنے کے لئے مقامی حکومت کی طرف سے روزانہ چار سیر گھی مہیا کیا جاتا رہا۔ مندر کے پجاریوں کا کہنا ہے کہ مغل دور حکومت میں بھی یہ روایت قائم رہی یہاں تک کہ اور نگ زیب نے بھی اس قدیم روایت کی پاسداری کی بدقسمتی سے اس دعوے کو ثابت کرنے کیلئے ان کے پاس کوئی شاہی فرمان نہیں ہے لیکن ان کے پاس مراد بخش کے جاری کردہ فرمان کی ایک نقل ہے جسے اس نے ۵ر شوال ۱۰۶۱ھ کو اپنے والد کے عہد حکومت میں جاری کیا۔ مہا کالیشور کے سابق پجاری دیو نارائن کی عرضداشت پر یہ فرمان شہنشاہ کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔
حکیم محمد مہدی وقیع نویس نے پرانے ریکارڈ کی چھان بین کے بعد عرضی گزار کے دعوے کی تصدیق کی۔ اس بناء پر چبوترہ کو توالی کے تحصیل دار کو حکم دیا گیا کہ مندر کے مذکورہ دیے کے لئے چار سیر (اکبری) گھی روزانہ مہیا کیا جائے۔
اس فرمان کی ایک نقل ۱۱۵۳ھ میں (یعنی اصل فرمان کے اجراء کے ۹۳ر سال بعد ) محمد سعد اللہ نے جاری کی۔
مندر کے موجودہ پجاری اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اصل فرمان کی نقل کا ایک طویل وقفے کے بعد اجراء کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل فرمان پر اس تمام مدت میں عمل ہوتا رہا اور اس مدت میں اور نگ زیب کا دور گذرنے کے باوجود اس فرمان کی کوئی وقعت نہ ہوتی تو ایک مردہ فرمان کی نقل حاصل کرنے کی کوشش کوئی نہ کرتا۔
مندر کے سابق مہنت لکشمی نارائن نے اور بھی چند شاہی دستاویزات ( جو مذکورہ مندر کے محافظ خانے یا سرکاری دفتر میں محفوظ رکھے گئے تھے) پر میری توجہ دلائی لکشمی نارائن کے پاس اور نگ زیب کے عہد حکومت کے کچھ اور کا غذات بھی ہیں۔
شترنجہ اور آبو کے مندر
عام طور سے مورخین اس بات کا ذکر تو کرتے ہیں کہ احمد آباد میں ناگر سیٹھ کا تعمیر کرده چتنا من مندر مسمار کر دیا گیا تھا لیکن اس حقیقت سے کنی کاٹ جاتے ہیں کہ یہ وہی اور نگ زیب ہے جس نے اس ناگر سیٹھ کو شتر نجے اور آہو کے مندروں کی تعمیر کے لئے زمین عطا کی تھی۔ اس سلسلے میں جو سند عطا کی گئی وہ اس طرح ہے.
" ( اور ) جس کا اختتام خوش گوار ہو گا جو ہری ستی داس نے اس مقدس اعلی و ارفع دربار کے ذمہ دار اشخاص کی معرفت ہمارے حضور ایک عرضداشت پیش کی ہے۔ لہذا عالی جاہ ہند کا ایک فرمان ۱۹ رمضان المبارک ۱۰۳۱ھ کو جاری کیا جاتا ہے جو حضرت سلیمان کے فرمان جیسا اعلیٰ وارفع ہے۔ اور حضرت محمد ( ظل الہی) حضرت سلیمان کے عہدے کے جانشین تھے۔
اس فرمان کے تحت ضلع پلیتا نہ جسے شترنجہ اختیار میں آتا ہے ( یہ صوبہ احمد آباد کے زیرنگیں ہے اور اس کے محاصل کی آمدنی ۲ لاکھ درم ہے ) عرض گزار کو دائمی انعام کی صورت میں عطا کیا جاتا ہے۔ عرض گزار متوقع ہے کہ ہمارے دربار سے اس ضمن میں ایک فرمان شاہی جاری کیا جائے ۔ لہذا حسب سابق مابعد عرض گزار کو مذکورہ بالا ضلع دائمی انعام کی صورت میں عطا کرتے ہیں۔
اس لئے مذکورہ بالا سر کار کے صوبے کے تمام موجودہ اور متقبل کے منتظمین پر لازم ہے کہ وہ اس قابل تعظیم حکم نامے کی تعمیل کرتے ہوئے اس امر کی پوری پوری کوشش کریں کہ مذکورہ بالا ضلع شخص مذکور اور اس کی اولاد اور ورثہ کے قبضے میں نسلاً در نسلاً رہے۔ اس کے علاوہ شخص مذکور کو تمام محاصل اور دیگر بقایا جات سے مستثنیٰ قرار دیا جائے نیز اس سے ہر سال نئی سند کا مطالبہ نہ کیا جائے ۔ عمال کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اس فرمان شاہی سے سرمو انحراف نہ کریں۔
( یہ فرمان ۱۰۶۸ ھ ۱۶۵۸ء) کو لکھا گیا، ناگر سیٹھ نے کسی جنگ میں اور نگ زیب کی مدد کی تھی اور اس کی خدمات سے خوش ہو کر اور نگ زیب نے اسے گرنال اور آبو کی کچھ زمین وہاں کے مندروں کے لئے تحفتا عنایت کر دی تھی۔ فرمان حسب ذیل ہے۔
"اللہ کے نام کے ساتھ جو بے حد رحیم اور مہربان ہے“ (طغرہ) ایمان والوں! اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت میں ان کی بھی۔"
( مہر ) ابو المظفر محی الدین محمد اور نگ زیب عالمگیر بادشاہ غازی اس وقت یہ فرمان جاری کیا جاتا ہے۔
شراوک فرقے کے شانتی داس ولد ساہس بھائی نے مابدولت سے انعام خاصہ کی التجا کی ہے شخص مذکور نے ہماری فوج کی کوچ کے دوران اجناس کی فراہمی میں مدد کی تھی اور اس خدمت کے عوض وہ مخصوص انعامات سے نوازے جانے کا طلب گار ہے لہذا پلیتانہ کا دیہی علاقہ جو احمد آباد کے دائرہ اختیار میں آتا ہے ، اور پلیتا نہ کی پہاڑی جو شتر نجہ کے نام سے معروف ہے ۔ مع اس کے مندر کے مابدولت شراوک فرقے کے مذکورہ ستی داس جو ہری کو عطا کرتے ہیں۔ شترنجہ پہاڑی سے جو لکڑی اور ایندھن حاصل ہوں گے ۔ وہ بھی شرادک فرقے کی ملکیت شمار ہوں گے تاکہ وہ اسے اپنی کسی بھی ضرورت کے لئے استعمال کر سکیں۔ جو بھی شترنجہ پہاڑی اور اس کے مندر کی محافظت کرے گا وہ پلیتانہ کی آمدنی کا حقدار ہو گا۔ وہ اپنے طور سے عبادت کریں کہ ہماری حکومت قائم و دائم رہے۔ تمام عمال حکومت عہدیدار جاگیر دار اور کروڑیوں کا فرض ہے کہ وہ اس حکم نامے میں نہ کوئی تبدیلی کریں اور نہ ہی اس سے سرمو انحراف کریں۔ "
گرنار اور آبوجی:
علاوہ ازیں جونا گڑھ میں ایک پہاڑ ہے جو گر نار (یا گر نال) کے نام سے مشہور ہے اور آبوجی میں بھی ایک پہاڑی ہے جو سروہی کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ ان دونوں پہاڑوں کو بھی ہم شراوک فرقے کے ستی داس جو ہری کو بطور خاص مرحمت فرماتے ہیں تا کہ وہ کلی طور مطمئن ہو جائے لہذا جملہ عہدیداروں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ کسی کو ان (املاک) میں مداخلت نہ کرنے دیں۔ اور کوئی بھی راجا اس (ستی داس) سے کسی قسم کا تعرض نہ کرے بلکہ اس کی ہر طرح سے امداد کی جائے اس حکم کی تعمیل کرنے والے سے ہر سال نئی سند کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ اور اگر کوئی شخص اس گاؤں اور تین پہاڑوں پر کوئی دعوی دائر کرتا ہے جسے ہم نے (ستی راس کو ) مرحمت فرمایا ہے تو اس کا یہ فعل نہ صرف یہ کہ قابل مذمت ہو گا بلکہ وہ عوام اور اللہ کی لعنت کا بھی حق ہو گا۔ اس کے علاوہ بھی ایک علیحدہ سندات عطا کی گئی ہے۔"
(یه فرمان ۱۰ رجب المرجب ۱۰۷۰ ھ ( ۱۲ مارچ ۱۶۶۰ء) کور تم کیا گیا )
وشوناتھ مندر بنارس کے انہدام کا اصل سبب
لیکن کچھ واقعات اس بات کے شاہد بھی ہیں اور شک و شبہ سے بالا تر بھی کہ اورنگ زیب نے بنارس کے وشوناتھ مندر اور گولکنڈہ کی جامع مسجد کے انہدام کا حکم بھی دیا تھا لیکن جن حالات کے تحت مندر اور مسجد کا انہدام کیا گیا اور اس کی جو وجوہ بیان کی گئیں ان کا فائدہ اور نگ زیب کو پہنچ سکتا ہے۔
وشوناتھ مندر کا قصہ یوں ہے کہ بنگال جاتے ہوئے اور نگ زیب جب بنارس کے قریب سے گزرا تو ان ہندور اجاؤں نے جو اس کے حشم و خدم میں سے تھے اور نگ زیب سے وہاں ایک روز قیام کی درخواست کی تاکہ ان کی رانیاں بنارس میں گنگا اشنان، اور وشوناتھ و شو تا تھ دیوتا کی پوجا کر سکیں۔ اور نگ زیب فور اراضی ہو گیا اور ان کی حفاظت کے لئے بنارس تک کے ۵ میل کے راستے پر فوج کی ٹکڑیوں کو تعینات کر دیا۔ رانیاں پالکیوں میں سوار تھیں۔ گنگا اشنان سے فارغ ہو کر وہ پو جا کے لئے وشوناتھ مندر روانہ ہوئیں۔
پوجا کے بعد سوائے، کچھ کی مہارانی کے تمام رانیاں واپس آگئیں۔ مہارانی کی تلاش میں مندر کی پوری حدود چھان ڈالی گئی لیکن اس کا پتہ نہ چل سکا۔ اور نگ زیب کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو وہ سخت ناراض ہوا اور اس نے اپنے اعلیٰ عہدیداروں کو رانی کی تلاش میں بھیجا بالآخر وہ گنیش کی مورتی کے پاس پہنچے جو دیوار میں نصب تھی اور جو اپنی جگہ سے ہلائی جا سکتی تھی۔ اس کو حرکت دینے پر انہیں سیڑھیاں نظر آئیں جو کسی تہہ خانے میں جاتی تھیں وہاں انہوں نے ایک دہشت ناک منظر دیکھا رانی کی عزت لوٹی جا چکی تھی۔ اور وہ زار و قطار رو رہی تھی۔ یہ تہہ خانہ و شونا تھر دیوتا کی نشست کے عین نیچے واقع تھا۔ اس پر تمام را جاؤں نے غضبناک ہو کر سخت احتجاج کیا چونکہ جرم نہایت قبیح تھا اس لئے را جاؤں نے مجرم کو عبرت انگیز سزادینے کا مطالبہ کیا اور نگ زیب نے حکم دیا کہ چونکہ وہ مقدس جگہ ناپاک ہو چکی ہے اس لئے وشوناتھ کے بت کو وہاں سے کسی اور جگہ منتقل کر دیا جائے مزید یہ کہ مندر کو زمین بوس کر دیا جائے اور مہنت کو گر فتار کر کے سزادی جائے۔
ڈاکٹر پی ایل گپتا کے دستاویزی ثبوت کی بنا پر ڈاکٹر پٹا بھی سیتا رمیہ جو پٹنہ میوزیم کے سابق مہتمم ہیں انہوں نے اس کا ذکر اپنی مشہور تصنیف ( پر اور پتھر ) میں کرتے ہوئے اس واقعے کی توثیق کی ہے۔
جامع مسجد گولکنڈہ کا انہدام
گولکنڈہ کے مشہور حاکم تانا شاہ نے یہ حرکت کی کہ شاہی محصول وصول تو کیا لیکن شہنشاہ دہلی کو اس کی ادائیگی نہیں کی۔ چند ہی برسوں میں یہ رقم کروڑوں تک پہنچ گئی تانا شاہ نے یہ خزانہ زمین کے اندر دفن کر کے اس پر جامع مسجد تعمیر کروادی جب اورنگ زیب کو اس کی اطلاع ملی تو اس مسجد کے انہدام کا حکم جاری کر دیا اور مدفون خزانہ ضبط کر کے رفاہ عام کے کاموں میں صرف کیا۔ مندرجہ بالا دو باتیں یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں کہ جہاں تک عدالتی تحقیقات کا تعلق تھا اور نگ زیب نے کبھی بھی مندر اور مسجد میں کوئی امتیاز نہیں برتا۔
بدقسمتی سے ہندوستان کی موجودہ اور قرون وسطی کی تاریخ کے واقعات میں ایسی ایسی غلط بیانیاں کی گئی ہیں اور تاریخی کرداروں کو اس طرح مسخ کیا گیا ہے کہ ان غلط بیانیوں کو اور کردارکشی کو خدائی سچ تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اور اگر کوئی حقیقت و افسانہ حق و باطل اور حق کی مسخ شدہ شکل کو علیحدہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر انگشت نمائی کی جاتی ہے متعصب افراد اور جماعتیں اپنا مفاد حاصل کرنے کیلئے تاریخ کو توڑ مروڑ کر غلط بیانی کے ساتھ پیش کر رہی ہیں۔
سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ فریقین کا بنیاد پرست طبقہ نہ صرف یہ کہ ہندوستان کی قرون وسطی کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ وید اور قرآن شریف کے اصول، عقائد اور احکامات کی بھی غلط تشریح کر رہا ہے۔
فرامین کے متون
(1)
بنام ناظم بنارس ابو الحسن
مہر اورنگ زیب
"لایق العنایت والرحمت ابو الحسن بالتفات شاہانہ امید وار بوده بداند که چوں بمقتضاے مراہم ذاتی و مکارم جبلی ہنگی ہمت والا نہمت و تمامی نیست حق تو بیت ما بر فاهیت جمهور انام و انتظام احوال طبقات خواص و عوام مصروف است و از روی شرح شریف و ملت حنیف مقرر چنین است که دیر ہاے ویریں برانداخته نشود و بت کده با تازه بنا نیا بد و در میں ایام معدلت انتظام بعرض شرف اقدس ارفع اعلی رسید که بیش مردم از راه عنف و تعدی به جنود سکنہ قصبہ بنارس و بر نے امکنه دیگر که بنواحی آن واقع است و جماعت بر ہمان سد نه آن محال که سیدانت بت خانہ ہاے قدیم آنجا با نہاں تعلق دارد و مزاحم و معترض میشوند می خواهند که اینان را از سدانت آن که از مدت مدید باین با تعلق است باز دارند و ایں معنی باعث پریشانی و تفرقه حال این گروه می گردد لهذ الحكم والا صادر می شود که بعد از در دو ایں منشور لامع النور مقر ر کند که من بعد آمدے بوجوہ بے حساب تعرض و تشویش باحوال بر ہمناں و دیگر هنود متوطنه آن محال نرساند تا آنهاں بدستور ایام پیشیں بجاو مقام خود بوده جمعیت خاطر بدعاے بقائے دولت خداداد ابد مدت ازل بنیاد قیام نمایند دریں باب تاکید دانند .
تاریخ ۱۵ار شهر جمادی الثانیه ۱۰۶۹ نوشته شده
مہر اور نگ زیب
ترجمہ : " عنایت و رحمت کا سز ادوار ابوالحسن شاہانہ مہر بانیوں کا امیدوار رہے اور یہ سمجھ لے کہ ہمارے ذاتی کرم اور جبلی مکارم حسنہ کا یہ تقاضہ ہے کہ ہماری توجہ اور ہمت تمام رعایا کی بہبودی اور خواص و عوام کے تمام طبقات کی بھلائی میں مصروف ہے اور شریعت غرا اور ملت اسلام کا قانون بھی یہی ہے کہ قدیم مندروں کو ہرگز منہدم اور بر بادت کیا جائے اور جدید مندر بلا اجازت تعمیر نہ ہوں۔ آج کل ہمارے گوش گذار یہ بات ہوئی ہے کہ بعض لوگ از راہ جبر و تعدی قصبہ بنارس اور اس کے نواحی مقامات کے رہنے والے ہندوؤں اور برہمنوں پر جو قدیم مندروں کے پروہت ہیں تشدد اور زیادتی کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ برہمنوں کو ان کی پروہتی ہے جو ان کا قدیمی حق ہے الگ کر دیں۔ جس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا کہ یہ بے چارے پریشان ہو کر مصیبت میں مبتلا ہو جائیں اس لئے تم (ابوالحسن ) کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس فرمان کے پہنچتے ہی ایسا انتظام کرو کہ کوئی شخص اس علاقے کے برہمنوں اور دوسرے ہندوؤں کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہ کرے۔ اور ان کو کسی تشویش میں مبتلا نہ ہونے دے تاکہ یہ جماعت بدستور سابق اپنی اپنی جگہ اور مقام پر قائم رہ کر اطمینان قلب کے ساتھ ہماری دولت خداداد کے حق میں مصروف دعار ہیں۔ اس معاملے میں تاکید کی جاتی ہے۔ ۱۵ / جمادی الثانی ۱۰۶۹
(۲)
"متصدیان مہمات حال و استقبال چبوترہ کو توالی پر گنند شاہ جہاں پور بدانند چوں دریں ولا حقیقت کو کا زنار دار به ظهور پیوست که عیال کثیر به او وابسته است و پیچ و جه معیشت و جه نہ دارد بنابراں مبلغ سه تنکا مرادی در وجه روزینه مومی الیه مقرر نموده شده باید که وجه مذکوره از ابتدا بستم شہر ذیقعدہ سن کے مقرر دانسته روز بروز از محصول چبوتره مذکور مشار الیه می رسانیده باشد که صرف معیشت خود نموده بد عاد وام دولت ابد اتصال اشتغال داشته باشد
تحریر فی تاریخ ۲۱ / ذی قعد وے جلوس
ترجمہ: چبوترہ کو توالی پر گنہ شاہ جہاں پور کے حال و مستقبل کے متصدیوں کو معلوم ہو کہ کو کا ز ناردار ( پنڈت) نے یہ درخواست دی ہے کہ اس کے کثیر بال بچے ہیں اور کوئی ذریعہ روزی نہیں ہے۔ اس لئے مبلغ تین ٹنکہ مرادی اس کے روزینہ کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں اور یکم میں ذی قعد ساتویں جلوس سے جاری سمجھا جائے یہ روز آنہ اس کو چبوترے کی آمدنی سے ادا کر دیا جائے تاکہ وہ اپنی روزی میں صرف کرے اور دوام دولت کے لئے دعاء میں مشغول رہے۔ تحریر فی تاریخ ۲۱ ذی قعدے جلوس
(اس پر نجابت خان مرید بادشاہ کی مہر ہے)
(۳)
"متصدیاں مہمات حال و استقبال چبوترہ کو توالی دار افتح اجین بدانند دریں ولا حقیقت کا نجی پسر کو کا بہ ظہور پیوست که بموجب اسناد سابق موازی سه نکا مرادی در وجه روز مینه مقرر بود مشار الیہ بقضاے الہی فوت شد لبز ادریں ولا موازی سه بہلولی عالمگیری از ابتدای بستم شهر رجب کے ار من جلوس بنام کانجی پسر موی الیه مقرر گشته باید که از محصول محال مذکور تنخواه می داد باشند که آن صرف ما تحتاج خود نموده ......
تحریر فی تاریخ بیست یکم شهر رجب المرجب سن ۷ ار فقط۔
ترجمہ: چبوترہ کو توالی دار الفتح اجین کے حال و متقبل کے متصدیوں کو معلوم ہو کہ کوکا کے بیٹے کا نجی نے درخواست دی ہے کہ پہلی سند کے بموجب کو کا کیلئے تین منکہ کا روزینہ مقرر تھا اب وہ حکم الہی سے وفات پا گیا ہے اس لئے اب تین بہلولی عالمگیری ۲۰ رجب کے ارویں سال جلوس سے اس کے لڑکے کالجی کے نام سے مقرر ہونا چاہئے اور محال مذکور کی آمدنی سے یہ تنخواہ اس کو دی جائے تاکہ وہ اپنی ضرورت پر خرچ کرے اور دوام دولت ابد کے لئے دعاء کرے۔
(۲۱ رجب المرجب من جلوس کے ار فقط )
(۴)
عاملان حال و استقبال پر گنه سارنگ پور بدانند که چوں دریں ولا بموجب پروانند امارت پناه اسلام خان مرحوم به ظهور پیوست که کا نجی زنار دارایی و جه معیشت ندارد لہذا مبلغ چهار آنہ یومیه از محصول چبوترہ کو توالی محل مستور باد مقرر است باید که یومیه مذکور را روز به روز می رساننده باشد که صرف اوقات خود نموده و در دعا گوئی دوام اشتغال داشته باشد دور میں باپ تا کید داند
تحریر فی تاریخ ۲۸ / جمادی الثانی ۱۹ جلوس والا
ترجمہ : پرگنہ سارنگ کے حال مستقبل کے عاملوں کو معلوم ہو کہ امارت پناہ اسلام خان مرحوم کے پروانے سے یہ ظاہر ہوا کہ کا نجی زنار دار کا کوئی ذریعہ روزی نہیں اس لئے چبوترہ کو توالی کے محصول سے چارا نہ یومیہ اس کے لئے مقرر کیا جاتا ہے۔ یومیہ مذکور اس کے پاس روز آنہ پہنچنا چاہیئے تاکہ وہ صرف اوقات کرے اور دولت ابد کے دوام کے لئے دعا میں مشغول رہے۔ تاکیدی حکم جانو۔ تاریخ ۲۸ جمادی الثانی ۱۹ جلوس والا
(اس پر حبیب اللہ حسنی مرید شاہ عالمگیر کی مہر ہے۔)
(۵)
متصدیاں مہمات حال و استقبال چبوترہ کو تو الی من مضاف صوبہ اجین بدانند که چوں دریں ولا بوجہ پیوست که کو کاز نار دار بموجب پروانہ نجابت خان مرحوم سہ ٹنگا مرادی کلال از چبوترہ کو توالی یومیہ مذکور مقرر داشت ودیعت حیات سپردہ لہذا یومیہ مذکور بدستور سابق به کانجی پسر کو کا مذکور من ابتدا شہر ذی قعد ۱۰۸۷ بحال موسلم داشته شد باید که وجه یومیه از ابتدا اصدر می رسانیده باشد که آن را صرف کفاف نموده بدعا گوئی دوام دولت ابد مدت بندگان حضرت اشتغال می داشته باشند.
تحریر فی تاریخ پنجم ذی قعد ۷ ۱۰۸
ترجمہ: صوبہ اچین کے چبوترہ کو توالی کے حال و مستقبل کے متصدیوں کو معلوم ہو کہ یہ معلوم ہوا ہے کہ نجابت خاں مرحوم کے پروانے کے بموجب کو کا زنار دار کے لئے بدستور سابق کوکا کے بیٹے کا نجی کو ذی قعد ۱۰۸۷ھ کی ابتدا سے بحال کیا جاتا ہے اور یہ اس کو ملنا چاہیئے تین ٹنکا دادی کلاں مقرر تھا اب وہ نہیں ہے اس لئے یومیہ مذکورہ تاکہ وہ خرچ کرے اور دولت ابد مدت کے دوام کے لئے دعا کرے۔
(اس پر مختار خاں بندہ اور نگ زیب بہادر عالمگیر بادشاہ کی مہر ہے۔)
(۶)
چوں حقیقت استحقاق مرار زنار دار کو کا بردار کلاں مومی الیه معلوم شد که از مدت پنجاه سال مبلغ پنجاه دام که یک تنکا هر سال از حاصل چبوترہ کو توالی بخدمت بندگان اعلا حضرت یافتہ بنا بریں ایس چند کلمه بنام متصدیان چبوترہ کو توالی قصبہ مذکور نوشته شد که موافق دستور قانون قدیم تفصیل ذیل رسانده که صرف مایحتاج خود نموده بدعا گوئی دوام دولت ابد پیوند هندگان اعلی حضرت می نمایند.
تحریرونی تاریخ غرہ شہر جمادی الثانی ۸ سن جلوس مبارک
ترجمہ : مرار زنار دار اور اس کے بڑے بھائی کو کا کی درخواست سے حقیقت معلوم ہوئی کہ وہ پچاس سال کی مدت سے پچاس دام یعنی ایک تنکہ سالانہ چبوترہ کو توالی کی آمدنی سے بندگان اعلی حضرت کی خدمت کے صلے میں پارہے ہیں اس لئے یہ سطریں چبوترہ کو توالی کے قبضہ مذکور کے متصدیوں کیلئے لکھی جارہی ہیں کہ قانون قدیم کے دستور کے مطابق ذیل کے اشخاص کے پاس وہ رقم پہنچتی رہے کہ وہ بندگان اعلی حضرت کے دولت ابد کے دوام کے لئے دعا کریں۔
تحریر فی تاریخ غرہ شہر جمادی الثانی سن ۸ جلوس مبارک ۔[4]
بسم الله الرحمن الرحیم
جا گیر داران و فوجداران و زمینداران پرگنہ ہائے ممالک محروسه بغایت پادشاهانه امیدوار بدانند که چو۔۔۔۔۔ کشور و جے چند۔۔۔۔ به بارگاه خلایق پناه رسیده بود بوسیله با ریافتگان حواشی بساط خلافت و جہاں داری بغرض مقدس و معلی رسانیدند که اکثر طائفه هنود در بلدد و قصبات قلمر و خالصه منازل و ساکن احداث نموده بطریق خیرات بانها نهاده اند و آن جماعت در مکانها فر بور سکونت گرفته بدعا گوئی دوام دولت ابد مشغول می باشند وازیں جہت کہ بعض مردم به علت نزول مزاحمت بحال آنهایی ر امید دارند که از پیش گاه معدلت فرمان نزول در منازل مردم در کل ممالک محروسه معاف ممنوع است ، حکم جہاں متاع عالم مطیع صادر شد که بر تقدیر وقوع مقرر سازند که بعد اليوم احدی بدین سبب معترض و مزاحم جال جماعه مرقوم نبود تا آنها به جمعیت خاطر دران اماکن مقیم بوده بدعا بقائے سلطنت لایزال مواظبت می نموده باشد دوباره از میں روگزر بدرگاه آسمان جاہ داد خواه نیایند در میں باب قدغن و در عهده مشاهد۔
(تحریر فی تاریخ نور دهم ربیع الثانی ۲۷ جلوس والا ۔ )
ترجمه: ممالک محروسہ کے ان جاگیرداروں فوجداروں اور زمینداروں کو معلوم ہو کہ جو شاہانہ عنایت کے امیدوار ہیں کہ کشور اور وجے چند نے خلائق پناہ کے دربار میں خلافت اور جہاں داری کی بساط تک پہنچنے والوں کے وسیلے سے آکر اس مقدس اور معلمی دربار میں یہ عرض کیا کہ اکثر ہندوؤں نے قلمرو کے شہروں اور قصبوں میں بہت سے گھر اور قیام گاہیں بنا کر ان کو خیرات کے طور پر دی ہیں اور وہ سب ان مکانات میں سلطنت کے دوام کے لئے دعائیں کرتے ہیں لیکن کچھ لوگ نزول کی علت میں ان کی مزاحمت کرتے ہیں وہ امید رکھتے ہیں کہ اس عدل پسند دربار سے ایسا فرمان جاری ہو جائے گا کہ کوئی ان کی مزاحمت نہ کرے کیونکہ ممالک محروسہ کے لوگوں کے تمام مکانات نزول سے بری ہیں اور ان کی وصولی ممنوع ہے اس لئے یہ حکم جس کی اطاعت تمام دنیا میں ہوتی ہے، جاری کیا جاتا ہے کہ اگر ایسی صورت حال ہو تو اب سے اس جماعت مذکور کے سلسلے میں کوئی تعرض اور مزاحمت نہ ہوتا کہ وہ اطمینان سے ان مکانوں میں رہیں اور سلطنت لایزال کی بقا کے لئے دعا کریں اور دوسری بار اس آسماں جاہ دربار میں داد خواہی کے لئے نہ آئیں۔ اس امتناعی حکم کی تعمیل کو اپنا فرض سمجھیں۔ ( تحریر ۱۹ ربیع الثانی ۲۷ رجلوس والا ) ۔
وصیت نامہ اور نگ زیب عالمگیر بادشاہ
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله والسلام على عباده الذين اصطفى
وصیت اول آنکه
این عاصی فریق معاصی را تلحیف و تفریش بجوار تربت مطہرہ مقدسہ چشتیہ سلام الله علیه نماین که مغرقان بحار عیان را بغیر از التجابان در کاه غفران پناه پناهی نیست مصالح این سعادت عن نز و فرزندار جمند بادشاه زاده عالیجاه است
وصیت دوم آنکه
مبلغ چهارده رو پیه دوازده آنه از وجه کلاه دوزی نزد عالیه بیکم مخلد ارست از و بگیرند و صرفه کفن این بیچاره نمایند و مبلغ سه صد رو پید از وجه کتابت قرآن مجید در صرف خاص روز وفات به فقر رہند ازین راه که زر کتابت قرآن شریف شبه حرمت دارد بکفن مایحتاج صرف بکنند .
وصیت سوم آنکه
باقی مایحتاج از وکیل باد شاهزاده عالیجاه بگیرند که وارث قریب در اولا د ایشانند حلت و حرمت برز ایشانست برین بیچاره باز پرس نیست که مرده بدست زنده
وصیت چهارم آنکه
این سرکشتہ وادی کمرا ہے را سر بر ہنہ دفن کنند که کنه کارت به روز کار را سر بر بند نزد پادشاه عظیم الشان بر ندخل ترجم خواهد بود.
وصیت پنجم آنکه
بر بالای تابوت پار چکا رہا کہ آنراکزی میگویند پوشش نمایند از دیگر بدعات اغنیا احتر از کنند.
وصیت ششم آنکه
والی ملک با خانه زادان بیسر و پا که همراه این عاصي دور از حیا در دشت و صحرا کشته اند مدارا نماید و اگر به تصریح تقصیری از انها واقع شود ادفو کوشد و به احسان پوشد .
وصیت هفتم آنکه
بہتر از ایرانی برای متصدی بودن دیگری نیست که در جنگ هم از عبد عرش آشیان تا حال احدی از این فرقه از متر که رو گردان نشده و پای استقامت آنها نہ لغزیدہ و معھذا کا ہی خود سرے و خود سر و حرام نمکی هم نکرده اند لیکن بسیار عشرت طلبند بانها ساختن مشکل مگر بہر حال باید ساخت و کجدار و مریز باید کرد.
وصیت هشم آنکه
با سادات لازم السعادات بموجب آیہ کریمہ قل لا اسلم عليه اجرا الا لمدة في القربي عمل نموده در احترام و رعایت فرو گذاشت نمایند از این راه که محبت این جماعت اجر نبوتست هرگز از ان مقصر نباید بود که ثمره خسیر در دنیا واخر تست لیکن احتیاط باید نمود و مرتبه ظاهر انها بسیار نباید افزود که شریک غالب و طالب ملکند اگر استر های عنان شود ندامت آرد و سودی ندارد.
وصيت نهم آنکه
با شرفای قوم شیوخ رفق و مدارای بسیار و سلوک و احسان باستار باید کرد و جز بپاداش جریمه که در گذشتن از این راهی ندارد دلهای ایشان نباید آزرد که ما این قوم را بسیار آزموده ایم هر فرد ایشان در حمیت دونا فرد برآمده و در طریق صدق و صفا پا تمرد مصداق الانسان عبید الاحسان کو یا همین ایشانند و بس عفو در حق این قوم مینه تر از سر است و کیرو دار با ایشان بھر کونه خطا خطا
وصیت دهم آن
تا مقدور والی ملک باید که از حرکت خود را معاف ندارد و از نشستن در یک مقام که بحسب ظاهر صورت آرام دارد و در واقع منجر بهزار مصیبت و آلامت پر هیزد.
وصیت یازدهم آنکه
بر پسران مرکز اعتماد نکند و اصلا با ایشان مصاحبانہ زندگانی نماید که اگر اعلیٰ حضرت با دارا شکوه این سلوک نمیکردند کار تا اینجا نمی رسید.
وصیت دوازدهم آنکه
والی ملک را باید که با متوسلان خاصه و مقربان و ملا زمان قدیم ملاطفت و مرافقت بسیار مرگی دارد و دل ایشانرا بلا ضرورت شدید از سیاست نیاز ارد که خوشدلی ایشان کارها می کند و نا خوشی ایشان در وقتی آزار مید ہد تمبر ک و تیمنا بنام ائمه اثنا عشر اختتام بر دوازده وصیت نموده شد.
این صحیفه زرین که مشتمل است بر وصایای اور رنگ زیب عالمگیر بادشاه نوشته سید احمد حسن امینی حسب الارشاد عالیجناب مولوی حافظ احمد علی خان صاحب شوق سردار ڈیوریات و ناظم کتب خانه ریاست رامپور میرزا محمد حسین ابن میرزا محمد علی خوشنویس کشمیری در ماه محرم الحرام ۱۳۳۸ ه بتذهیب و نقوش آراسته نمود.
بحوالہ رضا لاںٗبریری جنرل ۷۔۶۔۲۰۰۲ء
ترجمه: وصیت نامه اورنگ زیب عالمگیر بادشاہ
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد الله والسلام على عباده الذين اصطفى
پهلی و صیت
یہ ہے کہ : اس گناہگار کی تجہیز جو گناہوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ (سلسلہ چشتیہ کے (بزرگ)، ان پر اللہ کا سلام ہو، کے پاک اور مقدس مزار کے پاس کی جائے اس لئے کہ گناہوں کے سمندر میں ڈوبے ہوؤں کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ اس درگاہ غفراں پناہ سے التجا کریں۔ اس عظیم سعادت کا سامان فرزند ارجمند بادشاہ زادہ عالیجاہ کے پاس ہے۔
دوسری وصیت
یہ ہے کہ: چودہ روپے بارہ آنے جو ٹوپیاں سی کر حاصل ہوئے تھے۔ عالیہ بیگم محلدار کے پاک ہیں ان سے لے لیں اور اس بیچارے کے کفن میں خرچ کریں۔ اور تین سو روپے قرآن مجید کی کتابت سے صرف خاص میں ہیں وہ فقیر کی وفات کے دن فقیروں کو دے دیں، چونکہ قرآن شریف کی کتابت کی اجرت میں حرمت کا شبہ ہے اسے کفن کی ضرورت میں خرچ نہ کریں۔
تیسری وصیت
یہ ہے کہ : ہائی جو ضرورت ہو وہ بادشاہ زادہ عالیجاہ کے وکیل سے لے لیں، اس لئے کہ اولاد میں جو وارث ہیں ان میں زیادہ قریب وہی ہیں۔ اس رقم کے ) حرام و حلال ہونے کی ذمہ داری ان کی ہو گی اس بیچارے سے اس کی باز پرس نہیں ہوگی اس لئے کہ مردہ بدست زندہ ۔
چوتهی و صیت
یہ ہے کہ : گمراہی کی وادی میں اس بھٹکنے والے کو ننگے سردفن کریں۔ اس لئے کہ تبہ روزگار گناہ گار کو عظیم الشان بادشاہ کے سامنے ننگے سر لے جاتے ہیں، اس سے امید ہوتی ہے کہ اس پر ترس آجائے۔
پانچویں وصیت
یہ ہے کہ: تابوت کے اوپر گاڑھے کا ٹکڑا جسے گزی کہتے ہیں ڈھک دیں اور رئیسوں کی دوسری بدعتوں سے پر ہیز کریں۔
چهٹی وصیت
یہ ہے کہ : والی ملک ان بے سہارا خانہ زادوں کے ساتھ جو اس بے حیا گناہ گار کی رفاقت میں دشت و صحرا کی خاک چھانتے رہے ہیں اچھا سلوک کرے اور اگر ان سے بظاہر کوئی قصور ہو جائے تو معاف کرنے کی کوشش کرے اور اسے اپنے احسان سے ڈھک لے۔
ساتویں وصیت
یہ ہے کہ : متصدی بننے کے لئے ایرانیوں سے بہتر دوسرا کوئی نہیں اس لئے کہ عرش آشیاں (شاہجہاں) کے وقت سے اب تک اس فرقے نے میدان جنگ سے منھ نہیں موڑا ہے اور ان کے پائے استقامت کبھی نہیں ڈگمگائے ہیں، اس کے علاوہ انہوں نے کبھی سرکشی اور نمک حرامی بھی نہیں کی ہے۔ مگر یہ لوگ بہت عیش پسند ہوتے ہیں ان سے نبھانا مشکل ہے پھر بھی ہر حال میں نبھانا چاہیئے اور کجد ارو مریز کا طریقہ کام میں لانا چاہئے۔
آٹھویں وصیت
یہ ہے کہ: سادات با سعادات کے ساتھ اس آیت کریمہ کے بموجب قُل لا اسئلكم عليه أجراً إلا المُؤدَّةَ في القُربى عمل کرتے ہوئے ان کے احترام اور رعایت میں کمی نہ کریں اس لئے کہ اس جماعت کی محبت اجر رسالت ہے اس میں ہرگز کوتا ہی نہ ہو کہ اس کا نتیجہ دین و دنیا میں خسارہ ہے۔ لیکن احتیاط کریں اور ان کے ظاہری منصب کو زیادہ نہ بڑھائیں کیونکہ یہ شریک غالب اور ملک کے طالب ہیں اگر انہیں ڈھیل دی گئی تو ندامت ہو گی اور کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
نویں وصیت
یہ ہے کہ : قوم شیوخ کے شرفاء کے ساتھ بہت نرمی ، خاطر داری ، اور پوشید و طور سے سلوک و احسان کرنا چاہئے ، سوائے ان جرائم کی سزا کے جن سے درگزر کرنے کی گنجائش نہ ہو، ان کے دلوں کو نہ دکھایا جائے اس لئے کہ ہم نے اس قوم کو بہت آزمایا ہے اور ان میں سے ہر شخص کو وفاداری اور حمیت میں فرد پایا ہے، وہ صدق وصفا کے راستے میں ثابت قدم رہے ہیں اور گویا الانسان عبيد الاحسان کا مصداق یہی لوگ ہیں اور بس۔ معاف کرنا اس قوم کے حق میں سزا سے بہتر ہے، اور ان کی پکڑ دھکڑ کرنا بہر حال غلط ہے۔
دسویں وصیت
یہ ہے کہ: جہاں تک ممکن ہو والی ملک کو یہ لازم ہے کہ وہ خود کو حرکت ( چلنے پھرنے) سے معاف نہ رکھے۔ کسی ایک مقام پر جم کر بیٹھنے سے پر ہیز کریں اس میں بظاہر تو آرام کی صورت ہے مگر واقع میں یہ ہزار مصیبت اور رنج کا سبب ہوتا ہے۔
گیارھویں وصیت
یہ ہے کہ : بیٹوں پر ہر گز بھروسہ نہ کریں اور ان کے ساتھ مصاحبانہ زندگی ہرگز نہ گزاریں اس لئے کہ اگر اعلیٰ حضرت (شاہجہاں) دارا شکوہ کے ساتھ ایسا سلوک نہ کرتے تو یہاں تک نوبت نہ پہنچتی۔
بارھویں وصیت
یہ ہے کہ: والی ملک کو چاہئے کہ جو خاص متوسل ، مقرب اور پرانے ملازم ہیں ان کے ساتھ بہت زیادہ نرمی اور دل جوئی کا برتاؤ کرے اور کسی شدید ضرورت کے بغیر سزادے کر ان کے دل کو نہ دکھائے اس لئے کہ ان کی خوش دلی سے بہت سے کام نکلتے ہیں اور ان کا نا خوش ہونا کسی وقت آزار پہنچا سکتا ہے۔
بطور تبرک بارہ اماموں کے نام پر یہ بارہ وصیتیں کی گئیں۔
[1] ۲۸ اکتوبر ۲۰۰۰ کو میں آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کا چودہواں اجلاس میں شرکت کے لئے بنگلور گیا تو مخلص بھائی حافظ عطاء الرحمن صاحب کے اصرار پر بر اور خلیل الرحمن صاحب کے ہمراہ میسور بھی گیا۔ ڈاکٹر ناصر احمد صاحب کے گھر پر قیام رہا، میسور کے جملہ آثار کو دیکھا۔ ٹیپو سلطان کے قلعہ میں جہاں ایک تاریخی مسجد ہے، وہاں ایک قدیم مندر بھی ہے، اگر ٹیپو سلطان بت شکن اور متعصب ہو تا تو اس کے قلعہ میں سری رنگناتھ کا عظیم الشان مندر کیسے باقی رہ جاتا، مجھے اندرون قلعہ اس مندر کو دیکھ کر ٹیپو سلطان کی مظلومیت پر بڑا ترس آیا۔ اور خیال آیا کہ آج کل مسلمانوں اور مسلم سلاطین و امراء کی کردارکشی کس سطح پر کی جارہی ہے، (قاسمی)
[2] ہندوستان میں قومی یکجہتی کی روایات ص ۱۹
[3] یہ قانون شاہ جہاں بادشاہ کے عہد میں جاری ہوا تھا ، صورت حال یہ پیش آئی تھی کہ ایک مقام پر وہ قدیم مندر تھے ، اس مقام پر بعض لوگوں نے تیسرا مندر بھی تعمیر کر نا شروع کر دیا، جس سے وہاں کے ہندوؤں میں باہمی اختلاف ہوا، جب اس کا علم پادشاہ کو ہوا تو بادشاہ نے وفع نزاع کی خاطر حکومت کی اجازت کے بغیر نئے مندر کی تعمیر پر پابندی کر دی، وہی قلم اور نگ زیب کے عہد تک جاری رہار فرمان ، نارس میں اس سابق حکم کا اعادہ ہے نہ کہ کوئی نیا حکم (قاسمی)۔
[4] تاریخ کی سچائیاں ص ۳۶