شریعت و تصوف - 2
حضرت مولانا شاہ محمد مسیح اللہ خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مولانا شاہ محمد مسیح اللہ خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ
یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ
(اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اللہ تعالیٰ کا قرب ڈھونڈو)
فَنِّ تَصَوُّف کی مُکَمَّل و مُدَلَّل جَامِع کتاب
شَرِیْعَت وَ تَصَوُّف
تَالِیْفِ لَطِیْف
مَسِیْحُ الْاُمَّت حَضْرَت مَوْلَانَا شَاہ مُحَمَّد مَسِیْحُ اللہ خَان صَاحِب نَوَّرَ اللہُ مَرْقَدَہٗ
اَز اَجَلِّ خُلَفَاء
حَکِیْمُ الْاُمَّت مُجَدِّدُ الْمِلَّت
حَضْرَت مَوْلَانَا شَاہ مُحَمَّد اَشْرَف عَلِی تھَانَوی قُدِّسَ سِرُّہٗ
حَسْبِ خَواہِش
حَضْرَت مَوْلَانَا حَفِی اللہ خَاں صَاحِب مَدَّظِلُّہٗ
(مہْتَمِم مدرسہ مفتاح العلوم و جانشین حضرت مصلح الامت نور اللہ مرقدہ جلال آباد، ضلع شاملی (یو پی))
رَحْمَةُ اللہِ عَلَيْہ
آپ کی وِلادتِ شریفہ ۱۳۳۰ھ یا ۱۳۳۹ھ میں آپ کے وطن سَرَائے بَرلہ، تحصیل اَتْرُولی، ضلع عَلِی گڑھ میں ہوئی ۔ آپ کا اسمِ گرامی مَسِيحُ اللہ رکھا گیا ۔ آپ سر تا پا سچائی کا پیکر تھے اور بے شمار انسانوں کی روحانی مَسِيحائی فرمائی ۔
آپ کا تعلق شَيْرْوَانی خاندان سے ہے ۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ یہ خاندان اصل میں سَادَات کا خاندان ہے، کیونکہ اس کے جدِ اعلٰی سَیّد حُسین غُوری تھے ۔ یہ خاندان محمُود غزنوی کے ساتھ ہندوستان آیا تھا ۔
آپ مَادَر زاد ولی تھے ۔ بچپن ہی سے آپ کو ذِکر و نَوَافِل اور نمازِ پنجگانہ کا بے حد شوق تھا ۔ آپ راتوں کو اٹھ کر دیر تک اللہ کے حضور دُعائیں فرمایا کرتے تھے ۔ سُلَحَاء اور اہل اللہ کی صحبت آپ کو بچپن ہی سے محبوب تھی ۔
ابتدائی تعلیم: آپ نے درجہ ۶ تک سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کی ۔
دینی تعلیم: اس کے بعد اپنے وطن ہی میں علامہ مَوْلَانَا سَعِید اَحْمَد لَکھنَویؒ سے مشکوٰۃ شریف تک تعلیم حاصل کی ۔
دارُ العُلُوم دِيُوبَنْد: اعلیٰ تعلیم کے لیے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور وہاں سے دَوْرَہ حدیث اور دیگر فُنون (امورِ عامہ، قاضی مُبارک وغیرہ) کی تکمیل فرمائی ۔
آپ کو بچپن ہی سے حَکِیمُ الْأُمَّت حَضْرَت مَوْلَانَا اَشْرَف عَلِی تھَانْویؒ سے غائبانہ عقیدت تھی ۔ دارالعلوم میں طالب علمی کے دوران آپ نے حضرت تھانویؒ سے اصلاحی تعلق قائم کیا ۔ آپ نے بہت جلد سُلُوک کی منزلیں طے کیں اور صرف ۲۱ سال کی عمر میں ۱۳۵۱ھ میں حضرت تھانویؒ نے آپ کو مُجَازِ بَيْعَت (خلیفہ) بنا دیا ۔ آپ حضرت تھانویؒ کے ان مخصوص خلفاء میں شامل تھے جن پر حضرت کو مکمل اعتماد تھا ۔
حضرت حَکِیمُ الْأُمَّتؒ کے ارشاد پر آپ ۱۳۵۷ھ میں قصبہ جَلَال آباد (ضلع مُظفّرنگر) تشریف لائے ۔ وہاں ایک چھوٹے سے مکتب کو اپنی مخلصانہ کوششوں سے ایک عظیم الشان دینی درسگاہ جَامِعَہ مِفْتَاحُ الْعُلُوم میں تبدیل کر دیا، جہاں آج بھی دَرْسِ نِظَامی کی مکمل تعلیم دی جاتی ہے ۔
آپ اِتّباعِ سُنّت میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ کی زندگی آئینے کی طرح صاف شفاف تھی اور آپ بے حد نَرم مِزاج، رَحِم دِل اور مُتَوَاضِع شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ حتٰی کہ کھٹمل اور بھِیڑ تک کو مارنا پسند نہیں فرماتے تھے ۔
آپ نے تقریباً ۸۲ سال کی عمر پائی ۔ ۹ ماہ کی طویل علالت کے بعد ۱۷ جمادی الاولٰی ۱۴۱۳ھ (مطابق ۱۳ نومبر ۱۹۹۲ء) بروز جمعہ کی شب آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کی نمازِ جنازہ میں دو ڈھائی لاکھ افراد نے شرکت کی اور آپ کو جلال آباد میں حضرت مَوْلَانَا سَعِید اَحْمَد لَکھنَویؒ کے پہلو میں دفن کیا گیا ۔
آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے مَوْلَانَا مُحَمَّد صَفِیُّ اللہ صَاحِب آپ کے علمی و روحانی جانشین قرار پائے ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کتاب کے بیشتر مضامین حضرت حکیم الامت مجدد الملت جامع الشریعت و الطریقت مرشدی و مولائی حضرت مولانا تھانوی قدس سرہ کی مختلف کتابوں مثلاً التکشف، بوادر النوادر، تعلیم الدین، قصد السبیل، حیات المسلمین نیز دیگر کتب آداب الشیخ والمرید، تبلیغ دین، شریعت و طریقت وغیرہ سے لئے گئے ہیں۔ یا وہ باتیں لکھی گئی ہیں جو حضرت حکیم الامت کی مجلسوں میں میں نے سنی ہیں۔ یہ سب کچھ فی الحقیقت حضرت اقدس ہی کا فیض و برکت ہے۔ بقول حضرت مولانا سید سلیمان صاحب ندوی جن کی تعلیم و تربیت تصنیف و تالیف وعظ و تبلیغ کی بدولت عقائد حقہ کی تبلیغ ہوئی مسائل صحیحہ کی اشاعت ہوئی، دینی تعلیم کا بندوبست ہوا، رسوم وبدعات کا قلع قمع ہوا، سنن نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا احیا ہوا ۔ غافل چونکے، سوتے جاگے، بھولوں کو یاد آئی بے تعلقوں کو اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے سینے گرمائے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے دل روشن ہوئے اور وہ فن جو جوہر سے خالی ہو چکا تھا پھر سے حضرت شبلی و جنید و بسطامی و جیلانی، سہروردی و سر مہندی بزرگوں کے خزانوں سے معمور ہو گیا ۔ رَحِمَهُمُ اللهُ تعالى رَحْمَةً واسعة اور یہ شان تجدید تھی جو اسی صدی میں مجدد وقت کیلئے اللہ تعالے نے مخصوص فرمائی اللہ تعالیٰ ہم سب مستفیضین کی جانب سے تا ابد اپنے لازوال ولا متناہی خزانوں سے ان کی روح پر فتوح پر اپنی رحمتوں کی بارش فرماتا رہے اور اپنے مراتب قرب سے ہمیشہ نواز تا رہے ۔ آمین ثم آمین ۔
احقر محمد مسیح اللہ عفی عنہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
شریعت کا وہ جز جو اَعمَالِ بَاطِنِی سے متعلق ہے تَصَوُّف و سُلُوک اور وہ چیز جو اعمالِ ظاہری سے متعلق ہے فِقہ کہلاتا ہے ۔ اس کا مَوضوع تَهذِیبِ اَخلاق1F[2] اور غرض رِضائے اِلٰہی ہے اور اس کے حُصول کا ذریعہ شریعت کے حکموں پر پورے طور سے چلنا ہے ۔
گویا کہ تَصَوُّف دین کی روح و معنی یا کَیف و کمال کا نام ہے ۔ جس کا کام باطن کو رَذَائِلِ اَخلاقِ ذَمِیمَہ:2F[3] شَہوَت3F[4]، آفَاتِ لِسَانِی4F[5]، غضب5F[6]، حِقد6F[7]، حَسَد7F[8]، حُبِّ دُنیَا8F[9]، حُبِّ جَاہ9F[10]، بُخل10F[11]، حِرص11F[12]، رِیا12F[13]، عُجب13F[14]، غرور14F[15] سے پاک کرنا اور فَضَائِل یعنی اَخلاقِ حَمِيدَہ: 15F[16]توبہ16F[17]، صبر17F[18]، شکر18F[19]، خوف، رجا19F[20]، زہد20F[21]، توحید و توکل21F[22]، محبت، شوق، اخلاص، صِدق22F[23]، مُراقَبَہ23F[24]، مُحَاسَبَہ24F[25] و تَفَکُّر 25F[26]سے آراستہ کرنا ہے ۔ تاکہ تَوَجُّہ اِلیٰ اللہ26F[27] پیدا ہو جائے، جو مَقصُودِ حیات ہے ۔ اس لیے تَصَوُّف و طَرِیقَت، دین و شریعت کے قطعاً مُنَافِی27F[28] نہیں بلکہ ہر مسلمان کیلئے لازم ہے کہ وہ صوفی بنے کہ اس کے بغیر فی الواقع ہر مسلمان پورا مسلمان کہلانے کا مستحق 28F[29]ہی نہیں رہتا ۔
جب یہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی کہ تَصَوُّف و طَرِیقَت، دین و شریعت کے مُنَافِی نہیں ہے بلکہ شریعت ہی کے ایک جز کا نام ہے تو اسی سے تَصَوُّف کی ضرورت بھی ثابت ہوگئی ۔ چنانچہ حضرت حکیم الامت قدس سرہ "حقیقۃ الطریقہ" کے شروع میں تحریر فرماتے ہیں:
"بعد حمد و صلواۃ مُدَّعائے ضَرُوری یہ ہے کہ ہر مسلمان پر بعد تَصحیحِ عَقَائد و اصلاحِ ظاہری فرض ہے کہ اپنے اعمالِ باطنی کی اصلاح کرے ۔ قرآنِ مجید میں بے شمار آیات و احادیث میں بے انتہا روایات اس کی فرضیت پر صَرَاحَۃً دَال29F[30] ہیں ۔ گو اکثر اہلِ ظاہر بسببِ پابندیِ ہوا و ہَوس اس دلالت سے غافل ہیں ۔ کون نہیں جانتا کہ قرآن و حدیث میں زہد و قناعت و تواضع و اخلاص و صبر و شکر و تَفویض30F[31] و رِضا بِالقَضَا 31F[32]و توکل و تسلیم وغیر ذالک کی فضیلت اور ان کی تَحصِیل کی تاکید اور اُن کے اَضداد: حُبِّ دنیا و حِرص و تکبر و رِیا و شہوت و غضب و حسد و نَحوِ ہَا کی مَذَمَّت اور وعید وارد و مذکور ہے ۔ پھر اُن کے مَامُور بِہ اور ان کے مَنہِی عَنہ ہونے میں کیا شبہ رہا ؟ اور یہی معنی ہیں اصلاحِ اعمالِ باطنی کے اور یہی مَقصُودِ اَصلی ہے طریقت میں، جس کا فرض ہونا بلا اِشتِباہ ثابت ہے ۔"
نیز "طریق القلندر" میں فرماتے ہیں:
"تَصَوُّف کے اصولِ صحیحہ قرآن اور حدیث میں سب موجود ہیں اور یہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ تَصَوُّف قرآن اور حدیث میں نہیں ہے بالکل غلط ہے یعنی غَالِی32F[33] صوفیہ کا بھی یہی خیال ہے اور خشک علماء کا بھی کہ تَصَوُّف سے قرآن وحدیث خالی ہیں، مگر دونوں غلط سمجھے۔ خشک علماء تو یہ کہتے ہیں کہ تَصَوُّف کوئی چیز نہیں، یہ سب وَاہِیَات ہے۔ بس نماز، روزہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے، اسی کو کرنا چاہیے، یہ صوفیوں نے کہاں کا جھگڑا نکالا ہے، تو گویا ان کے نزدیک قرآن و حدیث تَصَوُّف سے خالی ہیں۔ اور غالی صوفی یہ کہتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں تو ظاہری احکام ہیں، تَصَوُّف عِلْمِ بَاطِن ہے۔ ان کے نزدیک نعوذ باللہ قرآن حدیث ہی کی ضرورت نہیں غرض دونوں فرقے قرآن وحدیث کو تَصَوُّف سے خالی سمجھتے ہیں، پھر اپنے اپنے خیال کے مطابق ایک نے تو تَصَوُّف کو چھوڑ دیا اور ایک نے قرآن و حدیث کو۔
جس طرح قرآن میں وَاَقِيْمُوا الصَّلوٰةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ 33F[34]موجود ہے اسی طرح يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا 34F[35]یعنی اے ایمان والو صبر کرو اور وَاشْکُرُوْا لِلّٰہِ35F[36]، اللہ تعالیٰ کا شکریہ بجالاؤ موجود ہے۔ اگر ایک مقام پر کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّیَامُ36F[37] اور وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ37F[38] پاؤ گے تو دوسرے مقام پر يُحِبُّھُمْ وَيُحِبُّوْنَہٗ 38F[39]اور وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ39F[40] بھی دیکھو گے جہاں اِذَا قَامُوْٓا اِلَی الصَّلٰوةِ قَامُوْا کُسَالٰی40F[41] ہے۔ اس کے ساتھ ہی یُرَآءُوْنَ النَّاسَ بھی موجود ہے۔ اگر ایک مقام میں تَارِکِ نماز و تارکِ زکوٰۃ کی مذمت ہے تو دوسرے مقام میں تکبر و عُجب کی برائی موجود ہے۔
اسی طرح احادیث کو دیکھو جس طرح ابوابِ نماز و روزہ، بیع و شرا، نکاح و طلاق پاؤ گے، ابوابِ ریا و کبر وغیرہ بھی دیکھو گے، اس بات سے کون مسلمان انکار کر سکتا ہے کہ جس طرح اعمالِ ظاہرہ حکمِ خداوندی ہیں، اسی طرح اعمالِ باطنہ بھی حکمِ الٰہی ہیں۔ کیا اَقِيْمُوا الصَّلوٰةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ 41F[42]اَمر کا صِیغَہ ہے اور اِصْبِرُوْا42F[43] اور اِشْکُرُوْا43F[44] امر کا صیغہ نہیں؟ کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّیَامُ44F[45] سے روزہ کی مَشرُوعِیَّت45F[46] اور مامور بہ46F[47] ہونا ثابت ہوتا ہے اور وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ 47F[48]سے محبت کا مامور بہ ہونا ثابت نہیں؟ بلکہ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ظاہری اعمال سب ہی باطن کی اصلاح کیلئے ہیں اور باطن کی صفائی مقصود و موجبِ نجات ہے اور اس کی کَدُورَت48F[49] موجبِ ہلاکت ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا 49F[50]یعنی بیشک جس نے نفس کو صاف کیا کامیاب رہا اور جس نے اس کو میلا کیا ناکام رہا۔ یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ اِلَّا مَنْ اَتَی اللہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ50F[51] یعنی اس دن مال اور اولاد کام نہ آئیں گے مگر جو شخص اللہ تعالیٰ کے پاس سَلَامَتِ قَلب لے کر آیا۔
دیکھو پہلی آیت میں تَزکِیَۂ بَاطِن 51F[52]کو موجبِ فَلَاح52F[53] اور دوسری میں سلامتیِ قلب کے بغیر مال و اولاد سب کو غیر نافع53F[54] فرمایا ہے ۔ ایمان و عقائد، جن پر سارے اعمال کی مقبولیت کا مُنْحَصِر 54F[55]ہے، قلب ہی کا فعل55F[56] ہے اور ظاہر ہے کہ جتنے اعمال ہیں سب ایمان کی تکمیل کیلئے ہیں ۔ پس معلوم ہوا کہ اصل مقصود دل کی اصلاح ہے جس سے انسان مقبولِ بارگاہ 56F[57]اور صاحبِ مَدَارِج و مَقَام57F[58] ہوتا ہے، اور اسی کا نام اِصْطِلاح و عُرف 58F[59]میں تَصَوُّف ہے ۔
اسی سلسلہ میں حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"تم کسی کو کَرَامَات59F[60] والا دیکھو کہ اُڑتا ہو تو دھوکے میں نہ آجانا، جب تک یہ نہ دیکھو کہ امر و نہی60F[61]، حِفْظِ حُدُود 61F[62]اور پابندیِ شریعت میں کیسا ہے؟"
حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کا ارشاد ہے:
"مخلوق پر سب راہیں بند ہیں، سوا اس کے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم بہ قدم چلے" ۔
حضرت ابوالحسن نوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"جس کو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی ایسی حالت کا دعویٰ کرتا ہے جو اس کو حَدِّ شَرعِی سے باہر کر دیتی ہے تو اس کے پاس بھی نہ پھٹکو" ۔
حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلویؒ نے فرمایا:
"مُتَابِعَت62F[63] پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ضروری ہے، قولاً و فعلاً و ارادۃً اس لئے کہ محبتِ خدا تعالیٰ بغیر مُتَابِعَت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نصیب نہیں ہوتی" ۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:
"جو آدمی شریعت پر قائم ہوا اور جو کچھ احکامِ شرع کے ہیں ان کو بجالایا اور سَرِ مُو 63F[64]تجاوز نہ کیا تو اس کا مرتبہ آگے بڑھتا ہے ۔ یعنی تمام ترقیاں اس پر موقوف ہیں کہ شریعت پر ثابت قدم رہے" ۔
حضرت حکیم الامتؒ "تعلیم الدین" میں فرماتے ہیں:
"جس کو دولتِ وصول64F[65] میسر ہوتی ہے، علمِ شریعت اور اِتِّبَاعِ سُنَّت65F[66] سے ہوتی ہے" ۔
اسلام کی تمام تعلیمات کا سرچشمہ66F[67] کتاب و سنت ہے، جس کی اِبتدائی تعلیم مجلس نبوی میں دی جاتی تھی اور چونکہ ابتدائی دَوْر تھا حَلْقَہ بَگوشَانِ اسلام 67F[68]اپنے اصلی مرکز میں موجود تھے جن کی تعداد بھی اس وقت اتنی زیادہ نہ تھی جتنی بعد میں ہو گئی ۔ اس لئے نبوی درسگاہ میں تمام علومِ اسلام یعنی علمِ تفسیر، علمِ حدیث، علمِ فقہ اور علمِ تَصَوُّف کی تعلیم یکجا دی جاتی تھی، کوئی الگ الگ شعبے قائم نہ تھے ۔
البتہ اسی نبوی درسگاہ میں ایک اِقَامَتِی شُعْبَہ68F[69] ایسا بھی موجود تھا جس میں مُحِبَّانِ خُدا و عَاشِقَانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تَزْکِیَۂ نَفْس و اصلاحِ باطن کی عملی تعلیم و تربیت کے لیئے ہر وقت موجود رہتے تھے اور وہ اَصْحَابِ صُفَّہ69F[70] کہلاتے تھے ۔
بعد ازاں جب اسلام عالم گیر حیثیت اختیار کر گیا تو اس کی تعلیمات کو علمائے دین نے الگ شعبوں میں مُنْضَبِط70F[71] کر دیا ، جنہوں نے عِلمِ حدیث کی خدمت کی وہ مُحَدِّث کہلائے اور جنہوں نے عِلمِ تفسیر کا کام سنبھالا وہ مُفَسِّر کہلائے ۔
جو فِقہ کا کام کرنے میں مُنْہَمِک 71F[72]ہو گئے وہ فَقِیَہ بن گئے اور جنہوں نے تَزْکِیَۂ نَفْس72F[73] و اصلاحِ باطن73F[74] کا شعبہ سنبھالا وہ مشائخِ صوفیاء مشہور ہوئے اسی لیئے اکابرِ سلف74F[75] میں سے کسی نے شریعت کو طریقت سے الگ الگ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ طریقت کو شریعت کے تابع رکھا ۔
شریعت اَحْکَامِ تَکْلِیْفِیَّہ75F[76] کے مجموعہ کا نام ہے ۔ اس میں اعمالِ ظاہری اور باطنی سب آگئے اور متقدمین کی اصطلاح میں لفظِ فِقہ کو شریعت کا مُرَادِف 76F[77] سمجھا جاتا ہے جیسے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے فِقہ کی تعریف، "مَعْرِفَۃُ النَّفْسِ مَا لَہَا وَمَا عَلَیْہَا" منقول ہے یعنی نفس کے نفع اور نقصان کی چیزوں کو پہچاننا ۔ پھر متاخرین کی اصطلاح میں شریعت کے اس جز کا نام جو اعمالِ ظاہرہ سے متعلق ہے فِقہ ہو گیا اور وہ چیز جو اعمالِ باطنہ سے متعلق ہے اس کا نام تَصَوُّف ہو گیا، اور ان اعمالِ باطنی کے طریقوں کو طَرِیقَت کہتے ہیں ۔ پھر ان اعمال کی درستی سے قلب میں جو جَلا اور صَفا پیدا ہوتا ہے اس سے قلب پر بعض حَقَائِقِ کَوْنِیَّہ77F[78] متعلقہ اَعْیَان و اَعْرَاض78F[79]، (حقائق و لوازمات) بالخصوص اعمالِ حسنہ و سیئہ و حقائقِ الٰہیہ صفاتیہ و فعلیہ یا بالخصوص معاملاتِ بَیْنَ اللہ بَیْنَ الْعَبْد ۔ یعنی جو معاملات اللہ اور اس کے بندے کے درمیان ہیں ۔ وہ مُنْکَشِف79F[80] ہوتے ہیں، ان مَکْشُوْفَات80F[81] کو حَقِیْقَت کہتے ہیں اور اس انکشاف کو مَعْرِفَت81F[82] کہتے ہیں ۔ اور اس صاحبِ انکشاف کو مُحَقِّق82F[83] اور عَارِف83F[84] کہتے ہیں ۔
پس یہ سب امور متعلق شریعت کے ہی ہیں اور عوام میں جو یہ شائع ہو گیا ہے کہ طریقت اور چیز ہے اور شریعت اور چیز ہے ۔ محض غلط اور بے بنیاد ہے ۔ جب حقیقتِ سلوک معلوم ہو گئی تو اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اس میں نہ کَشف و کَرَامَات ضروری ہیں نہ قیامت میں بخشوانے کی ذمہ داری ہے نہ دنیا میں کار بَرآرِی84F[85] کا وعدہ ہے کہ تعویذ گنڈوں سے کام بن جاویں یا مقدمات دعا سے فتح ہو جائیں یا روزگار میں ترقی ہو یا جھاڑ پھونک تعویذات سے بیماری جاتی رہے یا ہونے والی بات بتلا دی جایا کرے، نہ تَصَرُّفَات85F[86] لازم ہیں کہ پیر کی توجہ سے مرید کی از خود اصلاح ہو جائے ۔ اس کو گناہ کا خیال بھی نہ آوے، خود بخود عبادت کے کام ہوتے رہیں ۔ مرید کو ارادہ کرنا نہ پڑے یا ذہن و حافظہ بڑھ جائے ۔ نہ ایسی باطنی کیفیات پیدا ہونے کی میعاد ہے کہ ہر وقت یا عبادت کے وقت لذت سے سَرْشَار86F[87] رہے، عبادت میں کوئی خَطْرَہ (وسوسہ) 87F[88]ہی نہ آوے یا یہ کہ خوب رونا آوے اور ایسی محویت88F[89] ہو جائے کہ اپنی پرائی خبر نہ رہے اور نہ ذکر و شغل میں انوار وغیرہ کا نظر آنا نہ کسی آواز کا سنائی دینا ضروری ہے، نہ اچھے خوابوں کا نظر آنا، یا الہامات کا ہونا لازمی ہے، بس اصل مقصود حق تعالیٰ کی رضا ہے اسی کو پیشِ نظر رکھے ۔
بَيْعَت جس کا حاصل مُعَاھَدَہ89F[90] ہے، اعمالِ ظاہری و باطنی کے اہتمام اور اِلْتِزَامِ اَحکَام90F[91] کا، اس کو بَيْعَتِ طَرِیقَت91F[92] کہا جاتا ہے جو اَز سَلَف تا خَلَف92F[93] بِتَوَاتُر93F[94] رائج ہے ۔ آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو مخاطب فرما کر علاوہ بَيْعَتِ جِہَاد و بَيْعَتِ اِسلَام، اِلْتِزَامِ اَحکَام94F[95] و اہتمامِ اعمال کیلئے بَيْعَت فرمایا ہے، متعدد احادیث سے ثابت ہے جیسا کہ عوف بن مالکؓ کی یہ حدیث ہے ۔
عَنْ عَوْفِ ابْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ تِسْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ سَبْعَةً فَقَالَ أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا وَقُلْنَا عَلَی مَا نُبَايِعُكَ يَا رَسُولَ اللہِ؟ قَالَ أَنْ تَعْبُدُوا اللہَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَتُصَلُّوا الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَتَسْمَعُوا وَتُطِيعُوا۔
(الحدیث اخرجُہ مسلم و ابوداؤد و نسائی)
یعنی حضرت عوف ابن مالک اشجعیؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے، نو آدمی تھے یا آٹھ یا سات، ارشاد فرمایا کہ تم رسول اللہ ﷺ سے بَيْعَت نہیں کرتے؟ ہم نے اپنے ہاتھ پھیلا دیے اور عرض کیا کہ کس امر پر آپ کی بَيْعَت کریں یا رسول اللہ ﷺ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ان امور پر کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو اور پانچوں نمازیں پڑھو اور احکام سنو اور مانو ۔
اس بَيْعَت میں آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو خطاب کیا جو کہ یہ نہ بَيْعَتِ اِسلَامی تھی نہ بَيْعَتِ جِہَادی، لہٰذا اس حدیث میں بَيْعَتِ مُرَوَّجَہ 95F[96]فِی الْمَشَائِخ کا صریح96F[97] ثبوت ہے ۔ جس طرح فِقہ میں چار سلسلہ ہیں: حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی؛ اسی طرح فَنِّ تَصَوُّف میں بھی چار سلسلہ ہیں: چِشْتِیَہ، قَادِرِیَہ، نَقْشْ بَنْدِیَہ، سُہْرَوَرْدِیَہ ۔97F[98] اور جس طرح اس طرف سلسلہ حنفی غالب ہے، اسی طرح سلسلہ چشتیہ غالب ہے، ہمارے یہاں اکابرین چاروں سلسلوں میں بَيْعَت فرماتے ہیں تاکہ ہر سلسلہ کا ادب ملحوظ98F[99] رہے، مگر غلبہ چشتيت کا ہے ۔
سلسلہ چشتیہ میں: حضرت خواجہ مُعِینُ الدِّین چشتی اجمیریؒ ۔
سلسلہ قادریہ میں: حضرت شیخ عبدُ القادر جیلانیؒ ۔
سلسلہ نقشبندیہ میں: حضرت شیخ بہاؤُ الدِّین نقشبندیؒ ۔
سلسلہ سہروردیہ میں: حضرت شیخ شہابُ الدِّین سہروردیؒ ۔
شیخ مُرِید کے داہنے ہاتھ کو اپنے داہنے ہاتھ میں لے کر بَيْعَت کرتا ہے اور کثیر مجمع کو بذریعہ رُومال وغیرہ بَيْعَت کیا جاتا ہے اور مَسْتُورات کو پردہ کے پیچھے کہ وہاں ان کا کوئی مَحْرَم 99F[100]بھی ہو، رُومال وغیرہ سے بَيْعَت کیا جاتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے ۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَا مَسَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا فَإِذَا أَخَذَ عَلَيْهَا نَاعَطَتْهُ قَالَ اذْهَبِي فَقَدْ بَايَعْتُكِ
(رواہ الشیخان وابوداؤد) ۔
اس سے معلوم ہوا کہ بِدُون عورت کا ہاتھ میں ہاتھ لیے آپ مُعاہَدَہ فرماتے تھے پھر فرماتے میں نے تم کو بَيْعَت کر لیا ہے ۔ اس لیے مشائخ میں عورتوں کو بغیر ہاتھ میں ہاتھ لیے زبانی طور پر یا کسی کپڑے وغیرہ سے بَيْعَت کرنا معمول ہے ۔
یہ بیان تو شیخ کی خدمت میں حاضر ہو کر بَيْعَت ہونے کا ہے اور جو شخص شیخ کی خدمت میں نہ پہنچ سکے وہ وہیں سے بذریعہ خط و کتابت یا بواسطہ شخصِ مُعْتَبَر بَيْعَت ہو سکتا ہے اور اس کو بَيْعَتِ عُثْمَانِی100F[101] کہا جاتا ہے، جیسا کہ حضور اکرم ﷺ نے بموقع بَيْعَتِ رِضْوَان101F[102] بَعَدَم موجودگی حضرت عثمانؓ اپنے بائیں ہاتھ پر داہنے دستِ مُبارک کو رکھ کر فرمایا کہ میں نے عثمان کو بَيْعَت کر لیا ۔
اول نماز اور روزوں کی قضا102F[103] کی قضا اسطرح کہ ہر نمازِ وقتی کے ساتھ جماعت سے قبل یا بعدِ جماعت اس وقتی قَضَا کے صرف فرض ادا کرنا اور عشاء میں وتر بھی اور فُرصت اور ہمت کے ساتھ ایک وقت میں یا ایک دن میں کئی کئی وقت یا کئی کئی دن کی نمازوں کو ادا کر لینا ۔
نمبر ۲: کسی کا مَالی حق اپنے ذمے ہو اس کو ادا کرنا یا معافی مانگنا ۔
نمبر ۳: آنکھ، کان یا زبان کی پوری نگرانی اور حرام اور مُشْتَبَہ103F[104] مَال سے پوری احتیاط کرنا ۔ وَضَع قَطَع104F[105]، لِبَاس، شکل و صورت سُنَّت کے مطابق رکھنا، شادی، غمی کے موقع پر جُملہ رُسُومات و بِدَعَات105F[106] و خلافِ شرع باتوں، گانا بجانا، ڈھول، باجا، گیت، نِيوتَہ106F[107] اور دِکھاوا وغیرہ سے پرہیز کرنا ۔ ہر معاملہ میں ناجائز اور مَحَرَّمَات107F[108] طریق سے بچنا اور اس کا پورا خیال رکھنا کہ کسی کو اپنے ہاتھ اور زبان سے مالی، قلبی اور جسمانی تکلیف اور رنج نہ پہنچے ۔ کسی کی دل شکنی نہ ہو۔ اِخْتِلَاط108F[109] سے گریز، بقَدَرِ ضرورت ملنا، اور کلام سے بھی بِدُونِ ضرورتِ شدیدہ پوری احتیاط کرنا ۔
نمبر ۴: چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، لیٹے بیٹھے، کَلِمَہ طَيِّبَہ کا وِرد رکھنا اس طرح پر کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ پڑھتے رہیں ۔ دس یا پانچ مرتبہ کہنے کے بعد یا سانس ٹوٹنے پر مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ ﷺ ملا لیا کریں ۔
نمبر ۵: ہر نماز کے بعد اگر آیۃ الکرسی یاد ہو تو اس کو پڑھ کر تَسْبِیحِ فَاطِمَہ109F[110] کی ایک تسبیح پڑھا کریں، یعنی تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ، چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھ لیا کریں ۔
یا بِشَرْطِ فُرْصَتْ ظہر، مغرب، عشاء میں آیۃ الکرسی کے بعد تیسرا کلمہ سُبْحَانَ اللَّهِ وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ کی ایک تسبیح پڑھا کریں ۔
نمبر ۶: بعد نمازِ عشاء سوتے وقت مُحَاسَبَہ و مُرَاقَبَہ مَوْت کیا کریں ۔
یہ ہے کہ صبح اٹھنے کے وقت سے شب کو سونے کے وقت تک اپنے اعمال کا سوچنا، عبادات و طَاعَات110F[111] پر شکر اور طلبِ توفیق اور اپنی کوتاہی اور نامناسب باتوں پر نَدَامَت ۔111F[112]
نَزَعْ112F[113] کی حالت اور قبر میں سوال و جواب، مَیْدَانِ حَشْر، حساب و کتاب، حق تعالیٰ کے سامنے پیشی اور جوابدہ ہونا اور پُلْ صِرَاطْ پر سے گزرنا، ان سب چیزوں کو سوچنا اور عہد کرنا کہ آئندہ کسی معصیت113F[114] کے پاس نہ جاؤں گا ۔ پھر ایک تسبیح استغفار کی پڑھنا، استغفار یہ ہے:
سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمَ اَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الْعَظِيمَ الَّذِي لَا اِلٰہَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَاَتُوبُ اِلَيْهِ ۔
نمبر ۷: اپنے آپ کو سب سے کمتر سمجھنا حتٰی کہ اپنی آنکھوں سے بھی کسی کو کیسا ہی بُرے سے بُرا کام کرتے ہوئے دیکھا جائے تب بھی اس کو حَقِیْر114F[115] نہ جاننا چاہیے، اپنے کو اس سے اچھا نہ سمجھنا بلکہ یہ ڈر رکھنا اور خیال کرنا کہ کیا عجب ہے کہ یہ شخص پُخْتَہ توبہ کر کے نہایت درجہ متقی اور پرہیزگار ہو جائے اور میں خدا نہ کرے شیطان و نفس کے بہکانے اور اِغْوَا 115F[116]سے پھسل جاؤں اور یہ طاعات اور عبادات قائم نہ رہیں ۔ نہ خَاتِمَہ116F[117] کا علم ہے، اس لیے کیا منہ ہے کہ اپنے کو کسی سے اچھا جانا جائے اور دوسرے کو حقیر سمجھا جائے ۔
یہ ساتواں جز (اپنے کو کم سمجھنا) سلوک میں اول قدم ہے۔ بدون اس کے راستہ نہیں کھلتا ۔
بَيْعَت جو کہ اپنے اندر بَيْع 117F[118]کے معنی لیے ہوئے ہے، شیخ کے ہاتھ بک جانا ہے، جس میں اپنے کو شیخ کے ہاتھ احکامِ ظاہرہ و باطنہ کے اِلْتِزَام کے واسطے گویا بیع کر دیا ۔ جس کی حقیقت یہ ہے کہ طالب کو اپنے شیخ پر پورا اعتقاد اور کلی اعتماد ہو کہ یہ میرا خیر خواہ ہے، جو مشورہ دے گا وہ میرے لیے نہایت نافع ہوگا، اس پر پورا اطمینان ہو ۔ اس کی تجویز و تَشْخِیْص118F[119] میں دخل نہ دیوے۔ یوں یقین رکھے کہ دنیا بھر میں میری جستجو اور میری تلاش میں میرے نفع کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی نہیں، اس کو اصطلاحِ تصوف میں وَحْدَتِ مَطْلَبْ 119F[120]کہا جاتا ہے ۔ بدون اس کے بیعت ہونا نافع نہیں کیوں کہ اِصْلَاحِ نَفْس120F[121] کیلئے شیخ سے مُنَاسَبَت121F[122] شرط ہے اور مناسبت کی پہچان یہی ہے کہ اس کی تعظیم اور قول و فعل اور حال پر قلب میں اِعْتِرَاض نہ ہو بالفرض اگر قلب میں اعتراض آوے تو رنجیدہ ہو، گھٹن ہو ۔
عوام کیلئے بیعت کی صورت البتہ نافع ہوتی ہے۔ بیعت سے ان کے قلب پر ایک عظمت اور شانِ شیخ کی طاری ہو جاتی ہے، جس کا یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ اس کے قول کو بَاوَقْعَت سمجھ کر اس پر عمل کرنے کیلئے مجبور ہو جاتا ہے، خواص کیلئے کچھ مدت کے بعد بیعت نافع ہوتی ہے بیعت سے جانبین میں ایک تعلق و خلوص پیدا ہو جاتا ہے ۔ شیخ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ ہمارا ہے اور مرید سمجھنے لگتا ہے کہ یہ ہمارے ہیں ۔ ڈَانْوَاں ڈُول 122F[123]حالت نہیں رہتی ۔
عادتِ الٰہی یوں ہی جاری ہے کہ کوئی کمال بدونِ استاد کے حاصل نہیں ہوتا تو جب اس راہِ طریقت میں آنے کی توفیق ہو۔ استادِ طریق کو ضرور تلاش کرنا چاہیے جس کے فیضِ تعلیم و برکتِ صحبت سے مقصودِ حقیقی123F[124] تک پہنچے ۔
گر ہوائے ایں سفر داری دِلا دامنِ رہبر بگیر و پس بیا
بے رفیقے ہر کہ شُد در راہِ عشق عُمر بگذشت و نشُد آگاہِ عشق
یعنی اے دل! اگر اس سفر کی خواہش ہو تو رہبر کا دامن پکڑ کر چلو ، اس لیے جو بھی عشق کی راہ میں بغیر رفیق کے چلا اس کی عمر گزر گئی اور وہ عشق سے آگاہ نہ ہوا ۔
چنانچہ حضرت حکیم الامتؒ فرماتے ہیں:
"بھلا نرِی124F[125] کتابوں سے بھی کوئی کَامِل مُکَمَّل ہوا ہے؟ موٹی بات ہے کہ بَڑھَئی 125F[126]کے پاس بیٹھے بغیر کوئی بڑھئی نہیں بن سکتا۔ حتٰی کہ بسولہ126F[127] بھی بطورِ خود ہاتھ میں لے کر اٹھائے گا تو وہ بھی قاعدہ سے نہ اٹھایا جا سکے گا۔ بلا درزی کے پاس بیٹھے سوئی پکڑنے کا اندازہ بھی نہیں آتا ۔ بلا خُوش نَوِیسوں127F[128] کے پاس بیٹھے اور بلا قلم کی گرفت اور کشش دیکھے ہرگز کوئی خوشنویس نہیں ہو سکتا، غرض بدون کسی کامل کی صحبَت کے کوئی کامل نہیں بن سکتا۔ اسی کو کہا ہے:
صُحْبَتِ صَالِح تَرَا صَالِح کُنَد، صُحْبَتِ طَالِح تَرَا طَالِح کُنَد
ہَر کِہ خَواہَد ہَم نَشِینِی بَا خُدَا، گُو نَشِینَد دَر حُضُورِ اَوْلِیَا
یَک زَمَانَہ صُحْبَت بَا اَوْلِیَا، بَہْتَر اَز صَد سَالَہ طَاعَت بَے رِیَا
صُحْبَتِ نِيکَاں اَگَر یَک سَاعَت اَسْت، بَہْتَر اَز صَد سَالَہ زُہْد و طَاعَت اَسْت
مطلب یہ ہے کہ نیک آدمی کی صحبت تم کو نیک بنا دے گی، اسی طرح بدبخت کی صحبت تم کو بدبخت بنا دے گی۔ جو شخص خدا تعالیٰ کی ہَم نَشِینِی کا طالب ہو تو اس کو اَوْلِیَاء کِرَام کی صحبت میں بیٹھنا چاہیے۔ اللہ والوں کی تھوڑی دیر کی صحبت سو سال بَے رِیَا طاعت سے بہتر ہے؛ نیکوں کی صحبت اگر ایک گھڑی بھی نصیب ہو جائے تو وہ سو سالہ زُہْد و طاعت سے بہتر ہے۔
نیز صحبتِ نیکاں کے متعلق یہ قطعہ بہت عجیب اور مناسب ہے:
گِلے خُوشبُویے دَر حَمَّام روزے، رَسِید اَز دَسْتِ مَحْبُوبے بَدَسْتَم
بَدُو گُفْتَم کِہ مُشْکِی یَا عَبِیری، کِہ اَز بُویے دِل آوِیزِ تُو مَسْتَم
بِگُفْتَا مَن گِلِ نَاچِیْز بُودَم، وَلِيکَن مُدَّتے بَا گُل نِشَسْتَم
جَمَالِ ہَم نَشِیں دَر مَن اَثَر کَرد وَگر نَہ مَن ہَمَاں خَاکَم کِہ ہَسْتَم
یعنی حمام میں ایک دن محبوب کے ہاتھ سے ایک خوشبودار مٹی مجھ کو ملی، میں نے اس سے کہا تو مُشْک ہے یا عَنْبَر ہے کہ تیری دِل آوِیزی کی خوشبو سے میں مست ہو گیا ہوں۔ اس نے جواب دیا کہ میں نَاچِیْز اور معمولی مٹی ہی تھی، مگر ایک مدت تک پھول کے ساتھ میری صحبت رہی، میرے ہَم صُحْبَت کی خوبی نے مجھ میں اثر کیا، ورنہ میں تو وہی خاک ہوں جیسی کہ پہلے تھی۔
خط:— اَحْقَر 128F[129]اس سال دَوْرَۂ حَدِیث129F[130] میں شریک ہے، ایک عرصہ سے خط لکھنے کا خیال کر رہا تھا، لیکن ایک عَارِض130F[131] مَانِع 131F[132]بنا رہا، وہ یہ ہے کہ احقر کو آپ کے مُصَنَّفَات132F[133] و مَلْفُوظَات133F[134] دیکھنے کا بے حد شوق ہے، چنانچہ بچپن سے اب تک برابر دیکھتا رہا، بحمد اللہ بہت مُسْتَفِید134F[135] ہوا، ان سے ایک خاص بات معلوم ہوئی، وہ یہ کہ مَامُورَاتِ شَرْعِیَّہ135F[136] سب کے سب اِخْتِیَاریہ136F[137] ہیں۔ چونکہ مامورات اختیاری ہیں، اس لیے جہاں رکنے کا امر ہے وہ بھی اختیاری ہوئے، اس لیے سارے اَمْرَاض137F[138] کا علاج یہی ہے کہ اپنے اختیار سے رکے، اب اپنے متعلق بھی ہمیشہ یہی تقریر جاری کرتا رہا، اب سوال یہ ہے کہ مَشَائخِ طَرِیْقَت138F[139] سے اس قاعدہ کے معلوم ہونے کے بعد کیا سوال اور علاج کرانا چاہئے، میری سمجھ میں نہیں آتا۔ بہت عرصہ سے اس امر پر غور کر رہا ہوں، امید ہے کہ جناب والا مطلع فرمادیں گے، تاکہ احقر اسی پر عمل کرے، آخر اس قَاعِدَۂ کُلِیَّہ139F[140] کے علم کے بعد مُعَالِج 140F[141]و مشائخ کی اِزَالَۂ مَرَض141F[142] میں کیا حاجت باقی رہتی ہے، امید ہے کہ اگر کوئی غلطی ہوگئی ہو تو مطلع فرمادیں گے۔
مَامُوْرَات و مَنْہِیَّات142F[143] سب اختیاری ہیں، لیکن اس میں کچھ غلطیاں ہو جاتی ہیں، کبھی تو یہ کہ حَاصِل کو غیر حاصل سمجھ لیا جاتا ہے، کبھی اس کا عکس مثلاً ایک شخص نے نماز میں خُشُوْع143F[144] کا قصد کیا اور اپنی حقیقت کے اعتبار سے حاصل ہو گیا، مگر ساتھ ہی ساتھ وَسَاوِس و خَطَرَات کا ہُجُوْم بھی ہوتا رہا، یہ شخص اس کو خشوع کا مُضَاد144F[145] سمجھ کر خشوع کو غیر حاصل سمجھا، ابتدائے عبادت میں وساوس غیر اختیاری تھے، مگر اسی سلسلہ میں وہ وساوس اختیاریہ کی طرف مُنْجَر145F[146] ہو گئے اور یہ ابتداء کے دھوکے میں رہ کر خشوع کو باقی سمجھا، حالانکہ وہ زَائِل146F[147] ہو چکا، اور کبھی غیر رَاسِخ 147F[148]کو راسخ سمجھ لیا جاتا ہے۔ مثلاً دو چار خَفِیْف148F[149] حادثوں میں رِضَا بِالْقَضَا149F[150] کا احساس ہوا یہ سمجھ لیا کہ مَلَکَہ150F[151] راسخ ہو گیا، پھر کوئی بڑا حادثہ واقع ہوا اور اس میں رضا نہیں ہوئی یا درجہ مَقْصُود تک نہیں ہوئی، مگر یہ اسی دھوکے میں رہا کہ اس میں رُسُوْخ ہو چکا ہے۔ اب بھی رضا مَعْدُوْم 151F[152]یا ضَعِیْف نہیں ہے، اور حاصل کو غیر حاصل سمجھنے میں یہ خرابی ہوتی ہے کہ شِکَسْتَہ دِل ہو کر اس کا اِہْتِمَام چھوڑ دیتا ہے، پھر وہ سچ مچ زائل ہو جاتا ہے، اور اس کے عکس میں یہ خرابی ہوتی ہے کہ اس کا اہتمام ہی نہیں کرتا، اور محروم رہتا ہے، اور غیر راسخ کو راسخ سمجھنے میں وہی خرابی عَدَمِ اِہْتِمَامِ تَکْمِیل152F[153] کی ہوتی ہے۔ کبھی یہ غلطی ہوتی ہے کہ حاصل رَاسِخ153F[154] کو زَائِل154F[155] سمجھ لیتا ہے، مثلاً شہوتِ حرام کی مقاومت کی اور وہ زمانہ غلبۂ آثارِ ذکر کا تھا، اس لیے دَاعِیَۂ 155F[156]شہوتِ حرام کا ایسا مُضْمَحِلّ 156F[157]ہو گیا کہ اس کی طرف اِلْتِفَات157F[158] بھی نہیں ہوتا، پھر ان آثار کا جوش و خروش کم ہونے سے طبعی التفات گو درجۂ ضعیفہ میں صحیح ہونے لگا، یہ شخص سمجھ گیا کہ مجاہدہ بے کار گیا اور شہوتِ حرام کا رَذِیْلَہ158F[159] پھر عَوْد159F[160] کر آیا، پھر اصلاح سے مایوس ہو کر سچ مچ بَطَالَت160F[161] و خَلَاعَت161F[162] میں مبتلا ہو گیا یہ چند مثالیں ہیں، غلطیوں کی اور ان کے مَضَارّ162F[163] کی، اگر کسی شیخ سے تعلق ہو اور اس پر اعتماد ہو تو اس کو اطلاع کرنے سے وہ اپنی بَصِیرت163F[164] و تجارب کے سبب حقیقت سمجھ لیتا ہے، اور ان اغلاط پر مطلع کرتا ہے، اور یہ ان مُضَرَّتوں سے محفوظ رہتا ہے، اور فرضاً سالک اگر ذکاوت و سلامتِ فہم کے سبب خود بھی مطلع ہو سکے، مگر نا تجربہ کاری کے سبب مطمئن نہیں ہوتا اور مشوش ہونا مقصود میں مخل ہوتا ہے۔ یہ تو شیخ کا اصلی منصبی فرض ہے، اور اس سے زیادہ اس کے ذمہ نہیں، لیکن تَبَرُّعاً164F[165] وہ ایک اور بھی خدمت کرتا ہے، وہ یہ کہ مقصود یا مقدمۂ مقصود کے تحصیل میں اور اسی طرح کسی ذَمِیمَہ165F[166] یا مقدمۂ ذمیمہ کے ازالہ میں طالب کو مشقتِ شدید پیش آتی ہے، گو تکرارِ مُبَاشَرَت166F[167]، اور تکرارِ مُجَانَبَت167F[168] سے وہ مشقت اخیر میں مبدل بہ یسر ہو جاتی ہے، لیکن شیخ تبرعاً کبھی ایسی تدابیر بتلا دیتا ہے کہ اول امر ہی سے مشقت نہیں رہتی۔
یہ ایک اجمالی تحقیق تقریبِ فہم کے لیے ہے، باقی ضرورتِ شیخ کا مشاہدہ اس وقت ہوتا ہے، جب کام شروع کر کے اپنے احوالِ جزئیہ کی اس کو بالالتزام اطلاع کرتا رہے، اور اس کے مشورہ کا اتباع کرتا رہے، اور یہ اتباعِ کامل اس وقت ہو سکتا ہے جب اس پر اعتماد ہو، اور اس کے ساتھ تعلقِ اِنْقِیَاد168F[169] ہو، اس وقت حسّاً معلوم ہوگا کہ بدون شیخ کے مقصود کا حاصل ہونا عادۃً متعذر ہے، الا نادراً و النَّادِرُ کَالْمَعْدُوم169F[170] پھر اس ضرورت میں تفاوتِ فہم و استعداد کے اعتبار سے تفاوت بھی ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ متقدمین کو کم ضرورت تھی۔
شیخ وہ ہے جو اَمْرَاضِ بَاطِنَہ اخلاقِ رَذِیْلَہ و حَمِیْدَہ سے پوری واقفیت رکھے، اور ان میں آپس کے اِلْتِبَاس170F[171] اور ان کے خواص و تاثرات کو پہچانے اور ان کے حصول و ازالہ کی تدبیر پر مہارتِ تامہ رکھتا ہو۔ ان اخلاق کے عروج و نزول سے واقف ہو، نیز خَوَاطِرِ نَفْسَانِی و شیطانی و مَلَکُوتی اور رَبَّانی سے پوری واقفیت رکھتا ہو، ان خطرات کے درمیان تمیز کر سکے۔ اس لیے شیخ صَاحِبِ فَنّ اور صاحبِ ذوق اور مُجْتَہِد 171F[172]ہونا ضروری ہے اگر طریق کو محض کتبِ تصوف دیکھ کر یا لوگوں سے سُن کر حاصل کیا ہو اور تربیت کرنے کے لیے بیٹھ گیا تو وہ مرید کے لیے مُہْلِک172F[173] ہے، اس لیے کہ وہ طالبِ سالک کے حالات و ارادات و تغیرِ حالات کو نہیں سمجھتا، جس کو ابنِ عربی نے شیخ کی علامات میں اجمالاً و اختصاراً بیان فرمایا ہے کہ شیخِ کامل کی پہچان اجمالاً تین چیزیں ہیں۔
(۱) دین انبیاء کا سا (۲) تدبیر اَطِبَّا 173F[174]کی سی (۳) سیاست174F[175] بادشاہوں کی سی، جس کی تفصیل یہ ہے (۱) بقدرِ ضرورت دین کا علم ہو خواہ تحصیلِ علم سے یا صحبتِ علمائے مُحَقِّقِین سے (۲) کسی شیخِ کامل صحیح السلسلہ سے مَجَاز175F[176] ہو (۳) خود متقی پرہیزگار ہو، یعنی ارتکابِ کَبَائِر سے اور صَغَائِر176F[177] پر اصرار سے بچتا ہو (۴) کافی مدت تک شیخ کی خدمت میں مُسْتَفِیض ہوا ہو، خواہ بمکاتبت خواہ بمجالست (۵) اہل علم و فہم اس کو اچھا سمجھتے ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتے ہوں (۶) اس کی صحبت سے آخرت کی رغبت محبتِ الٰہی کی زیارت اور محبتِ دنیا سے نفرت محسوس ہوتی ہو (۷) اس کے مریدین میں سے اکثر کی حالت شریعت کے مطابق ہو (۸) اس میں حِرْص و طَمَع نہ ہو (۹) خود بھی ذَاکِر و شَاغِل ہو (۱۰) مریدین کو آزاد نہ چھوڑے، بلکہ جب کوئی ان کی نامناسب بات دیکھے یا معتبر ذریعے سے معلوم ہو تو روک ٹوک کرے، اور ہر ایک کو اس کی استعداد اور حال کے مطابق سیاست کرے، ہر ایک کو ایک لکڑی سے نہ ہانکے، جس میں یہ علامت پائی جائیں وہ شخص اس قابل ہے کہ اس کو شیخ بنائے اور اس کو اِکْسِیْرِ اَعْظَم 177F[178]سمجھے اور اس کی زیارت و خدمت کو کِبْرِیْتِ اَحْمَر178F[179] جانے۔ ان کمالات کے بعد پھر شیخِ کامل میں کَشْف و کَرَامَات،179F[180] تَصَرُّف و خَوَارِقِ عَادَت180F[181] تارکِ کسب ہونے کو ہرگز نہ دیکھے کہ ان کا ہونا شیخِ کامل کے لیے ضروری نہیں۔
یہ امر تجربے سے ثابت ہو چکا ہے کہ فُیُوضِ بَاطنی181F[182] کے لیے پیر و مرید کی باہمی مناسبتِ فطری شرط ہے، کیوں کہ نفع عادتاً الفت پر موقوف ہے، جو مناسبتِ فطری کی حقیقت ہے اور یہی وہ مناسبت ہے، جس کے نہ ہونے پر مشائخ طالب کو اپنے پاس سے بعض دفعہ دوسرے شیخ کے پاس جس کے ساتھ مناسبتِ ظن یا کشف سے معلوم ہو بھیج دیتے ہیں، کیوں کہ اس طریق میں مصلح کے ساتھ مناسبت ہونا بڑی ضروری چیز ہے، بدون مناسبت کے طالب کو نفع نہیں ہو سکتا اور مناسبتِ شیخ جو اِفَاضَہ و اِستِفَادَہ182F[183] کا مدار ہے، اس کے معنی یہ ہے کہ شیخ سے مرید کو اس قدر انسیت ہو جائے کہ شیخ کے کسی قول و فعل سے مرید کے دل میں طَبْعِی نَکِیْر 183F[184]نہ پیدا ہو، نہ عقلی پیدا ہو، یعنی شیخ کی سب باتیں مرید کو پسند ہوں اور مرید کی سب باتیں شیخ کو پسند ہوں، اور یہی مناسبت بیعت کی شرط ہے۔ لہذا پہلے مناسبت پیدا کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے اس کی سخت ضرورت ہے، جب تک یہ نہ ہو مُجَاہَدَات، رِیَاضَت، مُرَاقَبَات و مُکَاشَفَات سب بے کار ہیں، کوئی نفع نہ ہوگا، اگر طبعی مناسبت نہ ہو تو عقلی پیدا کر لی جائے، اس پر نفع موقوف ہے، اس لیے جب تک پوری مناسبت نہ ہو بیعت نہ کرنی چاہئے۔
(۱) شیخ کے اندر جو چیز ہے وہ رَفْتَہ رَفْتَہ آپ کے اندر بھی آئے گی (۲) اگر اصلاح کامل نہ بھی ہو تو کم از کم اپنے عُیُوب184F[185] پر ہی نظر ہونے لگتی ہے، یہ بھی کافی اور مِفْتَاحِ طَرِیق 185F[186]ہے (۳) اخلاق و عادات میں اس کا اِتِّبَاع 186F[187]کرے گا، اذکار و عبادات میں نِشَاط187F[188] اور ہمت و قوت ہوگی، (۴) جو حال عجیب پیش آوے گا، اس کے بارے میں اس سے تَشَفِّی188F[189] ہو جائے گی، (۵) جو اِفَادَات زبانی سننے میں آتے ہیں، وہ تحقیقات و مسائل کے خلاصہ ہوتے ہیں، جس سے اپنی حالت بھی وضاحت کے ساتھ مُنْکَشِف ہوتی ہے، (۶) ان اہل صحبت میں جو برکت ہوتی ہے، وہاں ایک نفعِ صحبت کی برکت اور ان کے طرزِ عمل سے سبق لینا ہوتا ہے، (۷) عمل کا شوق بڑھتا ہے، (۸) اپنی اِسْتِعْدَاد معلوم ہو جاتی ہے، (۹) اہل محبت کی صحبت سے محبت پیدا ہوتی ہے، (۱۰) مشائخ اَعْمَالِ صَالِحَہ کی وجہ سے بابرکت ہوتے ہیں اس لیے ان کی تعلیم میں بھی برکت ہوتی ہے جس کی وجہ سے جلد شفا ہو جاتی ہے، خود کتابیں دیکھ کر علاج کرنا کافی نہیں، (۱۱) اہل اللہ کی صحبت کے مُؤَثِّر189F[190] ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بار بار اچھی باتیں جب کان میں پڑیں گی، تو کہاں تک اثر نہ ہوگا، ایک وقت چکو گے، دو وقت چکو گے، تیسری دفعہ تو اصلاح ہو ہی جائے گی، اور ایک سبب باطنی بھی ہے وہ یہ ہے کہ جب تم ان کے پاس رہو گے اور تعلق بڑھاؤ گے، تو اس سے دو طرح اصلاح ہوگی۔ ایک تو یہ کہ وہ دعا کریں گے اور ان کی دعا مقبول ہوتی ہے تو حق تعالیٰ تم پر فضل فرمائیں گے، اور اکثر یہ ہے، کہ اُن کی دعا بِاِذْنِ حَق ہوتی ہے تو اُن کے منہ سے دعا نکلنا، اس بات کی علامت سمجھنا چاہئے کہ حق تعالیٰ کے فضل ہونے کا وقت آگیا۔ دوسری وجہ بڑی خَفِی190F[191] ہے، وہ یہ کہ تمہارے اعمال میں اُن کی محبت سے برکت ہوگی اور جلد جلد ترقی ہوگی، جلد اصلاح ہو جائے گی
(۱۲) ان حضرات کے دل خدا کے نور سے روشن ہیں ان کے پاس رہنے سے نُور آتا ہے اورجب نُور آتا ہے تو ظُلْمَت جاتی ہے، پس اس نور سے ہر چیز کی حقیقت کھل جاتی ہے، اور شُبہ جاتا رہتا ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اگر طبیعت میں سلامتی ہو تو بدون پاس رہے ان حَضَرَات کا دیکھ لینا ہی کافی ہو جاتا ہے، اور اگر اس درجہ کی سلامتی نہ ہو، تو پھر چند دن کی صُحبت کی بھی ضرورت ہے۔
(۱) یہ اِعتقاد191F[192] رکھے کہ میرا مطلب اسی شیخ سے حاصل ہوگا اور دوسری طرف توجہ کرے گا، تو مرشد کے فَیض و بَرَکات سے محروم رہے گا، (۲) ہر طرح سے مرشد کا مُطیع192F[193] ہو جائے، اور جان و مال سے اس کی خدمت کرے، کیوں کہ بغیر پیر کی محبت کے کچھ بھی فائدہ نہیں ہوتا اور محبت کی پہچان یہی ہے کہ مُرشد جو کہے فوراً بجا لائے، اور بغیر اس کی اجازت کے، اس کے کسی بھی فعل کی اِقتدا193F[194] نہ کرے، کیوں کہ بعض اوقات وہ اپنے حال اور مقام کے مناسب کسی کام کو کرتا ہے کہ مرید اس کو کرے، تو اس کے حق میں زَہْرِ قاتِل ہے (۳) جو وِرْد و وَظِیفہ 194F[195]مرشد تعلیم کرے، اس کو پڑھے اور تمام وظیفے چھوڑ دے، خواہ اُس نے وہ اپنی طبیعت سے پڑھنے شروع کیے ہوں، یا کسی نے بتائے ہوں (۴) مُرشد کی موجودگی میں ہَمَہ تَن195F[196] اس کی طرف متوجہ رہنا چاہئے۔ یہاں تک کہ سوائے فرض و سنت کے کوئی نَفْل وغیرہ بھی بغیر اس کی اجازت کے نہ پڑھے (۵) اس کے روبرو کسی سے بات نہ کرے، بلکہ کسی کی طرف متوجہ بھی نہ ہو (۶) جس جگہ مُرشد بیٹھا ہو، اس طرف پیر نہ پھیلائے، اگرچہ سامنے نہ ہو (۷) اس کی طرف تھوکے نہیں (۸) جو کچھ مرشد کہے یا کرے، اس پر اِعْتِراض196F[197] نہ کرے، اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آوے تو حضرت موسیٰ اور خضر علیہ السلام کا واقعہ یاد کرے، کہ نہ معلوم کیا مَصْلَحَت197F[198] ہوگی۔ قَلَنْدَر198F[199] ہر چہ گوید دیدہ گوید (۹) اپنے مُرشد سے کَرَامات199F[200] کی خواہش نہ کرے (۱۰) اگر کوئی شُبَہ200F[201] ہو تو فوراً عرض کر دے، اور اگر وہ شبہ حل نہ ہو تو اپنی نَقْصِ فہم201F[202] کا نقص سمجھے، اور اگر مرشد اس کا کچھ جواب نہ دے تو جان لے کہ میں اس کے جواب کے لائق نہ تھا، اور کسی دوسرے موقع کا مُنتظر رہے (۱۱) خواب میں جو کچھ دیکھے، وہ مرشد سے عرض کر دے، اور اگر اس کی تَعْبِیر202F[203] ذہن میں آوے تو اس کو بھی عرض کر دے (۱۲) بلا ضرورت اور بلا اجازت مرشد سے عَلَیحِدَہ نہ ہو (۱۳) مرشد کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرے، اور با آوازِ بلند اس سے بات بھی نہ کرے، اور اتنی آہستہ بھی نہ ہو کہ سننے میں تکلیف ہو، اور بِقَدَرِ ضَرُورَت مختصر کلام کرے اور نہایت توجہ سے جواب کا منتظر رہے (۱۴) مرشد کا کلام دوسروں سے اس قدر بیان کرے، جس قدر لوگ سمجھ سکیں اور جس بات کے متعلق جانے کہ لوگ نہیں سمجھیں گے اسے نہ بیان کرے (۱۵) مرشد کے کلام کو رد نہ کرے اگرچہ بظاہر مرید ہی کی طرف معلوم ہو، بلکہ یہ اعتقاد کرے کہ شیخ کی خطا میرے صواب سے بہتر ہے (۱۶) جو کچھ طالب کا حال ہو، بھلا یا بُرا وہ مرشد سے عرض کر دے، اس لیے کہ مرشد طَبِیبِ رُوحَانی ہے، اطلاع کے بعد اس کی اصلاح کرے گا، مرشد کے کَشْف پر اعتماد کر کے سکوت نہ کرے، بلکہ اپنے حالات کی اطلاع کا اِلْتِزَام رکھے (۱۷) اس کے پاس بیٹھ کر وظیفہ میں مشغول نہ ہو، اگر پڑھنا ضروری ہو تو علیحدہ بیٹھ کر پڑھے، (۱۸) جو کچھ فَیضِ باطنی پہنچے، اس کو مرشد کا طُفَیْل سمجھے، اگرچہ خواب یا مراقبہ میں دیکھے کہ کسی دوسرے سے فیض پہنچا ہے۔ تب بھی یہ سمجھے کہ مرشد کا کوئی لَطِیْفَہ203F[204] اس بزرگ کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔
[1] وہ علم جس کے ذریعے انسان اپنے باطن (دل) کو اللہ کی مرضی کے مطابق ڈھالتا ہے اور اپنی روحانی منزل طے کرتا ہے۔
[2] اپنے اخلاق کو سنوارنا، بری عادتوں کو نکالنا اور اچھی عادتوں کو اپنا کر کردار کو مہذب بنانا۔
[3] بری عادتیں اور باطنی بیماریاں۔
[4] نفسانی خواہشات کی پیروی کرنا اور لذتوں میں حد سے بڑھ جانا۔
[5] زبان کی تباہ کاریاں، جیسے جھوٹ، غیبت، چغلی اور گالی گلوچ۔
[6] بے جا غصہ کرنا اور غصے میں آپے سے باہر ہو کر دوسروں کو تکلیف پہنچانا۔
[7] دل میں کسی کے خلاف کینہ یا دشمنی چھپا کر رکھنا اور اس کے برے کا منتظر رہنا.
[8] کسی کی نعمت کو دیکھ کر یہ جلن ہونا کہ اس سے یہ نعمت چھن جائے اور مجھے مل جائے۔
[9] دنیا کی زندگی، مال اور سامان سے اتنی محبت کرنا کہ اللہ کی یاد بھول جائے۔
[10] عہدے، منصب، شہرت اور بڑائی کی بھوک رکھنا۔
[11] کنجوسی کرنا، یعنی جہاں خرچ کرنا ضروری ہو وہاں مال روک کر رکھنا۔
[12] لالچ کرنا اور زیادہ سے زیادہ پانے کی ایسی ہوس جو کبھی ختم نہ ہو۔
[13] دکھاوا کرنا، یعنی اللہ کے بجائے لوگوں کو دکھانے کے لیے نیکی کرنا۔
[14] اپنی کسی نیکی یا کمال پر خود ہی اترانا اور اسے اپنی محنت کا نتیجہ سمجھنا۔
[15] اپنے آپ کو دوسروں سے برتر اور بڑا سمجھنا اور دوسروں کو حقیر جاننا۔
[16] اچھی صفتیں اور خوبیاں۔
[17] گناہوں سے شرمندہ ہو کر اللہ کی طرف رجوع کرنا اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ عہد کرنا۔
[18] مشکلات اور اللہ کے حکم پر عمل کے دوران نفس کو پریشان ہونے سے روکنا۔
[19] اللہ کی نعمتوں کا اعتراف کرنا اور انہیں اللہ کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا۔
[20] اللہ کی پکڑ کا ڈر رکھنا اور ساتھ ہی اس کی رحمت سے پر امید رہنا۔
[21] دنیا کی محبت کو دل سے نکال دینا اور ضرورت سے زیادہ چیزوں کی ہوس نہ کرنا۔
[22] اللہ کو ایک ماننا اور ہر معاملے میں صرف اسی کی ذات پر بھروسہ کرنا۔
[23] ہر کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنا اور زبان و عمل میں سچا ہونا۔
[24] ہر وقت یہ دھیان رکھنا کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔
[25] روزانہ رات کو اپنے دن بھر کے اعمال کا جائزہ لینا کہ کیا اچھا کیا اور کیا برا۔
[26] اللہ کی قدرت، اس کی کائنات اور اپنی زندگی کے مقصد پر غور و فکر کرنا۔
[27] انسان کا دل ہر طرف سے کٹ کر صرف اپنے خالق کی طرف متوجہ ہو جائے۔
[28] خلاف
[29] حقدار
[30] واضح طور پر اشارہ کرنے والی۔
[31] اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر دینا۔
[32] اللہ کے فیصلے پر خوش رہنا۔
[33] حد سے بڑھ جانے والے۔
[34] Al-Baqarah, 2:43
[35] Al-Imran, 3:200
[36]
[37] Al-Baqarah, 2:183
[38] Al-Imran, 3:97
[39] Al-Ma'idah, 5:54
[40] Al-Baqarah, 2:165
[41] An-Nisa, 4:142
[42] وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ ؕ وَمَا تُقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِكُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ تَجِدُوۡهُ عِنۡدَ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ (البقرۃ : ۱۱۰) (اور قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ اور جو کچھ آگے بھیج دو گے اپنے واسطے بھلائی پاؤ گے اس کو اللہ کے پاس بیشک اللہ جو کچھ تم کرتے ہو سب دیکھتا ہے)
[43] يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا ٱصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَٱتَّقُوا ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (آل عمران ٢٠٠:٣) (اے ایمان والو صبر کرو اور مقابلہ میں مضبوط رہو اور لگے رہو اور ڈرتے رہو اللہ سے تاکہ تم اپنی مراد کو پہنچو)
[44] فَٱذْكُرُونِىٓ أَذْكُرْكُمْ وَٱشْكُرُوا لِى وَلَا تَكْفُرُونِ (البقرة ١٥٢:٢) (سو تم یاد رکھو مجھ کو میں یاد رکھوں تم کو اور احسان مانو میرا اور ناشکری مت کرو )
[45] يٰٓـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ کَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ (البقرۃ : ۱۸۳) (اے ایمان والو فرض کیا گیا تم پر روزہ جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ)
[46] کسی چیز کا شریعت کے مطابق جائز یا ثابت ہونا۔
[47] جس چیز کا حکم دیا گیا ہو۔
[48] يٰٓ وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَنۡدَادًا يُّحِبُّوۡنَهُمۡ كَحُبِّ اللّٰهِؕ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ؕ وَلَوۡ يَرَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡٓا اِذۡ يَرَوۡنَ الۡعَذَابَۙ اَنَّ الۡقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِيۡعًا ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعَذَابِ (البقرۃ : ۱۶۵) (اور بعضے لوگ وہ ہیں جو بناتے ہیں اللہ کے برابر اوروں کو انکی محبت ایسی رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ کی اور ایمان والوں کو اس سے زیادہ تر ہے محبت اللہ کی اور اگر دیکھ لیں یہ ظالم اس وقت کو جبکہ دیکھیں گے عذاب کہ قوۃ ساری اللہ ہی کے لئے ہے اور یہ کہ اللہ کا عذاب سخت ہے)
[49] میل، گندگی (یہاں باطنی ناپاکی مراد ہے)۔
[50] قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَكّٰٮهَا ۙ وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰٮهَا ؕ (الشمس ۹،۱۰:٩١) (تحقیق مراد کو پہنچا جس نے اُسکو سنوار لیا، اور نامراد ہوا جس نے اُسکو خاک میں ملا چھوڑا)
[51]يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙإِلَّا مَنْ أَتَى ٱللَّهَ بِقَلْبٍۢ سَلِيمٍۢ (الشعراء ۸۸،۸۹:٢٦) (جس دن نہ کام آئے کوئی مال اور نہ بیٹے مگر جو کوئی آیا اللہ کے پاس لیکر دل چنگا)
[52] اپنے اندرونی وجود (دل اور نفس) کو گناہوں کی گندگی اور بری عادتوں سے صاف کرنا۔
[53] کامیابی کا سبب یا وہ چیز جو انسان کو اصل جیت (جنت اور رضا) تک پہنچائے۔
[54] وہ چیز جو فائدہ نہ دے؛ یہاں مراد وہ مال و اولاد ہے جو اللہ کے حضور کام نہ آ سکے۔
[55] کسی دوسری چیز پر انحصار کرنا؛ جیسے اعمال کی قبولیت کا دارومدار صرف ایمان پر ہے۔
[56] دل کا کام؛ چونکہ ایمان لانا (تصدیق کرنا) دل کا کام ہے، اس لیے اسے فعلِ قلب کہا گیا۔
[57] وہ انسان جو اللہ تعالیٰ کے دربار میں پسندیدہ قرار پائے۔
[58] روحانی ترقی کی منزلیں اور وہ خاص رتبے جو اللہ اپنے نیک بندوں کو عطا فرماتا ہے۔
[59] خاص علمی پہچان (اصطلاح) اور عام بول چال یا رواج (عرف)۔
[60] وہ غیر معمولی یا حیرت انگیز کام جو اللہ کے کسی ولی (نیک بندے) سے ظاہر ہوں (مثلاً ہوا میں اڑنا یا پانی پر چلنا)۔
[61] شریعت کے وہ احکامات جن میں کسی کام کو کرنے کا حکم دیا گیا ہو (امر) اور کسی برائی سے روکا گیا ہو (نہی)۔
[62] اللہ کی مقرر کردہ حدوں کی حفاظت کرنا، یعنی حلال و حرام کے فرق کو برقرار رکھنا۔
[63] فرمانبرداری اور تابعداری کرنا۔ یہاں مراد رسول اللہ ﷺ کی مکمل پیروی ہے۔
[64] بال برابر بھی؛ یعنی ذرہ برابر بھی انحراف یا دوری اختیار نہ کرنا۔
[65] اللہ تعالیٰ تک پہنچ جانے کی دولت یا اس کا قرب حاصل کر لینا۔
[66] رسول اللہ ﷺ کے طریقے اور آپ کی سنتوں پر اپنی زندگی گزارنا۔
[67] وہ جگہ جہاں سے پانی نکلتا ہے؛ مراد بنیاد، اصل منبع یا وہ مقام جہاں سے ہدایت ملتی ہے۔
[68] وہ لوگ جنہوں نے اسلام قبول کیا اور خود کو مکمل طور پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں دے دیا۔
[69] وہ جگہ جہاں طالب علم رہائش پذیر ہوں اور وہیں اپنی تعلیم و تربیت مکمل کریں، جیسے موجودہ دور کے ہاسٹل یا بورڈنگ۔
[70] رسول اللہ ﷺ کے وہ صحابہ جو مسجدِ نبوی کے ایک خاص چبوترے (صفہ) پر رہتے تھے اور ہر وقت ذکر و فکر اور علمِ دین سیکھنے میں مصروف رہتے تھے۔
[71] کسی قاعدے یا نظم کے تحت لایا گیا؛ ترتیب دیا ہوا۔
[72] کسی کام میں پوری طرح مگن یا مصروف ہو جانا۔
[73] انسانی نفس کو برائیوں سے پاک کرنا اور اس کی روحانی اصلاح کرنا۔
[74] اپنے اندرونی حال، نیت اور دل کی کیفیت کو درست کرنا اور اسے سنت کے مطابق ڈھالنا۔
[75] دین کے ابتدائی ادوار کے بزرگ، یعنی صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین جن کی پیروی ہم پر لازم ہے۔
[76] وہ شرعی احکام جن کا مکلف (ذمہ دار) انسان کو بنایا گیا ہے (جیسے نماز، روزہ وغیرہ)۔
[77] ہم معنی؛ وہ الفاظ جو ایک ہی مطلب ادا کریں۔
[78] کائنات کی وہ حقیقتیں جو ظاہری آنکھ سے پوشیدہ ہوتی ہیں۔
[79] 'اعیان' سے مراد اصل وجود (Essences) اور 'اعراض' سے مراد ان کی بدلنے والی کیفیات یا رنگ و بو (Accidents) ہیں۔
[80] ظاہر ہو جانا؛ پردہ ہٹ جانا۔
[81]وہ باطنی حقائق جو اللہ کی طرف سے کسی کے دل پر ظاہر کر دیے جائیں۔
[82] اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی وہ پہچان جو علم سے بڑھ کر مشاہدے اور دلی یقین تک پہنچ جائے۔
[83] حقیقت کو جاننے والا؛ وہ جو بات کی تہہ تک پہنچ جائے۔
[84] اللہ کی پہچان رکھنے والا؛ صاحبِ بصیرت۔
[85] دنیاوی کاموں کا بن جانا یا مقصد کا پورا ہونا۔
[86] پیر یا بزرگ کی وہ روحانی طاقت جس سے وہ مرید کی حالت بدلنے کی کوشش کرے۔
[87] مست ہونا؛ کسی کیفیت میں ڈوبا ہوا ہونا۔
[88] یہاں اس سے مراد دل میں آنے والا کوئی برا خیال یا وسوسہ ہے۔
[89] ایسی بے ہوشی کہ اپنی خبر نہ رہے، یہ اصل مقصد نہیں بلکہ ایک عارضی کیفیت ہے۔
[90] عہد و پیمان، دو طرفہ معاہدہ یا وعدہ۔
[91] شریعت کے حکموں کو اپنے اوپر لازم کر لینا اور ان کی پابندی کی ٹھان لینا۔
[92] کسی اللہ والے کے ہاتھ پر توبہ کرنا اور اپنی زندگی کو دین کے سانچے میں ڈھالنے کا عہد کرنا۔
[93] شروع کے بزرگوں (صحابہ و تابعین) سے لے کر بعد میں آنے والے تمام لوگوں تک۔
[94]ایسی چیز جو تسلسل کے ساتھ چلی آ رہی ہو اور جس میں کوئی انقطاع نہ ہو۔
[95] دینی احکام کو اپنے اوپر لازم کر لینا اور ان کی پابندی کا عہد کرنا۔
[96] وہ بیعت جو صوفیاء اور مشائخ کے ہاں رائج ہے، جس میں اصلاحِ نفس کا عہد لیا جاتا ہے۔
[97] بالکل واضح اور کھلا ہوا۔
[98][98] ۱. چِشْتِیَہ: اس سلسلے کے بانی حضرت خواجہ ابو اسحاق شامیؒ ہیں، لیکن برصغیر میں اسے حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے پھیلایا۔ اس میں زیادہ تر ذکر و اذکار اور قلبی رقت پر زور دیا جاتا ہے۔
۲. قَادِرِیَہ: اس کے بانی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ (غوثِ اعظم) ہیں۔ یہ سلسلہ پوری دنیا میں اپنی روحانی برکات کی وجہ سے مشہور ہے۔
۳. نَقْشْبَنْدِیَہ: اس کے بانی حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبندؒ ہیں۔ اس سلسلے میں "ذکرِ خفی" (خاموشی سے دل میں ذکر کرنے) کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
۴. سُہْرَوَرْدِیَہ: اس کے بانی حضرت شیخ شہاب الدین سہروردیؒ ہیں۔ اس سلسلے میں نظم و ضبط اور خانقاہی آداب پر بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔
[99] ذہن میں رکھا گیا یا جس کا خیال رکھا جائے۔
[100] وہ قریبی رشتہ دار جس سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو (جیسے باپ، بھائی، بیٹا)۔
[101] وہ بیعت جو شیخ کی عدم موجودگی میں خط یا کسی نمائندے کے ذریعے کی جائے۔
[102] صلحِ حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کا وہ تاریخی عہد جو انہوں نے ایک درخت کے نیچے کیا تھا۔
[103] چھوٹ جانے والی نمازوں یا روزوں کو بعد میں ادا کرنا۔
[104] ایسی چیز جس کے حلال یا حرام ہونے میں شک ہو۔
[105] انسان کی ظاہری ہیئت، حلیہ، لباس پہننے کا انداز اور شکل و صورت۔
[106] دین میں ایسی نئی باتیں شامل کرنا جن کا ثبوت قرآن و سنت سے نہ ہو۔
[107] برصغیر کی ایک رسم جس میں شادی بیاہ پر نقد رقم یا تحائف کا لین دین ہوتا ہے۔
[108] وہ تمام کام، طریقے یا چیزیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے قطعی طور پر حرام قرار دیا ہو۔
[109] لوگوں سے میل جول یا زیادہ گھلنا ملنا۔
[110] وہ مخصوص ذکر (۳۳ بار سبحان اللہ، ۳۳ بار الحمد للہ، ۳۴ بار اللہ اکبر) جو حضور ﷺ نے اپنی صاحبزادی کو سکھایا تھا۔
[111] طاعت کی جمع؛ یعنی اللہ کی فرمانبرداری اور نیکی کے تمام کام۔
[112] اپنے کیے ہوئے گناہوں یا غلطیوں پر دل میں شرمندگی اور پچھتاوا ہونا۔
[113] روح نکلنے کی تکلیف دہ حالت۔
[114] اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنا یا گناہ کا کام انجام دینا۔
[115] ذلیل، معمولی یا کمتر سمجھنا ۔
[116] گمراہ کرنا یا بہکانا۔
[117] زندگی کا آخری وقت؛ مراد یہ کہ موت کس حال میں آئے گی (ایمان پر یا کفر پر)۔
[118] کسی چیز کو بیچ دینا یا اس کا سودا کر لینا؛ یہاں مراد اپنے ارادے کو شیخ کی مرضی کے تابع کر دینا ہے۔
[119] بیماری کی اصل جڑ کو پہچان لینا؛ یہاں باطنی بیماریوں جیسے حسد یا تکبر کی پہچان مراد ہے۔
[120] ایک ہی مقصد (اللہ کی رضا) کے لیے ایک ہی مصلح یا شیخ کی طرف متوجہ ہونا ۔
[121] اپنے نفس کی برائیوں کو دور کر کے اسے سنوارنا ۔
[122] شیخ اور مرید کے درمیان فطری لگاؤ اور ذہنی ہم آہنگی جو نفع پانے کیلئے شرط ہے ۔
[123] وہ حالت جس میں استحکام نہ ہو، بھٹکتی ہوئی یا غیر مستقل حالت ۔
[124] اصل مقصد، یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا اور معرفت کا حصول ۔
[125] محض، صرف، اکیلی۔
[126] لکڑی کا کام کرنے والا کاریگر۔
[127] لکڑی کاٹنے یا چھیلنے کا ایک خاص اوزار۔
[128] عمدہ خطاطی کرنے والا، بہت اچھا لکھنے والا۔
[129] عاجزی کے طور پر اپنے آپ کو سب سے چھوٹا اور کم تر کہنا۔
[130] دینی مدارس کا آخری سال جس میں حدیث کی بڑی کتابیں پڑھی جاتی ہیں۔
[131] کوئی رکاوٹ، بیماری یا اچانک پیش آنے والی حالت۔
[132] روکنے والا یا حائل ہونے والی چیز۔
[133] تصنیف کی ہوئی کتابیں یا لکھی ہوئی تحریریں۔
[134] کسی بزرگ یا استاد کی وہ باتیں جو ان کی مجلس میں کہی گئی ہوں اور شاگردوں نے قلمبند کر لی ہوں۔
[135] فائدہ اٹھانے والا یا فائدہ پانے والا۔
[136] وہ تمام کام جن کا شریعت نے حکم دیا ہے (جیسے نماز، روزہ وغیرہ)۔
[137] وہ کام جو انسان کی اپنی قدرت اور مرضی میں ہوں (جنہیں وہ جب چاہے کر سکے)۔
[138] باطنی بیماریاں جیسے حسد، تکبر، غصہ یا دنیا کی حد سے زیادہ محبت۔
[139] وہ بزرگ جو اللہ تک پہنچنے والے راستے (تصوف) کی تعلیم اور تربیت دیتے ہیں۔
[140] وہ بنیادی اور پکا اصول جو ہر صورت میں لاگو ہوتا ہو۔
[141] روحانی بیماریوں کا علاج کرنے والا استاد یا مرشد۔
[142] بیماری کو ختم کرنا یا دور کرنا۔
[143] وہ کام جن کا شریعت میں حکم دیا گیا ہے اور وہ کام جن سے منع کیا گیا ہے۔
[144] نماز یا عبادت کے دوران دل میں اللہ کی عظمت کا احساس اور ظاہری جسمانی سکون۔
[145] وہ چیز جو دوسری چیز کی بالکل ضد ہو یا اس کے الٹ ہو۔
[146] کسی خاص نتیجے یا صورت کی طرف نکل جانا یا بدل جانا۔
[147] مٹ جانا، ختم ہو جانا یا دور ہو جانا۔
[148] وہ خوبی یا صفت جو دل میں اتنی پکی ہو جائے کہ کبھی ختم نہ ہو۔
[149] ہلکا، تھوڑا یا معمولی۔
[150] اللہ کے ہر فیصلے اور تقدیر پر دل سے راضی رہنا۔
[151] وہ صفت جو انسان کے مزاج اور عادت کا حصہ بن جائے اور آسانی سے ظاہر ہو۔
[152] وہ چیز جو بالکل نہ ہو یا ختم ہو چکی ہو۔
[153] کسی کام کو مکمل کرنے کی طرف توجہ نہ دینا یا اسے ادھورا چھوڑ دینا۔
[154] وہ خوبی یا عادت جو دل میں اچھی طرح جم چکی ہو اور پختہ ہو گئی ہو۔
[155] مٹ جانے والا، ختم ہو جانے والا یا دور ہو جانے والا۔
[156] وہ اندرونی جذبہ، پکار یا خواہش جو انسان کو کسی کام پر ابھارے۔
[157] بہت زیادہ کمزور، تھکا ہوا یا نڈھال ہو جانا۔
[158] کسی چیز کی طرف دھیان دینا، توجہ کرنا یا اس کی طرف مائل ہونا۔
[159] بری صفت، گھٹیا عادت یا اخلاقی برائی جیسے حسد، بغض وغیرہ۔
[160] کسی چیز کا پلٹ کر آنا یا دوبارہ لوٹ آنا۔
[161] سستی، کاہلی اور اپنا وقت فضول کاموں میں ضائع کرنا۔
[162] بے حیائی، شرم کا پردہ ہٹ جانا یا اخلاقی بندشوں سے آزاد ہو جانا۔
[163] وہ چیزیں جو نقصان پہنچانے والی ہوں یا جن سے ضرر پہنچے۔
[164] ظاہری آنکھ کے بجائے دل کی روشنی سے حقیقت کو پہچان لینے کی قوت۔
[165] اپنی خوشی اور احسان کے طور پر کوئی کام کرنا جو ذمہ داری میں شامل نہ ہو۔
[166] بری عادت یا وہ صفت جس کی مذمت کی گئی ہو۔
[167] کسی کام میں براہِ راست مشغول ہونا یا اسے خود انجام دینا۔
[168] کسی چیز سے پرہیز کرنا، کنارہ کشی کرنا یا اس سے دور رہنا۔
[169] اپنے آپ کو مکمل طور پر کسی کے حوالے کر دینا اور اس کی ہر بات ماننا۔
[170] وہ چیز جو بہت ہی کم پیش آئے اسے نہ ہونے کے برابر سمجھا جاتا ہے۔
[171] دو چیزوں کا آپس میں مل جل جانا کہ ان میں فرق کرنا مشکل ہو جائے۔
[172] وہ جو اپنی بصیرت سے نئے حالات و مسائل کا حل نکالنے کی طاقت رکھتا ہو۔
[173] ہلاک کر دینے والا یا سخت نقصان پہنچانے والا۔
[174] طبیب کی جمع، یعنی وہ ڈاکٹر یا حکیم جو بیماریوں کا علاج کرتے ہوں۔
[175] انتظام کرنا، نظم و ضبط قائم کرنا اور مصلحت کے ساتھ اصلاح کرنا۔
[176] وہ شخص جسے اس کے استاد نے دوسروں کی اصلاح اور مرید کرنے کی اجازت دی ہو۔
[177] بڑے گناہ (کبائر) اور چھوٹے گناہ (صغائر)۔
[178] وہ نایاب کیمیا جو عام دھات کو سونا بنا دے؛ مراد وہ بزرگ جو انسان کے دل کی حالت بدل کر اسے اللہ والا بنا دے۔
[179] نہایت نایاب اور قیمتی چیز جسے پانا بہت مشکل ہو۔
[180] غیب کی باتوں کا ظاہر ہونا یا اللہ کے نیک بندوں سے عقل کو حیران کر دینے والے کاموں کا سرزد ہونا۔
[181] وہ کام جو عام انسانی عادت اور قانونِ قدرت کے خلاف ہوں (جیسے معجزہ یا کرامت)۔
[182] وہ روحانی فائدے اور خیر و برکت جو دل کے راستے سے ایک سے دوسرے کو پہنچتی ہے۔
[183] فیض پہنچانا (استاد کا کام) اور فیض حاصل کرنا (شاگرد کا کام)۔
[184] دل کے اندر پیدا ہونے والی ایسی ناپسندیدگی یا کھٹک جو کسی کی بات کو ماننے سے روکے۔
[185] عیب کی جمع، یعنی انسان کی اپنی برائیاں، خامیاں اور اخلاقی کمزوریاں۔
[186] وہ کنجی یا راستہ جو منزل (اللہ کی رضا) تک پہنچنے کے لیے رکاوٹوں کو کھول دے۔
[187] کسی کے پیچھے چلنا یا اس کے نقشِ قدم پر پوری طرح عمل کرنا۔
[188] عبادت یا ذکر میں پیدا ہونے والی چستی، خوشی اور قلبی فرحت۔
[189] دل کا اطمینان، سکون اور کسی الجھن کا دور ہو جانا۔
[190] اثر رکھنے والی چیز، جو کسی کی حالت کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہو۔
[191] وہ بات جو بہت باریک، پوشیدہ یا چھپی ہوئی ہو اور آسانی سے سمجھ نہ آئے۔
[192] کسی بات پر دل سے پکا یقین رکھنا اور اس پر پورا بھروسہ کرنا۔
[193] فرمانبرداری کرنے والا، جو اپنے بڑے یا استاد کے حکم کے سامنے اپنی مرضی ختم کر دے۔
[194] پیروی کرنا یا کسی کو دیکھ کر بالکل ویسا ہی عمل کرنا۔
[195] وہ خاص ذکر یا دعائیں جو ایک مقررہ تعداد اور وقت میں پڑھنے کے لیے استاد کی طرف سے بتائی جائیں۔
[196] مکمل طور پر، یعنی جسم اور دل دونوں کے ساتھ پوری توجہ مبذول کرنا۔
[197] کسی بات پر ٹوکنا، اسے غلط سمجھنا یا اس کے خلاف دل میں ناپسندیدگی لانا۔
[198] وہ چھپی ہوئی بھلائی یا حکمت جو عام انسان کی سمجھ سے باہر ہو۔
[199] وہ درویش یا اللہ والا جو دنیاوی رسم و رواج سے بے نیاز ہو کر حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہو۔
[200] اللہ کے نیک بندوں سے ظاہر ہونے والے ایسے کام جو عام انسانی عقل کے خلاف ہوں۔
[201] دل میں پیدا ہونے والا شک یا کوئی الجھن۔
[202] اپنی سمجھ کی کمی یا عقل کی کوتاہی۔
[203] خواب کا مطلب یا اس کا اصل اشارہ سمجھنا۔
[204] انسانی روح کا وہ باریک اور نورانی حصہ جو روحانی دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔