شریعت و تصوف - 1
حضرت مولانا شاہ محمد مسیح اللہ خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مولانا شاہ محمد مسیح اللہ خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حضرت حکیم الامت قُدِّسَ سِرُّہُ [1]کی جانب سے بَشَارَتِ مَنَامِی[2]
یہ کتاب جو مسائل تصوف کا خلاصہ اور نچوڑ ہے پہلے ایوانِ طریقت کے نام سے شائع ہوتی رہی ہے۔ اب مزید تَوْضِیْح و تفصیل کے ساتھ لکھی گئی ہے۔ جن ایام میں کتاب میں حضرت والا دَامَتْ بَرَکَاتُہُم[3] اِضَافَات فرما رہے تھے، مولوی سید غلام محمد صاحب افریقی نے مؤرخہ ۸ شعبان ۱۳۸۸ھ جمعہ کی شب میں ڈھائی بجے کے قریب یہ خواب دیکھا تھا کہ حضرت حکیم الامت قُدِّسَ سِرُّہُ خانقاہ میں سِہ دَرِی[4] میں اپنی نِشَسْت گاہ میں تشریف فرما ہیں، مجلس ہو رہی ہے۔ سفید رنگ کے گدے پر آپ تشریف فرما ہیں اور آپ کا بَیْد[5] سامنے رکھا ہوا ہے، مجلس میں کافی حضرات موجود ہیں حضرت حکیم الامتؒ نے فرمایا کہ مولانا (مسیح الامت) کی کوئی کتاب آئی ہے، اہلِ مجلس میں سے ایک صاحب نے جو جسم میں ذرا لمبے تھے اور گول ٹوپی پہن رکھی تھی عرض کیا، جی بڑے ابا جی آئی ہے اور انہوں نے سِہ دَرِی سے مُتَّصِل کتب خانہ سے لا کر حضرت والا کی کتاب ایوانِ طریقت حضرت حکیم الامت کی خدمت میں پیش کر دی۔ حضرت حکیم الامت قُدِّسَ سِرُّہُ نے کتاب لے کر پہلے اسے بوسہ دیا پھر پیشانی سے لگایا اور سر پر رکھا اور اس کے بعد کتاب کو کھولا تو صفحہ ۲۵ کھلا اور بھی چند مقامات سے آپ نے کتاب کو ملاحظہ فرمایا اور پھر فرمایا کہ مولانا (حضرت مسیح الامت) کہاں ہیں، اس کتاب کا نام تو شریعت و تصوف ہونا چاہیے۔
جس وقت حضرت حکیم الامت نے یہ ارشاد فرمایا، حضرت والا بھی میرے سامنے ہی تشریف فرما تھے۔ حضرت حکیم الامت کے اس ارشاد پر سب نے سُکُوت کیا۔ مولوی غلام محمد صاحب موصوف کو کتاب کی اشاعت کا بہت اِشْتِیَاق اور فکر تھا انہوں نے اپنا یہ خواب حضرت والا دَامَتْ بَرَکَاتُہُم کی خدمت میں عرض کیا تو حضرت والا نے یہی نام شریعت و تصوف کتاب کا بدل دیا، ضخامت[6] اور تفصیل کے اعتبار سے پہلے کی نسبت اتنے اِضَافَات فرما دیئے ہیں کہ اس کے اعتبار سے بھی اب یہ ایک مستقل کتاب بن گئی ہے۔
کتاب کے شروع میں حضرت مسیح الامت کی حیاتِ طیبہ کے چند نقوش اس کمترین کے قلم سے ہیں۔ حضرت والا دَامَتْ بَرَکَاتُہُم کے جو واقعات و حالات لکھے ہیں وہ اپنی بِسَاط کے مطابق عقیدت مندانہ غُلُو[7] سے بالکل بچتے ہوئے پوری تحقیق و تصدیق کے ساتھ لکھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماویں، اور اس ناچیز کیلئے ذریعہِ نجات فرما دیں۔
غرض نقشی است کز ما یاد ماند کہ ہستی را نمی بینم بقائے[8]
بندہ رشید احمد میواتی
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم
جناب حضرت مولانا شاہ محمد مسیح اللہ صاحب نُورَ اللّٰہُ مَرْقَدَہٗ حکیم الامت، مجدد الملت حضرت مولانا شاہ محمد اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے وہ خلیفۂ خاص تھے، جن کو حق تعالیٰ نے اس قَحْطُ الرِّجَال کے دور میں دعوتِ دین و خدمتِ خلق کے لیے بالخصوص حضرت مجدد تھانویؒ کے فُیُوْض و مَعَارِف کی نشر و اشاعت کے لیے منتخب فرما لیا تھا۔ آپ اپنی ہر مجلس میں عجیب و غریب انداز میں شریعت و طریقت کی حقیقت اور اس کے مختلف نَشِیْب و فَرَاز سے اپنے مُتَعَلِّقِیْن کو مُسْتَفِیْض فرماتے رہتے تھے۔
ہر زمانے کے مُصْلِحِیْن نے طَالِبِیْنِ طَرِیْقَت کی تہذیبِ اخلاق اور اصلاحِ نفس کے لیے ان کے حال و مزاج کے مطابق تدابیر تجویز فرمائی ہیں، چونکہ دورِ حاضر میں ہماری زندگی بہت ہی پیچیدہ اور مصروفیاتِ زندگی بہت زیادہ ہوگئی ہیں۔ لہٰذا اس دور میں سَالِکِیْن کے لیے آسان اور سَرِیْعُ الْاَثَر تدابیر کی ضرورت ہے، جن کو آسانی کے ساتھ اختیار کیا جا سکے۔
چنانچہ حضرت والا نے طالبین و سالکین کے مَشَاغِلِ زندگی کا اندازہ فرماتے ہوئے بہت مختصر، جامع اور نافع دَسْتُوْرُ الْعَمَل تجویز فرمایا، جو انشاء اللہ تعالیٰ حصولِ مقصود کے لیے نہایت کَافِی و شَافِی ثابت ہوگا۔ حق تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کی توفیق عطا فرماویں اور حضرت والا نور اللہ مرقدہ کو دَرَجَاتِ عَالِیَہ سے نوازیں۔
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ حضرت والا نور اللہ مرقدہ عجیب و غریب انداز میں شریعت و طریقت کی حقیقت اپنی ہر مجلس میں بیان فرماتے تھے، چنانچہ آپ نے طالبین و سالکین کے لیے فنِ تصوف پر مکمل و مُدَلَّل اور جامع کتاب تالیف فرمائی، جو پہلے "اَیْوَانِ طَرِیْقَت" کے نام سے شائع ہوتی رہی ہے، بعد میں حضرت حکیم الامت مولانا تھانویؒ نے خواب میں اس کتاب کا نام "شریعت و تصوف" تجویز فرمایا، چنانچہ حضرت مسیح الامت نے کتاب کا نام "شریعت و تصوف" رکھا اور اتنے اضافہ فرما دیئے کہ مستقل ایک کتاب ہو گئی اور عرضِ مؤلف کے عنوان سے حضرت نے جو کچھ تحریر فرمایا اس کو مَن و عَن یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
اللہ ہمیں اس کی قدر کرنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور حضرت والا کی قبر کو نور سے منور فرمائے۔ آمین
ابوطلحہ ندوی مظاہری
(۱۵/۳/۲۰۱۰ء)
برائے شریعت و تصوف
باسمِہٖ تعالیٰ جَلَّ شَانُہٗ
الحمد للہ علیٰ احسانِہٖ شریعت و تصوف جلد اول کی دوبارہ اشاعت کا شرف حاصل ہورہا ہے، عمدہ کِتَابَت و طَبَاعَت کے ساتھ ساتھ حضرت مُرْشِدِ نَامْدَار مسیح الامت نور اللہ مرقدہ نے جس اِخْلَاص و لِلّٰہِیَّت کے ساتھ اس کو مرتب فرمایا اس کا ثمرہ یہ ظاہر ہوا کہ بہت تیزی سے جلد اول ختم ہوگئی، اور اب اس کی دوبارہ طلب ہونے لگی: بار بار اصرار کے ساتھ دوبارہ اشاعت کا مطالبہ ہونے لگا۔ بعض علاقوں میں یہ ایک مجلس میں ایک سو کی تعداد میں فروخت ہو گئی اور ایک مرتبہ تو عجیب و غریب واقعہ پیش آیا کہ ضلع کھگڑیا (بہار) کے ایک گاؤں میں ایک مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں جلسہ ہور ہا تھا، یہ سوچ کر کے دیہات ہے کیا فروخت ہوگی، صرف چند نسخے ساتھ لے کر گیا، تقریر کے بعد عام چندہ کا اعلان ہورہا تھا میں نے اعلان کیا کہ شریعت و تصوف کے چند نسخے لایا ہوں، اس کو خریدیں، میں اس کی ساری رقم تعمیر مسجد میں دے دوں گا۔
خیال تھا کہ ۷/۵ سو روپئے جمع ہوں گے، مگر اعلان کے بعد عجیب وغریب حالات پیدا ہو گئے کہ ایک نسخہ ۵۰۰۰ / ہزار میں اور ایک نسخہ ۳۰۰۰۰/ اور باقی نسخے ۲۰۰/۱۰۰ میں فروخت ہوئے، ساری کتابیں جب فروخت ہو گئیں تو چلتے وقت سارے نسخے یہ کہہ کر واپس کر دیئے گئے، اس کو ساتھ لے جائیے، اور اہلِ علم حضرات کو ہدیہ کر دیجئے، میں اس واقعہ کو حضرت مسیح الامت نور اللہ مرقدہ کی زندہ کرامت کہتا ہوں، اللہ تعالیٰ حضرت کے دَرَجَاتِ عَالِیَہ کو بلند تر فرماتا رہے، اور حضرت کے فیض کو ان کے خُدَّام کے ذریعہ ہَمَہ گِیْر و عَالَمْگِیْر فرمائے آمین۔ دوبارہ اشاعت میں صِحَّت کی طرف توجہ دی گئی ہے، اور مختصر سوانح میں قدرے اضافہ کیا گیا ہے، جو کسی اور کتاب میں نہیں ہے۔
شریعت و تصوف جلد ثانی کا بھی ارادہ ہے۔ جلد ثانی کے مضامین بہت بلند و عالی ہونے کے ساتھ حَالِی بھی ہیں اور سب کا باطنی حال یکساں نہیں ہوتا ہے، اس کی زبان و طرزِ بیان خالص علمی بھی ہے، اس لیے میں نے مَخْدُوْمِ مُکَرَّم جناب الحاج حضرت مولانا عقیل الرحمن صاحب دامت برکاتہم استاذ حدیث و فقہ و معلمِ قدیم جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد مظفر نگر سے درخواست کی، اس کے مُغْلَق الفاظ کا آسان ترجمہ اور اصطلاحات کی مختصر تشریح فرمادیں، میں آن مکرم کا بہت ہی مشکور ہوں کہ با وجود ضُعْف و پِیْرَانَہ سَالِی کے درخواست کو قبول فرمایا اور کام بھی شروع کر دیا ہے۔ وَاللّٰہُ الْمُوَفِّقُ وَالْمُسْتَعَان
اس کام کے لیے وہاں جلال آباد میں مولانا موصوف سے بہتر کوئی آدمی ملنا مشکل تھا، مولانا ایک عرصۂ قدیم سے حضرت مسیح الامت نور اللہ مرقدہ کی صحبت میں رہے ہیں اور سُلُوْک طے کیا ہے حضرت کے قرب کی نعمت میسر رہی اور ۳۵/ ۴۰ سال تک حَاضِر بَاش رہنے کی وجہ سے مِزَاج شِنَاس بھی ہو گئے تھے۔ تسلسل کے ساتھ حاضری کی برکت سے حضرت کے ارشادات و فرموداتِ عالیہ کا فَہْم بھی حاصل ہے، اور حضرت کے مضامین کی تَسْہِیْل کا کام بھی بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ اس لیے جلد ثانی کے لیے ان کا انتخاب بَرْمَحَل اور بالکل مناسب تھا۔ اللہ تعالیٰ مولانا موصوف کو جزائے خیر عطا فرمائے اور اپنی بارگاہ میں قُرْب و قَبُوْل سے نوازے آمین۔
اَز مَوْلَانَا رَشِیْد اَحْمَد صَاحِب مِیْوَاتِی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّيْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
اللہ رب العزت نے اپنے مُنْعَم عَلَیْہِمْ[10] بندوں کی راہ پر چلنے کی دُعا کی تعلیم سورۂ فاتحہ میں اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ کے اندر فرمائی ہے جسے بندۂ مومن نماز کی ہر رکعت میں مانگتا ہے اور انہیں مُنْعَم عَلَیْہِمْ مُقَرَّبِیْنِ بارگاہِ قُدْس[11] کی اِتِّبَاع کا حکم اللہ رب العزت نے وَاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ کے اندر فرمایا ہے انہیں اَنْفَاسِ قُدْسِیَّہ[12] کی صُحْبَتِ بابرکت میں خدا ملتا ہے، انہیں کی کِیْمِیَاء اَثَر[13] نظروں سے تَزْکِیَۂِ نَفْس اور تَرْبِیَتِ بَاطِن ہوتی ہے جس پر فَلاحِ دَارَیْن[14] موقوف[15] ہے جیسا کہ ارشادِ باری ہے: قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰهَا۔ اسی لئے کہا ہے: [16]
نہ کتابوں سے نہ وعظوں سے نہ زر سے پیدا دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا [17]
یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے مؤمنین کو تقویٰ کے ساتھ صالحین کی مَعِیَّت کا حکم فرمایا چنانچہ ارشاد ہے: یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِيْنَ۔[18] چونکہ اصل تقویٰ صالحین کی صحبت و مَعِیَّت ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ اسی لئے کہا ہے : ؎
یک زمانہ صحبت با اولیاء بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا[19]
لہٰذا چونکہ فَلاحِ دَارَیْن اہل اللہ کی صحبت پر مَوْقُوْف ہے اسی لئے سلف سے یہ طریق چلا آ رہا ہے کہ ان مقبولین و صادقین کے حالات و حکایات، مَلْفُوْظَات و مَکَاتِیْب، مجالس و مَوَاعِظ کو ان کے خُدَّام مُسْتَفِیْدِیْن [20]نے قلم بند کیا ہے، جس سے بعد کے آنے والے بَنْدَگَانِ خدا بھی مُسْتَفِیْض[21] ہوتے رہے اور ہوتے رہیں گے۔ چونکہ جن اَوْصَافِ حَمِیْدَہ کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں چاہتے ہیں ان تمام اوصاف کا مجموعہ شریعت و طریقت کا عملی نمونہ انہیں اہل اللہ کی زندگیوں میں ملتا ہے۔ اسی لئے خیال ہوا کہ مرشدی و استاذی مسیح الامت حضرت مولانا مسیح اللہ صاحب دَامَتْ فُیُوْضُہُم[22] کی حَیَاتِ طَیِّبَہ کے چند نقوش حسبِ قاعدہ مَا لَا يُدْرَكُ كُلُّهُ لَا يُتْرَكُ كُلُّهُ[23] لکھے جائیں۔ جس سے طالبینِ اہلِ سلسلہ خصوصاً اور جَمِیْع مسلمین عموماً مُسْتَفِیْد ہوں۔ ان چند سطروں کی کیا بِسَاط ہے۔ حضرت والا دَامَتْ بَرَکَاتُہُم کو اللہ تعالیٰ نے جن کمالات سے نوازا ہے ان میں سے ہر ایک کیلئے ایک دفتر درکار ہے، اگر مستقل لکھا جائے تو ایک ضَخِیْم کتاب تیار ہو جائے، گو اِحْصَاء [24]پھر بھی ناممکن ہے ۔ بقول حضرت سعدی علیہ الرحمۃ ؎
نہ حُسنش غایتی دارد نہ سعدی را سُخن پایاں بمیرد تشنہ مُسْتَسْقِی و دریا ہم چناں باقی[25]
مگر اس خیال سے کہ اپنا بھی نام آپ کے تذکرہ نگاروں میں ہو جائے کیا عجب ہے کہ یہی نِسْبَت باعثِ نجات بن جائے ۔ وَمَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيْزٍ ۔[26] آپ کی حَیَاتِ طَیِّبَہ کے یہ چند نقوش لکھے ہیں: ؎
غرض نقشی است کز ما یاد ماند کہ ہستی را نمی بینم بقائے
مگر صاحبدلے روزے برحمت کند در کارِ مسکینے دُعائے[27]
واضح رہے کہ جو حالات لکھے ہیں وہ خود براہِ راست حضرت والا دَامَتْ بَرَکَاتُہُم سے سُن کر لکھے ہیں اور جو واقعات دوسرے حضرات سے سُنے وہ حضرت والا کو سُنا کر تَصْحِیْح کرانے کے بعد لکھے ہیں اور پھر دوبارہ لکھنے کے بعد بھی تمام واقعات کو حضرت والا کو سُنا دیا گیا ہے 。 حَتّیٰ الاِمْکَان اپنی طرف سے اس کی پوری کوشش کی ہے کہ صحیح واقعات و حالات لکھے جائیں ۔
مُژْدَہ اے دل کہ مَسِیْحَا نَفَسِیْ میآید
کہ زَانْفَاسِ خوشش بوئے کسے میآید[28]
آپ کی وِلَادَتِ شَرِیْفَہ ۱۳۲۹ھ یا ۱۳۳۰ھ میں آپ کے وطن سرائے بَرْلَہ تحصیل اَتْرَوْلِی ضلع علی گڑھ میں ہوئی، بِالتَّعْیِیْن[29] بَقَیْدِ ماہ و سال تاریخِ ولادت معلوم نہ ہوسکی ۔ حضرت والا نے تاریخِ ولادت کے متعلق اِسْتِفْسَار پر فرمایا کہ بالتعیین تاریخِ ولادت لکھی ہوئی نہیں ہے ۔
آپ کا نامِ نامی مَسِیْحُ اللّٰہ خاں رکھا گیا، گویا اِعْجَازِ مَسِیْحَائِی[30] کے وصف کو مِنْجَانِبِ الْغَیْب آپ کے اِسْم بَا مُسَمّٰی[31] ہی میں مُضْمَر کر دیا گیا ۔ اکثر اسم کا اثر مُسَمّٰی پر ہوتا ہے مگر آپ پر تو یہ اثر اس درجہ غالب ہے کہ آپ تو سَرْتَاپَا مسیح ہیں ۔ کتنے ہی اہلِ درد مَرِیْضَانِ دِل ہیں جن کی آپ ہر وقت مسیحائی فرماتے رہتے ہیں ۔ کتنے شکستہ دل ہیں جن کی آپ دل جوئی فرماتے ہیں ۔ کتنے بچے ہیں جن کیلئے آپ کی شَفْقَت ماں باپ سے بڑھ کر ہے اور آپ کی شفقتوں نے انہیں اُن کے ماں باپ کو بھلا دیا ہے، کتنی مخلوق ہے جن کی آرزوؤں اور تمناؤں کا مرکز آپ کی ذَاتِ سُتُوْدَہ صِفَات [32]ہے ۔ کتنے اہلِ حاجت ہیں جن کی آپ حَاجَت رَوَائِی فرماتے ہیں ۔ کتنی آنکھیں ہیں جن کے آنسو آپ کے دیدار سے تھم جاتے ہیں ۔ کتنے ہی اَفْسُرْدَہ چہرے ہیں جو آپ کے اَلْطَاف سے کھل جاتے ہیں ۔ کتنا سچا ہے اس کا قول جس نے آپ کا اسمِ گرامی مسیح اللہ رکھا ۔
آپ کا تعلق شیروانی خاندان سے ہے جو ہمیشہ سے بہت سی خصوصیات کی وجہ سے پٹھانوں میں ممتاز چلا آیا ہے ۔ اس خاندان میں بڑے بڑے رُؤَسَا و اُمَرَاء[33] اہلِ جاگیر و ریاست اَرْبَابِ فَن و اہلِ کمال صوفیاء و اہلِ اللہ پیدا ہوئے ۔ گویا یہ خاندان ہی کَانِ کَمَال[34] ہے، جس میں ہمیشہ اہلِ کمال پیدا ہوتے رہے، اسی خاندان میں بڑے بڑے امراء ہوئے، جن کو شاہانِ ہند کے درباروں میں بڑا شرف و مرتبہ نصیب ہوا، اور بڑے بڑے خطابات و انعامات سے سرفراز ہوتے رہے، جن میں سکندر خاں شیروانی، عمر خاں شیروانی، سیف خاں شیروانی، فیروز خاں شیروانی اور نواب مرسل اللہ خاں شیروانی اور ان کے علاوہ بہت سے امراء خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ پیشہ ہمیشہ جاگیر داری و زمینداری رہا ۔
گو یہ شیروانی خاندان پٹھان مشہور ہے، مگر تحقیق یہ ہے کہ آپ کا یہ شیروانی خاندان اصل سے سَیِّد ہے۔ چونکہ اس خاندان کے جَدِّ اعلیٰ سید حسین غوری رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ مطابق بیان حاجی عباس خاں شیروانی مُؤَلِّف شیروانی نامہ خلیفہ عبدالملک کے زمانے میں سید حسین غوری غور سے نکل کر کُوْهِ سُلَیْمَان کے جِوَار[35] میں بِٹَن بن قیس عبدالرشید کے ہاں آ کر رہے جو کہ پٹھان تھے چنانچہ لکھتے ہیں ۔ "خلیفہ عبدالملک بن مروان کے زمانے میں سید شاہ حسین غوری کسی وجہ سے غور سے نکل کر کُوْهِ سُلَیْمَان کے جِوَار میں بِٹَن بن قیس عبدالرشید کے یہاں آ کر رہے۔ شیروانی نامہ ص۱۹"۔ ان سید شاہ حسین غوری نے ان پٹھانوں میں آ کر اپنی شادی بھی بِٹَن بن قیس کی صاحبزادی مَتُّو سے کر لی جن سے دو صاحبزادے پیدا ہوئے۔ لودی اور سَرْوَانِی۔ سَرْوَانِی کی جو اولاد آگے چلی وہ سَرْوَانِی کہلائی اور بعد میں کَثْرَتِ اِسْتِعْمَال کی وجہ سے شِیْرْوَانِی لقب مشہور ہو گیا۔ چنانچہ صاحب شیروانی نامہ لکھتے ہیں ۔ "سید حسین شاہ غوری کی اولاد ہونے کے لحاظ سے لودی اور شیروانی دونوں سید ہیں، مگر مُؤَرِّخِیْن نے ان کا شمار پٹھانوں میں اس وجہ سے کیا کہ دونوں نے بِٹَن بن قیس کی اولاد کے ساتھ پٹھان کے گھر میں پرورش پائی اور ان کی ماں مَتُّو بھی پٹھان کی اولاد سے تھی۔ شیروانی نامہ ص۲۰ ۔ صاحبِ شیروانی نامہ کی تحقیق ہے کہ یہ خاندان محمود غزنوی کے ساتھ ہندوستان میں آیا اور پھر یہیں بُوْد و بَاش اختیار کر لی ۔
وَمَا حُبُّ الدِّيَارِ شَغَفْنَ قَلْبِیْ وَلٰکِنْ حُبُّ مَنْ سَکَنَ الدِّيَارَ[36]
آپ کا وطن شریف سرائے برلہ تحصیل اترولی ضلع علی گڑھ ہے ۔ سرائے برلہ کے متعلق مؤلف شیروانی نامہ لکھتے ہیں: "یہ موضع برلہ کا مَزْرَعَہ[37] ہے، مگر آبادی دونوں جگہ کی متصل ہے اور ایک دوسرے کے قریب ہے جیسا کہ نام سے معلوم ہوتا ہے ۔ اسلامی عہد میں کبھی بسایا گیا مگر یہاں ہندو عہد کی کوئی پرانی آبادی تھی، کیونکہ راقم الحروف.نے موسمِ برسات میں راستہ میں درمیان سے مٹی ہٹ جانے کے بعد پرانے زمانے کی بہت بڑی پختہ اینٹیں دیکھی ہیں، جہاں ایک شکستہ مندر گوسائیوں کا تھا اور اب تک دو گوسائیں خاندان آباد رہے۔ اس کی آبادی کے قریب جانبِ شمال مغرب گنجِ شہیداں[38] ہے، جہاں کئی ایک شہداء کے مزار ہیں۔ یہ نہیں معلوم کہ کس زمانے کے ہیں، اس سے آگے اور موضع مدالپور کے قریب ایک پرانا کھیڑا [39]ہے، جہاں پرانی آبادی کے نشانات ہیں۔ شیروانی نامہ ص ۴۰۳ آپ کا شَجَرَۂِ نَسَب آپ کے موضع سرائے برلہ کے مُوْرِثِ اَعْلٰی صفات خاں تک مُؤَلِّف شیروانی نامہ نے اس طرح لکھا ہے: مولانا مسیح اللہ خاں بن احمد سعید خاں بن جیون خاں بن شہباز خاں بن مَمْرَیْز خاں بن صفات خاں ۔
نوٹ: مزید تفصیل کے ساتھ آپ کے شیروانی خاندان کے تاریخی حالات شیروانی نامہ، مُؤَلَّفَہ حاجی عباس شیروانی میں ملاحظہ فرمائیں ۔
آپ مَادَرْ زَاد ولی تھے، اور بچپن ہی سے سَعَادَت و نَجَابَت[40] کے اَوْصَافِ حَمِیْدَہ آپ کے اندر وَدِیْعَت کئے ہوئے تھے ۔ حُسْنِ صُوْرَت کے ساتھ حُسْنِ سِیْرَت کے بھی تمام کمالات اللہ رَبُّ الْعِزَّت نے آپ کی فِطْرَتِ سَلِیْم کے اندر ودیعت[41] فرما دیئے تھے ۔ ؎
بالائے سرش زِ ہوش مندی می تافت ستارۂ بلندی[42]
آپ کا خاندان بہت ہی با اثر و با ثَرْوَت تھا، اسی رَئِیْسَانَہ ماحول میں جہاں تَہْذِیْب و شَائِِسْتَگی، آداب و اخلاق گُھٹّی میں پلائے[43] جاتے تھے آپ نے پرورش پائی ۔ آپ کے والدِ ماجد احمد سعید خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ نہایت ذَکِیْ قابل، با اثر اور بہت بڑی اِنْتِظَامِی صَلَاحِیَّتوں کے مالک تھے۔
چنانچہ حضرت والا نے فرمایا کہ :
والد صاحب کا ذہن انتظامی معاملات میں بہت چلتا تھا۔ چنانچہ جب کسی رَئِیْس کا گاؤں بگڑتا تھا تو اس کے انتظام کو سنبھالنے کے لئے انہیں کو بلایا جاتا تھا وہ جاکر سنبھالتے تھے، اسی طرح شادیوں کا انتظام بھی اکثر انہیں کے سپرد کیا جاتا تھا اور ہمارے تایا صاحب بہت پڑھے لکھے اور نازک مزاج آدمی تھے، البتہ والد صاحب نازک مزاج نہیں تھے، موٹا کھاتے تھے اور موٹا پہنتے تھے۔
بچپن ہی میں آپ کو ذکر و نَوَافِل، نمازِ پنجگانہ کا بہت شوق تھا چنانچہ راتوں کو اُٹھ کر تَهَجُّد پڑھتے، ذکر کرتے اور دعائیں مانگا کرتے تھے نماز پنجگانہ کے علاوہ نوافل تہجد وغیرہ کی اہتمام کے ساتھ پابندی فرماتے تھے۔ نماز ہمیشہ مسجد میں بَاجَمَاعَت پڑھتے تھے۔ آپ کی پابندی فرمانے کا یہ اثر تھا کہ اتفاق سے کبھی اگر کسی وجہ سے آپ کو مسجد پہنچنے میں جماعت کے وقت پر دیر ہو جاتی تو نمازی آپ کا انتظار کیا کرتے تھے۔ نفل نماز کی طرح آپ نفل روزے بھی اکثر رکھا کرتے تھے۔ صالحین اہلِ اللہ کی صحبت میں بیٹھنا آپ کا محبوب مُشْغَلَہ تھا۔ چنانچہ مولوی محمد الیاس صاحب مرحوم جو آپ کے دُور کے عزیزوں میں سے تھے اور حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ[44] سے بَیْعَت تھے۔ بچپن ہی میں آپ اُن کی صحبت میں بیٹھتے تھے اور اُن سے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے مَوَاعِظ دعواتِ عبدیت اور رسالہ النور وغیرہ لے کر مُطَالَعَہ فرمایا کرتے تھے ۔ انہیں مواعظ کے دیکھنے سے حضرت حکیم الامت قُدِّسَ سِرُّہُ سے آپ کو غَائِبَانَہ ہی ایسی عقیدت و محبت ہوگئی کہ بقول حضرت والا دَامَتْ بَرَکَاتُہُم پھر کسی دوسرے کیطرف خیال بھی نہیں گیا، گویا آپ اس شعر کے مِصْدَاق بن گئے ۔
ہمہ شہر پُر زِ خوباں منم و خیالِ ماہے چہ کنم کہ چشمِ یک بیں نکند بکس نگاہے[45]
بہشتی زیور کا مطالعہ آپ نے اپنے ماموں صاحب سے لے کر کیا ادھر آپ کی فِطْرَتِ سَلِیْمَہ اور ادھر حضرت تھانوی رحمۃ اللہ کے مواعظ و رسالہ النور وغیرہ کا اس عقیدت مندی کے ساتھ مطالعہ، اُس نے سُوْنے پر سُہَاگَہ کر دیا اور ابتدا ہی میں بہت اچھا دینی و علمی ذوق آپ کو حاصل ہو گیا اس کم سنی ہی کے اندر اللہ رب العزت نے حیا و ادب، وَقَار و مَتَانَت[46] سعادت و نجابت کے ان اوصاف سے نواز دیا کہ بڑے بھی آپ کا پاس و لحاظ کرنے لگے، حتیٰ کہ والد صاحب مرحوم بھی اسی پاس کی وجہ سے آپ سے حقہ نہیں بھرواتے تھے، انہیں اَوْصَافِ حَمِیْدَہ کی بنا پر آپ نے سب کے دلوں میں جگہ پالی، اور سب اہلِ بستی بِلَا اِمْتِیَاز ہندو مسلم اہلِ خاندان چھوٹے اور بڑے آپ کا لحاظ کرتے تھے ۔ اسی طرح آپ سب کے پیارے اور ہَرْ دِل عَزِیْز بن گئے ۔ ؎
ایں سعادت بزورِ بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ[47]
آپ کے والد محترم کے حقہ نہ بھروانے کے متعلق آپ نے یہ قصہ بیان فرمایا کہ والد صاحب حقہ پیتے تھے مگر اس کے باوجود مجھ سے کبھی حقہ نہیں بھرواتے تھے ۔ چنانچہ ایک مرتبہ مُنہ ڈھانک کر لیٹے ہوئے تھے میں گیا اور میں نے حقہ بھرنے کیلئے چِلَم اُتاری تو پوچھا، کون ؟ میں نے کہا نتّھا (مجھے محبت سے نتّھا کہا کرتے تھے)، فرمایا، تم نہیں پھر لیٹ گئے میں نے دوبارہ چِلَم اُتاری تو ذرا سختی سے فرمایا، نہیں رکھ دو، بِالْآخِر آپ کو حقہ نہیں بھرنے دیا۔ آپ کی دِیْنْدَارِی، اِطَاعَت شِعَارِی و سَعَادَت مَنْدِی کی وجہ سے آپ کے والد صاحب آپ کو مولوی صاحب کہا کرتے تھے۔ حضرت والا نے فرمایا کہ جب والد صاحب مجھے لحاظ کی وجہ سے مولوی صاحب کہہ کر پکارا کرتے تھے تو مجھے شرم آیا کرتی تھی ۔
فِطْرَۃً ہی آپ کی طبیعت کا رنگ ایسا تھا کہ آپ کو غَیْر مَشْرُوْع لَہْو و لَعِب گانے بجانے وغیرہ سے طَبْعِی نفرت تھی ۔ چنانچہ ایک مرتبہ کا واقعہ حضرت والا نے بیان فرمایا کہ میں گھر میں رات کو لیٹا ہوا تھا ۔ محلے میں ہندوؤں نے گانا بجانا شروع کر دیا بس میری نیند اُڑ گئی اور بے چین ہو گیا اور رونا آگیا ۔ پھوپھی صاحبہ کو اطلاع ہوئی تو انہوں نے بیٹھک (مردانہ) سے حضرت والد صاحب کو جگایا وہ اُٹھے، دریافت کیا کیا بات ہے ؟ پھوپھی صاحبہ نے میرے متعلق کہا کہ وہ رو رہا ہے ۔ اس پر والد صاحب نے کہا، یہ خواہ مخواہ ایسی باتیں کیا کرتا ہے، وہ اپنا کام کر رہے ہیں یہ اپنا کام کریں۔ عرض کیا گیا کہ اس کو بہت تکلیف ہے بند کرا دیجئے چنانچہ والد صاحب گئے لوگ بہت ڈرتے تھے، دیکھتے ہی سب بھاگ گئے۔
جنہوں نے بھی آپ کو بچپن سے دیکھا ہے، سب نے آپ کے مَادَرْ زَاد ولی، نیک فطرت، پاک طِیْنَت[48] و سعادت مند ہونے کی شہادت دی ہے اور آپ کے مَدَّاح رہے ہیں۔
انہیں میں سے حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب لکھنوی قُدِّسَ سِرُّہُ ہیں جن سے بندہ راقم الحروف کو شَرَفِ تَلَمُّذ و خصوصی طور پر خدمت میں رہنے کی سعادت حاصل ہے۔ حضرت مفتی صاحب موصوف نے حضرت والا کی حیاتِ طیبہ کو بچپن سے لے کر آخر تک دیکھا اور حضرت والا کے اُستاد بھی تھے۔ کئی سال تک آپ نے حضرت مفتی صاحب سے پڑھا تھا۔ مفتی صاحب نے مُتَعَدِّد بار بندہ سے آپ کے متعلق فرمایا کہ
"یہ (حضرت والا) بچپن ہی سے حیا و ادب، وقار و حِلْم، ذَکَاوَت و ذہانت کے اَوْصَافِ حَمِیْدَہ کے حامل ہیں۔"
حضرت مفتی صاحب خود بھی آپ کے اس درجہ معتقد تھے کہ بَاوُجُوْدِیْکَہ آپ حضرت والا کے اُستاد تھے اور علم و فضل میں یَگَانَۂِ رُوْزْگَار،[49] بہت بڑے فقیہ و محدث غرض کہ ہر فن میں آپ کو کمال حاصل تھا، پھر بھی آپ نے حضرت حکیم الامت نور اللہ مرقدہٗ کی وفات کے بعد آپ سے رُجُوْع فرمایا۔
حالانکہ حضرت حکیم الامت کی طرف سے آپ مُجَازِ صُحْبَت ہو چکے تھے۔ مگر اس کے باوجود بھی آپ سے رجوع فرمایا اور آپ کی جانب سے مُجَازِ بَیْعَت بھی ہوئے ۔
حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا آپ سے رجوع فرمانا اور آپ کے اَوْصَافِ حَمِیْدَہ کی بچپن ہی کے زمانے سے تعریف فرماتے رہنا آپ کے مَادَرْ زَاد ولی ہونے کی سب سے بڑی شہادت ہے، جیسا کہ پہلے گزر چکا، دینی کتابوں سے آپ کو ایسا شَغَف تھا کہ ابتدائی عمر میں بہشتی زیور دعوات عبدیت اور رسالہ النور وغیرہ کے پڑھنے سے آپ کو کافی دینی معلومات حاصل ہو گئیں کہ لوگ آپ سے مسائل پوچھا کرتے تھے، آپ جب کسی دینی مسئلہ کو بیان فرماتے تو سننے والوں کو ایسا محسوس ہوتا کہ گویا آپ نے کافی دینی تعلیم حاصل کی ہے، اسی سلسلہ کا ایک واقعہ یہ ہے کہ لکھنؤ میں حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھنے کے زمانے میں آپ محمد مصطفیٰ کاتب صاحب سے خُوش نَوِیْسِی کی مشق کے لیے جایا کرتے تھے اور اکثر بہت تفصیل سے دینی مسائل کو بیان فرمایا کرتے تھے تو ایک مرتبہ محمد مصطفیٰ صاحب کاتب نے دریافت کیا آپ کی دینی تعلیم کہاں تک ہے۔ آپ نے جواب میں فرمایا کہ ابتدائی تعلیم ہے کَنْز[50] وغیرہ پڑھی ہیں، اور بہشتی زیور اور حضرت تھانوی کے مواعظ کا مطالعہ کیا ہے، یہ سب حضرت تھانوی ہی کی برکت ہے تو اس پر ان کو بہت تعجب ہوا۔ بچپن میں ورزشی کھیلوں اور نشانہ وغیرہ کا بھی آپ کو شوق تھا۔ بچپن میں آپ نے تَانْت کی غُلُوْل[51] خوب چلائی، تلوار اور گَدْکَا پَھَرِی[52] میں بھی آپ کو کمال حاصل ہے اسکول میں دوڑ کے اندر بھی، چونکہ آپ کا بدن ہَلْکَا پُھلْکَا تھا، آپ اکثر ساتھیوں سے آگے رہتے تھے۔
آپ نے بچپن میں ابتدائی تعلیم دَرَجَہ شَشْتَم تک سرکاری اسکول میں حاصل کی اور اس کے ساتھ ہی بہشتی زیور اور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے مَوَاعِظ کا اَز خُد مطالعہ فرمایا، اسکول کی تعلیم میں بھی اپنے ساتھیوں سے آگے رہے اور اچھے نمبرات سے کامیاب ہوتے رہے مگر چونکہ شروع ہی سے آپ کی طبیعت دینی تعلیم کی طرف مَائِل تھی اس لئے آپ نے اسکول کی تعلیم کیطرف سے بے اِلْتِفَاتِی[53] شروع کردی۔
چنانچہ حضرت والا دَامَتْ بَرَکَاتُہُم نے فرمایا کہ والد صاحب نے اپنے شوق سے مجھے عربی پڑھانے نہیں بٹھایا تھا، میں نے ہی علی گڑھ جا کر اسکول میں کُوْتَاہِی شروع کردی۔ امتحان ہی نہیں دیا اس پر والد صاحب کو گِرَانِی ہوئی اور انہوں نے عربی کی طرف ڈال دیا۔ کافی عمر میں اپنے شوق سے ہی میں نے پڑھنا شروع کیا تھا۔ غالباً اس وقت میری عمر پندرہ سال کی تھی، جب میں نے فارسی شروع کی تھی، پھر عربی پڑھی، اسی لئے فارغ ہونے میں دیر لگی اور غالباً بائیس تئیس سال کی عمر میں فَرَاغَت ہوئی فارسی اور مشکوٰۃ تک عربی آپ نے اپنے وطن میں پڑھی اکثر کتابیں کئی سال میں مشکوٰۃ شریف تک اپنے وطن ہی میں حضرت مفتی سعید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں، اور مشکوٰۃ شریف اور ہدایہ سے لے کر دَوْرَۂِ حَدِیْث شریف تک دارالعلوم، دیوبند میں پڑھا، اور اس کے بعد بھی دو سال تک اُمُوْرِ عَامَّہ، قاضی مبارک، تَصْرِیْح، شرح چَغْمِیْنِی، سَبْعِ شِدَاد وغیرہ جُمْلَہ فُنُوْن کی آخری نصاب تک تکمیل فرمائی ۔
قِرَاءَت میں ابتدائی کتب فوائدِ مکیہ، جمال القرآن دارالعلوم میں داخل ہونے سے قبل پڑھیں اور جَزَرِی وغیرہ فن کی دوسری کتابیں آپ نے دارالعلوم میں پڑھیں ۔ زمانۂ تعلیم میں آپ کامل یَکْسُوْئِی اور پورے آداب کے ساتھ تَحْصِیْلِ عِلْم میں مُنْہَمِک رہے اِدھر حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی بَیْعَت کا تعلق ہو چکا تھا اسی وجہ سے تمام طلباء میں آپ کو ایک خصوصی اِمْتِیَاز حاصل تھا اور اساتذہ کرام آپ سے خوش رہنے کی وجہ سے آپ کا بہت لحاظ فرماتے تھے ۔
اساتذہ کرام میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنیؒ، حضرت مولانا سید اصغر حسین صاحب دیوبندیؒ حضرت مولانا اعزاز علی صاحبؒ، حضرت علامہ محمد ابراہیم صاحب بلیاویؒ، حضرت مولانا محمد رسول خاں صاحبؒ، مولانا محمد الیاس خاں صاحب برلویؒ کے اَسْمَائے گَرَامِی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
حضرت حکیم الامت نُوْرَ اللّٰہُ مَرْقَدَہٗ سے غَائِبَانَہ عقیدت تو آپ کو بہشتی زیور و مواعظ وغیرہ کے دیکھنے سے بچپن ہی میں پوری طرح ہو چکی تھی جس کے متعلق حضرت والا نے فرمایا کہ، حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے غَائِبَانَہ ایسی عقیدت تھی کہ بَاوُجُوْدِیْکَہ بہت سے مَشَائِخ کو دیکھا اور ان کے حلقہ میں بھی بَسَا اَوْقَات بیٹھنے کا اتفاق ہوا، مگر حضرت کے علاوہ کبھی کسی دوسرے کی طرف خیال بھی نہیں ہوا۔
آپ نے پہلی مرتبہ حضرت حکیم الامت کی زیارت علی گڑھ میں فرمائی جس سال آپ دارالعلوم تشریف لائے، اُسی سال آپ نے حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ سے اِصْلَاحِی تَعَلُّق قائم فرما لیا اور باقاعدہ خط و کتابت اصلاحی سلسلے کی شروع کر دی۔ پھر اُسی سال یا دوسرے سال آپ نے بیعت کی درخواست کی جس پر بعد مغرب حضرت حکیم الامتؒ نے آپ کو بیعت فرما لیا۔
اصلاحی تعلق ہونے کے بعد ہی سے آپ برابر پوری پابندی کے ساتھ حضرت حکیم الامت کی خدمت میں حالات کی اطلاع فرماتے رہے اور حَسْبِ اِرْشَاد تَبْلِیْغِ دِیْن کا مطالعہ فرمایا ۔ دارالعلوم میں طالب علمی کے زمانے میں آپ کا معمول یہ رہا کہ ۱۵ شعبان کی چھٹیوں میں امتحان سے فارغ ہو کر آپ تھانہ بھون تشریف لے آتے اور رمضان المبارک کے اخیر عشرہ میں گھر تشریف لے جاتے اور مختلف اوقات میں بھی شش ماہی وغیرہ کی چھٹیوں میں تشریف لاتے رہتے ۔
زمانۂ طالب علمی میں آپ پر عَبْدِیَّت، رحمدلی اور توحید کا بہت غلبہ ہوا آپ نے اپنا وہ حال حضرت حکیم الامت کی خدمت میں لکھا جو مع حضرت حکیم الامت کے جواب کے ذیل میں نقل کیا جاتا ہے ۔
مسیح اللہ، دارالعلوم، دیوبند ۱۹ رجب ۱۳۵۰ھ
حضرت مُرْشِدُنَا مَاوَانَا وَ مَلْجَائَنَا عَمَّتْ فُیُوْضُہُمْ[54]
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، حضرت کا یہ غلام بَدْتَر اَز خَلَائِق[55] عرصہ سے اپنے اندر ایک تَغَیُّر پاتا ہے، جس کی اطلاع کا ارادہ اسی وقت تھا مگر خیال ہوا کہ یوں ہی معلوم ہوتا ہے، خیال ہی خیال ہے کہ تغیر ہوا ہے، مگر جب عرصہ گزر گیا اور اس میں زیادتی دیکھی پھر اپنا فرض سمجھا کہ حضور والا کو اطلاع کر کے حسب ارشاد اتباع کرے کہ یہ اپنا فَرْضِ عَیْن ہے ۔ گذشتہ سال تک اپنی یہ حالت تھی کہ اگر خلافِ طبیعت کسی سے کوئی بات ہو جاتی تو بہت نَاگَوَار ہوتا تھا کہ ناراض بھی ہو جاتا اور اس کا اثر اس سال کے شروع میں بھی رہا ۔ رفتہ رفتہ اب بہت عرصہ سے یہ حالت ہے کہ خلافِ طبیعت و قاعدہ ہونے پر قلب کو تکلیف تو ہوتی ہے ۔ مگر غصہ تو کیا ناگواری بھی نہیں ہوتی یہاں تک کہ بعض دفعہ نَان بَائِی بڑی دیر سے کھانا لایا، کبھی بالکل نہیں لایا ۔ انتظار میں فَاقَہ کرنا پڑا۔ دھوبی نے وقت پر کپڑے نہ دیئے، کبھی لے نہ گیا اور کبھی خود ڈال آیا، کبھی ہاتھ سے دھو کر پہن لئے مگر ان بیچاروں سے ناراض ہونے کو غصہ کرنے کو دل نہیں چاہتا کبھی نرمی سے سمجھا بھی دیا تو خیال ہوا کہ شاید ناگواری ہوئی ہو ۔ دوسرے وقت اَحْقَر[56] معافی چاہتا ہے اور خوش کرنے کو کچھ پیسے زائد دیدیتا ہے حضرت واللہ ایسے موقع پر فوراً یہ خیال ہو جاتا ہے کہ اس غلام میں اور ان بے چاروں میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ خیال آتا ہے کہ یہ سب میرے مَحْبُوْب کے ہیں پھر تو کچھ کہنے کی ہِمَّت نہیں ہوتی، شرم آتی ہے کہ اس نالائق سے محبوبِ خدا کی کسی مخلوق کو تکلیف پہنچے، حَتَّی الِامْکَان کوشش ہوتی ہے کہ خادم سے کسی کو اِیْذَا نہ ہو، حضرت اس کا یہ اثر ہے کہ بھِڑ[57] تک کے مارنے کو دل نہیں چاہتا ۔[58] یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ نَابَکَار سب سے بدتر روز و شب خدا کی نافرمانی کرتا رہتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ معاف فرماتے رہتے ہیں، اگر گِرِفْت فرمائیں کہیں ٹھکانہ نہ رہے ۔ یہ لوگ بیچارے تیری طبیعت کے خلاف کر دیتے ہیں ۔ کیا یہ نہیں ہوتا کہ تو ضبط کرلے اور تیری طبیعت ہی کیا جو ناگواری ہو ۔[59] حضرت یہ بھی دل میں آتا ہے کہ سب مِنْ جَانِبِ اللّٰہ ہے کہ کوئی کھانا نہ لایا، کسی نے کپڑے نہ دھوئے کسی نے کچھ گم کر دیا، حالانکہ ایسے وقت میں یہ خیال آتا ہے کہ یہ جانور مُوْذِی ہیں اور موذی[60] کے مارنے کا حکم ہے اور ان افعال میں ان لوگوں کے کَسْب کو دخل ہے، اگر ان جانوروں کو مار دیا جائے اور ان لوگوں کو کچھ کہہ دیا جائے اور کہتے وقت اپنے بڑے ہونے کا خیال قَطْعاً نہ آوے اور ان بے چاروں کو چھوٹا و حَقِیْر نہ سمجھ کر کہا جائے تو کوئی حَرَج نہ ہوگا گناہ نہ ہوگا مگر حضرت وَاللّٰہ یہ خیال کہ یہ سب میرے مَحْبُوْب کے ہیں ان باتوں سے روکتا ہے کسی سے کچھ کہنے کو دل نہیں چاہتا۔
فَقَطْ وَالسَّلَام
مبارک ہو، مگر بھِڑ میں قَدْرے تَرْمِیْم کی ضرورت ہے۔ جس کی صورت یہ ہے کہ اور کسی کو بتلا دیا کہ یہ بھِڑ بیٹھی ہے۔
ایک مرتبہ اس خط کے واقعہ کو بیان فرمانے کے بعد حضرت والا نے فرمایا کہ میری طبیعت کا یہ رنگ ابھی تک گیا نہیں، خود کبھی کسی جانور کو نہیں مارتا، اتفاق سے کبھی مار دیا تو مار دیا ورنہ اکثر دوسروں کو بتلا دیتا ہوں چنانچہ ایک مرتبہ مجلس میں ہم خُدَّام بیٹھے ہوئے تھے کہ گدّے میں سے حضرت والا کو کسی کھٹمل نے کاٹ لیا۔ حضرت نے دیکھ کر فرمایا کہ وہ ہے چھوٹا سا چنانچہ حاضرین میں سے مولوی محمد ہاشم صاحب راوَت نے کھڑے ہو کر اس کھٹمل کو پکڑ کر باہر لے جاکر مار دیا اسی طرح ایک مرتبہ حضرت والا نے ذکر کے متعلق اپنا حال حضرت حکیم الامتؒ کی خدمت میں لکھا جس پر حضرت حکیم الامت نے جواب میں لکھا کہ آپ جو ذکر و شُغْل چاہیں جسطرح چاہیں کریں عام اجازت ہے اور اس پر یہ بھی فرمایا کہ بہت کم ایسا ہے کہ میں نے کسی کو اس طرح اجازت دی ہو۔
جس سال آپ دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے اس سال بھی حَسْبِ معمول آپ ۱۵ شعبان کے بعد تھانہ بھون تشریف لے آئے اور رمضان المبارک کے اخیر عشرہ میں گھر تشریف لے گئے۔ وہاں سے آپ نے حالات کا خط لکھا جس پر حضرت حکیم الامتؒ نے آپ کو خلافت مَرْحَمَت فرما دی کہ میری طرف سے آپ کو تعلیم و تَلْقِیْنِ بَیْعَت کی اجازت ہے۔ یہ خوب قِرَانُ السَّعْدَیْن[61] ہوا کہ جس سال ۱۵ شعبان ۱۳۵۱ھ کو آپ دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے اسی سال ۲۵ شوال ۱۳۵۱ھ کو حضرت حکیم الامت نُوْرَ اللّٰہُ مَرْقَدَہٗ نے آپ کو خلافت سے سَرْفَرَاز فرمایا۔
ادھر آپ کے فطری اوصاف سعادت و نجابت اِتِّبَاع و اِنْقِیَاد[62] کی وجہ سے اِکْتِسَابِ فُیُوْض[63] کی اِسْتِعْدَادِ تَام، اُدھر مرشد حضرت حکیم الامت قُدِّسَ سِرُّہٗ کی آپ کے ان اوصافِ خصوصی کی وجہ سے آپ پر غَایَتِ تَوَجُّہ[64] و شفقت جس کی وجہ سے اس کم عمری ہی میں آپ کا شمار مخصوص خلفاء میں ہونے لگا چنانچہ جب حضرت حکیم الامت نے اپنی عِلَالَت کے زمانے میں گیارہ مخصوص خلفاء کے نام ایک اعلان کے ذریعے شائع فرمائے جس میں تحریر فرمایا تھا کہ اپنے چند مجازین[65] کے نام لکھتا ہوں جن کی طرزِ تعلیم پر مجھے اعتماد ہے۔ ان میں سے جس سے چاہیں اپنی تربیت متعلق کرلیں[66] ان گیارہ مخصوصین میں آپ کا نامِ نامی بھی تھا جس سے بہت سے حضرات کو تو آپ کی نَوْعُمْرِی کی وجہ سے تعجب ہوا کہ آپ سے پہلے خلافت یافتہ بہت سے حضرات موجود تھے بحمد اللہ تعالیٰ ان مخصوصین میں سے اب صرف حضرت والا کی ذاتِ گرامی بَقَیْدِ حَیَات ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھیں ۔ آمین۔
حضرت حکیم الامت نُوْرَ اللّٰہُ مَرْقَدَہٗ کو آپ کی تعلیم و تربیت پر ایسا خصوصی اعتماد تھا کہ ایک مرتبہ خانقاہ شریف سے ایک شخص کو کسی وجہ سے نکال دیا اور کئی سال تک وہ خانقاہ سے نکلے ہوئے رہے۔ حضرت حکیم الامت کی خدمت میں ان کے متعلق بہت سفارشیں ہوئیں حضرت مولانا شبیر علی صاحب مرحوم نے بھی سفارش فرمائی۔ اس پر حضرت حکیم الامت نے فرمایا کہ اچھی بات ہے اس شرط پر اجازت ہے خانقاہ میں آنے کی کہ مولوی مسیح اللہ خان صاحب سے اپنا اصلاحی تعلق قائم کرلیں اور ہر ماہ جو خط و کتابت ہو وہ مجھے دکھلا دیا کریں۔ حضرت والا نے اولاً تو ان صاحب سے اصلاحی تعلق سے معذرت [67]فرمادی پھر حضرت مولانا شبیر علی صاحب مرحوم نے آپ سے بھی سفارش فرمائی، اس پر آپ نے ان کا اصلاحی تعلق منظور فرما لیا۔ اس کے بعد سے دو تین سال تک برابر حضرت حکیم الامت اصلاحی خط و کتابت کو ملاحظہ فرماتے رہے مگر الحمد للہ کبھی کوئی اصلاح آپ کے جوابات پر نہیں فرمائی۔ چنانچہ حضرت والا نے بیان فرمایا کہ چاند کا مہینہ جب ختم ہوتا تھا تو ہم کانپتے تھے کہ آج ہماری اصلاحی مکتوبات پیش ہوں گی کہیں گرفت نہ ہو جائے۔ تقریباً دو یا تین سال تک برابر یہ سلسلہ چلتا رہا میری بھی خانقاہ میں اس دوران میں برابر حاضری ہوتی رہتی تھی۔ مگر الحمد للہ کبھی کوئی گرفت اس تحریری اصلاح پر نہیں فرمائی۔ پہلی تاریخ کے بعد جب میں حاضر ہوتا تھا تو ڈرتا تھا کہ خطوط کے جوابات میں کوئی بات پکڑ ہی نہ جائے ۔
یہ شرف بھی کم کسی کو نصیب ہوتا ہے کہ شیخ مجازِ بیعت فرمانے کے بعد اتنی طویل مدت تک ان کی اصلاحی خط و کتابت کو ملاحظہ فرمائیں اور پھر اتنی طویل مدت میں کہیں کوئی گرفت نہ ہو اور خصوصاً حضرت حکیم الامت نور اللہ مرقدہٗ کے ہاں تو کسی قسم کی رورعایت[68] اس سلسلہ میں نہیں تھی مگر چونکہ آپ کی تعلیم و تربیت ماشاء اللہ باضابطہ تھی، اس لئے کہیں بھی تنبیہ کی نوبت نہ آئی۔
حضرت والا نے فرمایا کہ مجھ سے معتمد ملنے والوں نے اس ملفوظ کو نقل کیاکہ ایک مرتبہ کسی کے دریافت کرنے پر حضرت حکیم الامت نُوْرَ اللّٰہُ مَرْقَدَہٗ نے فرمایا کہ عیسیٰ اور مسیح سب سے بڑھ گئے۔[69]
حضرت حکیم الامت نُوْرَ اللّٰہُ مَرْقَدَہٗ کی زبانِ فِیْض تَرْجُمَان[70] سے یہ تَمْغَۂِ تَخَصُّص[71] و بِشَارَتِ عُظْمٰی آپ کے کثرتِ فیوض، علوِ مرتبت[72] اور مقبولیتِ بارگاہِ الٰہی کی شہادت ہے جس کا حرف بہ حرف بتمام و کمال آج مشاہدہ ہو رہا ہے۔ خصوصاً حضرت حکیم الامتؒ جن کے یہاں مَدْح و ذَم[73] دونوں کیلئے نپے تلے الفاظ ہوتے تھے اُن کی زبانِ فِیْض تَرْجُمَان سے یہ تعریفی کلمات کہ "عیسیٰ اور مسیح سب سے بڑھ گئے" مَدْح و توصیف کے بڑے بڑے سِپَاس ناموں [74]سے بڑھ کر ہیں۔
اسی طرح ایک مرتبہ حضرت حکیم الامت نُوْرَ اللّٰہُ مَرْقَدَہٗ نے آپ کے متعلق فرمایا کہ بالترتیب ان کی طبیعت میں انتظام ہے۔ لہٰذا ان کی تعلیم بالترتیب ہوتی ہے۔
ایک مرتبہ حضرت حکیم الامت جلال آباد جلسہ میں تشریف لائے ہوئے تھے۔ سب لوگوں کے سامنے آپ نے فرمایا کہ "میرے جی میں ایک بات ہے اُسے میں کیوں نہ کہہ دوں اور میں سب کے سامنے صاف صاف کہتا ہوں کہ مولوی مسیح اللہ صاحب سے مجھے محبت ہے۔"
حضرت حکیم الامت نُور اللہ مرقدہٗ نے حضرت والا کو فرمایا کہ "جو بات بار بار تقاضے کے ساتھ تمہارے دل میں آوے بس اسی پر عمل کرلیا کرو۔"[76]
حضرت والا نے اس ملفوظ کو بیان فرمانے کے بعد فرمایا کہ چنانچہ جب کسی کے اصرار پر اس بنا پر کہ میری طبیعت میں مُرُوَّت[77] بہت زیادہ ہے، خلاف کرتا ہوں تو نقصان اٹھاتا ہوں۔
حضرت حکیم الامتؒ کے اس ارشادِ گرامی میں آپ کے جَلائے قلب[78] و صفائے باطن نیز وُرُودِ اَسرار[79] و علومِ وَہبی[80] کی بشارت ہے چنانچہ حضرت حکیم الامت نُور اللہ مرقدہٗ "اَلتَّکَشُّف" میں وَارِدَاتِ قَلْبِیَّہ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:
"جب ذکر اللہ کی مُوَاظَبَت[81] و ریاضت و مجاہدات کی کثرت سے ظلماتِ نفسانیہ و کُدُورَاتِ طَبِیْعِیَّہ[82] کا اِزالہ ہو جاتا ہے اور قلب و روح کو حق تعالیٰ کے ساتھ ایک نسبتِ خاصہ و تعلقِ مخصوص پیدا ہو جاتا ہے اِس وقت قلب پر بلا واسطہ اسبابِ ظاہری تحصیلِ سماع[83] وغیرہ کے کچھ اَسْرَارِ لَطِیْفَہ[84] و علومِ شریفہ کا وُرُود و القاء[85] ہونے لگتا ہے۔"
ایک شخص نے آپ سے بیعت کی درخواست کی، چونکہ ہمیشہ سے آپ پر تَوَاضُع[86] غالب ہے، اِس لئے پہلے آپ نے ان سے انکار فرمایا، بعد میں اُن کے مزید اصرار پر ان کو چند کتابوں کے مطالعہ کیلئے فرمایا جب انہوں نے ان کا بھی مطالعہ فرما لیا اور پھر درخواست کی تو آپ نے ان کو بیعت فرما لیا۔ اس کے بعد حضرت حکیم الامتؒ کی خدمت میں مندرجہ ذیل مکتوب تحریر فرمایا جس میں سارے حالات آپ نے بالترتیب مفصل تحریر فرمائے۔ اس کے جواب میں حضرت حکیم الامت نُور اللہ مرقدہٗ نے شروع سے لے کر اخیر تک آپ کےطریقِ بیعت و تعلیم کی تَصْوِیْب[87] و تصدیق فرمائی۔ وہ مکتوبِ گرامی مع جواب کے ذیل میں نقل کیا جاتا ہے۔
از مکتوب حضرت والا دَامَتْ بَرَکَاتُہُم:
"ایک صاحب جن کی عمر تقریباً پچاس سال کی ہوگی، مدت سے اصلاح کی فکر میں تھے۔ ملازم پیشہ ہیں، مگر ان کی سمجھ میں کوئی پیر نہ آیا تھا۔ یہاں اپنے مکان پر چھٹی لے کر آئے تو بعض اپنے احباب سے تذکرہ کیا۔ انہوں نے احقر کا ذکر کیا، وہ صاحب تشریف لائے، احقر کو بَحَمْدِ اللہ شرم معلوم ہوئی، انکار کیا، بعض دوسرے حضرات کے اسماء بتلا دیئے، مگر وہ مُصِر[88] رہے۔ احقر نے کہا، جلدی کیا ہے آپ بھی ابھی یہاں ہیں اور میں بھی، آپ خوب اچھی طرح دیکھ بھال لیجئے اس وقت تو تشریف لے گئے، بعد دو ایک روز پھر آئے کہنے سننے لگے تو احقر نے کہا "بہشتی زیور" کا مطالعہ کیجئے۔ انہوں نے اس کا مطالعہ کیا، پھر تشریف لائے اور کہنے لگے کہ اب تعطیل[89] ختم ہو رہی ہے۔ مدت سے تلاش میں تھا کہ کسی سے بیعت ہوں، مگر حسبِ منشاء کہ عالم بھی ہو نہ ملتا تھا اب اَلْحَمْدُ لِلّٰہ آپ حسبِ منشار (منشاء) ہیں، احقر نے کہا کہ آپ "قصد السبیل" دیکھئے۔ "آداب الشیخ والمرید" کا مطالعہ کیجئے پھر دیکھا جائے گا۔ بے چاروں نے سب کو دیکھا، چند دن کے بعد پھر کہا تو احقر نے بیعت کر لیا۔
احقر نے یہ حال اس لیے عرض کیا ہے کہ حضور اصلاح فرمائیں اس ترتیب سے ان کو بیعت کرنا مناسب ہوا یا نہیں؟ یا ایک مدت تک اصلاح کا تعلق رہنے کے بعد بیعت کیا جاتا۔"
جواب حضرت حکیم الامت قُدِّسَ سِرُّہٗ
"دونوں طریق مَسْلُوْک[90] ہیں، جس شخص کے لیے جس طریق کو دل قبول کرے"۔
)عَرْضَہ[91] مرید): "یہ صاحب مہینہ میں دو خط بھیجتے ہیں احقر کا خیال ہے کہ جب تک مناسبت نہ ہو دل ثبوت نہ دیدے پختہ تعلق کا اس وقت تک بیعت کرنا ٹھیک نہیں، چنانچہ بعض صاحب کو اسی بناء پر باوجود کئی بار کہنے کے بیعت نہیں کیا، یہ خیال غلط ہے یا صحیح۔"
(جواب حکیم الامت): "بالکل صحیح ہے"۔
)عَرْضَہ مرید): "یہ صاحب کسی قدر بدعت کی طرف مائل تھے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ یہ بات بالکل معدوم ہے۔ بہشتی زیور دیکھنے کی تاکید کر دی ہے۔ دس تسبیح اللہ اللہ کی، دس تسبیح نفی و اثبات بتادی ہیں، فی الحال چونکہ ملازم ہیں، اس لیے ناجائز آمدنی سے بچنے کی تاکید کی خط آیا لکھا ہے کہ میں حرام آمدنی سے پرہیز کرتا ہوں، احقر نے اس پر لکھا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ دل خوش ہوا۔ اللہ تعالیٰ مزید توفیق عطا فرماویں۔"
"یہ جواب کیا مناسب تھا؟"
(جواب حکیم الامت): "بالکل مناسب ہے"۔
اس مکتوبِ گرامی سے جہاں آپ کے طریقِ بیعت و تعلیم و تربیت طالب کے حسبِ حال مناسب تجویز اور طریقِ اصلاح کی حضرت حکیم الامت نور اللہ مَرْقَدَہٗ کی جانب سے تَصْوِیْب و تصدیق ظاہر ہوئی، وہیں پر آپ کا اپنے مرشد سے سعادت مندانہ کامل تعلق بھی ظاہر ہوا کہ آپ نے مَجَازِ بَیْعَت ہونے کے باوجود بھی ہر امر میں اپنے شیخ سے تفصیلی طور پر مُرَاجَعَت [92]فرمائی جس سے یہ ثابت ہوا کہ مجازِ بیعت ہونے کے بعد بھی کبھی اپنے شیخ سے مُسْتَغْنِی[93] نہ ہونا چاہئے ۔ آپ کا طریق بِعَیْنِہٖ حضرت حکیم الامت قُدِّسَ سِرُّہٗ کے ارشاد کے مطابق ہے جس کا جیسا حال ہوتا ہے ۔ اسی کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ بیعت و اصلاح کے سلسلے میں فرماتے ہیں، کسی کو حسبِ حال قبل از بیعت اس کے مناسب کتابوں کے مطالعہ کا حکم فرماتے ہیں۔ کسی کو کچھ مدت تک مجلس میں بیٹھنے کیلئے فرماتے ہیں۔ کسی کو بلا اس کے ہی بیعت فرما لیتے ہیں۔
سَلَفِ صالحین کی جانب سے آپ کے متعلق مُبَشِّرَاتِ مَنَامی
آپ کو منامی طور پر سلفِ صالحین کی جانب سے بڑی بڑی نیک بشارتیں ہوئیں اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ وہ سب روزِ روشن کی مانند ظاہر ہو رہی ہیں انہیں مُبَشِّرَات کے متعلق حدیثِ پاک میں ہے:
قَالُوا مَا الْمُبَشِّرَاتُ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اَلرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ وَبِہٖ فَسَّرَ قَوْلَہٗ تَعَالٰی لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا۔[95]
یعنی صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مبشرات کیا ہیں، آپ نے فرمایا، صالح خواب اور یہی تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے قول "لَہُمُ الْبُشْرٰی" کی یعنی ان کیلئے خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں۔
ایک مرتبہ وصل بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق آپ نے خواب دیکھا، جب آپ نے اس خواب کو لکھ کر حضرت حکیم الامت کی خدمت میں پیش کیا تو حضرت حکیم الامت نے دوسرے حضرات سے فرمایا کہ میرے ایک دوست نے وصل بلگرامی کو خواب میں دیکھا ہے جن کو خوابوں سے مناسبت ہے اور آپ کے اس خواب کو مجلسِ عام میں پڑھ کر بھی سنایا اور اس کے بعد رسالے میں شائع کرنے کیلئے مولانا شبیر علی صاحب مرحوم کے حوالے فرمایا۔
حضرت حکیم الامت کے ارشادِ گرامی سے آپ کی رُؤیائے صالحہ کے ساتھ مناسبت کی تصدیق ہوتی ہے جیسا کہ حضرت حکیم الامت کے ارشادِ گرامی سے ظاہر ہے۔ چنانچہ وصل بلگرامی مرحوم کو خواب میں دیکھنے کے سلسلہ میں حضرت والا دَامَتْ بَرَکَاتُہُم نے واقعہ بیان فرمایا کہ میں اپنے خواب حضرت والا کو سنایا کرتا تھا۔ وصل بلگرامی مرحوم کی وفات کے بعد میں نے اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھا کہ اُن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے اُن کو بخش دیا۔ چونکہ ہمارے محبوب اُن کی رعایت کیا کرتے تھے۔ لہٰذا ہم نے بھی ان کی رعایت کی اور بخش دیا، یہ خواب میں نے پرچے پر لکھ کر حضرت والا کی خدمت میں پیش کیا۔ خواب طویل تھا، اب پورا یاد نہیں رہا۔ حضرت والا نے دیکھ کر فرمایا کہ میں تو انتظار ہی میں تھا کہ میرے دوستوں میں سے ان کو کوئی خواب میں دیکھے، میں نے "میرے محبوب" کے لفظ پر حاشیہ میں لکھا تھا،
حضرت والا نے اس پر دریافت فرمایا یہ کسے معلوم ہوا کہ میرے محبوب سے میں مراد ہوں، میں نے عرض کیا کہ علمِ ضروری کے طور پر اس پر حضرت والا نے فرمایا کہ "ٹھیک ہے"۔[96]
حضرت والا دَامَتْ بَرَکَاتُہُم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو دو مرتبہ خواب میں دیکھنا تو یقیناً یاد ہے، اور تیسری مرتبہ میں بھول ہے اور حضور اکرم ﷺ کی زیارت تو بہت مرتبہ ہوئی ہے۔
حضرت والا دَامَتْ بَرَکَاتُہُم نے فرمایا کہ ایک مرتبہ بَغَرَضِ علاج حضرت والا (حکیم الامت قُدِّسَ سِرُّہٗ) لکھنؤ تشریف لے گئے تھے اس زمانے میں میں نے خواب میں دیکھا کہ میں لوہاری[97] میں ایک مکان کے بَالَا خَانَہ پر ہوں، حضرت میاں جی صاحب نُور اللہ مرقدہٗ کو جب میرا آنا معلوم ہوا تو بالا خانہ پر مکان کے زینے[98] سے تشریف لائے جب مجھے معلوم ہوا کہ بالا خانہ پر حضرت میاں جی صاحب میرے پاس تشریف لا رہے ہیں تو میں استقبال کیلئے اُٹھ کر چلا، دیکھا کہ حضرت میاں جی صاحب زینے کے اوپر کے حصہ میں تشریف لا چکے ہیں۔ حضرت میاں جی صاحب تشریف لائے ملاقات ہوئی اور اسی کمرہ میں تشریف لے آئے۔ جس میں میں ٹھہرا ہوا تھا، میں نے ادب کی وجہ سے اپنے بیٹھنے کی جگہ حضرت میاں جی صاحب نُور اللہ مرقدہٗ کو بٹھایا اور خود سامنے بیٹھ گیا اور عرض کیا کہ حضرت چائے بناؤں، فرمایا کہ بناؤ۔ چنانچہ میں نے خود چائے بنائی اور پیش کی۔ حضرت میاں جی صاحب نے چائے نوش فرمائی اور مجھے بھی ایک پیالی عنایت فرمائی، جب میں نے پی تو معلوم ہوا کہ چائے میں نمک ذرا تیز ہو گیا۔ اس سے مجھے بہت شرمندگی ہوئی، اور اس کے آثار میری پیشانی پر ظاہر ہو گئے تو حضرت میاں جی صاحبؒ نے فرمایا کہ نہیں کچھ نہیں، اب پیو۔ حضرت کے اس فرمان کے بعد جو میں نے پیا تو نمک بالکل تیز نہیں تھا۔
اس کے بعد فرمایا کہ ذرا تھانہ بھون جا کر معلوم کرو تمہارے حضرت سفر سے آئے یا نہیں چنانچہ میں تھانہ بھون چھوٹی پیرانی صاحبہ کے مکان پر گیا، وہاں معلوم ہوا کہ حضرت مظفر نگر تشریف لے گئے ہیں۔ اس کے بعد میں خانقاہ گیا، وہاں بھی معلوم ہوا کہ حضرت مظفر نگر تشریف لے گئے ہیں۔ اب اطلاع لے کر واپس میں جو لوہاری حضرت میاں جی صاحبؒ کو اطلاع کرنے چلا اور حضرت والا کے چھتہ والے مکان کے قریب جہاں منشی مظہر صاحب کا مکان ہے گلی میں داخل ہوا اور مڑ کر جو نظر کی تو دیکھا کہ حضرت میاں جی صاحب نُور اللہ مرقدہٗ تشریف لا رہے ہیں۔ مجھے دیکھ کر حضرت میاں جی صاحبؒ میری طرف تشریف لے آئے اور مجھ سے کچھ باتیں فرمانے لگے کہ اتنے میں ایک اور شخص بھی اسی گلی میں آگئے اور اپنا کوئی حال حضرت میاں جی صاحبؒ سے بیان کیا اور سلوک کا کوئی مسئلہ پوچھا۔ اس پر حضرت میاں جی صاحبؒ نے میری طرف اشارہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ ان سے معلوم کرو۔ میں نے شرماتے ہوئے گردن نیچی کرلی۔ اس شخص نے دوبارہ حضرت میاں جی صاحبؒ سے عرض کیا کہ حضرت آپ ہی بتلا دیجئے۔ اس پر حضرت میاں جی صاحبؒ نے فرمایا کہ نہیں نہیں انہی سے پوچھو اور تمہیں معلوم نہیں ہے حضرت تھانویؒ کے بعد انہیں کی طرف تو رجوع ہے۔ یہ الفاظ اتنی شدت کے ساتھ فرمائے کہ میری آنکھ کھل گئی۔
حضرت والا دَامَتْ بَرَکَاتُہُم نے اس خواب کو بیان فرمانے کے بعد فرمایا کہ میں اکثر اپنے خوابوں کو حضرت والا (حکیم الامتؒ) کی خدمت میں پیش کرتا تھا مگر اس خواب کو پیش نہ کر سکا، اولاً تو یہ کہ میں شرمایا اور دوسرے اس وجہ سے بھی کہ اس میں حضرت والا کی وفات کی طرف اشارہ تھا۔
وعظ کی اجازتِ منامی آپ کو حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی نُور اللہ مرقدہٗ کی طرف سے حاصل ہے۔ چنانچہ حضرت والا نے بیان فرمایا کہ وعظ کا یہ قصہ ہوا کہ خواب میں کچھ لوگوں نے مجھ سے وعظ کے لئے کہا میں نے عذر کر دیا کہ بھائی مجھے وعظ کہنا نہیں آتا، اس پر حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ کہہ دیجئے اس میں کیا بات ہے جو آتا ہے کہتے رہیں بس وعظ ہو گیا۔
واقعہ خواب کو بیان فرمانے کے بعد حضرت والا نے فرمایا کہ اس کے بعد سے وعظ کا سلسلہ شروع ہو گیا اور خدا کے فضل سے مَجَامِع[99] میں موقع بموقع میں وعظ کہنے لگا۔
خواب میں دُعا کیلئے خصوصیت کے ساتھ آپ کو حکم فرمایا چنانچہ حضرت والا نے فرمایا کہ مجھے خواب میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی قُدِّسَ سِرُّہٗ نے فرمایا کہ "دُعا کو ہم تمہاری طرف مُنْتَقَل کرتے ہیں، جو تمہارے پاس دُعا کیلئے آئے دعا کر دیا کرنا۔"
اس فرمان میں آپ کے مُسْتَجَابُ الدَّعَوَات[100] ہونے کی بھی بشارت ہے چنانچہ حسبِ ارشاد جو بھی اہلِ حاجت آپ کی خدمت میں دُعا کیلئے آتے ہیں آپ بَسَہُوْلَت و عافیت ان کے مقصد کے حصول کی دعا فرما دیتے ہیں۔ بکثرت اہلِ حاجت اپنے دینی و دنیوی مقاصد میں کامیابی کی دعا کیلئے آپ کی خدمت میں آتے ہیں۔ تو ان کو دعا کے ساتھ ساتھ اس کے کرنے کے سلسلے میں بڑی مفید اور تجربے کی باتیں بھی بتلا دیتے ہیں، اسی طرح کسی دینی حاجت کیلئے دعا کرانے والے کیلئے بھی اکثر اس سلسلے کی مفید اور کارآمد باتیں فرما دیتے ہیں۔
جب حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ جلال آباد مدرسے کے جلسے میں تشریف لاتے اور حضرت والا دَامَتْ بَرَکَاتُہُم ملاقات کیلئے تشریف لے جاتے یا کسی دوسری جگہ کسی جلسہ میں ملاقات ہوتی یا آپ دیوبند دولت کدہ پر تشریف لے جاتے تو حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ آپ کو دیکھ کر کھڑے ہو جاتے تھے، اسی طرح ایک مرتبہ موضع بھیسانی میں جو جلال آباد سے چار میل کے قریب ہے، وہاں جلسے میں تشریف لائے لوگوں نے بیعت کی درخواست کی تو انکار فرما دیا پھر جب لوگوں نے زیادہ اصرار کیا اور بعض حضرات نے سفارش بھی فرمائی تو حضرت مدنی قُدِّسَ سِرُّہٗ نے سختی سے انکار فرما دیا اور فرمایا کہ میں کہہ تو چکا کہ میں بیعت نہیں کروں گا۔ یہاں مولانا مسیح اللہ صاحب موجود ہیں۔ اُن کے ہوتے ہوئے میں بیعت نہیں کروں گا۔
جس طرح حضرت شیخ الاسلام نُور اللہ مَرْقَدَہٗ آپ کا پاس اور لحاظ فرماتے تھے اسی طرح آپ بھی ان کا بڑا ادب فرماتے تھے۔
جیسا کہ ابتداء میں عرض کر چکا ہوں آپ کے جمیع مَحَامِد، اوصاف و کمالات کا کما حقہٗ تعارف اس بے بضاعت کی فہم و ادراک سے باہر اور بیان و تحریر سے بالا تر ہے۔ ؎
خوبی ہمہ کرشمہ و ناز و خرام نیست بسیار شیوہ ہاست بتاں را کہ نام نیست[101]
لہٰذا ان چند سطروں کو بجائے تعارف کے آپ کے اوصافِ حمیدہ و اخلاقِ کریمہ میں سے چند اوصاف کا مختصر تذکرہ کہنا چاہئے اور یہ تذکرہ بھی آپ کے عُلُوِّ مَرْتَبَت کی نسبت سے اگر دیکھا جائے تو آپ کے کمالات کا نہایت ہی ناقص تذکرہ ہونے کی وجہ سے بجائے مدحت و منقبت کے یک گونہ منقصت میں داخل ہے، جسے واقعی آپ کے فیوض و برکات کا مشاہدہ کرنا ہو وہ جلال آباد آئے اور دیکھے جہاں آپ کے فیض سے بازارِ علم و معرفت لگا ہوا ہے اور طلب و اخلاص پر بڑے سے بڑا گوہرِ مقصود[102] اس بازارِ معرفت سے حاصل ہوسکتا ہے قصبہ جلال آباد جہاں آپ شعبان ۱۳۵۷ھ میں اپنے مرشد حضرت حکیم الامت نُور اللہ مرقدہٗ کے ارشاد پر تشریف لائے و ہیں مستقل جم گئے اور وہیں پر آج بھی جلوہ افروز ہیں، جلال آباد میں تشریف آوری کے متعلق حضرت والا نے فرمایا کہ میں خانقاہ میں آیا ہوا تھا یہاں مدرس کی ضرورت تھی حضرت والا سے مدرس کیلئے عرض کیا گیا۔ حضرت والا نے فرمایا کہ جلال آباد تم چلے جاؤ جب میں یہاں آیا تو ایک حافظ صاحب اور تھے ایک میں تھا کل دو کمرے تھے جن میں سے ایک میں میں اور دوسرے میں حافظ صاحب پڑھایا کرتے تھے۔
حضرت حکیم الامت نُور اللہ مرقدہٗ کا یہ الہامی انتخاب تھا کہ اس جلال آباد کیلئے آپ کو تجویز فرمایا جس کی برکت سے آج۔ ؎
جلال آباد قصبہ بن گیا تھانہ بھونِ ثانی شورشِ عندلیب نے روح چمن میں پھونک دی
ورنہ یہاں کلی کلی مست تھی خوابِ ناز میں
مدرسہ جس کی ابتداء صرف دو کمروں سے ہوئی، محض حضرت والا دامت برکاتہم کے اخلاص وللہیت اور آپ کے سَایَہ عاطِفَت[103] کے فیوض و برکات سے تقریباً ۲۵ سال کی تھوڑی سی مدت میں ایک مکتب سے پورا جامعہ علمیہ بفضلہٖ تعالیٰ بن گیا، جس میں درسِ نظامی کی مکمل تعلیم مع فنون کے جاری ہے اور ساتھ ہی شعبہ حفظ و تجوید بھی قائم ہے۔ مدرسہ میں ہندوستان کے مختلف صوبوں اور بیرونِ ہند کے خصوصاً افریقی طلباء کی کثیر تعداد و نیز مقامی طلباء کو ملا کر کل طلباء کی تعداد تقریباً پانچ سو (۵۰۰) ہے، اور دورۂ حدیث شریف میں شُرکاء کی تعداد چالیس کے قریب ہے۔ مدرسہ کی عمارت وسیع اور باضابطہ ہے جس میں سادگی کے باوجود عمارت کی موزونیت [104]کی وجہ سے حُسن و کمال جھلکتا ہے ۲۱ اساتذہ کرام ہیں، اور مصارف کا سالانہ میزان تقریباً تین لاکھ ہے۔
چونکہ افریقہ کے کافی طلباء مدرسہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور پاسپورٹ کے ضوابط کی وجہ سے اُن کے پاس وقت کم ہوتا ہے لہٰذا ان کیلئے مخصوص طور پر ایک چار سالہ نصابِ تکمیل مرتب کیا گیا ہے جو بحمد اللہ تعالیٰ ہمہ وجوہ کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔
باوجود اتنے کثیر مصارف کے مدرسہ کا کوئی سَفِیْر نہیں ہے مستقل صرف ایک سفیر ہیں جو قرب و جوار میں اکثر غلہ وغیرہ کی وصول یابی کرتے ہیں۔ خود ہی اہلِ خیر بلا کسی سفیر اور بلا اپیل و اعلان کے کام کو دیکھ کر اور حضرت والا دامت برکاتہم کی زیرِ نگرانی صرف صحیح سمجھ کر امداد فرماتے ہیں۔ اور اتنا بڑا کام محض توکلاً علی اللہ چل رہا ہے۔ اللہ رب العزت اس چشمہ فیض کو حضرت والا کے زیرِ سایہ بہتر ترقیات جاری رکھے۔ آمین۔
پہلے مدرسہ میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی، جس میں مدرسہ کے تمام طلباء بھی نہیں سما سکتے تھے۔ اب بَحَمْدِ اللہ تعالیٰ جناب الحاج سعید الدین صاحب انصاری میو، الہ آباد کی جانب سے اس مسجد کو شہید کر کے نئی مسجد تعمیر کی گئی ہے۔ جو نہایت وسیع اور عالیشان ہے۔ جس میں تقریباً ڈیڑھ ہزار آدمی بیک وقت جماعت کے ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ مسجد کے شمال و جنوب کی ہر دو جانب خانقاہ کے کمرے ہیں مسجد کے اندرونی حصہ میں چھ، برآمدے میں تین، اور بیرونی صحن میں بیس صفیں آسکتی ہیں۔
مسجد میں گُل کاری کا ایسا نفیس کام کیا گیا ہے جو فنِ تعمیر کے نادر نمونوں میں شمار کیے جانے کے قابل ہے جسے دیکھ کر آدمی معمار کے کمالِ فن کی بار بار داد دیئے بغیر نہیں رہتا۔
مدرسہ کا سارا انتظام و اہتمام حضرت والا خود فرماتے ہیں، اکثر آپ کے قیمتی اوقات اس مصروفیت میں گزرتے ہیں کہ مجلس بھی ہو رہی ہے اور اسی میں طلباء کی درخواستیں بھی آرہی ہیں۔ اُن کے جوابات بھی تحریر فرما رہے ہیں، کسی طالبِ علم کو اس کی کسی غیر مفید یا غیر ضروری درخواست پر سمجھا رہے ہیں۔ کسی کی ضرورت کا انتظام فرما رہے ہیں۔ مختلف قسم کے اہلِ حاجت آرہے ہیں، اُن کی بھی حاجت روائی فرما رہے ہیں، کسی کی مالی امداد فرما رہے ہیں۔ کسی کیلئے دعا فرما رہے ہیں، کسی کو تعویذ لکھ کر عنایت فرما رہے ہیں، کسی کا پانی پڑھ کر دے رہے ہیں۔ ڈاک کے جوابات بھی تحریر فرما رہے ہیں اور مجلس بھی جاری ہے۔ اہلِ مجلس کو بھی ارشاداتِ عالیہ سے مستفیض فرما رہے ہیں۔ مریدین کی اصلاح بھی فرما رہے ہیں، اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی دلداری بھی کر رہے ہیں، کوئی پیسے مانگ رہا ہے اور کوئی اور کسی چیز کا عین اس مصروفیت کے وقت میں آکر تقاضا کر رہا ہے اور آپ خندہ پیشانی اور بشاشت کے ساتھ اس کی مانگ پوری فرما رہے ہیں کہیں بیماروں کی بیمار پُرسی فرما رہے ہیں، اگر کسی کے متعلق معلوم ہو گیا کہ فلاں بیمار ہے تو آپ اس کی جائے قیام ہی پر تشریف لے جاکر بیمار پُرسی فرما رہے ہیں گویا اس شعر کے مصداق کامل ہیں۔ ؎
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
آپ بیک وقت اتنے مختلف النوع امور کو بکمال و تمام انجام دیتے ہیں کہ اگر مستقل ہر کام کو ایک ماہر کارکن کے سپرد کیا جائے تو ایک بڑی جماعت بھی بمشکل انجام دے سکے۔
صرف اگر آپ کی روزانہ کی تحریرات کی نقل کی جائے تو ایک پختہ کار منشی کیلئے پورے دن کے واسطے یہی کام کافی ہے، حالانکہ تحریر کے علاوہ اور کتنے ہی امور ہیں جنہیں آپ انجام دیتے ہیں اکثر صبح صادق سے قبل اٹھ کر معمولات کے بعد مشاغلِ کثیرہ میں ایسی مصروفیت ہوتی ہے کہ باوجود اس پیرانہ سالی، ضعف اور گوناگوں امراض کے بھی شام تک چار پائی پر نہیں لیٹتے برابر کام میں مصروف رہتے ہیں صالحین سے جو خلافِ عادت صادر ہو اسی کو کرامت کہتے ہیں انجان لوگ صرف ہوا پر اُڑنے اور دریا پر مصلیٰ بچھا کر نماز پڑھنے ہی کو خلافِ عادت سمجھ کر کرامت سمجھتے ہیں۔ ورنہ اگر بنظرِ انصاف سے دیکھا جائے تو ایک ذات سے اتنے کثیر مختلف النوع امور کی انجام دہی سب سے بڑی کرامت ہے۔[105]
اب ذیل میں آپ کے چند اوصافِ حمیدہ کا مختصر سا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
ہر ایک قول و عمل میں سنت کی پوری پوری پابندی فرماتے ہیں اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے اور جوتا پہننے غرضکہ ہر عمل میں طریقِ سنت کی اتباع شدت کے ساتھ فرماتے ہیں۔ چنانچہ اس کتاب میں نصائح کے اندر فرمایا ہے۔
خدا تعالیٰ کی محبت کی علامت یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کے محبوب کی پیروی اخلاق، افعال، احکام اور سنتوں میں کرے۔[106]
جس اہتمام کے ساتھ آپ سنت کی اتباع فرماتے ہیں اسی اہتمام کے ساتھ مَکْرُوہَات[107] و مُشْتَبَہَات[108] سے بھی شدت کے ساتھ اجتناب[109] فرماتے ہیں۔[110] خصوصاً ہدیہ کے اندر اگر ادنیٰ اس کے مشتبہ ہونے کا شبہ ہو تو قبول نہیں فرماتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص ہدیئے میں کچھ امرود لے کر آیا۔ رَاقِمُ الْحُرُوف بھی حاضر تھا۔ آپ نے لانے والے سے پہلے اس کے صحتِ اجارہ [111]کے بارے میں تحقیق فرمائی۔ چونکہ بسا اوقات پھلوں کے اجارے فاسد[112] طریق پر ہوتے ہیں۔ اس شخص نے درست صورتِ اجارہ کی بیان فرمائی تو آپ نے قبول فرما لیے اور حاضرینِ مجلس میں بھی ایک ایک امرود تقسیم فرمایا۔
آپ بہت ہی حلیم اور بردبار ہیں، کیسی ہی خلافِ طبع بات پیش آجائے، اُسے اس طرح برداشت فرما لیتے ہیں کہ ناگواری کا اظہار نہیں ہونے دیتے، کتنی ہی کسی کی طرف سے تکلیف پہنچ جائے، کبھی اس پر انتقام نہیں لیتے، نہ کسی دوسرے کو لینے دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہی شخص اگر اپنی ضرورت لے کر آئے تو پوری بشاشت کے ساتھ اس کی وہ ضرورت پوری فرما دیتے ہیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ ایک شخص جن کی اکثر ضرورتوں کا تَکَفُّل حضرت والا فرمایا کرتے تھے۔ کسی بات پر آپ سے ناراض ہو کر درپردہ مخالفت کرنے لگے، اور بعض دوسرے مخالفین سے اپنا تعلق پیدا کر لیا۔ انہیں کو جب ایک مرتبہ اپنی کسی ضرورت کے لئے کچھ رقم کی ضرورت ہوئی اور کہیں نہ مل سکی تو حضرت والا کی خدمت میں آئے اور اپنی ضرورت کا اظہارکیا تو آپ نے بلا کسی قسم کی اظہارِ ناراضگی کے اُن کو رقم عنایت فرما دی اور کچھ نہیں فرمایا۔
آپ دوسروں کی بے حد رعایت فرماتے ہیں اور مروّت آپ پر اس درجہ غالب ہے کہ اکثر لوگوں کے اصرار پر حدِ شرعی کے اندر اپنے خلافِ طبع درخواستیں بھی منظور فرما لیتے ہیں اور پھر اس طرح نباہ دیتے ہیں کہ دوسروں کو اپنے خلافِ طبع ہونے کا علم بھی نہیں ہونے دیتے۔ اپنی ساری راحت دوسرے کی خوشی کیلئے قربان فرما دیتے ہیں اور پھر اس پر ذرا بھی اظہارِ احسان نہیں فرماتے۔
ہمیشہ آپ کے ہر ہر قول و عمل سے فَرُوتَنِی [114] و تواضع ظاہر ہوتی ہے بسا اوقات بھری مجلس میں نہایت صداقت اور اخلاص کے ساتھ فرماتے ہیں کہ تم سب لوگ مجھ سے اچھے ہو آنے والے سے بڑے تپاک و خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات فرماتے ہیں، کبھی اپنی بڑائی کا اظہار نہیں فرماتے اگر کوئی شخص کچھ دینی یا دنیوی اعتبار سے خصوصیت رکھتا ہو تو اس کے مرتبے کے اعتبار سے لحاظ فرماتے ہیں، تواضع آپ کا حال بنا ہوا ہے، جس کا آپ کے ہر حال و قال سے ہر وقت اظہار ہوتا رہتا ہے۔ ایک روز پندنامہ کی ساری جماعت آپ کے پاس سبق پڑھنے کے لیے بیٹھی تھی ایک شخص کے چند تعریفی کلمات کہنے پر فرمایا کہ میں سچ کہتا ہوں کہ یہ جتنے بیٹھے ہیں، سب مجھ سے اچھے ہیں۔ کسی طالبِ علم کی اگر بیماری کی اطلاع آجائے تو اکثر اس کی بیمار پُرسی کے لیے تشریف لے جاتے ہیں اور اس کا سر اور پیر وغیرہ دبانا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسی لطف و مہربانی شفقت و تسلی کی باتیں فرماتے ہیں کہ مریض پر ایک فرحت و انبساط[115] کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ باستثناءِ طالبین و مریدین کے اگر ذرا بھی کسی بات پر کسی کی ناگواری کا خیال ہو جائے تو بار بار فرماتے ہیں کہ بھائی اگر کوئی تکلیف پہنچی ہو تو معاف کرنا کبھی دریافت فرماتے ہیں کہ تم کو ہمارے اس کہنے پر تکلیف تو نہیں پہنچی، اور بھائی اگر پہنچی ہو تو معاف کرنا۔ اسی طرح کئی کئی بار فرماتے ہیں۔
غرض اس کا بہت اہتمام فرماتے ہیں کہ آپ کی طرف سے کسی کو ذرہ برابر بھی رنج و تکلیف نہ ہو۔
انسان تو خیر انسان ہیں آپ جانوروں تک کی تکلیف کا بھی بے حد خیال فرماتے ہیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ مکان پر تشریف لا رہے تھے۔ باہر کے بڑے دروازے کے قریب ایک کُتّا آ رہا تھا۔ ساتھ میں مفتی نصیر احمد صاحب تھے۔ انہوں نے کُتّے کو ایک طرف ہٹانا چاہا تو آپ نے ان کو منع فرما دیا اور فرمایا، روکو مت آنے دو۔ یہ عام راستہ ہے، اس میں ہر ایک کو گزرنے کا حق ہے۔
اسی طرح گھر میں ایک مرتبہ پلی ہوئی بلی آپ کے بسترِ مبارک پر سو گئی تو اس کے جاگنے کی تکلیف کی وجہ سے آپ رات بھر بستر پر نہیں سوئے۔
اسی طرح ایک صوفی عبد الحمید صاحب نَومُسلم طالب علم تھے جن کی تمام ضروریات کا تَکَفُّل حضرت والا فرمایا کرتے تھے۔ ان کی طبیعت کا عجیب رنگ تھا۔ جب بھی ان کے جی میں آتا، عین مجلس میں آکر جو کچھ زبان پر سخت سُست آتا حضرت والا دامت برکاتہم کو کہہ دیتے۔ دکان داروں کا قرض کر لیتے اور پھر آکر تقاضا کرتے کہ مجھے پیسے چاہئیں دے دیجئے ۔ آپ پیسے دے دیتے انہیں صوفی صاحب کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ مجلس میں آئے اور کہا کہ ہمارے جوتے ٹوٹ گئے اور بنوا دیجئے۔ حضرت والا نے فرمایا کہ ابھی تو خریدوا کر دیئے تھے۔ تھوڑے سے ٹوٹے ہوں گے مَرَمَّت کرا دی جائے گی۔ اس پر صوفی جی نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں آپ دیکھ لیجئے آپ نے فرمایا کہ لاؤ دیکھ لوں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ وہ، میں، چق[116] کے باہر، آپ دیکھ لیجئے ان کے اس جواب پر حضرت والا مجلس سے اٹھ کر دھوپ میں باہر تشریف لائے، جہاں سب لوگوں کے جوتے نکلے ہوئے تھے اور چونکہ آپ کو اُن کے جوتے کی شناخت نہیں تھی۔ اس لیے مختلف جوتے اٹھا اٹھا کر فرماتے رہے کہ یہ تمہارے جوتے ہیں اور وہ صوفی صاحب اندر کھڑے کھڑے ہی انکار کرتے رہے۔ بالآخر جب حضرت والا کو دھوپ میں کھڑے کھڑے جوتوں کو اس طرح دکھاتے ہوئے کافی دیر گزر گئی تو حاضرین اساتذہ میں سے ہمت فرما کر ایک صاحب نے صوفی صاحب سے کہا کہ تم سے اتنا بھی نہیں ہوتا کہ آگے بڑھ کر دکھلا دو کہ میرے جوتے یہ ہیں اس پر انہوں نے اپنے جوتے بتلائے تب حضرت والا نے انہیں دیکھ کر مرمت کیلئے جیب سے پیسے نکال کر دے دیئے۔
ان صوفی صاحب کے متعلق ایک مرتبہ کسی نے حضرت والا سے عرض کیا کہ حضرت یہ صوفی جی ایسی بے ڈھنگی باتیں کرتے رہتے ہیں تو حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ بھائی حضرت تو سبھی لوگ کہتے ہیں کوئی ایسا بھی تو ہو کہ جس سے میں اپنے آپ کو سنبھالتا رہوں اور میری اصلاح ہوتی رہے۔ یہ صوفی صاحب مدرسہ میں بیمار ہوئے ۔ حضرت والا نے بہت کچھ علاج کرایا، مگر شفا نہ ہوئی اور بالآخر انتقال فرما گئے۔ اُن کے انتقال پر حضرت والا نے اظہارِ غم فرماتے ہوئے فرمایا کہ بھائی میرا ایک کھیل تھا، میں ان سے کھیل لیتا تھا وہ ختم ہو گیا۔
اسی ایک واقعہ سے آپ کا کمالِ حسنِ خلق تواضع حلم و سخاوت شفقت و مہربانی روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔
نیز یہ بھی ظاہر ہوا کہ اہل اللہ باوجود نفس کے مطمئنہ ہو جانے کے بھی کبھی اس کی نگرانی سے غافل نہیں رہتے۔
اسی قسم کا ایک یہ واقعہ ہے کہ حضرت والا کے مدرسہ تشریف لے جانے کے راستہ میں ایک بڑے میاں اپنے مکان کے دروازے کے باہر چارپائی پر لیٹے ہوئے آہ آہ کر رہے تھے۔ حضرت والا نے اُن سے سلام کے بعد فرمایا، بڑے میاں اس طرح آہ آہ کیوں کر رہے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ حضرت بڑھاپا زیادہ آگیا کمر میں درد رہنے لگا۔ حضرت والا نے فرمایا، لاؤ میں آپ کی کمر دبا دوں واقعی لوہا لاٹھ (مضبوط) کر دوں گا، بڑے میاں نے کہا کہ حضرت جی مرنے کو تو ہو ہی رہا ہوں اور یہ گناہ سر پر لیتا جاؤں کہ آپ جیسی ہستیوں سے کمر دبواؤں۔ حضرت والا کے ساتھ طلباء و اساتذہ بھی مدرسہ جا رہے تھے، بڑے میاں نے ان حضرات کو مخاطب کر کے کہا اے علمائے کرام آپ حضرت کی باتیں سنتے ہیں یہ مجھ بے ادب اور گناہگار کو نا چاہتے ہیں۔ جب بڑے میاں نے نہ مانا تو حضرت والا مدرسہ چلے گئے اور دوبارہ رات کو دس بجے کے بعد پھر ان بڑے میاں کے پاس تشریف لے گئے جو اپنے مکان سے باہر چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے۔ آپ نے اُن کی چادر میں ہاتھ ڈال کر کمر پر ہاتھ رکھا وہ بڑے میاں بیدار تھے۔ انہوں نے چادر جو ہٹا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ حضرت والا ہیں۔ اس پر وہ بڑے میاں اٹھ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ حضرت ایسا نہ کیجئے۔ آپ نے فرمایا نہیں کیا ہوا اس وقت تو آپ شاید ان علماء اور طلباء سے شرما رہے تھے۔ اس وقت کوئی نہیں، اب میں اور آپ میں خوب کمر دباؤں گا آپ کو آرام ملے گا۔ بڑے میاں نے کہا کہ میں تو آپ سے نہیں دبواؤں گا۔ اور یہ کہہ کر کھڑے ہو گئے وہ حضرت والا کے لحاظ میں چارپائی پر نہیں لیٹے اس پر حضرت والا تشریف لے گئے۔
نیز مولوی محمد اسماعیل صاحب کٹھرا دا افریقی جواب ماشاء اللہ مفتاح العلوم سے فارغ التحصیل اور حضرت والا دامت برکاتہم کی جانب سے مجازِ بیعت ہوکر اپنے وطن تشریف لے گئے، اپنے زمانہ طالب علمی کا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگئے، تو حضرت والا بذاتِ خود بعد عشاء اُن کی قیام گاہ پر تشریف لے جاکر آرا کی دوا[117] پکاتے اس کا قوام[118] تیار فرماتے اور دوا پلانے کے بعد تشریف لاتے۔
اسی طرح آپ سادات کا بھی بہت اعزاز و احترام فرماتے ہیں، چنانچہ ایک طالب علم حافظ سید ہارون صاحب افریقی حضرت والا کے ہاں پندنامہ کے درس میں شریک ہوتے تھے۔ آپ ان کے ادب کی وجہ سے انہیں ہمیشہ سرہانے کی جانب قالین پر بٹھلاتے تھے۔ سادات کے ادب کے سلسلہ میں ایک روز ارشاد فرمایا کہ سادات کا ادب ہمیں نسبت کی وجہ سے کرنا ہے، یہ نہیں دیکھنا کہ ان کے اعمال کیسے ہیں؛ ان کے اعمال کے متعلق وہ جانیں، خدا تعالیٰ جانیں۔ نیز فرمایا کہ جس کے سید ہونے میں شک ہو اس کا ادب اس کے مقابلے میں جس کا سید ہونا یقینی طور پر معلوم ہوا اور بھی زیادہ کرنا چاہیے۔ جس کا سید ہونا یقیناً معلوم ہے اس کا تو ادب کیا ہی جاتا ہے۔ کمالِ ادب تو یہ ہے کہ باوجود شک کے بھی محض احتمال پر ادب کیا جاوے۔
بہت سے حاجت مند ایسے ہیں جن کی آپ مخفی طور پر مالی اعانت فرماتے ہیں۔ بعض کے ماہانہ وظائف مقرر ہیں اور بعض کے ہفتہ وار بعض سائل ایسے ہیں جو جمعرات و جمعہ کو آکر سلام کرتے ہیں۔ اُن میں سے کسی کو آپ ایک روپیہ، کسی کو دو روپے کسی کو اور کچھ کم و بیش عنایت فرماتے ہیں، بہت سے طلباء کی اپنے پاس سے امداد فرماتے ہیں۔ ایک معتد بہ رقم حاجت مندوں کو دیتے رہتے ہیں۔
آپ کی طبیعت میں شفقت و رحم بے حد ہے۔ کسی کی ذرا سی تکلیف کو دیکھ کر بے چین ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی کی بیماری کا حال معلوم ہو جائے تو آپ بار بار دریافت کراتے ہیں کہ اس وقت کیا حال ہے۔ کبھی دوا عنایت فرماتے ہیں۔ کبھی حکیم یا ڈاکٹر کو بلواتے ہیں۔ بعض مرتبہ اسی دردمندی کی وجہ سے کسی کا حال دیکھ کر یا سُن کر آپ پر رِقَّت [119] طاری ہو جاتی ہے۔ بڑے سے بڑے مجرم کی خطا کو معاف فرما دیتے ہیں اور معاف فرمانے کے بعد کسی بھی قسم کا اثرِ ناراضگی کا ظاہر نہیں ہونے دیتے۔
آپ کبھی کسی پر غضبناک نہیں ہوتے۔ اسی سلسلے میں ایک مرتبہ فرمایا پہلے تو میرے اندر کچھ جلال تھا اب تو طبیعت ذرا اور قسم کی بن گئی ہے اس وقت طلباء بھی بہت ڈرتے تھے۔ ڈرتے تو اب بھی ہیں۔ مگر اب محبت غالب ہے۔
آپ کبھی کسی پر بدگمانی نہیں فرماتے بلکہ ایسے مواقع پر جہاں پر لوگ بدگمان ہو جاتے ہیں آپ دور سے دور کی تاویل فرما لیتے ہیں اور اسی کی تاکید فرماتے ہیں۔
چنانچہ ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ:
روایت تو خیر روایت ہے اس میں تو ہزاروں احتمالات نکل سکتے ہیں۔ اگر رُؤیت بھی ہو، تب بھی جہاں تک ہو سکے تاویل ہی کرنی چاہئے کیونکہ بسا اوقات ہماری رُؤیت بھی غلط ہوتی ہے جیسا کہ ہم ریل کو دیکھتے ہیں کہ یہ چل رہی ہے، اور حالانکہ وہ ٹھہری ہوتی ہے۔ دوسری ریل چل رہی ہے،
آپ کا حسنِ ظن اس درجہ بڑھا ہوا ہے کہ آپ کے متعلق یہ بات مشہور ہو چکی ہے کہ حضرت والا کی فہرست میں سوءِ ظن کا کوئی خانہ نہیں ہے۔ حُسنِ ظن کے متعلق راقم نے آپ کی زبانِ فیض ترجمان سے بارہا سنا ہے، فرمایا کرتے ہیں کہ ہمیں تو ہر شخص کے ساتھ نیک گمان ہی رکھنا چاہئے۔
کمالِ اِنْتِظَام و اِہْتِمَام[121]
مدرسہ کے اتنے وسیع نظام کا اس خوبی و کمال کے ساتھ چلنا آپ کے کمالِ انتظام و اہتمام کی زندہ مثال ہے۔ آپ کی مردم شناسی[122]، حِلم و تدبر، عفو و چشم پوشی مضبوط عزم اور دور اندیشی کے اوصاف میں آپ کے حُسنِ انتظام کا راز مضمر ہے۔ اللہ رب العزت نے آپ کو مردم شناسی کی ایسی فراستِ صادقہ عطا فرمائی ہے کہ ہر شخص سے آپ اس کے مرتبہ کے اعتبار سے معاملہ فرماتے ہیں۔
طلباء کی مختلف قسم کی درخواستیں عین مصروفیت کی حالت میں آتی ہیں۔ آپ درخواست پر صرف ایک نظر فرماتے ہی اس کے پورے منشا و مقصد کو سمجھ جاتے ہیں اور بسا اوقات اس طالب علم کو سمجھانے کے سلسلہ میں اس کے مقصد کو ایسی وضاحت کے ساتھ بیان فرماتے ہیں کہ شاید خود صاحبِ درخواست بھی اس طرح اپنے منشا کو تفصیل سے نہ بیان کر سکتا۔ بعد میں طلباء میں سرگوشیاں ہوتی ہیں کہ حضرت والا کو ان باتوں کا کیسے علم ہو گیا۔
طلباء پر باوجود آپ کی بے انتہا شفقت، عفو و رحم، نرم مزاجی و مہربانی کے بھی آپ کی خداداد ہیبت و رعب اس درجہ ہے کہ مدرسہ میں آپ کے قدم رنجہ[123] فرماتے ہی ہر طالب علم پر خوف و ادب کی ملی جلی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ کسی طالب علم کی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ آپ کے سامنے کوئی نامناسب بات کہے یا کوئی نازیبا حرکت کرے۔
یہی حال مدرسہ کے اساتذہ کرام کا ہے کہ ہر ایک اپنے اپنے مرتبہ کے اعتبار سے حضرت والا دامت برکاتہم کا ادب و احترام محبت و عقیدت لئے ہوئے ہے۔
طلباء کے ساتھ آپ اولاد جیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کرتے ہیں کہ ہم تو طلباء کے ساتھ اولاد جیسا سلوک رکھتے ہیں۔ جب ہمارے پاس کچھ ہوتا ہے دینے سے انکار نہیں کرتے مدرسہ کے اہتمام و انتظام کی تمام ذمہ داریاں باوجود مختلف قسم کے مشاغلِ کثیرہ کے آپ ہی انجام دیتے ہیں مدرسہ کے ہر شعبہ کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں اکثر ہمیشہ ہی تعمیرات کا سلسلہ جاری رہتا ہے وقتاً فوقتاً اسے دیکھنے کے لیے موقع پر تشریف لے جاتے ہیں۔
ماشاء اللہ تعالیٰ حضرت والا نے بنفسِ نفیس تقریباً نصف صدی تک مدرسہ کا انتظام و اہتمام چلایا اب حضرت والا نے مدرسہ کا انتظام و اہتمام کثرتِ مشاغل، اسفار، مجالس، ڈاک اور طالبین کی آمد و رفت پیرانہ سالی، ضعف کے باعث اپنے فرزندِ ارجمند حضرت مولانا صفی اللہ خاں صاحب کو عنایت فرما دیا ہے وہ ماشاء اللہ تعالیٰ بِعَوْنِہٖ تَعَالٰی[124] بخلوص و صدق بحسن و خوبی اس خدمت کو حضرت والا کے زیرِ سرپرستی و نگرانی انجام دے رہے ہیں۔
حضرت مولانا صفی اللہ خاں صاحب نہایت سلیقہ شعار باصلاحیت ہیں۔ مدرسہ کا اہتمام جس ہمت، محنت، دیانت اور جانفشانی سے اپنی استعدادِ ذاتی اور صلاحیتِ خداداد سے چلا رہے ہیں اس کا بَیِّن ثُبُوْت[125] مدرسہ کے تمام مدرسین و طلباء کا ان سے بہت خوش رہنا ہے اور بتوفیقہٖ تعالیٰ مدرسہ یوماً فیوماً ترقی کر رہا ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔
حضرت والا مقامی تعلیمی و تربیتی مصروفیات کے باوجود اندرونِ ہند اور بیرونِ ہند مثلاً سعودی عرب، پاکستان، برطانیہ، فرانس، امریکہ، جنوبی افریقہ، پانامہ، مصر، بیت المقدس، کشمیر وغیرہ کے تبلیغی و اصلاحی دورے بھی فرماتے رہتے ہیں۔
بحمد اللہ تعالیٰ جس سے تِشْنِگَانِ تَزْکِیَہ[126] باطنی اور طالبانِ علوم و معارف وقتاً فوقتاً خوب سیراب ہو رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس چشمہِ فیض کو مدتِ مدید[127] تک جاری و ساری رکھیں اور حضرت والا کے فیوضِ باطنی کے انوار و برکات کو سارے عالم میں خوب پھیلا دیں۔ (آمین)
اندرونِ ملک نیز افریقہ، امریکہ، پاکستان، برطانیہ اور سعودی عرب وغیرہ سے بکثرت ڈاک آتی رہتی ہے جن میں اکثر خطوط طالبین کے طویل بھی ہوتے ہیں اور ایسے خطوط کا اوسط تقریباً ۴۰ رہتا ہے جن کا جواب آپ بالالتزام اسی روز تحریر فرما دیتے ہیں اور اگر اتفاقاً کبھی سفر یا بیماری کی وجہ سے ایک دو روز کی ڈاک جمع ہو جاتی ہے تو پھر نہایت ہی اہتمام کے ساتھ جمع شدہ ڈاک کے جوابات تحریر فرما دیتے ہیں اور جب تک ساری ڈاک کے جوابات سے فارغ نہیں ہو جاتے اطمینان نہیں ہوتا اکثر حاضرین سے فرماتے رہتے ہیں کہ بھائی آج ڈاک بہت ہے۔
آپ کے جوابات ایسے جامع اور طالب کے مناسبِ حال ہوتے ہیں کہ پڑھنے پر ایک عجیب سرور و سکون پیدا ہوتا ہے اور بسا اوقات آپ کے جوابات کو پڑھ کر سالک کا قبض[128] رفع ہو جاتا ہے اور بے اختیار یہ شعر پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔ ؎
اس وقت تیرا ساقی کیا حال ہوا ہوگا جس وقت یہ مے تو نے شیشے میں بھری ہوگی[129]
عموماً صبح ناشتے کے بعد مجلس دو گھنٹے ہوتی ہے اور جمعہ کے دن بعد نمازِ جمعہ بھی ہمیشہ مجلس ہوتی ہے ، جس میں گرد و نواح کے بہت سے حضرات طالبین و مریدین مدرسہ کے طلباء و اساتذہ شریک ہوتے ہیں۔
حاضرینِ مجلس کی کثرت رہتی ہے کہ مجلس خانہ میں اندر جگہ باقی نہیں رہتی باہر فرش پر بھی چٹائیاں بچھائی جاتی ہیں جس پر بہت سے لوگ بیٹھتے ہیں۔ اس مجلس میں عموماً حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا وعظ پڑھ کر سناتے ہیں۔ درمیان میں آپ موقع بموقع حسبِ ضرورت تفصیل و تشریح بھی فرماتے رہتے ہیں۔ مجلس میں تمام اہلِ مجلس ہَمَہ تَن گُوش[130] بنے رہتے ہیں۔ ہر شخص کے چہرہ پر تقویٰ کا نور اور عزم و ہمت کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔ مجلس میں بیٹھ کر ہر شخص اپنے دل میں خشیت و انابت کے آثار بین طور پر اپنی اپنی طلب اور اخلاص کے مطابق محسوس کرتا ہے چونکہ ؎
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
ہر آدمی اپنی اپنی جگہ یہ خیال کرتا ہے کہ گویا حضرت والا میرے حال کے مطابق ہی بیان فرما رہے ہیں۔
روزانہ کے اوقاتِ مجلس اور جمعہ کی اس مجلس کے علاوہ بھی بالعموم جب بیٹھتے ہیں اور کوئی مخاطب طالب حاضر ہوتا ہے تو اکثر ارشاداتِ عالیہ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ہر مسئلہ کو اس شرح و بسط [131]کے ساتھ بیان فرماتے ہیں کہ طالب کی پوری تَشَفِّی [132] فرما دیتے ہیں اور جیسا مخاطب ہوتا ہے اس کے مطابق ہی اس سے کلام فرماتے ہیں۔ ایک عامی آدمی کو جس طرح ایک مشکل سے مشکل مسئلہ کو آسان سے آسان اسلوب میں مثالوں اور واقعات و حکایات کی روشنی میں سمجھا دیتے ہیں، اسی طرح علماء و طلباء کو علمی اصطلاحات میں نہایت جامعیت کے ساتھ سمجھا دیتے ہیں۔ علومِ لَدُنِّیہ[133] اور وارِداتِ قلبیہ[134] کو علومِ اصطلاحیہ کی اصطلاحات کے ذریعہ سمجھا دینے کا ملکہ آپ کو حاصل ہے۔ علومِ اصطلاحیہ کا ایسا استحضار ہے کہ رات دن درس و تدریس میں مشغول علماء بھی آپ کی علمی تقاریر کو سن کر حیرت کرنے لگتے ہیں۔
جب آپ تقریر فرماتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اس نَحِیْف [135] سے جسم میں یہ اتنے سارے علوم کدھر سے القاء ہو رہے ہیں۔
راقم الحروف نے بسا اوقات اس کا مشاہدہ کیا ہے کہ بہت سے علماء پہلی ملاقات ہی میں آپ کی باتیں سُن کر گرویدہ و رَطْبُ اللِّسَان [136] ہو گئے۔ آپ کی شاید ہی کوئی ایسی مجلس ہوتی ہوگی جو حضرت حکیم الامت علیہ الرحمہ کے ذکر اور ان کے ملفوظات و ارشاداتِ عالیہ کے بیان سے خالی رہتی ہو۔ بار بار فرماتے رہتے ہیں کہ حضرت والا (حکیم الامت) نے اس بارے میں یہ فرمایا تھا یوں معلوم ہوتا ہے۔
کہ حضرت حکیم الامت کی تمام مجلسیں آپ کے دل میں نقش کالاحجر ہو گئی ہیں، جب بھی حضرت حکیم الامت نور اللہ مرقدہ کے ارشاداتِ گرامی کا تذکرہ فرماتے ہیں تو ایک عجیب سوزِ عشق کی کیفیت آپ پر طاری ہو جاتی ہے گویا یہ حال ہو جاتا ہے ؎
پہلے جان و دل میں بھر لیں مستیِ صہبائے شوق پھر کسی کی لذتِ گفتار کی باتیں کریں
اور اکثر موقع بموقع حضرت حکیم الامت کے سنائے ہوئے واقعات اور قصے بیان فرماتے رہتے ہیں۔ جس سے مسئلہ پوری تَمْثِیْل [137] کے ساتھ ذہن نشین ہو جاتا ہے۔ بعض مرتبہ ایک ایک مسئلہ پر کئی کئی گھنٹے تک سلسلہِ ارشاد جاری رہتا ہے کہ اگر کوئی قلم بند کرنے والا ہو تو اس مسئلہ پر ایک مستقل رسالہ تیار ہو جائے ۔ فقہ ، حدیث ، تصوف ، تفسیرِ عام ، اصلاحِ معاشرہ کے ہر قسم کے مسائل آپ کی مجلس میں بیان ہوتے ہیں بعض مرتبہ ایک معمولی سا واقعہ ہوتا ہے۔ اس پر جب سلسلہِ بیان شروع ہو جاتا ہے تو کافی طویل بیان ہو جاتا ہے، آپ کی مجلس میں جی بالکل نہیں اکتاتا، یوں جی چاہتا رہتا ہے کہ آپ فرماتے ہی رہیں اور مجلس ختم نہ ہو۔
آپ کے ارشاداتِ عالیہ میں علمی تحقیقات کا نچوڑ ہوتا ہے ہمیشہ آیات و احادیث، سلف کے واقعات و فقہی جُزْئِیَّات [138] سے مُدَلَّل کلام فرماتے ہیں۔ بعض مرتبہ دلائل سے ایسے نتائج کا اِسْتِخْرَاج [139]فرماتے ہیں کہ سننے والے اہلِ علم بھی دنگ رہ جاتے ہیں جس دلیل سے بظاہر مُدَّعٰی[140] کے ثبوت کی طرف ذہن بھی نہیں جاتا۔ اسی دلیل سے دعویٰ کو ثابت فرما دیتے ہیں، اور باقاعدہ مقدمات کو ملا کر نتائج کے استخراج کو ظاہر فرماتے ہیں۔
بات ہمیشہ پوری اور واضح فرماتے ہیں۔ جب کسی مسئلہ کو بیان فرماتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ سامعین کے قلوب میں اپنی بات کو اتارتے چلے جا رہے ہیں۔ بقول کسے ؎
افلاک سے کھینچی جاتی ہے سینوں میں اتاری جاتی ہے
توحید کی مے ساغر سے نہیں نظروں سے پلائی جاتی ہے
ہر شخص اپنی اپنی جگہ یہ سمجھتا ہے کہ خاص طور پر حضرت والا دامت برکاتہم کا مجھ ہی کو خطاب ہے اور میرے ہی دل کی بات فرما رہے ہیں۔ جب کلام فرماتے ہیں تو موتی بکھرتے ہیں جن میں کا ہر موتی انمول یکتا اور کوہِ نور ہوتا ہے۔
آپ اگر کبھی کسی سے بمصلحت مزاح بھی فرماتے ہیں تو اس کے اندر بھی کتنے ہی علوم اور حکمتیں، مصالح اور منافع مضمر ہوتے ہیں۔
چنانچہ ایک مرتبہ ایک شخص سے مجلس میں آپ نے مزاحاً کچھ باتیں فرمائیں اُن کے جانے کے بعد آپ نے ہم خدام کو مخاطب کر کے فرمایا کہ
تم کہتے ہوگے کہ حضرت جی ایسی باتیں کر رہے ہیں، اس میں بھی ہماری بہت سی حکمتیں ہوتی ہیں۔ منجملہ ان کے یہ بھی ہے کہ آنے والے کا ذرا دل کھلے اور وہ اپنی بات پوری کہہ سکے، آئندہ بھی ملنے کیلئے ہمت ہو اور شوق بڑھے۔ یہ صاحب حضرت والا کے مرید تھے۔
مزاح میں بھی کبھی کسی کو شرمندہ نہیں فرماتے، محض دل داری اور غلبہِ ہیبت کے دُور کرنے کیلئے گاہے بگاہے بضرورت کسی سے مزاح فرماتے ہیں آپ کے مزاح کا بھی مخاطب پر ایسا اثر ہوتا ہے کہ ہزار وعظ بھی اس پر قربان ہیں۔ جو بات بھی فرماتے ہیں بچی تلی فرماتے ہیں۔ دورانِ گفتگو میں اکثر تبسم فرماتے رہتے ہیں مگر کبھی بھی آپ کھل کھلا کر نہیں ہنستے۔
آپ ہمیشہ پاجامہ، کُرتا، پانچ کلی گول ٹوپی زیبِ تن فرماتے ہیں۔
پاجامہ تقریباً نصف ساق تک رہتا ہے۔ کُرتا بھی گھٹنوں سے کچھ نیچا پہنتے ہیں۔ سردی میں روئی دار کن ٹوپ پہنتے ہیں۔ جوتا عموماً ہلکا اور سادہ ہوتا ہے۔ لباس قیمتی اور اوسط درجہ دونوں قسم کا استعمال فرماتے ہیں۔ رنگ کپڑوں کا اکثر سفید ہوتا ہے۔ سردی میں ہلکی رضائی پورے دن اوڑھے رہتے ہیں۔ لباس جمعہ کے دن بدلتے ہیں۔ اگر بیچ میں کبھی سفر بھی پیش آجائے تو صرف سفر کی وجہ سے لباس نہیں بدلتے متعدد جوڑوں کے پہننے کی ایک خاص ترتیب ہوتی ہے کہ کپڑوں پر نمبرات پڑے رہتے ہیں۔ انہیں کے اعتبار سے نمبروار ہر ایک جوڑے کو پہنتے ہیں تاکہ ہر جوڑا برابر استعمال میں آتا رہے۔
جبہ، عبا، عمامہ وغیرہ پہننے کا کبھی التزام نہیں فرماتے صرف عیدین کے موقع پر جبہ زیبِ تن فرماتے ہیں جو کسی صاحب نے ہدیہ پیش کیا ہے۔
حُسْنِ خُلُق
آپ کی طبیعت بہت ہی نرم ہے کبھی کسی پر سختی نہیں فرماتے اور نہ موقعِ اصلاح میں کسی قابلِ اصلاح چیز سے چشم پوشی فرماتے ہیں جہاں کہیں بھی موقعِ اصلاح کا ہوتا ہے، نہایت نرمی کے ساتھ سمجھا دیتے ہیں کہ اگر مخاطب کے اندر تھوڑی سی بھی طلب اور اخلاص ہو تو وہ ضرور انشاء اللہ اس سے متاثر ہوگا۔ دوسروں کی شدید سے شدید ڈانٹ ڈپٹ بھی طالب پر وہ اثر نہیں کرتی جو آپ کا نرمی و حکمت کے ساتھ سمجھانا اثر کرتا ہے۔ آپ کا طرزِ کلام نہایت سادہ دل پذیر اور موثر ہوتا ہے جو کچھ فرماتے ہیں اس میں قال کے ساتھ چونکہ حال ہوتا ہے اور ؎
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
لہٰذا مخاطب پر اس کا بہت اثر ہوتا ہے۔
آپ ہر امر میں سادگی کو پسند فرماتے ہیں تکلف و بناوٹ سے طبعاً گریز ہے، بات ہمیشہ پوری اور صاف فرماتے ہیں اور اس کی تعلیم فرماتے ہیں کہ بات صاف اور پوری کہی جائے۔ ادھوری بات سے مخاطب کو تشویش ہوتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ علالت کی حالت میں بہت سے حضرات مزاج پرسی کیلئے آتے رہتے ہیں۔ عین اس علالت کی حالت میں بھی جتنی تفصیل سے ایک شخص کو طبیعت کا حال بتلاتے ہیں اسی تفصیل کے ساتھ دوسرے سے بھی بیان فرماتے ہیں آپ کا چہرہ انور ہمیشہ خندہ و شاداں رہتا ہے کہ دیکھ کر ہی آدمی کا دل بہل جائے کیسا ہی غمگین سے غمگین آدمی ہو تھوڑی دیر آپ کی باتیں سُن کر یوں محسوس کرتا ہے گویا بالکل کچھ غم تھا ہی نہیں۔
کیسے ہی سخت سے سخت اشتعال[141] کے ساتھ کسی امر کو آپ کے سامنے پیش کیا جائے اس طرح سے گھبرا کر عجلت میں نہیں پڑتے۔ نہایت تدبر، عور و فکر، متانت[142] و سنجیدگی کے ساتھ اس کے بارے میں رائے قائم فرماتے ہیں، کبھی گھبرا کر اعتدال سے تجاوز نہیں فرماتے آپ کو بہت سے امور کو بیک وقت انجام دیتے رہنے کا ایسا ملکہ (نسخہ) حاصل ہو گیا ہے۔ کہ ہر کام کو اپنی اپنی جگہ بتمام و کمال انجام دیتے رہتے ہیں۔ اور کبھی گھبراتے نہیں نہ ایسی مصروفیت میں کسی آنے والے پر اس کثرتِ مشاغل کے بار کو ظاہر ہونے دیتے ہیں۔ کتنے ہی مشاغل کا ہجوم ہو کیا مجال جو چہرہ پر شکن آجائے۔ بقول کسے ؎
جو ہیں خاصانِ حق وہ اپنے دل کو شاد رکھتے ہیں غم و اندوہ میں رنج و الم میں یاس و حرماں میں
پوری بشاشت کے ساتھ تمام امور کو انجام دیتے رہتے ہیں۔ بعض مرتبہ عین اسی مشغولیت کے وقت میں بعض اہلِ ضرورت آجاتے ہیں تو اسی مصروفیت کی حالت میں اس کی ضرورت بھی پوری فرماتے ہیں، کوئی تعویذ کیلئے آتا ہے تو اسے تعویذ مرحمت فرماتے ہیں کسی کے پانی پر دم فرماتے ہیں: کسی کیلئے دعا فرماتے ہیں پورا وقت مسلسل اسی طرح افادہ و خدمتِ خلق میں گزرتا ہے آپ کے معمولات کے بارے میں ایک مرتبہ آپ نے ارشاد فرمایا ؎
طریقت بجز خدمتِ خلق نیست بتسبیح و سجادہ و دلق نیست[143]
آپ کی شفقت کا یہ عالم ہے کہ ہر ایک اپنی جگہ یہ سمجھتا ہے کہ حضرت کا تعلق مجھ سے سب سے زیادہ ہے۔ ؎
اخلاق کا یہ عالم ہر ایک یہ سمجھتا ہے جو مجھ سے تعلق ہے اوروں سے نہیں ایسا
کتنے ہی خوش نصیب ایسے ہیں جن کی تربیت و تعلیم آپ نے اپنی نگرانی و تکفل میں فرمائی۔ مگر کبھی بھی کسی موقع پر آپ اظہارِ احسان نہیں فرماتے۔
آپ نہایت نرمی و مُلَاطَفَت [144] سے تدبیر و حکمت سے سائل کو سمجھاتے ہیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ ایک سفر میں کسی خان صاحب نے آپ سے متعدد اشکالات پیش کیئے۔ آپ جوابات عنایت فرماتے رہے اور وہ برابر اعتراضات کرتے رہے کہ اتنے میں آپ اثنائے گفتگو ہی میں پیشاب کیلئے تشریف لے گئے اور اس کے بعد دو رکعت پڑھیں اور پھر خان صاحب سے دریافت فرمایا کہ فرمائیے خان صاحب اب کیا اشکالات باقی ہیں آپ کے نرمی و ملاطفت کے ساتھ سمجھانے کا خان صاحب پر ایسا اثر ہوا کہ کہنے لگے اب تو کوئی بھی اعتراض نہیں ہے اور جو کچھ مجھ سے غلطی ہوئی ہے اس کی معافی چاہتا ہوں اور بہت ہی انکساری کے ساتھ معافی چاہنے لگے۔
اسی طرح ایک مرتبہ تھانہ بھون خانقاہ میں ایک سالک پر قبض طاری ہو گیا اور ان کو یہ خیال ہو گیا کہ میں شیطان ہو گیا۔ حضرت حکیم الامت نور اللہ مرقدہ اس زمانے میں بغرضِ علاج لکھنؤ تشریف لے گئے تھے، سالک نے اپنی اس پریشان خیالی کو کہ میں شیطان ہو گیا ۔ خانقاہ میں موجود کئی حضراتِ مجازین کے سامنے عرض کیا مگر ان کو سکون نہیں ہوا، قبض برابر باقی رہا۔ حضرت والا دامت برکاتہم جب خانقاہ تشریف لے گئے تو آپ کے سامنے بھی انہوں نے اپنا حال بیان کیا، آپ نے ان سے بطورِ سوال دریافت فرمایا کہ جب سے آپ کو شیطان ہونے کا خیال ہے اس وقت سے آپ نماز پڑھتے ہیں یا نہیں، انہوں نے عرض کیا کہ پڑھتا ہوں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ شیطان نے تو جب سے سجدہ سے انکار کیا ہے اور شیطان ہوا ہے وہ تو نماز نہیں پڑھتا، انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں شیطان تو نماز نہیں پڑھتا اس پر آپ نے فرمایا کہ پھر آپ شیطان کس طرح ہوئے، یہ سنتے ہی ان کا قبض جاتا رہا اور مطمئن ہو گئے۔
آپ کاغذ کا بہت ادب فرماتے ہیں اگر کہیں کاغذ کا کوئی ٹکڑا پڑا ہو تو اُسے اٹھا لیتے ہیں۔
آپ کا مزاج بہت ہی لطیف، نازک اور حساس ہے، ذرا سی موسم کی تبدیلی سے فوراً طبیعت پر اثر ہوتا ہے اسی طرح بدبو سے بہت اذیت ہوتی ہے اسی لیے مٹی کا تیل کبھی استعمال نہیں فرماتے ہمیشہ موم بتی جلاتے ہیں، اگر کہیں دور بھی لالٹین جل رہی ہو تو اس کی بو کا بھی احساس فرما لیتے ہیں اور باوجود اس لطافتِ طبع[145] کے کہ آپ کو بدبو سے بہت اذیت ہوتی ہے، بہت سے ایسے مریض جن کے بدن میں بعض امراض کی وجہ سے شدید بدبو پیدا ہوگئی کہ جس سے خود ان کے عزیز و اقارب بھی بمشکل ان کے پاس ٹھہر سکتے تھے، آپ برابر ان کی تیمارداری کیلئے تشریف لے جاتے رہے اور اُن کے پاس بیٹھ کر ان کی تسلی و تشفی فرماتے رہے۔
مجدد الملتہ حکیم الامت حضرت تھانوی قدس سرہٗ کی ذاتِ بابرکات سے آپ کو ایسی والہانہ عقیدت اور محبت ہے کہ اکثر مجلسوں میں بار بار حضرت حکیم الامت کے ارشادات و تحریرات کا ذکر فرماتے رہتے ہیں، اکثر جب بھی کسی مسئلہ کو بیان فرماتے ہیں تو اس مسئلہ پر بطورِ استدلال و استشہاد[146]، تائید و توضیح حضرت حکیم الامت کے ملفوظات کو بیان فرماتے ہیں۔ اسی ذیل میں سلف کے بہت سے واقعات بھی حضرت حکیم الامت کی مجلس میں سنے ہوئے سناتے رہتے ہیں۔
جب آپ کسی مسئلہ کو بیان فرماتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حکیم الامت کے علوم آپ کی طرف منتقل ہوتے آرہے ہیں اور حضرت میاں جی نور محمد صاحب نور اللہ مرقدہٗ کی دی ہوئی بشارت من و عن[147] بتمام و کمال پوری ہو رہی ہے ، جیسا خاص تعلق و عشق آپ کو حضرت حکیم الامت کی ذاتِ بابرکات سے ہے ایسا ہی مخصوص تعلق آپ کے ساتھ حضرت حکیم الامت نور اللہ مرقدہٗ کو تھا، جس کا بیان گذشتہ اوراق میں گزر چکا ہے۔ جب حضرت حکیم الامت کا ذکر فرماتے ہیں تو ایک عجیب کیفیت آپ پر طاری ہو جاتی ہے جیسا کہ کسی نے کہا ہے ؎
ڈوب سا جاتا ہے دل رہ رہ کے اُن کی یاد میں کوئی کیا سمجھے کہ وجہِ بے خودی ہوتی ہے کیا
جمعہ کی مجلس میں حضرت حکیم الامت کے مواعظ و ملفوظات کو ایسے درد توجہ و انشراح کے ساتھ پڑھتے ہیں کہ وہ مضامین تمام اہلِ مجلس کے دل میں اترتے چلے جاتے ہیں ؎
پہلے جان و دل میں بھر لیں مستیِ صہبائے شوق پھر کسی کی لذتِ گفتار کی باتیں کریں
بعض مرتبہ تو حضرت مرشدِ عالم حکیم الامت قدس سرہٗ کی یاد میں آپ آبدیدہ ہو جاتے ہیں، مگر بڑے تحمل سے آپ ضبط فرما لیتے ہیں ؎
تری یاد کی خلش ہو ترے ذکر کی تپش ہو مرے اشک ہائے غم کو کوئی چاہیئے بہانہ
اپنے شیخ سے جیسی محبت و عقیدت ہونی چاہیے اس کا کمال درجہ آپ کو حاصل ہے۔ جب بھی آپ کسی مسئلہ کو تفصیل کے ساتھ ذکر فرماتے ہیں تو بار بار فرماتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اپنے شیخ کی برکت سے عرض کر رہا ہوں۔
جلال آباد کے زمانہ قیام میں آپ ہمیشہ تھانہ بھون بالالتزام[148] حاضر ہوتے رہے۔ چنانچہ آپ کا معمول تھا کہ جمعرات کی شام کو خانقاہِ شریف لے جاتے تھے اور ہفتہ کی مجلسِ خاص میں شرکت کے بعد تشریف لاتے تھے۔ خانقاہ میں مجلسِ عام و خاص و اخص الخواص[149] ہر ایک میں آپ کو حاضری کا شرف حاصل تھا چنانچہ اس سلسلہ میں حضرت والا نے فرمایا کہ کبھی ایسا بھی ہوا کہ خاص مجلس میں صرف میں اکیلا ہی ہوتا تھا۔ غایتِ احترام [150]کی وجہ سے آپ حضرت حکیم الامت قدس سرہ العزیز کے سامنے بہت کم صرف بقدرِ ضرورت کلام فرماتے تھے اس پر حضرت خواجہ صاحب نے فرمایا بھی کہ آپ بولا کریں اور فرمایا کہ میں نہیں کہہ رہا ہوں، حضرت (حکیم الامت) نے فرمایا ہے کہ اُن سے کہہ دو کہ مجھ سے بے تکلف ہوں، ذرا بولا کریں، اس سے حضرت حکیم الامت کا غایتِ تعلق[151] و محبت بھی آپ کے ساتھ ظاہر ہوا اس واقعہ کو فرمانے کے بعد حضرت والا نے فرمایا کہ اس کے باوجود بھی ہمت نہیں ہوتی تھی، بس کبھی کبھی معمولی سا بولا کرتا تھا۔
مجازِ بیعت ہو جانے کے بعد بھی کبھی اپنے آپ کو شیخ سے مستغنی[152] نہیں سمجھا ہمیشہ حسبِ حال اطلاع فرماتے رہے اور استفادہ فرماتے رہے چنانچہ پہلے آپ توجہ فرمایا کرتے تھے آپ کی قوتِ خیالیہ[153] بہت قوی تھی چنانچہ اس سلسلہ میں آپ نے فرمایا کہ اس زمانے میں میرے اوپر کسی چیز کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا کیسا ہی کوئی بڑے سے بڑا آدمی ہوتا یا پرندہ یا درندہ ہوتا تھا ۔ اس کا مطلق کوئی اثر نہیں ہوتا تھا اسی زمانے میں دہلی تشریف لے گئے تھے وہاں ایک مسجد میں آپ نماز پڑھا کرتے تھے، وہاں پر ایک شخص نے آپ سے اصرار کیا کہ ہمارے نقشبندی پیر آئے ہوئے ہیں۔ ذرا وہاں چلو ، حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ جب انہوں نے زیادہ اصرار کیا تو ہم نے کہا بھائی چلو ہم ان کے پاس پہنچے تو نماز کے بعد حلقہ کر کے وہ مریدین پر باری باری توجہ دے رہے تھے میں سب سے اخیر میں بیٹھا ہوا تھا انہوں نے تین بار میرے اوپر توجہ ڈالی تو مجھے غیرت آئی کہ میرے چلے جانے کے بعد ان کو معلوم ہوگا کہ یہ فلاں جگہ بیعت ہیں میں نے جو ان پر توجہ کی تو وہ کمبل اوڑھے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے۔ کمبل ہٹا اور ایک طرف کو گر پڑے، اس کے بعد میں چلا آیا۔ اور حضرت والا کی خدمت میں واقعہ لکھا۔ خانقاہ ہی میں لکھ کر عریضہ[154] دیا تھا۔ منبر پر جواب کیلئے ملنے کا پتہ لکھا تھا۔ حضرت والا نے جواب میں تحریر فرمایا کہ انہوں نے تو بچوں کا کھیل کیا ہی تھا تم نے بھی بچوں کا کھیل کیوں کیا۔ لہٰذا بیس نفل پڑھو جواب پڑھتے ہی وہیں بیس نفل پڑھے، اس کے بعد قوتِ خیالیہ میں ضعف آگیا اور توجہ دینا بند کر دیا۔ اس واقعہ سے بھی آپ کا کمالِ اتباع ظاہر ہے کہ حضرت حکیم الامت نور اللہ مرقدہٗ کی صرف اتنی سی تنبیہ پر توجہ فرمانا ترک کر دیا اور جو حال پیش آیا تھا اس کی من و عن حضرت حکیم الامت کی خدمت میں اطلاع فرمائی۔ جو عقیدت بیعت سے قبل ہی غائبانہ طور پر پیدا ہوئی تھی کہ باوجود اور بہت سے حضرات کے دیکھنے کے کبھی حضرت حکیم الامت کے علاوہ کسی دوسری جانب خیال بھی نہیں گیا وہی کمالِ عقیدت محبت و انقیاد[155] بتمام و کمال باقی رہا اور ہے، جس کا اظہار آپ کے ہر ہر قول و عمل سے ہوتا رہتا ہے۔
اللہ رب العزت ہم سب کو بھی آپ کی ذاتِ بابرکات کے ساتھ ہی کمالِ عقیدت و محبت اتباع و انقیاد نصیب فرمائے۔ اور آپ کے سایہِ عاطفت[156] کو تا دیر ہمارے اوپر باقی رکھے۔ آمین ثم آمین۔
آپ حضرت حکیم الامتؒ کے ارشاد پر ۱۳۵۷ھ میں قصبہ جلال آباد ضلع مظفر نگر تشریف لائے، یہاں ایک مکتب تھا جس میں ایک حافظ صاحب پڑھاتے تھے۔ کل دو کمرے تھے، جس میں حضرتؒ نے درس وتدریس کا کام شروع کیا، اللہ تعالیٰ کی توفیق اور حضرت مسیح الامت کے اخلاص وللّٰہیت کی برکت سے یہ مکتب چند ہی سالوں میں جامعہ مفتاح العلوم میں تبدیل ہو گیا اور درس نظامی کی مکمل تعلیم مع فنون ہونے لگی، ہندوستان کے مختلف صوبوں اور بیرون ہند کے طالبان علوم دینیہ خاص کر افریقی طلبہ جوق در جوق جامعہ میں داخل ہونے لگے اور جامعہ کو عالمگیر شہرت حاصل ہوئی، حضرت مولانا مفتی سعید احمد لکھنویؒ، حضرت علامہ رفیق احمد صاحب، حضرت مولانا محمد یاسین صاحب، حضرت مولانا محمد نصیر احمد صاحب، حضرت علامہ احمد حسن عرف دادا صاحب رحمہم اللہ جیسے اساطین علم وعمل نے جامعہ کو رونق بخشی اور ۱۳۵۷ھ سے تا ہنوز علم وعمل کا یہ نورانی قافلہ رواں دواں ہے۔
حضرتؒ کے انتقال پر ملال کے بعد آپ کے صاحبزادے اور جانشین حضرت والا مولانا محمد صفی اللہ صاحب مدظلہ العالی کی نگرانی میں یہ ادارہ ہر اعتبار سے ترقی پر ہے، بغیر کسی سفیر کے اتنا بڑا کام محض توکل علی اللہ جاری ہے، اللہ رب العزت اس چشمۂ فیض کو تا ابد جاری رکھے۔ اور اس کے فیضان کو عالمگیر فرمائے۔
تقریباً ۸۲ / سال کی عمر آپ نے پائی ۲۵ / رمضان المبارک ۱۴۱۲ھ کو صاحب فراش ہوئے۔ گو علالت کا سلسلہ کافی دنوں سے جاری تھا۔ لیکن یہ علالت جو آپ کی وفات کا سبب بنی تقریباً ۸ یا ۹ ماہ پر محیط رہی۔ آپ لیٹے ہی لیٹے آنے جانے والوں سے ملاقات کرتے، نصیحت فرماتے، اور ان کے لیے دعائیں فرماتے کھانا پینا اور غذا سب بند ہو چکا تھا، بس زمزم یا پانی یا کوئی ہلکی پھلکی دوا پیٹ میں جاتی تھی۔ یہاں تک کہ وہ وقت آ ہی گیا جس کا منہ ہم سب کو دیکھنا ہے۔ پندرہویں صدی کے شیخ کامل، امراض روحانی کے طبیب حاذق ہمارے آقا و مرشد نے ۱۷/ جمادی الاولیٰ ۱۴۱۳ھ مطابق ۱۳/ نومبر ۱۹۹۲ء کو جمعہ کی شب میں ۱۱ بج کر ۵۵ منٹ ۵/ سکنڈ پر داعی اجل کو لبیک کہا اور اپنے محبوب حقیقی کی بارگاہ میں پہونچ گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ان کے جانے کا شہیدی حادثہ ایسا نہ تھا کچھ نہ روئے آہ گر ہم عمر بھر رویا کرتے
مَضَتِ الدُّہُوْرُ وَمَا آتَیْنَ بِمِثْلِہٖ وَلَقَدْ اَتٰی فَعَجَزْنَ عَنْ نُّظَرَائِہٖ[158]
رَحِمَہُمُ اللّٰہُ رَحْمَۃً وَّاسِعَۃً وَّ اَدْخَلَ اللّٰہُ فِى الْجِنَانِ
رات ہی میں آپ کو غسل دیا گیا، جس میں عَوَام و خَوَاص شروع سے اخیر تک شریک رہے، جلال آباد آج بھی قصبہ ہے اور اس وقت بھی قصبہ ہی تھا سہولت کی فَرَاوَانِی نہ تھی، مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت ملاحظہ فرمائیے اور حضرت قُدِّسَ سِرُّہ کی مَحْبُوبِیَّت کا مشاہدہ کیجئے کہ آپ نے اپنی عَلَالَت کے دوران ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ جلال آباد میدانِ عَرَفَات میں تبدیل ہو جائے گا اور ایسا ہی ہوا، فجر تک جلال آباد لوگوں سے بھر گیا، جیسا کہ بتایا گیا کہ رات ہی میں آپ کو غسل و کفن وغیرہ دے کر آپ کو بستر پر لٹا دیا گیا تھا۔ یہ جمعہ کا دن تھا نمازِ جمعہ تک پورے جلال آباد میں پیر رکھنے کی جگہ نہ تھی، حضرت صاحبزادے محترم مولانا صفی اللہ صاحب دَامَتْ بَرَکَاتُہُم پر رَنْج و مَلَال کی ایسی کیفیت طاری تھی کہ جس کا اظہار اس وقت مشکل ہے۔ جمعہ کی نماز کے بعد آپ کے خادمِ خاص مولانا عنایت اللہ لندنی صاحب مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی جو حضرتؒ کے نہایت بااعتماد خادم تھے، حضرت ان پر بہت اعتماد فرماتے تھے حتی کہ اخیر میں بخاری شریف کے چند اسباق بھی ان کے حوالہ کر دیئے گئے تھے، انہوں نے حضرت صاحبزادے کے حکم سے نمازِ جنازہ پڑھائی، دو ڈھائی لاکھ انسانوں کے جَمِّ غَفِیْر نے جس میں ایک بڑی اکثریت علماء، صُلَحَاء اور طلباء کی تھی، ان کی اِقْتِدَاء میں نمازِ جنازہ ادا کی اور حضرت مولانا سعید احمد لکھنویؒ قُدِّسَ سِرُّہ کے بغل میں آپ کی وَصِیَّت کے مطابق تَدْفِیْن عمل میں آئی۔
رات بارہ بجے تک اس پاک تُرْبَت پر مٹی دینے کا سلسلہ جاری رہا، یہ نَاکَارَہ وِصَال سے ۲۰/ دن پہلے حاضر ہوا تھا، حضرتؒ کی شَفْقَت و محبت کو یہ خادم کبھی فراموش نہیں کر سکتا، باوجُود شَدِید ترین عَلَالَت کے اپنے دایاں ہاتھ اٹھانا چاہا جو اٹھ نہیں رہا تھا۔ اَحْقَر نے یہ محسوس کر کے اپنے دونوں ہاتھ لگا کر آپ کے دَسْتِ مُبَارَک کو کھڑا کیا اور بے اختیار احقر کے چہرے پر رکھ دیا اور بار بار فرماتے رہے، یہ تو میرا پُرانا بچہ ہے، بہت اچھا بچہ ہے، احقر نے عرض کیا کہ حضرت میں ۲۴/ سال سے اس در سے وَابَسْتَہ ہوں، آپ کی اتنی شفقت، محبت اور پیار پایا ہے کہ اب میں اس در کو نہیں چھوڑ سکتا، حضرت بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ بھائی جان کو مت چھوڑنا، چنانچہ حضرت کی خواہش اور ہدایت کے مطابق احقر نے حضرتؒ کی وِصَال کے بعد حضرت مَخْدُوم زَادَہ بھائی جان مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی سے رُجُوع کر لیا۔ اور ایک سال کے بعد زبردستی اِصْرَار کر کے بَیْعَت ہو گیا، آپ نے زبانی اجازت مجھ کو اسی وقت عطا فرمادی تھی اور پھر بعد میں تحریری طور پر بھی بیعت کی اجازت عطا فرمائی۔ یہ زبانی اجازت حضرت قُدِّسَ سِرُّہ کی طرف سے عطا کی گئی تھی، جس کا راز بعد میں سمجھ میں آیا۔ کہ حضرت نے بھائی جان کو مت چھوڑنا کیوں فرمایا تھا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی اِحْسَانِہٖ احقر حضرت قُدِّسَ سِرُّہ کی رُوحَانِیَّت کی برکت سے اس لائن میں سِلْسِلَہ کو فُرُوغ دینے اور حضرت کے مشن کو آگے بڑھانے میں دن رات لگا ہوا ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا فَخْر اللہ پاک قبول فرمائے۔ آمین۔
حضرت قُدِّسَ سِرُّہ کے وِصَال کی خبر مجھے تَدْفِیْن کے بعد ملی اور تفصیل اس کی ہمیں حضرت مولانا سید اسعد مدنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ سے زبانی تیسرے دن معلوم ہوئی، میں نے تفصیل سننے کے بعد فوری سفر کیا اور مَزَارِ اَقْدَس پر حاضر ہو کر اَشْک ہَائے عَقِیْدَت پیش کیا، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا حضرت بَاحَیَات ہیں اور کچھ ارشاد فرما رہے ہیں، آج بھی ان کی یاد سے مَعْمُور و مُنَوَّر ہوں ہے اور ان کے مشن کی تَوْسِیْع و مشن کے لیے احقر نے خود کو وَقْف کر رکھا ہے۔
ڈوب سا جاتا ہے دل رہ رہ کر ان کی یاد میں کوئی کیا سمجھے کہ وجہِ بے خودی ہوتی ہے کیا
آپ کے لاکھوں مُتَوَسِّلِین، مُرِیدِین تھے، سبھی پسماندگان میں شامل ہیں۔ اللہ حضرتؒ کے درجات بلند فرمائے اور ان کے پسماندگان کو ان کے نَقْشِ جَمِیل پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آپ نے کم و بیش ۶۰ حضرات کو مَجَازِ صُحْبَت و بَیْعَت بنایا تھا، جن کی بڑی اکثریت پاکستان، افریقہ میں تھی، اور ہے ایک خاص تعداد اللہ تعالیٰ کے جِوَارِ رَحْمَت میں جا چکی ہے، جو حضرات بَاحَیَات ہیں ان سے حضرت کا مشن زندہ ہے اور سلسلہ کو فُرُوغ ہو رہا ہے۔ یہاں ہندوستان میں میرے محدود علم کے موافق صرف ۳ ہی حضرات حضرتؒ کے خلفاء میں باحیات ہیں (۱) جناب مولانا صوفی محمد قمر صاحب الہ آبادی مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی ماشاء اللہ وسیع سلسلہ رکھتے ہیں (۲) جناب حضرت مولانا اہل اللہ صاحب پرنام بٹ تملناڈو مَدَّظِلُّہُ العالی جو اس وقت حضرتؒ کے کام کو اور ان کے مشن کو ٹھیک حضرتؒ کے طرز پر کر رہے ہیں اور پھیلا رہے ہیں، آپ بہت ہی بابرکت اور قَوِیُّ النِّسْبَت بزرگ ہیں، اللہ آپ کی عمر میں برکت عطا فرمائے اور آپ کے فیضان جاری فرمائے۔ آمین (۳) حضرت والا قُدِّسَ سِرُّہ کی واحد یادگار آپ کے صاحبزادہ حضرت مولانا صفی اللہ صاحب مَدَّظِلُّہ ہیں جو حضرت کے اکلوتے فرزند ہونے کے ساتھ ساتھ حضرت کے علمی عملی اور روحانی وراثت کے جَانَشِین ہیں ضُعْف و عَلَالَت کے باجود پَامَرْدِی و اِسْتِقَامَت کے ساتھ ہر کام کو بِحُسْن و خُوبِی انجام دے رہے ہیں آپ کے حسنِ اخلاق، مروت احسان و کرم نے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا رکھی ہے اور حضرت کے واحد یادگار ہونے کی وجہ سے پورے ملک میں انتہائی احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ آپ کی ذات سے مدرسہ مِفْتَاحُ الْعُلُوْم ہر اعتبار سے ترقی کی طرف رَوَاں دَوَاں ہے جمعہ کے دن بَاقَاعِدَہ مَجْلِس ہوتی ہے جس میں اَطْرَاف و جَوَانِب سے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ بَیْعَت و اِرْشَاد کا سلسلہ بھی جاری ہے آپ نے اب تک کم و بیش ۱۰/ افراد کو مُجَازِ بَیْعَت بنایا ہے تَمْثِیْل کا موقع نہیں ہے۔ ورنہ آپ کی ذات وصفات پہ ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی صحت و قُوَّت کے ساتھ تَا دَیْر باقی رکھے اور آپ کے فیضان کو جاری و سَارِی رکھے اور آپ کا سچا جَانَشِیْن پیدا فرمائے۔
اس کے علاوہ حضرتؒ کی ۳/ بچیاں بھی ہیں سب ماشاء اللہ صاحب اَوْلَاد اور سَرْ سَبْز و شَادَاب ہیں۔ سب سے بڑے داماد حضرت مولانا وکیل احمد شیروانی صاحب ہیں جو لاہور میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں، دوسرے داماد حضرت مولانا سید عبد الرحیم صاحب ہیں جو کٹک اُڑِیسَہ کے رہنے والے ہیں۔ آج کل بہت ہی عَلِیْل ہیں اللہ انہیں صحت و شفاء عطا فرمائے۔ تیسرے داماد غالباً علی گڑھ میں قِیَام پَذِیْر ہیں۔
1. فضل الباری (تقریرِ بخاری): صحیح بخاری کی شرح یا درسی افادات۔
2. شریعت و تصوف (مکمل): یہ وہی کتاب ہے جس کے صفحات آپ پڑھ رہے ہیں، جو شریعت اور طریقت کے حسین امتزاج پر مبنی ہے۔
3. تعلیماتِ اسلام: اسلامی بنیادی عقائد و اعمال کی تعلیم۔
4. التوحید الحقیقی: توحید کے خالص اور عمیق پہلوؤں پر روشنی ڈالنے والا رسالہ۔
5. حفظ السلم: امن و سلامتی اور باہمی معاشرت کے اصول۔
6. ذکر النبی ﷺ: رسول اللہ ﷺ کی یاد اور سیرت کے پہلو۔
7. ذکرِ الٰہی: اللہ تعالیٰ کے ذکر کی اہمیت اور فضیلت۔
8. فضیلتِ علم: علمِ دین کی اہمیت اور اس کے حصول کے فضائل۔
9. ملفوظاتِ اصلاحِ نفس: باطنی تربیت اور تزکیہ کے لیے حضرت کے ارشادات۔
10. اصولِ تبلیغ: دین کی دعوت اور تبلیغ کے صحیح طریقے اور قواعد۔
11. احکامِ تبلیغ: تبلیغی کام سے متعلق شرعی احکام و ہدایات۔
12. رسالہ اسٹرائک: اس دور کے مخصوص سیاسی یا سماجی مسائل (ہڑتال وغیرہ) پر شرعی نقطہ نظر۔
13. ملفوظاتِ اسٹرائک: اسی موضوع پر مزید افادات۔
14. تقلید و اجتہاد: فقہی مسائل میں ائمہ کی پیروی اور اجتہاد کی ضرورت پر بحث۔
15. مواعظ (دو جلدوں میں): حضرت کے اصلاحی بیانات اور تقریروں کا مجموعہ۔
16. ملفوظات جلد اول (الحج - الجہاد): حج اور جہاد کے موضوعات پر حضرت کے ارشادات۔
]یہ فہرست تنوع ظاہر کرتی ہے کہ حضرت کی نظر دین کے تمام شعبوں پر تھی۔ آپ نے جہاں "بخاری شریف" جیسی عظیم کتاب کی شرح لکھی، وہیں "اصلاحِ نفس" اور "معاشرتی مسائل" (جیسے اسٹرائک) پر بھی قلم اٹھایا۔ ایک ہی شخصیت کا فقیہ، محدث، اور صوفی ہونا ان کتب کی فہرست سے بخوبی عیاں ہے۔]
جن خوش قسمت حضرات کو حضرت والا دامت برکاتہم سے بالمشافہ[159] شرفِ ملاقات حاصل ہے اور آپ کی مجلسوں میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ بالخصوص جن سعادت مند احباب کو کچھ دنوں آپ کی خدمتِ بابرکت میں رہنے کا کچھ موقع ملا ہے وہ یقیناً ان چند بے ربط سطروں کو نہایت ہی ناقص تذکرہ آپ کے اوصافِ حمیدہ کا خیال فرمائیں گے اور خود یہ "سگِ آستانہ" [160]مسیحی[161] بھی اس خیال میں احباب سے متفق ہے۔ آپ کا ہر وصف اپنے انوار و برکات سے معمور ہے کہ اگر لکھا جائے تو ہر ایک وصف پر ایک مستقل کتاب تیار ہو جائے، آپ کی ذاتِ ستودہ صفات کے تعارف کیلئے ان چند سطروں کا لکھنا دریا کا تعارف ایک قطرہ سے کرانے کے مترادف ہے۔ اس ہیچمداں[162] نے کچھ دنوں کے زمانہِ قیامِ خانقاہ میں صرف اس مختصر سے تعارف کو اس لیے لکھا ہے تاکہ ان محبین مخلصین کے لئے جنہیں آپ کی ذات والا صفات سے عقیدت و ارادت ہے باعثِ مسرت ہو اور اس ناچیز کیلئے ذریعہِ اجرِ آخرت ہو۔ (آمین)
جو واقعات و حالات لکھے ہیں وہ بندہ نے ازخود حضرت والا دامت برکاتہم سے دریافت کر کے لکھے ہیں یا جو بندہ نے خود مشاہدہ کئے یا بلا دریافت علی سبیل التذکرہ حضرت والا نے انہیں بیان فرمایا اور بندہ نے سُنا۔ اسی طرح جو چند خطوط کی نقل کی ہے وہ بھی باصرارِ بندہ نے حضرت والا دامت برکاتہم سے لے کر کی ہے۔ حضرت والا دامت برکاتہم غایتِ عجز و انکساری کی وجہ سے ہمیشہ اپنے حالاتِ رفیعہ[163] کا اخفاء فرماتے رہتے ہیں ۔ یہ چند واقعات بھی بندہ کے اصرار پر ازراہِ شفقت و مروت صرف ہم خدام کی دل جوئی کی خاطر بیان فرما دیئے اور میرے قلم بند کرنے کے بعد اپنی طبیعت پر جبر فرما کر میرے دوبارہ تصحیح کی غرض سے سنانے پر جب میں نے تصحیح کی خاطر واقعات و حالات سنائے سنتے۔ اس کے باوجود بھی کوئی بات حضرت والا کی شانِ عالی کے خلاف لکھی گئی ہو جس سے کسی بھی قسم کی منقصت[164] آپ کی شان میں لازم آتی ہو، اسے سراسر اس بندہ کا قصور خیال فرماویں۔
آخر میں دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے قبول اور مقبول فرماویں اور ہم سب کو اپنے صالحین بندوں میں داخل فرمائے اور انہیں کی راہ پر مستقیم فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
بندہ رشید احمد میواتی
۶ رمضان المبارک ۱۳۸۵ھ[165]
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
کتاب کے بیشتر مضامین حضرت حکیم الامت مُجدد الملتہ جامع الشریعت والطریقت مرشدی و مولائی حضرت مولانا تھانوی قدس سرہٗ کی مختلف کتابوں مثلاً التکشف، بواوِ در النوادر، تعلیم الدین، قصد السبیل، حیات المسلمین نیز دیگر کتب آداب الشیخ والمرید، تبلیغِ دین، شریعت و طریقت وغیرہ سے لئے گئے ہیں۔ یا وہ باتیں لکھی گئی ہیں جو حضرت حکیم الامت کی مجلسوں میں میں نے سُنی ہیں۔
یہ سب کچھ فی الحقیقت حضرتِ اقدس ہی کا فیض و برکت ہے بقولِ حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ جن کی تعلیم و تربیت تصنیف و تالیف و وعظ و تبلیغ کی بدولت عقائدِ حقہ کی تبلیغ ہوئی مسائلِ صحیحہ کی اشاعت ہوئی، دینی تعلیم کا بندوبست ہوا، رسوم و بدعات کا قلع قمع ہوا، سننِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا احیاء ہوا۔ غافل چونکے، سوتے جاگے، بھولوں کو یاد آئی، بے تعلقوں کو اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے سینے گرمائے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے دل روشن ہوئے اور وہ فن جو جوہر سے خالی ہو چکا تھا پھر سے حضرت شبلیؒ و جنیدؒ و بسطامیؒ و جیلانیؒ و سہروردیؒ و سرہندیؒ بزرگوں کے خزانوں سے معمور ہو گیا۔ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی رَحْمَةً وَّاسِعَةً۔ اور یہ شانِ تجدید تھی جو اسی صدی میں مجددِ وقت کیلئے اللہ تعالیٰ نے مخصوص فرمائی، اللہ تعالیٰ ہم سب مستفیضین کی جانب سے تا ابد اپنے لازوال و لا متناہی خزانوں سے ان کی روح پر فتوح[166] پر اپنی رحمتوں کی بارش فرماتا رہے اور اپنے مراتبِ قرب سے ہمیشہ نوازتا رہے۔ آمین ثم آمین۔
احقر محمد مسیح اللہ عفی عنہ
ابھی آپ نے حضرت مسیح الامت کے تین بَاحَیَات خُلَفَاء کا تذکرہ پڑھا ہے۔ افسوس کہ ۲/ مارچ ۲۰۱۳ء بروز جمعہ حضرت مسیح الامت کے جَانَشِیْن و واحد فرزند صفی الملت حضرت مولانا شاہ صفی اللہ صاحب المعروفی بہ بھائی جان بھی انتقال فرما گئے۔ "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعونَ"۔ اللہ تعالیٰ حضرت بھائی جان کی مغفرت فرما کر درجاتِ عالیہ سے نوازیں، حقیقت یہ ہے کہ آج حضرت مسیح الامت کے پَسْمَانْدَگَان دوبارہ یتیم ہو گئے، بالخصوص حضرت بھائی جان رحمۃ اللہ سے جو لوگ وابستہ تھے، ان کے سروں سے عظیم سایہ اٹھ گیا۔
حضرت مسیح الامت نور اللہ مرقدہ کے روحانی و عِرْفَانِی جانشین وخلیفہ ہونے کے ساتھ آپ حضرت کے فَرْزَنْدِ اَرْجُمَنْد بھی تھے، دونوں نسبتوں کا مبارک اثر یہ تھا کہ حضرت بھائی جان مرحوم کی قربت سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ دو دو نسبتیں حاصل ہیں اور یہ شرف کسی کو بھی حاصل نہیں تھا۔
وَذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَاء
حضرت اقدس بھائی جان کے وصال سے ہم سب میں احساسِ یتیمی پیدا ہو گیا، اللہ تعالیٰ تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے آمین، اور غیب سے حضرت بھائی جان کا نِعْمَ الْبَدَل نصیب فرمائے آمین، افسوس کہ اب کوئی ایسا شخص نظر نہیں آرہا ہے جو سب کو سمیٹ لے۔ حضرت اقدس بھائی جان نور اللہ مرقدہ کے وصال کے بعد ان کے بڑے فرزند جناب مولانا یحییٰ اللہ صاحب سلمہ اللہ کو خانقاہ میں ان کا جانشین بنا دیا گیا ہے۔
اس نَاکَارَہ کو اجازت و خلافت کی جو امانت حضرت بھائی جان سے ملی تھی وہ صاحبزادہ مکرم کو پیش کر دی، مدرسے کے مُہْتَمِم تو وہ پہلے ہی بنا دیئے گئے تھے، مزید اللہ پاک سے دعا ہے کہ عزیزم مکرم میں صَلَاحِیَّت و صَالِحِیَّت پیدا فرمائے۔ امید نہیں بلکہ یقین ہے کہ بہت جلد انشاء اللہ تمام کام بِحُسْن و خُوْبِی کرنے لگیں گے۔ جس سنجیدگی اور مَتَانَت کے ساتھ انہوں نے کام شروع کیا ہے ذمہ داری کا احساس خود ایک بڑی نعمت ہے۔ اور ماشاء اللہ مولانا موصوف میں یہ احساس بخوبی پیدا ہو گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد اور خانقاہِ مسیح الامت کو نظرِ بد سے بچائے اور شب و روز ترقّیات و برکات سے مالا مال فرماتا رہے۔ آمین !!! نوٹ: عنقریب حضرت بھائی جان صاحب نوراللہ مرقدہ کی خدمات وحیات پر مستقل کتابچہ شائع ہونے والا ہے۔
احمد نصر بنارسی غفرلہ
۷/۳/۲۰۱۳
[1] قُدِّسَ سِرُّہُ: اللہ ان کی قبر (یا باطنی راز) کو پاکیزہ رکھے۔ یہ وفات پا جانے والے بزرگوں (جیسے حضرت تھانویؒ) کے نام کے ساتھ بطورِ دعا لکھا جاتا ہے۔
[2] خواب میں ملنے والی خوشخبری۔
[3] دَامَتْ بَرَکَاتُہُم ان کی برکتیں ہمیشہ قائم رہیں۔ یہ زندہ بزرگوں کے لیے دعائیہ کلمہ ہے۔
[4] سِہ دَرِی پرانے طرزِ تعمیر کا ایک بڑا کمرہ یا دالان جس میں تین دروازے (در) ہوتے ہیں۔ یہ خانقاہوں میں بیٹھنے کی مخصوص جگہ ہوتی تھی۔
[5] بَیْد بید کی لکڑی کا ڈنڈا یا چھڑی، جو بزرگ اکثر اپنے پاس رکھتے تھے۔
[6] ضَخَامَت موٹائی، یعنی کتاب کے صفحات کا زیادہ ہونا۔
[7] حد سے بڑھ جانا، مبالغہ آرائی کرنا (مصنف کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے عقیدت میں حد سے بڑھ کر جھوٹے دعوے نہیں لکھے)۔
[8] ترجمہ: غرض یہ ایک نقش (تحریر) ہے جو ہماری یادگار کے طور پر رہ جائے گا، کیونکہ میں اس ہستی (زندگی) کے لیے کوئی بقا (ہمیشگی) نہیں دیکھتا۔
یہ فارسی ادب کا ایک مشہور شعر ہے جو اکثر مصنفین اپنی کتابوں کے دیباچے کے آخر میں لکھتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انسان فانی ہے، کل میں نہیں ہوں گا، بس یہ لکھی ہوئی کتاب میری یاد کے طور پر دنیا میں باقی رہ جائے گی۔
[9] مَسِیْحُ الْاُمَّت امت کا مسیحا (روحانی علاج کرنے والا)۔ یہ اس کتاب کے مصنف حضرت مولانا شاہ محمد مسیح اللہ خان صاحبؒ کا مشہور لقب ہے۔
[10] وہ لوگ جن پر انعام کیا گیا (انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین)۔
[11] پاکیزہ بارگاہ (یعنی اللہ کی بارگاہ) کے قریب کیے گئے لوگ۔ مراد اولیاء اللہ ہیں۔
[12] اَنْفَاسِ قُدْسِیَّہ پاکیزہ سانسیں یا پاکیزہ روحیں۔ صوفیاء کی مجالس کے لیے استعارہ ہے۔
[13] کِیْمِیَاء اَثَر کیمیا وہ مادہ ہے جو لوہے یا تانبے کو سونا بنا دے۔ مراد ایسی نگاہ جو گنہگار انسان کو ولی بنا دے۔
[14] دونوں جہانوں (دنیا اور آخرت) کی کامیابی۔
[15] منحصر، جس کا دارومدار کسی چیز پر ہو۔
[16] قرآن اور صحبتِ صالحین: مصنف نے سورہ فاتحہ کی آیت (اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا) اور سورہ لقمان کی آیت (اور اس شخص کے راستے کی پیروی کر جس نے میری طرف رجوع کیا) کا حوالہ دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ دین صرف کتابیں پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ ان لوگوں (صالحین) کی صحبت اختیار کرنے کا نام ہے جنہوں نے اللہ کو پا لیا ہے۔
[17] مقطع کا پیغام: آخر میں دیا گیا مشہور شعر تصوف کی روح بیان کرتا ہے کہ حقیقی دینداری اور اللہ کا تعلق محض دولت خرچ کرنے، کتابیں رٹنے یا تقریریں سننے سے نہیں ملتا، بلکہ یہ کسی کامل بزرگ کی صحبت اور ان کی روحانی توجہ (نظر) سے قلب میں منتقل ہوتا ہے۔
[18] سورۃ التوبہ (آیت 119) کا حصہ۔ ترجمہ: "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔"
[19] مولانا رومؒ کا مشہور شعر۔ ترجمہ: "اولیاء اللہ کی ایک لمحے کی صحبت، سو سال کی بے ریا (دکھاوے کے بغیر) عبادت سے بہتر ہے۔"
[20] فائدہ حاصل کرنے والے لوگ ۔
[21] فائدہ حاصل کرے۔
[22] دَامَتْ فُیُوْضُہُم ان کا فیض ہمیشہ جاری رہے۔
[23] مشہور مقولہ ہے: "جو چیز مکمل طور پر حاصل نہ کی جا سکے، اسے مکمل طور پر چھوڑا بھی نہیں جاتا۔" (مراد یہ ہے کہ اگرچہ حضرت کی پوری زندگی لکھنا ممکن نہیں، لیکن جتنی ممکن ہے اتنی ہی لکھ دینی چاہیے)۔
[24] مکمل طور پر گننا، شمار کرنا، کسی چیز کا پوری طرح احاطہ کرنا ۔
[25] حضرت سعدیؒ کا شعر۔ ترجمہ: نہ تو ان کے حسن کی کوئی انتہا ہے اور نہ ہی سعدی کی باتوں کا کوئی اختتام ہے۔ پیاسا مر جائے گا مگر دریا ویسا ہی باقی رہے گا ۔
مصنف اپنے شیخ کے کمالات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت کے اوصاف اتنے زیادہ ہیں کہ میں لکھتے لکھتے ختم ہو جاؤں گا، لیکن ان کے کمالات (دریا) کبھی ختم نہیں ہوں گے۔
[26] سورہ ابراہیم (آیت 20) کا حصہ۔ ترجمہ: "اور یہ بات اللہ کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔" (مصنف امید ظاہر کر رہے ہیں کہ اللہ انہیں اس نسبت سے بخش دے گا) ۔
[27] ترجمہ: غرض یہ ایک تحریر (نقش) ہے جو ہماری یادگار کے طور پر رہ جائے گی، کیونکہ میں اس زندگی کے لیے کوئی ہمیشگی نہیں دیکھتا ۔ شاید کوئی اللہ والا (صاحبدل) کسی دن رحمت سے اس غریب و مسکین (مصنف) کے حق میں دعا کر دے ۔
[28] ترجمہ: اے دل! تجھے مبارک ہو کہ مسیحا جیسی صفت (مردوں کو زندہ کرنے والی پھونک) رکھنے والا کوئی آ رہا ہے، کیونکہ اس کے مبارک سانسوں سے "کسی خاص ہستی" (خالقِ کائنات یا محبوبِ حقیقی) کی خوشبو آ رہی ہے۔
مسیحا نفسی: حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے حکم سے مردوں میں جان ڈال دیتے تھے۔ صوفیانہ اصطلاح میں "مسیحا نفس" اس بزرگ کو کہتے ہیں جس کی صحبت اور باتوں سے مردہ دل جی اٹھیں اور ان میں اللہ کی محبت پیدا ہو جائے۔
[29] یقینی طور پر، مقررہ تاریخ کے ساتھ۔
[30] حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ جس سے وہ بیماروں کو شفا دیتے تھے۔ یہاں مراد روحانی شفا ہے۔
[31] ایسا نام جس کے معنی اس شخص کی ذات اور صفات میں عملی طور پر پائے جائیں۔
[32] ذَاتِ سُتُوْدَہ صِفَات: قابلِ تعریف اور پاکیزہ صفات والی ہستی۔
[33] رئیس کی جمع (سردار، مالدار) اور امیر کی جمع (حکمران، نواب)۔
[34] کمال کی کان (Mine of excellence)، یعنی وہ جگہ یا خاندان جہاں سے خوبیاں ہی خوبیاں نکلیں۔
[35] پڑوس، قرب و جوار، آس پاس کا علاقہ۔
[36] ترجمہ: اور ان بستیوں (یا گھروں) کی محبت نے میرے دل کو دیوانہ نہیں کیا، بلکہ اصل محبت تو ان لوگوں سے ہے جو ان بستیوں میں بستے ہیں۔ یعنی اصل محبت مکان سے نہیں، مکین سے ہوتی ہے۔
[37] کھیتی کی جگہ، گاؤں سے متصل چھوٹی بستی یا ڈیرہ (Hamlet)۔
[38] وہ جگہ جہاں بہت سے شہداء ایک ساتھ مدفون ہوں۔
[39] قدیم آبادی کا ٹیلہ یا ویرانہ۔
[40] نیکی، خوش قسمتی اور خاندانی شرافت۔
[41] امانت رکھنا، فطرت میں شامل کر دینا، ودیعت کرنا۔
[42] ترجمہ: ان کے سر کے اوپر ان کی عقلمندی اور ہوشمندی کی وجہ سے بلندی اور عروج کا ستارہ چمکتا تھا۔
مصنف بتانا چاہ رہے ہیں کہ حضرت مسیح الامتؒ کے ماتھے پر بچپن سے ہی بڑائی، ولایت اور دانشمندی کے آثار نمایاں تھے۔
[43] گُھٹّی میں پِلانا بچپن ہی سے کوئی عادت یا تربیت رگ و پے میں بسا دینا (یہ محاورہ ہے کہ ان کے خاندان میں اخلاق و آداب خون میں شامل تھے)۔
[44] حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ برصغیر پاک و ہند کے ایک عظیم اور نامور عالم دین، محدث، اور تحریکِ آزادی کے بے باک رہنما تھے۔وہ دارالعلوم دیوبند کے اولین طالب علم تھے اور بعد میں اسی ادارے میں طویل عرصے تک صدر المدرسین کے منصب پر فائز رہے۔
[45] ترجمہ: پورا شہر حسینوں سے بھرا ہوا ہے، لیکن میں صرف اپنے ایک چاند کے خیال میں گم ہوں۔ میں کیا کروں کہ میری ایک کو دیکھنے والی آنکھ کسی اور پر نگاہ ہی نہیں ڈالتی۔
حضرت مسیح الامتؒ کی زبانِ حال سے یہ شعر کہا گیا ہے کہ دنیا میں بے شمار بزرگ اور اولیاء موجود ہیں، لیکن حضرت تھانویؒ سے انہیں ایسی محبت ہوئی کہ پھر کسی اور بزرگ کی طرف ان کا دھیان ہی نہیں گیا۔
[46] وَقَار و مَتَانَت سنجیدگی، بردباری، بھاری پن، ٹھہراؤ۔
[47] ترجمہ: یہ سعادت اور خوش نصیبی بازو کی طاقت (اپنی محنت) سے حاصل نہیں ہوتی، جب تک کہ بخشنے والا خدا خود یہ عطا نہ کرے۔
بچپن ہی سے اتنے اعلیٰ اخلاق کا مل جانا اور سب کا پیارا بن جانا کوئی انسانی کمال یا محنت کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ سراسر اللہ کا فضل اور اس کی عطا تھی۔
[48] خصلت، عادت، فطرت یا مٹی (یعنی جس خمیر سے انسان بنا ہے)۔ پاک طینت کا مطلب ہے پاکیزہ خصلت والا۔
[49] اپنے زمانے کا بے مثال شخص، جس کا اپنے وقت میں کوئی ثانی نہ ہو۔
[50] مراد "کنز الدقائق" ہے، جو فقہِ حنفی کی ایک انتہائی مستند اور مشہور درسی کتاب ہے۔
[51] تانت (جانوروں کی آنت سے بنی مضبوط ڈوری) سے بنی ہوئی غلیل (Slingshot) جس سے نشانہ لگایا جاتا ہے۔
[52] گتکا پھری یا گتکا کھیلنا۔ یہ برصغیر کا ایک روایتی فنِ سپہ گری (Martial art) ہے جس میں لکڑی کے ڈنڈوں یا مصنوعی تلواروں سے مقابلے کی مشق کی جاتی ہے۔
[53] توجہ نہ دینا، لاپروائی یا عدم توجہی اختیار کرنا۔
[54] مُرْشِدُنَا مَاوَانَا وَ مَلْجَائَنَا ہمارے مرشد، ہمارے ٹھکانے اور ہماری پناہ گاہ (اپنے شیخ کے لیے انتہائی عقیدت اور محبت کا لقب)۔
عَمَّتْ فُیُوْضُہُمْ ان کے فیوض و برکات عام ہوں (زندہ بزرگوں کے لیے دعائیہ کلمہ)۔
[55] مخلوق میں سب سے برا (یہ صوفیائے کرام کی عاجزی کا انداز ہے کہ وہ خود کو سب سے کمتر سمجھتے ہیں)۔
[56] سب سے حقیر، ادنیٰ۔ (صوفیائے کرام انتہائی عاجزی کی وجہ سے خود کو 'میں' کہنے کے بجائے 'احقر' کہتے ہیں)۔
[57] زنبور، زرد یا گہرے سرخ رنگ کا اڑنے والا کیڑا جس کے ڈنک میں زہر ہوتا ہے (Wasp)۔ یہ شہد کی مکھی سے مشابہت رکھتا ہے لیکن اس سے مختلف ہوتا ہے اور گھروں یا درختوں پر چھتہ بناتا ہے۔
[58] مخلوق سے محبت (شفقت علیٰ خلق اللہ): اس صفحے پر تصوف کا ایک انتہائی اعلیٰ مقام نظر آتا ہے جہاں سالک (راستہ چلنے والا) اللہ کی محبت میں اتنا غرق ہو جاتا ہے کہ اسے اللہ کی ہر مخلوق پیاری لگنے لگتی ہے۔ حضرت مسیح الامتؒ فرماتے ہیں کہ مجھے خادموں، دھوبی اور نان بائی کی غلطیوں پر غصہ نہیں آتا کیونکہ میں انہیں "اپنے محبوب (اللہ) کی مخلوق" سمجھتا ہوں۔
[59] اپنے نفس کا محاسبہ: جب انہیں کسی کی غلطی پر ناگواری کا ہلکا سا خیال بھی آتا ہے تو وہ فوراً اپنے نفس کو ڈانٹتے ہیں کہ تو خود رات دن اللہ کی نافرمانیاں کرتا ہے اور وہ تجھے معاف کر دیتا ہے، تو پھر تو دوسروں کی غلطیاں کیوں معاف نہیں کر سکتا؟ یہ تزکیہ نفس کی ایک بہترین عملی مثال ہے۔
[60] اذیت دینے والا، تکلیف دینے والا جانور یا کیڑا (جیسے بچھو، سانپ یا بھڑ)۔
[61] قِرَانُ السَّعْدَیْن دو نیک اور مبارک ستاروں کا ایک جگہ جمع ہونا۔ (یہاں مراد دو بڑی خوشیوں کا ایک ہی سال میں مل جانا ہے: مدرسے سے عالم بننا اور مرشد سے خلافت ملنا)۔
[62] اِتِّبَاع و اِنْقِیَاد پیروی کرنا اور مکمل طور پر جھک جانا یا فرماں بردار ہونا۔
[63] اِکْتِسَابِ فُیُوْض روحانی فائدے اور برکتیں حاصل کرنا۔
[64] انتہائی درجے کی توجہ، بہت زیادہ دھیان اور کرم۔
[65] مجاز کی جمع، وہ لوگ جنہیں بیعت و ارشاد کی اجازت دی گئی ہو۔
[66] سیرتِ اشرف ص ۱۶۴۔
[67] معافی چاہنا، انکار کرنا (عاجزی کی بنا پر)۔
[68] طرف داری، لحاظ، کسی تعلق کی بنا پر غلطی کو نظر انداز کرنا۔
[69] حضرت تھانویؒ کے سینکڑوں خلفاء تھے، لیکن ان میں سے حضرت مولانا محمد عیسیٰؒ اور حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحبؒ کو یہ شرف حاصل ہوا کہ مرشد نے انہیں سب پر فوقیت دی اور "بڑھ جانے" کی گواہی دی۔
[70] فیض کی ترجمانی کرنے والی (مراد مرشد کی مبارک زبان)۔
[71] تَمْغَۂِ تَخَصُّص: خاص ہونے کا تمغہ یا سند۔
[72] مرتبے کی بلندی، اونچا مقام۔
[73] تعریف اور برائی/نکتہ چینی۔
[74] سِپَاس نَاموں: تعریفی خطوط یا اسناد (Testimonials)۔
[75] دل پر اترنے والی کیفیات، باطنی خیالات یا الہام۔
[76] حضرت تھانویؒ نے انہیں یہ کہہ کر کہ "جو بات دل میں بار بار آئے اس پر عمل کرو"، درحقیقت ان کے صاحبِ الہام ہونے کی تصدیق فرمائی۔ یعنی آپ کا دل اتنا صاف ہو چکا تھا کہ اس میں آنے والا بار بار کا خیال منجانب اللہ (اللہ کی طرف سے) ہوتا تھا۔
[77] لحاظ، پاسداری، کسی کی بات نہ ٹالنا (اکثر نیکی اور شرافت کی وجہ سے)۔
[78] دل کی صفائی اور چمک (روحانی پاکیزگی)۔
[79] چھپے ہوئے بھیدوں اور حقائق کا دل پر ظاہر ہونا۔
[80] وہ علم جو کتابوں سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے براہِ راست عطا ہو (Intuition)۔
[81] ہمیشگی، پابندی، کسی کام کو لگاتار کرنا۔
[82] انسانی فطرت کی گندگی یا میل (جیسے غصہ، حسد وغیرہ)۔
[83] سن کر حاصل کرنا۔ (مراد ہے کہ علم بغیر کسی کے کہے دل پر اترتا ہے)۔
[84] پاکیزہ اور باریک روحانی راز۔
[85] دل میں کوئی بات ڈالنا (Inspiration)۔
[86] عاجزی، انکساری، خود کو بڑا نہ سمجھنا۔
[87] درست قرار دینا، صواب (ٹھیک) کہنا۔
[88] اصرار کرنے والا، ضد کرنے والا۔
[89] تَعْطِیْل: چھٹی (Vacation)۔
[90] وہ راستہ جس پر چلا گیا ہو، مروجہ طریقہ۔
[91] مرید کی طرف سے مرشد کو لکھا گیا حال یا گزارش۔
[92] رجوع کرنا، پلٹنا، مشورہ کرنا۔
[93] بے نیاز ہونا، یہ سمجھنا کہ اب مجھے کسی کی ضرورت نہیں۔
[94] نیک اور سچے خواب۔
[95]
[96] خواب میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح الامتؒ کے لیے "میرے محبوب" کا لفظ استعمال فرمایا۔ جب مرشد (حضرت تھانویؒ) نے پوچھا کہ تمہیں کیسے پتہ چلا کہ اس سے مراد تم ہی ہو؟ تو حضرت نے عاجزی سے کہا کہ خواب میں دل کو اس بات پر پورا یقین دلا دیا گیا تھا۔ مرشد نے اس کی تصدیق فرمائی۔
[97] ضلع مظفر نگر کا ایک قصبہ جہاں حضرت میاں جی نور محمدؒ کا مزار اور خانقاہ ہے۔
[98] سیڑھیاں (Stairs)۔
[99] مجمع کی جمع، لوگوں کے اکٹھ، جلسے یا محفلیں۔
[100] وہ شخص جس کی دعائیں اللہ کے ہاں قبول ہوتی ہوں۔
[101] ترجمہ: خوبی صرف کرشمہ سازی، ناز و انداز یا ڈھنگ سے چلنے کا نام نہیں ہے؛ حسینوں کے پاس تو بہت سے ایسے انداز (ادائیں) ہوتے ہیں جن کا کوئی نام تک نہیں ہے۔
حافظ شیرازی کے اس مشہور شعر کے ذریعے مصنف یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ حضرت مسیح الامتؒ کے کمالات صرف ظاہری عبادات یا خطابت تک محدود نہیں تھے، بلکہ ان کی شخصیت میں ایسی ان گنت باطنی خوبیاں اور ادائیں تھیں جنہیں لفظوں میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔
[102] مقصد کا موتی (مراد ہے بڑی کامیابی یا اللہ کی پہچان)۔
[103] مہربانی اور شفقت کا سایہ۔
[104] مناسب ہونا، سلیقہ، درست ہونا
[105] حقیقی کرامت کی تعریف: مصنف نے بحث سمیٹی ہے کہ جادوئی کمالات دکھانا کمال نہیں، بلکہ ایک انسان کا اپنی پیرانہ سالی اور کمزوری کے باوجود اتنے زیادہ دینی و دنیاوی کام (جو پچھلے صفحات میں مذکور ہوئے) خوش اسلوبی سے انجام دینا ہی اصل "کرامت" ہے۔
[106] سنت کی اہمیت: حضرت مسیح الامتؒ کا ہر عمل (جوتا پہننے جیسے چھوٹے کام سے لے کر عبادات تک) سنت کے مطابق ہوتا تھا۔ آپ کا یہ مقولہ نہایت اہم ہے کہ "اللہ کی محبت کا دعویٰ تب ہی سچا ہے جب اس کے رسول ﷺ کی مکمل پیروی کی جائے"۔
[107] وہ کام جو ناپسندیدہ ہوں (گرچہ حرام نہ ہوں)۔
[108] وہ چیزیں جن کے حلال یا حرام ہونے میں شک ہو (Doubtful things)۔
[109] پرہیز کرنا، دور رہنا، بچنا۔
[110] تقویٰ کا معیار: تقویٰ صرف یہ نہیں کہ حرام سے بچا جائے، بلکہ حضرت کا مقام یہ تھا کہ وہ "مشتبہ" (جن میں شک ہو) اور "مکروہ" (ناپسندیدہ) چیزوں سے بھی اتنی ہی شدت سے بچتے تھے جتنا حرام سے۔ یہ ایک "کامل صوفی" کی پہچان ہے۔
[111] ٹھیکے یا معاملے کا شرعی طور پر درست ہونا۔
[112] وہ سودا یا ٹھیکہ جو شرعی اصولوں کے خلاف ہو۔
[113] لحاظ، پاسداری، شرافت کی بنا پر کسی کی بات نہ ٹالنا۔
[114] عاجزی، خاکساری (یہ فارسی لفظ ہے)۔
[115] خوشی، تازگی اور دلی سکون۔
[116]
[117] ایک مخصوص جڑی بوٹی یا دیسی دوا (شاید عرقِ ارا)۔
[118] گاڑھا محلول، شربت یا دوا کی پکی ہوئی شکل۔
[119] دل بھر آنا، آنکھوں میں آنسو آ جانا یا بہت زیادہ جذباتی ہو جانا۔
[120] اچھا گمان رکھنا، مثبت سوچنا۔
[121] بہترین مینیجمنٹ یا انتظام کاری۔
[122] انسانوں کو پہچاننے اور ان کی فطرت کو سمجھنے کا ہنر۔
[123] تشریف لانا (احتراماً استعمال ہوتا ہے)۔
[124] اللہ تعالیٰ کی مدد سے۔
[125] واضح اور کھلا ثبوت۔
[126] باطنی صفائی اور اصلاح کے پیاسے لوگ۔
[127] طویل عرصہ، لمبے وقت تک۔
[128] روحانی تنگی یا دل کا بوجھل ہونا (تصوف کی ایک اصطلاح)۔
[129] یہاں "مے" (شراب) سے مراد حضرت کے خطوط میں موجود محبتِ الٰہی اور "شیشہ" سے مراد کاغذ یا خط ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر ان خطوں کو پڑھنے والوں پر مستی اور سکون کی یہ کیفیت طاری ہو رہی ہے، تو ذرا سوچیں اس بزرگ (ساقی) کا اپنا عالمِ وجد کیا ہوگا جب وہ یہ محبت بھری باتیں کاغذ پر لکھ رہے ہوں گے۔
[130] سراپا کان بن جانا، نہایت توجہ سے سننا۔
[131] تفصیل اور وضاحت کے ساتھ۔
[132] اطمینان، تسلی، شک دور کر دینا۔
[133] وہ علم جو اللہ کی طرف سے براہِ راست دل میں ڈالا جائے۔
[134] دل پر اترنے والی کیفیات یا الہامی باتیں (Spiritual experiences)۔
[135] کمزور، دبلا پتلا (جسم)۔
[136] زبان پر ہر وقت تعریف جاری ہونا۔
[137] مثال دے کر بات سمجھانا (Analogy)۔
[138] چھوٹے چھوٹے مسائل یا تفصیلات۔
[139] کسی بات سے نتیجہ نکالنا (Deduction)۔
[140] وہ بات جسے ثابت کرنا مقصود ہو۔
[141] غصہ دلانے والی بات، جذبات میں لانا۔
[142] سنجیدگی، بردباری، وقار۔
[143] اس مشہور فارسی شعر کا مطلب ہے کہ "طریقت (تصوف) مخلوق کی خدمت کا نام ہے؛ یہ صرف تسبیح گھمانے، جائے نماز بچھانے اور صوفیانہ چغہ پہننے کا نام نہیں ہے"۔
[144] نرمی، مہربانی، پیار بھرا انداز۔
[145] طبیعت کی نفاست اور پاکیزگی۔
[146] دلیل دینا اور ثبوت کے طور پر پیش کرنا۔
[147] بالکل ویسا ہی، ہو بہو ۔
[148] پابندی کے ساتھ، لازمی طور پر۔
[149] سب سے زیادہ قریبی اور خاص لوگ۔
[150] احترام کی انتہا، بہت زیادہ ادب۔
[151] تعلق کی انتہا، بہت گہرا رشتہ۔
[152] بے نیاز، یہ سمجھنا کہ اب ضرورت نہیں رہی۔
[153] سوچ کی طاقت، باطنی ارتکاز (Power of concentration)۔
[154] خط، درخواست (جو بڑے کو لکھی جائے)۔
[155] فرمانبرداری، تابعداری (Submission)۔
[156] شفقت اور محبت کا سایہ۔
[157] ماخوذ من اضافہ لمولانا سید احمد نصر صاحب بنارسی مد ظلہ خلیفہ و مجاز حضرت صفی الملت نور اللہ مرقدہ۔
[158] ترجمہ: زمانے گزر گئے لیکن (یہ صدیاں) ان جیسی کوئی مثال نہ لا سکیں، اور جب وہ آ گئے تو اب زمانے ان جیسا کوئی اور پیدا کرنے سے عاجز آ گئے ہیں۔
یہ عربی مرثیے کا ایک کلاسک اور انتہائی بلیغ شعر ہے۔ اس میں شاعر کہتا ہے کہ تاریخ کے کئی دور گزر جانے کے باوجود دنیا ان جیسی شخصیت پیدا نہ کر سکی، اور اب ان کے جانے کے بعد بھی دنیا ہمیشہ کے لیے ان کا نعم البدل پیدا کرنے سے قاصر رہے گی۔ یہ ان کی انفرادیت اور عظمت کا اعتراف ہے۔
[159] آمنے سامنے، روبرو (Face to face)۔
[160] در کا کتا (عاجزی کے لیے استعمال ہونے والی صوفیانہ اصطلاح)۔
[161] حضرت مسیح الامتؒ کی طرف منسوب (یعنی ان کا مرید)۔
[162] کچھ نہ جاننے والا، ناچیز (مصنف نے اپنے لیے عاجزی کے طور پر لکھا)۔
[163] بلند مرتبہ حالات، بزرگی کے واقعات۔
[164] کمی، عیب، برائی۔
[165] تقریباً دسمبر ۱۹۶۵ عیسوی
[166] برکتوں اور فتوحات والی روح۔