شریعت و تصوف - 3
حضرت مولانا شاہ محمد مسیح اللہ خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مولانا شاہ محمد مسیح اللہ خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ
"وَالَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا" یعنی جو لوگ ہماری راہ میں مَشَقَّتیں برداشت کرتے ہیں ہم ان کو قُرْب و ثواب یعنی جنت کے راستے ضرور دکھائیں گے ۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: عَنْ فَضَالَةَ الْكَامِلِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ: الْمُجَاہِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِیْ طَاعَةِ اللہِ[2]۔ یعنی فضالہ کامل سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجاہد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے ۔
مُجَاہَدَہ کی حقیقت: مجاہدہ کی حقیقت نفس کی مخالفت کی مشق و عادت ہے کہ حق تعالیٰ کی رضا و طاعت کے مقابلے میں نفس کی جانی و مالی و جاہی خواہشات و مَرْغُوْبَات[3] کو مغلوب[4] رکھا جائے ۔
تشریح: منافعِ نفس دو قسم کے ہیں، ایک حُقُوْق[5] جس سے قِوَامِ بَدَن[6] اور بقائے حیات ہے ۔ دوسرے حَظُوْظ[7] جو اس سے زائد ہیں سو مجاہدہ و ریاضت میں حظوظ کی تَقْلِیْل[8] یا ترک کرایا جاتا ہے حقوق کو ضائع نہیں کیا جاتا کہ یہ خلافِ سنت ہے، حدیث شریف میں ہے: 'اِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا' یعنی بے شک تمہارے نفس کا تم پر حق ہے ۔ کیوں کہ اس سے ضُعف[9] بڑھ جاتا ہے اور صحت میں خلل پڑتا ہے ۔ پھر ضروری اشغال و عبادات سے بھی عاجز ہو جاتا ہے ۔
اعمالِ صالحہ میں مشقت ہمیشہ رہتی ہے، کیوں کہ اعمال نفس کی خواہش کے خلاف ہیں ۔ نفس اُن کے بارے میں قلیل یا کثیر مُنَازَعَت[10] ضرور کرتا ہے اسی لیے مخالفتِ نفس کی عمر بھر ضرورت ہے ۔
مُبْتَدِی[11] کو بھی اور مُنْتَہِی[12] کو بھی دونوں ہی کو کبھی نہ کبھی اعمال میں منازعت کی وجہ سے کَسَل[13] بھی پیش آتا ہے ۔ مبتدی کو زیادہ اور منتہی کو کم، اس کسل ہی کو دفع کرنے کیلئے مجاہدہ کی ضرورت ہے نیز کسی وقت دونوں کا نفس اپنے اپنے مرتبہ کے اعتبار سے مَعَاصِی[14] کا بھی تقاضا کرتا ہے، اس کے مقابلے کیلئے بھی مجاہدہ کی دونوں کو ضرورت ہے ۔
لہذا مبتدی کیلئے تو یہ غلط ہے کہ وہ اپنے نفس کو مشقت سے بچانا چاہے اور مجاہدہ ہی نہ کرے اور اس انتظار میں رہے کہ سارا کام بدونِ مشقت کے ہو جائے ۔ اور منتہی کی غلطی یہ ہے کہ وہ ابتدا میں مجاہدہ کر کے آئندہ کیلئے اپنے آپ کو مجاہدہ سے مُسْتَغْنِی[15] سمجھ لے چونکہ بسا اوقات طبائعِ بشریہ پھر عَوْد[16] کرتے ہیں اور اس وقت مُنْتَہِی کو مَعَاصِی[17] کا تقاضا ہوتا ہے، اس طرح اس کا نفس بھی بعض دفعہ طَاعَات میں کَسَل کرنے لگتا ہے، اس وقت اس کو بھی مُجَاہَدَہ کی ضرورت ہوتی ہے مگر مُبْتَدِی اور منتہی کے مجاہدہ میں بڑا فرق ہے ۔ جیسے ایک تو وہ سوار ہے جس کے نیچے ایسا گھوڑا ہے جس پر ابھی ابھی سواری شروع کی گئی ہے، ایسے سوار کو تو زیادہ ہوشیاری کی بھی ضرورت ہے اور زیادہ مَشَقَّت کا بھی سامنا ہے ۔
کیوں کہ نیا گھوڑا بہت شرارت کرتا ہے اور قابو سے باہر ہو جاتا ہے، دوسرا وہ شخص ہے جو ایسے گھوڑے پر سوار ہے جو سواری میں شَائِسْتَہ[18] ہو چکا ہے ۔ اس کو زیادہ مشقت کا تو سامنا نہیں مگر ہوشیار بیٹھنے کی اس کو بھی ضرورت ہے کیوں کہ سدھا ہوا گھوڑا بھی بِمُقْتَضَائے حَیْوَانِیَّت[19] شوخی کرنے لگتا ہے، مگر سوار کی ذرا سی دھمکی اس کے دفع کرنے کو کافی ہے لیکن اگر سوار بالکل غافل رہا تو کسی وقت یہ سدھے ہوئے گھوڑے کے اوپر سے بھی ضرور گرے گا ۔ بس نفس کی نگہداشت کا مجاہدہ منتہی کو بھی لازم ہے ۔
مجاہدہ سے مَقْصُود نفس کو پریشان کرنا نہیں ہے بلکہ نفس کو مشقت کا عادی بنانا اور رَاحَت و تَنَعُّم[20] کی عادت نکالنا ہے ۔ اور اس کیلئے اتنا مجاہدہ کافی ہے جس سے نفس پر کسی قدر مشقت پڑے، بہت زیادہ نفس کو پریشان کرنا اچھا نہیں ورنہ وہ بالکل معطل و بے کار ہو جائے گا ۔ خوب سمجھ لو، محنت و مشقت ہمیشہ اور ہر حال میں مُسْتَحْسَن[21] نہیں بلکہ جب اعتدال[22] سے ہو اور اس پر نتیجہ اچھا مرتب ہو، اسی وقت مستحسن ہے ۔ پس مجاہدہ میں اِفْرَاط[23] بھی مَذْمُوْم[24] ہے لہٰذا اعتدال کی رعایت لازم ہے ، اسی کو حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
نَہ چَنْداں بَخور کَز دَہَانَت بَر آیَد نَہ چَنْداں کِہ اَز ضُعْف جَانَت بَر آیَد
یعنی نہ اتنا کھاؤ کہ منہ سے باہر آنے لگے اور نہ اتنا کم کھاؤ کہ جسم میں کمزوری آجائے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَالَّذِیْنَ اِذَا اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَكَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا[25] یعنی خدا کے بندے وہ ہیں، جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ اِسْرَاف[26] کرتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں بلکہ وہ خرچ اس کے درمیان میں مُعْتَدِل[27] ہوتا ہے ۔
پس مجاہدہ میں بھی اعتدال کی رعایت کرنا چاہیے، مگر اس اعتدال کو بھی اپنی رائے سے تجویز نہ کریں بلکہ کسی مُحَقِّق[28] سے درجۂ اعتدال اور طریقِ مجاہدہ معلوم کریں ۔
مُجَاہَدے کے اَقْسَام:-
مجاہدہ کی دو قسمیں ہیں، ایک مُجَاہَدَۂ جِسْمَانِی[29] کہ نفس کو مشقت کا عادی کیا جائے ۔ مثلاً نوافل کی کثرت سے نماز کا عادی کرنا اور روزہ کی کثرت سے طعام کی حرص وغیرہ کو کم کرنا اور ایک مجاہدہ بمعنی مخالفتِ نفس ہے کہ جس وقت نفس مَعْصِیَت کا تقاضا کرے اس وقت اس کے تقاضے کی مخالفت کرنا، اصل مقصود یہ دوسرا مجاہدہ ہے اور یہ واجب ہے ۔ اور پہلا مجاہدہ اسی کی تَحْصِیْل [30]کیلئے کیا جاتا ہے کہ جب نفس مشقت برداشت کرنے کا عادی ہوگا تو اس کو اپنے جذبات کے ضبط کرنے کی بھی عادت ہوگی ، لیکن اگر بدون مُجَاہَدَۂ جِسْمَانِیَہ کے کسی کو نفس پر قدرت ہو جائے تو اس کو مُجَاہَدَۂ نَفْسَانِیَہ[31] کی ضرورت نہیں مگر ایسے لوگ بہت کم ہیں اسی واسطے صوفیاء نے مجاہدہ جسمانیہ کا بھی اہتمام کیا ہے اور ان کے نزدیک اس کے چار ارکان ہیں۔
(۱) قِلَّتِ طَعَام [32] (۲) قِلَّتِ کَلَام[33] (۳) قِلَّتِ مَنَام[34] (۴) قِلَّتِ اِخْتِلَاط مَعَ الْاَنَام[35]۔
جو شخص ان ارکان کا عادی ہو جائے گا، واقعی وہ اپنے نفس پر قابو یافتہ ہو جائے گا کہ مَعْصِیَت کے تقاضے کو ضبط کر سکے گا اور مجاہدہ نفسانیہ یہ ہے کہ جب نفس گناہ کا تقاضا کرے اس کی مخالفت کی جائے اور یہ بات اس وقت حاصل ہوگی، جب نفس کی جائز خواہشوں کی بھی کسی حد تک مخالفت کیا کریں۔ مثلاً کسی لذیذ چیز کو جی چاہا تو فوراً اس کی خواہش کو پورا نہ کیا جائے بلکہ اس کی درخواست کو رد کر دیا جائے اور کبھی کبھی سخت تقاضے کے بعد اس کی جائز خواہش پوری کر دی جائے، تاکہ نفس پریشان نہ ہو جائے بلکہ اس کو خوش رکھا جائے اور اس سے کام بھی لیا جائے، اس لئے کہ ع:
مَزْدُوْرِ خُوْش دِل کُنَد کَارِ بِیْش
پھر جب مُبَاحَات[36] میں نفس کی مخالفت کے عادی ہو جاؤ گے، اس وقت معاصی کے تقاضے کی مخالفت پر آسانی سے قادر ہو گے اور جو شخص مباحات میں نفس کو بالکل آزاد رکھتا ہے وہ بعض اوقات تقاضائے معصیت کے وقت اس کو دبا نہیں سکتا۔
خلاصہ یہ ہے کہ رِیَاضَت و مُجَاہَدَہ کے دو رُکن ہیں، اول مُجَاہَدَۂ اِجْمَالِی یا جسمانی دوسرا مُجَاہَدَۂ تَفْصِیْلِی[37] یا نفسانی۔ مجاہدہ اجمالی کے چار اصول ہیں: قِلَّتِ کَلَام، قِلَّتِ طَعَام، قِلَّتِ مَنَام اور قِلَّتِ اِخْتِلَاط مَعَ الْاَنَام۔ ان سب امور میں مَرْتَبَۂ اَوْسَط[38] حسبِ تعلیمِ شیخِ کامل مَلْحُوْظ[39] رکھے، نہ اس قدر کثرت کرے جس سے غفلت و قَسَاوَت[40] و کاہلی پیدا ہو نہ اس قدر قلت کرے کہ جس سے صحت و قوت زَائِل[41] ہو جائے۔ دوسرے رکن مجاہدہ تفصیلی کی دو قسم ہیں۔ اول اَخْلَاقِ حَمِیْدَہ[42] دوسری اَخْلَاقِ رَذِیْلَہ[43] ہیں۔ ان دونوں قسموں کی تفصیل آئندہ اخلاق کے باب میں ملاحظہ فرمائیں۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: "مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ" یعنی وہ کچھ بات نہیں بولتا ہے مگر اس کے نزدیک نِگَہْبَان تیار ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مَنْ صَمَتَ نَجٰی" (رواہ احمد و الترمذی) یعنی جو چپ رہا، اس نے نجات پائی۔
عن مالک
مطلب یہ ہے کہ امام مالکؒ سے مروی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ذکرِ اللہ کے سوا تم بہت کلام نہ کیا کرو کہ اس سے تمہارے دل سخت ہو جائیں گے یعنی ان میں خُشُوْع[44] نہ رہے گا اور یہ بالکل تجربہ کی ہوئی بات ہے ۔ اور جس دل میں قَسَاوَت ہو وہ اللہ تعالیٰ سے دور ہوتا ہے، لیکن تم کو اس کی خبر نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ سے بُعْد[45] ہو گیا کیوں کہ حقیقت تو اس کی آخرت میں مُشَاہَد[46] ہوگی اور آثار گو یہاں بھی مشاہد ہیں مگر ان کا اِدْرَاك[47] بوجہ بے التفاتی کے نہیں ہوتا ۔
اور تم لوگوں کے گناہوں پر اس طرح نظر مت کرو کہ گویا تم اَرْبَاب[48] ہو اور اپنے گناہوں پر نظر کیا کرو کہ گویا تم مَمْلُوْک[49] اور غلام ہو یعنی غلاموں کی خطاؤں کو دیکھنا، سزا دینے کیلئے یہ مالکوں کا کام ہے اور تم مالک نہیں بلکہ غلام ہو اور غلاموں کا کام اپنی خطاؤں کو دیکھنا ہے تاکہ اس کی تَلَافِی[50] و اصلاح کریں ۔ غرض آدمی دو طرح کے ہیں۔ ایک مُبْتَلَا[51] دوسرا صاحبِ عافیت، تو تم اہلِ بلا پر رحم کرو اور عافیت پر اللہ تعالیٰ کی حمد بجالاؤ ۔ پس گناہ ایک بلا ہے۔ اس پر تحقیر یا طعن مت کرو ۔ تَرَحُّم[52] کے ساتھ نصیحت یا دعا کرو اور گناہ سے محفوظ رہنا ایک عافیت ہے اس پر عجب اور ناز مت کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت بلا اِسْتِحْقَاق[53] سمجھ کر شکر کرو اور اس کے عموم میں اور بلیات سے عافیت بھی آگئی ۔
تَقْلِیْلِ کلام کی تشریح یہ ہے کہ انسان جتنے کام کرتا ہے بظاہر اس کی تین قسمیں ہیں:
(۱) اوّلمُفِیْد جس میں کوئی دین یا دنیا کا فائدہ ہو ۔
(۲( دوم مُضِر جس میں دین یا دنیا کا کوئی نقصان ہو ۔
(۳) سوم نہ مفید نہ مضر، جس میں نہ کوئی فائدہ ہو نہ نقصان ۔
اس تیسری قسم کو ہی حدیث میں لَایَعْنِی[54] کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے لیکن جب ذرا غور سے کام لیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہ تیسری قسم بھی درحقیقت دوسری قسم یعنی مضر میں داخل ہے، کیوں کہ وہ وقت جو ایسے کام یا کلام میں صرف کیا گیا اگر اس میں ایک دفعہ سُبْحَانَ اللہ کہہ لیتا تو مِیْزَانِ عَمَل[55] کا آدھا پلہ بھر جاتا، کوئی اور مفید کام کرتا تو گناہوں کا کَفَّارَہ[56] اور نجاتِ آخرت کا ذریعہ یا کم از کم دنیا کی ضرورتوں سے بے فکری کا سبب بنتا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: انسان کا اسلام درست و صحیح ہونے کی ایک علامت یہ ہے کہ بے فائدہ کاموں اور باتوں کو چھوڑ دے۔[57] اِحْیَاءُ الْعُلُوْم [58]میں ہے کہ لایعنی کلام کا حساب ہوگا اور جس چیز کا حساب و مُوَاخَذَہ [59]ہو اس سے خلاصی یقینی نہیں ۔
یہ تقلیلِ کلام کا مُجَاہَدَہ تقلیلِ طعام و تقلیلِ منام دونوں مجاہدوں سے زیادہ مشکل ہے، کیوں کہ کھانے میں کچھ تو اِہْتِمَام کرنا پڑتا ہے نیز اگر زیادہ بھی کھائے گا، ایک دو دفعہ کھالے گا پھر کہاں تک کھائے گا، جب ہَضْم نہ ہوگا خود ہی تقلیل ہو جائے گی اسی طرح کہاں تک سوئے گا، کبھی تو جاگے گا، بخلاف بولنے کے کہ اس میں کچھ اہتمام ہی نہیں کرنا پڑتا، نہ زیادہ بولنے سے بَد ہَضْمِی ہوتی ہے نہ زبان چلانے سے کچھ تَعَب ہوتا ہے۔ دوسرا راز یہ ہے کہ انسان جس قدر حَظُوْظ اختیار کرتا ہے، لذت کیلئے کرتا ہے، سو کلام کے سوا دوسرے جس قدر حظوظ ہیں اس میں کثرت کرنے سے لذت کم ہو جاتی ہے؛ پیٹ بھرنے کے بعد پھر کھانے میں مزا نہیں آتا، نیند بھر جانے کے بعد سونے سے جی گھبراتا ہے، بلکہ بولنے کی لذت ختم ہی نہیں ہوتی بلکہ جتنا بولتے جاؤ اتنی ہی لذت بڑھتی جاتی ہے ۔
اس لئے تَقْلِیْلِ کَلَام سب سے زیادہ دشوار ہے مگر باوجود دشواری کے اس میں آزادی اس لیے نہیں دی گئی کہ زیادہ بولنے میں آفَات[60] بہت ہیں، اور ان سے گناہوں میں اِبْتِلَاء [61]بکثرت ہو جاتا ہے ۔ اس لئے اس کی تقلیل کو مُجَاہَدَہ کا ایک رُکن قرار دیا گیا ہے، لیکن تقلیلِ کلام کا یہ مطلب نہیں کہ ضروری باتوں کو بھی کم کر دے بلکہ مطلب یہ ہے کہ فُضُوْل کلام چھوڑ دے گو مُبَاح ہی ہو۔ باقی جو باتیں حرام ہیں جیسے جھوٹ، غیبت، بہتان وغیرہ وہ تو اس سے خود ہی چھوٹ جائیں گے، کیوں کہ وہ تو مُجَاہَدَۂ حَقِیْقِیَّہ [62]ہے ۔ جو شخص مُجَاہَدَۂ حُکْمِیَّہ[63] کرے گا وہ مجاہدۂ حقیقیہ کیسے ترک کر سکتا ہے؟ رہا ضروری کلام، سو اس کا ترک کرنا جائز نہیں، چونکہ اس سے ضرورت میں حَرَج [64]ہوگا یا مخاطب کو تکلیف ہوگی ۔
ضرورت کی تفسیر یہ ہے: "لَوْلَاہُ لَتَضَرَّرَ" یعنی بات کے نہ کرنے سے ضَرَر[65] ہو۔
پس جس بات کے ترک کرنے سے دنیا یا دین کا ضرر ہو وہ بات ضروری ہے ، مثلاً تاجر کے پاس کوئی خریدار گھنٹہ بھر تک چیزوں کی قیمتیں دَرْیَافْت کرتا رہے اور تاجر کو امید ہے کہ یہ ضرور کچھ خرید لے گا تو جب تک یہ امید ہو اس وقت تک خریدار سے باتیں کرنا ضرورت میں داخل ہے کیوں کہ اس صورت میں خریدار سے باتیں نہ کرنے میں دنیا کا نقصان ہے، اس لئے شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ تجارت کی باتیں کرے اور جو باتیں ضرورت میں داخل ہیں ان سے قلب میں ذرہ برابر ظُلْمَت نہیں ہوتی، چنانچہ حضرات عَارِفِیْن کا مشاہدہ ہے کہ ضروری گفتگو دن بھر بھی ہوتی رہے تو اس سے قلب پر اثر نہیں ہوتا۔
چنانچہ ایک کُنْجْڑا[66] اگر دن بھر "لے لو امرود" پکارتا پھرے تو اس سے قلب پر ذرہ برابر بھی ظلمت نہ آوے گی، چوں کہ یہ کلام بِضَرُوْرَت ہے اور بِغیرِ ضرورت ایک جملہ بھی اگر زبان سے نکل جائے تو دل سیاہ ہو جاتا ہے۔
حاصل یہ ہے کہ شریعت نے تقلیلِ کلام کی وہ صورت تجویز نہیں کی کہ زبان بند کر کے بیٹھ جاؤ بلکہ اس کی یہ صورت تجویز کی کہ تلاوتِ قرآن مجید میں مشغول رہو یا ذکر کرتے رہو جس سے مجاہدۂ تقلیلِ کلام کا فائدہ بھی حاصل ہو جائے کہ زبان گناہوں سے بچی رہے، فضول باتیں کرنے کی عادت کم ہو جائے اور اسی کے ساتھ ثواب بھی بے شمار ملتا رہے جو خاموش رہنے میں کبھی حاصل نہیں ہو سکتا۔
بات کرنے سے قبل تھوڑی دیر تَاَمُّل[67] کریں، اور سوچیں کہ اس بات سے اللہ تعالیٰ جو کہ سمیع و بصیر[68] ہیں ناخوش تو نہ ہوں گے، اِن شاء اللہ تعالیٰ کوئی بات منہ سے گناہ کی نہ نکلے گی اور اگر پھر بھی طبیعت میں ایسی بات کرنے کا تقاضا ہو تو اس وقت ہمت سے کام لے۔ اگر کوئی بات ایسی منہ سے نکل جائے تو اس کا تَدَارُک اس طرح کرے کہ فوراً توبہ کرے اور اگر کسی کو گالی دی ہو یا کسی سے تَمَسْخُر[69] کیا ہو یا چغل خوری یا غیبت کی ہو تو توبہ کے بعد اس صَاحِبِ حَق سے بھی معافی مانگے اور اگر کسی وجہ سے معاف کرانا دشوار ہو تو اس شخص کیلئے اور اس کے ساتھ اپنے لیے اِسْتِغْفَار کرتے رہیں، اس طرح 'اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَہٗ' یعنی اے اللہ ہماری اور اس کی مغفرت فرما۔
حضرت شیخ فرید الدین عطارؒ نے ان دو شعروں میں خاموشی کے فوائد کو کس کمال جامعیت کے ساتھ بیان فرمایا ہے:
بِطَبْعم، ہِیْچ مَضْمُون بِہ زِ لَب بَسْتَن نَمِی آیَد خموشی معنی دارد کہ در گفتن نمی آید
یعنی میرے ذہن میں خاموشی سے بہتر کوئی مضمون نہیں آتا اور خاموشی اتنے فوائد رکھتی ہے کہ ان کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔
سِیْنَہ ہَا را خَامُشِی گَنْجِیْنَۂ گَوْہَر کُنَد یاد دارم از صدف اِیں نکتۂ سَر بَسْتَہ را
یعنی خاموشی سینوں کو حکمت کے موتیوں کا خزانہ بنا دیتی ہے اور اس پوشیدہ نکتے کو میں نے سیپی سے سمجھا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جس طرح سیپی پانی کے قطرے کو اپنے اندر لے کر بند ہو جاتی ہے تو وہ پانی کا قطرہ موتی بن جاتا ہے، اسی طرح انسان کا سینہ بھی لب بند کرنے سے حکمت کے موتیوں کا خزانہ بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
"کُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ" یعنی خوب کھاؤ اور پیو اور حد سے مت نکلو، بے شک اللہ تعالیٰ حد سے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: "یُجْزِیْہُم مَّا یُعْزِی اَہْلَ السَّمَاءِ مِنَ التَّسْبِیْحِ وَالتَّقْدِیْسِ" (مشکوٰۃ) مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو غذا کی جگہ وہ چیز کافی ہو جائے گی جو اہل آسمان کو کافی ہو جاتی ہے یعنی تَسْبِیْح و تَقْدِیْس[70]۔ بعض بزرگوں سے منقول ہے کہ انہوں نے خلوت میں مدتوں کھانا نہیں کھایا۔ اس حدیث سے ظاہر ہے کہ بعض اوقات صرف ذکر و تسبیح بھی غذا کا کام دے سکتے ہیں لیکن تقلیلِ غذا کے جو واقعات منقول ہیں آج کل ان پر عمل نہیں ہو سکتا، کیوں کہ ان حضرات کو قوت زیادہ تھی کہ غذا کم کرنے سے بھی جَمْعِیَّتِ قَلْب[71] فوت نہیں ہوتی تھی اور ان کی قوت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ان سے بعض اشغال ایسے منقول ہیں جو آج کوئی کرے تو کمر ہی ٹوٹ جائے چنانچہ صَلٰوۃِ مَعْکُوْس[72] ہے جس کی حقیقت یہ ہے کہ الٹا لٹک کر شغل کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ شَارِع علیہ السلام[73] نے تقلیلِ طعام کو تجویز کیا ہی نہیں بلکہ کھانے کے اوقاتِ معتادہ[74] کو بدل کر ان میں فَصْل[75] زیادہ تجویز کیا ہے اور اس تبدیلِ عادت و زیادتِ فصل سے جو نفس کو تکلیف ہوتی ہے اس کو شریعت نے تقلیلِ طعام کے قائم مقام سمجھا ہے اس میں جتنی صورتیں مجاہدے کی نکل سکتی ہیں۔ روزہ ان سب میں اَفْضَل ہے۔ لہٰذا تَقْلِیْلِ طَعَام کو شریعت نے روزہ کی صورت میں مقرر فرمایا ہے ۔ اس کے علاوہ صورتیں اہلِ مجاہدہ نے جو تقلیلِ طعام کی اختیار کی ہیں، شریعت میں اس کی مَقْصُوْدِیَّت[76] کی اصل نہیں ۔ یعنی کم کھانا اور بھوکا رہنا یہ شرعی مُجَاہَدَہ نہیں اور بھوک کی جو فضیلت وارد ہے اس سے اِخْتِیَارِی[77] بھوک مراد نہیں بلکہ غیر اختیاری مراد ہے ۔
یعنی یہ اس بھوک کے فضائل نہیں جو باوجود غلہ گھر ہونے کے اختیار کی جائے، بلکہ کسی شخص پر فاقہ آپڑے، تنگ دستی ہو تو اس کی تَسَلِّی کیلئے فضائل بیان کر دیئے گئے ہیں کہ مسلمان کو فاقہ سے پریشان نہ ہونا چاہیے ۔ اس سے اس کو ثواب ملتا ہے اور درجات میں ترقی ہوتی ہے۔ یہ فضائل ایسے ہی ہیں جیسا کہ احادیث میں بیماری کے فضائل ہیں اور اس پر ثواب بیان کیا گیا ہے، یقیناً اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ خود بیمار پڑ جائے ۔
اَلْغَرَض قلتِ طعام فی نفسہٖ مقصود نہیں بلکہ ذَرِیْعَۂ مَقْصُوْد [78]ہے اور مقصود کَسْرِ قُوَّتِ بَہِیْمِیَّہ [79]ہے اور اس کسر سے بھی مقصود نفس کو گناہوں سے روکنا ہے ۔ پس اگر یہ گناہوں سے نفس کا رکنا بلا تقلیلِ طعام ہی میسر آجائے تو تقلیلِ طعام دکھانے کو کم کرنا، ضروری نہیں نیز عبادت میں سرور و نَشَاط[80] صحت اور قوت ہی سے ہوتا ہے اور تجربہ ہے کہ آج کل تقلیل غذا سے اکثر صحت برباد ہو جاتی ہے لہٰذا سالک کو چاہیے کہ نہ اتنی تقلیل کرے کہ صحت برباد ہو جائے اور نہ اتنی کثرت ہو کہ حد سے زیادہ کھا لے بلکہ اَوْسَط دَرَجے[81] کا لحاظ رکھنا چاہیے اور ہر شخص کا اوسط اس کی خوراک کی مقدار کے اعتبار سے جدا جدا ہوتا ہے ۔ اصل طریقہ یہ ہے کہ جس وقت بھوک لگے اس وقت کھانا اور اتنا کھا کر رک جائیے کہ چند لقمے کھانے کو اور جی چاہ رہا ہو ۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا نِّصْفَہٗ اَوِانْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلًا" یعنی رات کو کھڑے رہا کرو، مگر تھوڑی سی رات یعنی نصف رات یا اس نصف سے کسی قدر کم کر دو ۔
مذکورہ بالا آیت میں قِیَامِ لَیْل[82] کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ رِیَاضَت کے خُوْگر[83] ہوں جس سے اِسْتِعْدَادِ نَفْس[84] اکمل و اقویٰ ہو چونکہ رات کا اٹھنا اور جاگنا نفس کے کچلنے میں خوب مُؤثِّر [85]ہے اور دعا ہو یا قِرَأت ہو، نماز ہو یا ذکر ہو، ظاہراً و باطناً ہر بات خوب ٹھیک سے ادا ہوتی ہے ۔ ظاہراً تو اس طرح کہ سُکُوْت کا وقت ہوتا ہے، الفاظ خوب اطمینان سے ادا ہوتے ہیں اور باطناً اس طرح کہ خوب جی لگتا ہے اور مُوَافَقَتِ دِل و زَبَان[86] کا یہی مطلب ہے ۔
اسی لیے رمضان المبارک میں نمازِ تراویح کا ادا کرنا شرعی حکم ہے جو کہ تَقْلِیْلِ مَنَام کو مُسْتَلْزِم[87] ہے ۔ جس طرح صوم کو تقلیلِ طعام میں دخل ہے اسی طرح تراویح کو تقلیلِ منام میں دخل ہے اور جس طرح روزہ میں تبدیلِ عادت سے مجاہدہ کی شان آ جاتی ہے اسی طرح یہاں بھی شریعت نے محض تبدیلِ عادت سے مجاہدہ کا کام لیا ہے ۔ کیوں کہ عام عادت یہی ہے کہ اکثر لوگ عشاء کے بعد فوراً سو جاتے ہیں تو نیند کے وقت میں تراویح کا امر کر کے عادت کو بدل دیا گیا ہے جس سے نفس پر گرانی ہوتی ہے اور یہی مجاہدہ ہے ۔
غَرَض شریعت نے تَقْلِیْلِ مَنَام میں محض بیداری پر اکتفا نہیں کیا کہ خالی بیٹھے جاگتے رہو بلکہ اعمال کی تلقین فرمائی، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نیک بندوں کی تعریف اس طرح فرماتے ہیں: 'وَبِالْاَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ'۔ یعنی وہ پچھلے حصۂ رات میں اِسْتِغْفَار کیا کرتے ہیں ۔
دوسری جگہ ارشاد ہے: 'تَتَجَافٰی جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا' (الآیۃ)۔ مطلب یہ ہے کہ رات کو نماز پڑھتے ہیں، مگر طرزِ کلام سے عموم ظاہر ہے لہٰذا مطلقاً دعا و ذکر بھی مراد ہو سکتا ہے ۔ پھر اس میں دینی فوائد کے علاوہ دنیوی فوائد بھی ہیں۔ چنانچہ نیند کم ہونے سے رُطُوْبَتِ فَضْلِیَہ[88] کم ہوتی ہے، جو صحت کیلئے معین ہے ۔ نیز اس سے چہرے پر نُوْر پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک محدث کا قول ہے: 'مَنْ کَثُرَتْ صَلٰوتُہٗ بِاللَّیْلِ حَسُنَ وَجْہُہٗ بِالنَّہَارِ' یعنی جو رات کو نماز زیادہ پڑھے گا، دن میں اس کا چہرہ خوبصورت ہو جائے گا ۔
اور حد سے زیادہ سونے سے بَرُوْدَت[89] بڑھ جاتی ہے جس سے قُوَّتِ فِکْرِیَّہ[90] کم ہو جاتی ہے اور قوتِ فکریہ کی کمی سے دنیا اور دین دونوں کے کام خراب ہوتے ہیں، جس سے امورِ انتظامیہ میں خلل پڑتا ہے ایسے شخص کو پابندیِ اوقات کبھی نہیں نصیب ہوتی ۔
اس مُجَاہَدَہ میں بھی اِعْتِدَال مطلوب ہے ۔ چنانچہ آج کل چھ سات گھنٹہ ضرور سونا چاہیے اور اگر نیند بہت غالب ہو تو اس کو دفع نہ کیا جائے، وَظِیْفَہ کو چھوڑ کر سو رہنا چاہیے پھر دوسرے وقت پورا کر لیا جائے اور اگر زیادہ غلبہ نہ ہو تو ہمت کر کے جاگنا چاہیے، غلبہ کی صورت میں اگر نیند کو دفع کیا جائے تو اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ دماغ میں خشکی پیدا ہو جاتی ہے ۔ صَفْرَا[91] میں اشتعال بڑھ جاتا ہے، سَوْدَا میں ترقی ہو جاتی ہے، خَیَالَاتِ فَاسِدَہ [92]آنے لگتے ہیں اور وہ ان کو اِلْہَام [93]سمجھ کر اپنے کو بزرگ جاننے لگتا ہے۔ آخر یہ ہوتا ہے کہ جُنُوْن[94] ہو جاتا ہے ۔
چنانچہ حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
'اِذَا قَامَ اَحَدُکُمْ مِّنَ اللَّیْلِ فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْاٰنُ عَلٰی لِسَانِہٖ فَلَمْ یَدْرِ مَا یَقُوْلُ فَلْیَضْطَجِعْ' یعنی جب تم میں سے کوئی شخص رات کو اٹھے پھر غلبۂ نوم سے قرآن اس کی زبان سے صاف نہ نکلے اور کچھ خبر نہ ہو کہ کیا زبان سے نکل رہا ہے تو اس کو لیٹ جانا چاہیے ۔ جو بعض لوگ تقلیلِ منام وغیرہ اسبابِ مجاہدہ میں بہت غُلُو[95] کرتے ہیں کہ نقصان کے لاحق ہونے کی طرف بھی التفات نہیں کرتے، اس حدیث میں اس کی اصلاح ہے اور راز اس میں دو ہیں ۔
ایک یہ کہ غلو سے بعض اوقات ضَرَرِ جِسْمَانِی لاحق ہو جاتا ہے جیسا کہ اوپر گزرا اور پھر ضروری عبادت بھی نہیں ہو سکتی، دوسرا یہ کہ جب غلبۂ نوم سے الفاظ صحیح نہیں نکلیں گے تو جو ثواب ان الفاظ کے متعلق ہے وہ حاصل نہ ہوگا، پھر تیرے جاگنے سے کیا فائدہ ہے؟ ۔
یعنی لوگوں سے غیر ضروری اختلاط و میل جول نہ بڑھانا چاہیے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ماسوی اللہ سے تین قسم کے تعلقات ہیں ۔
۱۔ ایک تَعَلُّقِ مَحْمُوْد[96] جس کا شریعت نے امر فرمایا ہے، وہ تو عَیْنِ تَعَلُّق بِالْحَق[97] ہے، اس کا قطع کرنا ناجائز ہے ۔ ۲۔ دوسرا تَعَلُّقِ مَذْمُوْم[98] جس کی شریعت میں ممانعت ہے، اس کا قطع کرنا واجب ہے ۔ ۳۔ تیسرا تَعَلُّقِ مُبَاح[99]، جو نہ طاعت ہے نہ معصیت، اس میں قطع کی ضرورت نہیں البتہ تَقْلِیْل کرنا ضروری ہے ۔
پس جہاں قطعِ تعلق کی تعلیم ہے وہاں مراد تعلقِ محمود نہیں بلکہ مذموم و مباح ہے، مگر مذموم بطورِ ترک کے اور مباح بطورِ تقلیل کے ۔ اور جب تک نسبت مع الخالق راسخ نہ ہو، تعلق مع الخلق بلا ضرورت سراسر مَضَرَّت ہے اور جو منفعت سوچی جاتی ہے کہ ادائے حقِ خلق ہے وہ حقِ خلق بھی جبھی ادا ہوتا ہے کہ نسبت مع الخالق راسخ ہو جائے ۔ ورنہ تو نہ تو حقِ خالق ادا ہوتا ہے اور نہ حقِ خلق۔ یہ ایک کا نہیں بلکہ ہزاروں اہل بصیرت کا تجربہ ہے اور آپ سے زیادہ اہل تمکین[100] نے ایسے تعلقات کو چھوڑ دیا ۔
حضرت ابراہیم بن ادہمؒ، حضرت شاہ شجاع کرمانیؒ کے واقعات معلوم ہیں۔ خلفائے راشدین پر اپنے کو قیاس نہ کیا جائے ۔
کَارِ پَاکَاں رَا قِیَاس اَز خُود مَگِیْر
یعنی اللہ کے مقرب بندوں کے کاموں کو اپنی عقل اور حالت پر پرکھنے کی غلطی نہ کرو۔
قَوْلِ فَیْصَل اس خَلْوَت کے باب میں یہ ہے کہ جس شخص کو کوئی ضروری حاجتِ دینی یا دنیوی نہ دوسروں سے متعلق ہو اور نہ دوسروں کی کوئی ایسی دینی یا دنیوی حاجت اس شخص سے متعلق ہو، اس کے لئے خلوت جائز ہے، بلکہ اَفْضَل ہے۔ خصوصاً ایامِ فِتَن و شُرُوْر[101] میں جب کہ اِخْتِلَاط[102] کے خَلَجَانَات[103] و تَشْوِیْشَات[104] و ایذاؤں پر صبر کرنے کی توقع و ہِمَّت نہ ہو ۔ احادیث میں جو ترغیب خلوت کی آئی ہے وہ ایسی ہی حالت میں ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:
'وَرَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِی شِعْبِ جَبَلٍ لَّہٗ غُنَیْمَۃٌ یُّؤَدِّی حَقَّہَا وَیَعْبُدُ اللہَ
(یعنی وہ شخص جو کسی پہاڑ کی گھاٹی میں گوشہ نشین ہو، اس کے پاس تھوڑی سی بکریاں ہوں جن کا وہ حق ادا کرتا ہو اور اپنے اللہ کی عبادت کرتا ہو)۔
دوسری حدیث میں ہے:
یُوْشِکُ اَنْ یَّکُوْنَ خَیْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ یَّتْبَعُ بِہَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ یَفِرُّ بِدِیْنِہٖ مِنَ الْفِتَنِ)رواہ البخاری)
یعنی ایسا وقت نزدیک آنے والا ہے کہ مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جن کو لئے لئے پہاڑیوں کی چوٹیوں اور بارش کے جمع ہونے کی جگہوں یعنی نالوں میں جب کہ وہ خشک ہو جائیں ۔ اپنے دین کو لیے ہوئے فتنوں سے بھاگا بھاگا پھرے گا۔ (روایت کیا اس کو بخاری نے) ۔
اور جس شخص کو دوسروں سے یا تو کوئی حاجتِ ضروری ہو، خواہ دُنْیوی ہو جیسے تَحْصِیْلِ نَفَقَۂ عَیَال جب کہ تَوَکُّل پر قادر نہ ہو، خواہ دِینی ہو مثلاً تَحْصِیْلِ عُلُوْمِ ضَرُوْرِیَّہ[105]، اس کے لئے خلوت جائز نہیں ۔
اسی طرح اگر اس کے ساتھ خلائق کی حاجاتِ دنیوی یا دینی متعلق ہوں تو بھی خلوت جائز نہیں اور بعض احادیث سے جو نہیِ خلوت کی مفہوم ہوتی ہے وہ ایسی ہی دونوں حالتوں پر مَحْمُوْل[106] ہے، جیسا کہ حضرت عثمان ابن مظعونؓ کو تَبَتُّل[107] سے منع فرمایا گیا کہ اس وقت ان کو بھی تحصیلِ علومِ دین کی حاجت تھی ۔ ادھر مسلمانوں کو بھی ان کی طرف دینی حاجت تھی بالخصوص اِعْلَاء کلمۃ اللہ[108] و ترقیِ اسلام میں ان کی بہت بڑی ضرورت تھی ۔ یہ تفصیل اس خلوت میں ہے جس کو بطریقِ عادتِ دائمی تجویز و اختیار کرے، ایک خلوت چند روزہ ہے جس کی ضرورت بسا اوقات مُبْتَدِی سَالک کیلئے واقع ہوتی ہے ۔
گناہوں سے بھی اجتناب ہوتا ہے۔ بشرطیکہ ایسی عُزْلَت[109] ہو جس میں نگاہ کی بھی حفاظت کرے، کان کی بھی حفاظت کرے، دل کی بھی حفاظت کرے، قصداً کسی غیر کا خیال دل میں نہ لاوے، اگر آجائے تو ذِکْر میں مشغول ہو کر اس کو دفع کر دے، ایسی عزلت میں واقعی گناہوں سے بہت حفاظت ہوگی ۔
اور ظاہر ہے دَفْعِ مَضَرَّت[110]، جَلْبِ مَنْفَعَت[111] پر مقدم ہے تو عُزْلَت اختلاط پر مقدم کیوں نہ ہوگی جب کہ اختلاط میں گو منافع بہت ہیں مگر ساتھ ہی یہ مضرت بھی ہے کہ اس میں اکثر گناہ ہو جاتے ہیں ۔
دوسرے اختلاط کے ساتھ قِلَّتِ کلام بہت دشوار ہے ۔ یہ کام صِدِّیقین[112] اور کاملین[113] کا ہے ورنہ اکثر اختلاط میں فضول باتیں بہت کرنی پڑتی ہیں ۔ جن لوگوں کا وقت خلوت کے لئے مخصوص نہیں ہوتا، رفتہ رفتہ ان کا قلب انوار سے بالکل خالی ہو جاتا ہے ۔
اِخْتِلاط کے فوائد:- اور جن حالات میں بعض افراد کے لئے جَلْوَت[114] یعنی اختلاط مفید ہے، ان کے لئے اس کے یہ فوائد ہیں:
۱۔ تعلیم و تعلم[115]: اس پر موقوف ہے۔ عزلت سے تعلیم و تعلم کا باب بند ہو جاتا ہے ۔
۲۔ خدمتِ خلق: اختلاط میں خدمتِ خلق کا موقع ملتا ہے ۔
۳۔ جماعت کی فضیلت: اختلاط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ جو شخص عزلت گزیں ہوگا وہ جماعت کا ثواب اور خدمتِ خلق کی فضیلت سے محروم رہے گا ۔
۴۔ تواضع[116]: اس سے تواضع پیدا ہوتی ہے ۔
۵۔ دینی فیض: بدونِ اختلاط کے بزرگوں سے فیض حاصل کرنا دشوار ہے ۔
ہر کام کو اپنے اوقاتِ مقررہ پر کریں، دنیا کا کام اپنے وقت میں اور وظائف اپنے وقت میں ہیں ۔ حتیٰ کہ گاہ گاہ لطیف اور مختصر مزاح بھی اپنے اور دوسرے مسلمانوں کی تفریح و تَطْبِیْبِ قَلْب[117] کے لیے اپنے موقع میں کر لینا چاہیے ۔ اس طرح سب کام چلتے رہیں گے ورنہ بالکل گوشہ نشین ہونے سے بعض اوقات طبیعت میں شوق اور اُمنگ کا مادہ ضعیف ہو جاتا ہے اور بدون اس کے کام چلنا دشوار ہے ۔
خدمتِ خلق اللہ سالک کے لئے بہت ہی نافع ہے، مگر ضرورتِ خدمت سے زیادہ اختلاط نہ کریں کہ وہ مَضَرَّاتِ بَاطِنِی[118] سے ہے؛ سالک کے لئے عُزْلَت ضروری ہے، تعلقات بڑھانا نہ چاہیے، نہ دوستی نہ دشمنی کہ ذکرِ اللہ میں خلل انداز ہوگا ۔ جب تک خلوت میں دل خدا تعالیٰ کے ساتھ لگا رہے، خلوت میں رہے اور جب خلوت میں انتشار اور ہجومِ خطرات ہونے لگے تو جمع میں بیٹھے، مگر نیک مجمع میں بیٹھے، اس سے خطرات دفع ہوں گے اور اس وقت یہ جَلْوَت بھی خلوت کے حکم میں ہے ۔
یہ چار قسمیں: قِلَّتِ کَلَام، قِلَّتِ طَعَام، قِلَّتِ مَنَام، اور قِلَّتِ اِخْتِلَاط مَعَ الْاَنَام مجاہدۂ اجمالی[119] کی ہیں ۔ اب آگے اخلاق کے بیان میں مجاہدۂ تفصیلی[120] کی قسمیں بیان کی جاتی ہیں ۔
جاننا چاہیے کہ خَلْق[121] اور خُلُق[122] جدا جدا دو لفظ ہیں ۔ خلق سے مراد صورتِ ظاہری ہے اور خُلق سے مراد صورتِ باطنی، کیوں کہ انسان جس طرح جسم سے ترکیب دیا گیا ہے اور ہاتھ پاؤں اور آنکھ کان وغیرہ اعضاء اس کو مرحمت ہوئے ہیں جن کا قوتِ بصارت[123] یعنی چہرے کی آنکھیں اِدراک کر سکتی ہیں، اسی طرح انسان روح اور نفس سے ترکیب[124] دیا گیا ہے اور اس کا اِدراک بصیرت [125]یعنی دل کی آنکھ کرتی ہے ۔
یہ ترکیب ان ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتی، اور ان دونوں ترکیبوں میں حق تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو جدا جدا صورت اور قسم قسم کی شکلوں پر پیدا فرمایا ہے کہ کوئی صورت اور سیرت حسین اور اچھی ہے اور کوئی سیرت اور صورت بُری ہے بھونڈی ہے ۔ ظاہری ہَیْئَت[126] اور شکل کو صورت کہتے ہیں اور باطنی شکل اور ہَیْئَت کو سیرت کہتے ہیں ۔
سیرت[127] کا مرتبہ صورت سے بڑھا ہوا ہے کیوں کہ اس کو حق تعالیٰ نے اپنی جانب منسوب کیا ہے چنانچہ "وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ" یعنی آدم علیہ السلام کے پتلے میں میں نے اپنی روح کو پھونک دیا ۔ اس آیۂ کریمہ میں روح کو اپنا کہہ کر ذکر فرمایا اور "قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ" یعنی اے محمد ﷺ کہہ دیجئے کہ رُوح میرے پروردگار کا امر ہے ۔ اس میں اس امر کا اظہار فرمایا ہے کہ روح امرِ ربی ہے اور جسم کی طرح سِفْلِی اور خاکی[128] نہیں ہے ۔ کیونکہ جسم کی نسبت مٹی کی جانب فرمائی ہے جیسا کہ ارشاد ہے:
"وَاِنِّیْ خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ" ۔ اس مقام پر روح سے مراد وہ شے ہے جو حق تعالیٰ کے الہام اور اِلْقَاء[129] سے اپنی اپنی اِسْتِعْدَاد[130] کے موافق اشیاء کی معرفت اور اِدراک حاصل کرتی ہے ۔
لہٰذا ثابت ہوا کہ زیادہ قابلِ لحاظ امرِ ربانی یعنی سیرتِ انسانی ہے ۔ کہ جب تک اس باطنی ترکیب کی شکل اور ہَیْئَت میں حُسن موجود نہ ہوگا اس وقت تک انسان کو خوب سیرت نہیں کہا جا سکتا اور چونکہ اس صورت کے اعضاء ہاتھ پاؤں کی طرح سیرت کو بھی اللہ تعالیٰ نے باطنی اعضاء مرحمت فرمائے ہیں جن کا نام قُوَّتِ عِلْم و قُوَّتِ غَضَب و قُوَّتِ شَہْوَت و قُوَّتِ عَدْل ہے ۔
لہٰذا جب تک یہ چاروں اعضاء سڈول اور مُتَنَاسِب[131] اور حدِ اِعْتِدَال پر نہ ہوں گے اس وقت تک سیرت کو حسین نہیں کہا جائے گا۔ ان باطنی اعضاء میں جو بھی کمی بیشی ہوگی اس کی مثال ایسی ہوگی جیسے کسی کی ظاہری شکل و صورتِ جِسْمِیَہ میں اِفْرَاط و تَفْرِیْط[132] ہو کہ پاؤں مثلاً گز بھر ہوں اور ہاتھ تین گز کے یا ایک ہاتھ مثلاً آدھا گز کا ہو اور دوسرا گز بھر کا اور ظاہر ہے کہ ایسا آدمی خوب صورت نہیں کہا جائے گا ۔پس اسی طرح اگر کسی کی قوتِ غضبیہ[133] مثلاً حدِ اعتدال سے کم ہے اور قوتِ شہوانیہ اعتدال سے بڑھی ہوئی ہے تو اس کو خوب سیرت نہیں کہہ سکتے۔ اب ہم چاروں اعضائے مذکورہ کا اعتدال اور تناسب اور حُسن بیان کرتے ہیں۔
اول قُوَّتِ عِلْم: اس کا اعتدال یہ ہے کہ انسان اس کے ذریعے سے اقوال کے اندر سچ جھوٹ میں امتیاز[134] اور اعتقادات کے متعلق حق اور باطل میں فرق کر سکے اور اعمال میں حُسن و قُبْح یعنی اچھا اور بُرا پہچان سکے ۔ پس جس وقت یہ صلاحیت پیدا ہو جائے گی تو اس وقت حِکْمَت کا وہ ثمرہ پیدا ہو گا جس کو حق تعالیٰ بایں الفاظ ارشاد فرماتے ہیں:
"وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْراً كَثِيراً" یعنی جس کو حکمت[135] عطا ہوئی اس کو خیرِ کثیر عطا ہوئی، اور حقیقت میں تمام فضیلتوں کی اصل اور جڑ یہی ہے ۔
دوم و سوم قُوَّتِ غَضَب اور قُوَّتِ شَہْوَت: ان کا اعتدال اور حُسن یہ ہے کہ دونوں قوتیں حکمت و شریعت کے اشارے پر چلنے لگیں اور مُطَہَّر اور مُطِیْع[136] شکاری کُتے کی طرح شریعت کے فرماں بردار بن جائیں کہ جس طرف بھی شریعت ان کو چلائے بلا عذر و بلا تامل[137] اس جانب چلنے لگیں اور جس طرف سے روکے فوراً رک جائیں ۔
چہارم قُوَّتِ عَدْل اس کا اعتدال یہ ہے کہ قوتِ غضب اور شہوت دونوں کی باگ اپنے ہاتھ میں لے اور ان کو دین اور عقل کے اشارے کے ماتحت بنائے رکھے، گویا عقل تو حاکم ہے اور یہ قوتِ عدل اس کی پیشکار[138] ہے کہ جدھر حاکم کا اشارہ پاتے ہیں فوراً اسی جانب جھک جاتے ہیں اور اس کے موافق احکام جاری کر دیتے ہیں ۔ اور قوتِ غضبیہ اور شہوانیہ گویا شکاری مَرد کے مُہَذَّب[139] کُتے ہیں یا فرماں بردار گھوڑے کی طرح ہیں کہ ان میں حاکم کا حکم اور ناصح کی نصیحت کا نفاذ اور اِجراء[140] ہوتا ہے ۔ پس جس وقت یہ حالت قابلِ اطمینان اور لائقِ تعریف ہو جائے گی اس وقت انسان صاحبِ حسنِ خلق اور خوب سیرت کہلائے گا ۔
قُوَّتِ غَضَب: اس قوت کے اعتدال کا نام شجاعت [141]ہے اور یہی عنداللہ پسندیدہ ہے کیوں کہ اگر اس میں زیادتی ہوگی تو اس کا نام تَہَوُّر[142] اور بے باکی ہوگا اور اگر کمی ہوگی تو بُزدلی و جَبَنِیَّت[143] کہلائے گی اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں حالتیں ناپسندیدہ ہیں، حالتِ اعتدال یعنی شجاعت سے لُطْف و کَرَم، دَلِیْرِی، جَوْدَت[144] و بُرْدَبَارِی، اِسْتِقْلَال، نَرْمی و مُلَاطِفَت اور غُصَّہ ضَبْط کرنے کا مادہ نیز ہر کام میں دُور اَنْدِیْشِی اور وَقَار پیدا ہوتا ہے ۔ اور اگر زیادتی ہوتی ہے تو نَا عَاقِبَت اَنْدِیْشِی[145]، ڈِیْنْگ مارنا، شَیْخِی بَگھارنا، غصہ سے بھڑک اٹھنا، تَکَبُّر اور خود پسندی ہی پیدا ہوتی ہے اور اگر اس میں کمی ہوتی ہے تو بزدلی اور ذلت، بے عزتی، کم ہمتی، خَسَارَت[146]، کمینہ پن اور وہ حرکات ظاہر ہوتی ہیں جو چُھچُھور پَن کہلاتی ہیں ۔
قوتِ شہوت کی حالتِ اعتدال کا نام پَارسَائی[147] ہے پس اگر شہوت اپنے حدِ اعتدال سے بڑھ جائے گی تو حِرْص و ہَوَا کہلائے گی ۔ حالتِ معتدل یعنی پارسائی اللہ پاک کو پسند ہے اور اس کے جو فضائل پیدا ہوتے ہیں وہ سَخَاوت، حَیَا، صَبْر، قَنَاعت اور اِنْتِظار کہلاتے ہیں، طَمَع کم ہو جاتی ہے خوف اور خَشْیَت اور دوسروں کی مدد کرنے کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور اعتدال سے بڑھنے اور گھٹنے سے حرص و لَالچ، خوشامد، چَاپْلُوسی، اُمَرَاء کے ساتھ تَذَلُّل[148] اور فُقَرَاء کو بَنَظرِ حقارت دیکھنا، بے حیائی، فضول خرچی، رِیَا، تنگ دلی، نامردانگی اور حَسَد وغیرہ فضائلِ بد پیدا ہوتے ہیں ۔
قوتِ عقل میں اگر اعتدال ہوتا ہے تو انسان مُدَبِّر[149] اور مُنْتَظِم اور ذَکِی[150] اور سمجھ دار ہوتا ہے۔ اس کی رائے صَائِب[151] درست ہوتی ہے اور ہر مضمون میں اس کی طبیعت چلتی ہے اور جودت دکھلاتی ہے اور اگر حدِ اعتدال سے بڑھ جائے تو دھوکہ بازی، فریب دہی اور مَکَّاری کہلاتی ہے اور اگر عقل کی قوت میں کسی قسم کا نقصان اور ضعف ہو گا تو کُند ذہنی[152] اور حَمَاقَت[153] اور بے وقوفی کہلائے گی جس کا اثر یہ ہوگا کہ ایسا آدمی جلدی دوسرے کے دھوکے میں آ جائے گا ۔
غرض جس وقت یہ ساری قوتیں حدِ اعتدال پر ہوں گی تو اس وقت انسان کو خوب سیرت کہا جائے گا کیونکہ اعتدال سے گھٹنا اور بڑھنا دونوں حالتیں حُسن سے خارج ہیں ۔ "خَیْرُ الْاُمُوْرِ اَوْسَاطُھَا" (یعنی بہترین کام وہ ہے جو میانہ روی والا ہو)۔ نیز حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہمارے بندے وہ ہیں کہ نہ وہ اِسراف کرتے ہیں اور نہ بخل بلکہ اس کے بین بین حالت پر رہتے ہیں ۔
جس طرح حُسنِ ظاہری میں کمی بیشی ہوتی ہے کوئی زیادہ خوبصورت ہے اور کوئی کم، اسی طرح حُسنِ باطنی میں بھی لوگ مُتَفَاوِت[154] ہوتے ہیں ۔ اس میں سب سے زیادہ حسین سیرت تو سرورِ عالم رسولِ مقبول سیدنا محمد ﷺ ہیں کہ آپ کی شان میں یہ آیتِ کریمہ "اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ" نازل ہوئی ہے ۔ آپ کے بعد جس مسلمان کو آپ کے اخلاق کے ساتھ جتنی مُنَاسَبَت[155] ہوگی اسی قدر اس کو حسین سیرت کہیں گے، اور ظاہر ہے کہ سیرتِ باطنی میں جس قدر بھی جس کو حُسن حاصل ہوگا اسی قدر اس کو سَعَادَتِ اُخْرَوِی[156] حاصل ہوگی ۔
اخلاق سب فِطْرِی جِبِلِّتی[157] ہیں اور درجۂ فطرت میں کوئی خُلق نہ مَذْمُوْم ہے نہ مَحْمُوْد[158] بلکہ مواقعِ استعمال سے ان میں مَدْح و ذَم[159] آ جاتی ہے ۔
مَنْ اَعْطٰی لِلہِ وَ مَنَعَ لِلہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الْاِیْمَانَ" - یعنی جس نے اللہ ہی کی رضا کے لئے دیا، اور اللہ ہی کی رضا کے لئے روکا تو اس کا ایمان مکمل ہوا، اس میں "اَعْطٰی" (دیا) اور "مَنَعَ" (روکا) دونوں کے ساتھ اللہ کی قید ہے جس سے معلوم ہوا کہ سخاوت مطلقاً محمود نہیں نہ بخل مطلقاً مذموم ہے بلکہ اگر خدا کے لیے ہو تو دونوں محمود[160] ہیں، ورنہ دونوں مذموم[161] ہیں ۔
اَخْلَاقِ ذَمِیْمَہ[162] جن سے نفس کا تَزْکِیَہ[163] کرانا ضروری ہے یوں تو بہت ہیں مگر اصول یہی ہیں جن کا آئندہ ذکر آئے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ اور ان میں باہم ایسا تعلق ہے کہ ایک کے ساتھ دوسرا اور دوسرے کے ساتھ تیسرا لگا ہوا ہے، اس لیے جب تک سب ہی سے نجات نہ ملے گی اس وقت تک نفس قابو میں نہ آوے گا ۔
اور ایک کی اصلاح کرنا اور دوسرے سے بے پرواہ رہنا اس سے کچھ نفع نہ ہوگا، کیوں کہ ہر وہ شخص جو دس بیماریوں میں گرفتار ہو وہ تندرست اسی وقت کہلایا جا سکتا ہے جب کہ اس کی دسوں بیماریاں جاتی رہیں، جس طرح کوئی خوبصورت آدمی حسین اسی وقت کہلا سکتا ہے جب کہ ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان غرض سارے اعضاء مناسب اور خوبصورت ہوں اسی طرح انسان کو حُسنِ خُلق اسی وقت حاصل ہوگا جب کہ اس کی تمام باطنی حالتیں قابلِ تعریف اور پسندیدہ ہوں ۔ رسولِ مقبول ﷺ فرماتے ہیں کہ مسلمان وہی ہے جس کا خُلق کامل[164] ہوا اور مومنین میں افضل وہی ہے جس کا خُلق سب سے بہتر ہو، پس اسی اصل[165] کا نام دین ہے اور اسی کی تکمیل کے لیے رسول اللہ ﷺ دنیا میں تشریف لائے تھے ۔
اَخْلَاقِ بَاطِنَہ دو قِسم پر ہیں ایک مُتَعَلِّق بِالْقَلْب دوسرے مُتَعَلِّق بِالنَّفْس۔
اَخْلَاقِ بَاطِنَہ مُتَعَلِّق بِالْقَلْب کا نام اَخْلَاقِ حَمِیْدَہ و ملکاتِ فَاضِلَہ[166] ہے ان کو مَقَامات سے تَعْبِیْر کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہیں: تَوْحِیْد، اِخْلَاص، تَوْبَہ، مَحَبَّتِ اِلٰہی، قُوَّتِ زُہْد، تَوَکُّل، قَنَاعَت، حِلْم، صَبْر و شُکْر، صِدْق، تَفْوِیْض[167]، تَسْلِیْم، رِضَا، فَنَا، فَنَا الْفَنَا[168]۔
دوسرے مُتَعَلِّقِ نَفْس جن کا نام اَخْلَاقِ رَذِیْلَہ و مُہْلِکَات[169] ہے اور وہ یہ ہیں: طَمَع، طُوْلِ اَمَل[170]، غُصَّہ، دُرُوْغ، غِیْبَت، حَسَد، بُخْل، رِیَا، عُجُب، کِبْر، حِقْد[171]، حُبِّ مَال، حُبِّ جَاہ، حُبِّ دُنْیَا، ان سے نَفْس کو پاک کرنے کا نام تَزْکِیَۂ نَفْس ہے۔
اِرْشَادِ بَارِی تَعَالٰی ہے: "قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا" یعنی وہ مُرَاد کو پہنچا جس نے اس جان کو پاک کیا۔ اِنہیں اَخْلَاقِ حَمِیْدَہ و اَخْلَاقِ رَذِیْلَہ کو ان شِعْروں میں جَمْع کیا گیا ہے:
(۱) خَواہی کِہ شَوِی بِمَنْزِلِ قُرْب مُقِیْم
اگر تو یہ چاہتا ہے کہ مَقَامِ قُرْبِ خُدَاوَنْدِی میں مُقِیْم ہو
نُہ چِیْز بِنَفْسِ خِوِیْش فَرْمَا تَعْلِیْم
تو نو چیزیں اپنے نَفْس کو تَعْلِیْم کر
صَبْر و شُکْر و قَنَاعَت و عِلْم و یَقِیْن
صبر اور شکر اور قناعت اور علم اور یقین
تَفْوِیْض و تَوَکُّل و رِضَا و تَسْلِیْم
تفويض اور توکل اور رضا اور تسلیم
(۲) خَواہی کِہ شَوَد دِلِ تُو چُوں آئِینہ
اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا دل مثلِ آئینہ کے صاف شفاف ہو جائے -
دَہ چِیز بَرُوں کُن اَز دَرُونِ سِینہ
تو دس چیزوں کو اپنے سینے سے نکال دے -
حِرْص و آمَل و غَضَب و دُرُوغ و غِیبَت
حرص اور طولِ امل اور غضب، جھوٹ اور غیبت
حَسَد و بُخْل و رِیَا و کِبْر و کِینہ
حسد اور بخل اور ریا اور تکبر اور کینہ
[1] اللہ کی رضا پانے کے لیے اپنے نفس کی بری خواہشات کو روکنے کی بھرپور کوشش کرنا۔
[2] قال رسولُ اللهِ صلّى اللهُ عليه وسلَّم في حجَّةِ الوداعِ: (ألا أُخبِرُكم بالمؤمنِ: مَن أمِنه النّاسُ على أموالِهم وأنفسِهم والمسلمُ مَن سلِم النّاسُ مِن لسانِه ويدِه والمجاهدُ مَن جاهَد نفسَه في طاعةِ اللهِ والمهاجرُ مَن هجَر الخطايا والذُّنوبَ)
الراوي: فضالة بن عبيد • شعيب الأرنؤوط، تخريج صحيح ابن حبان (٤٨٦٢) • إسناده صحيح, وله شاهد صحيح من حديث أنس • أخرجه ابن حبان (٤٨٦٢) بلفظه، وأحمد (٢٣٩٥٨)، وابن عبد الحكم في ((فتوح مصر والمغرب)) (ص٣٠٧)
[3] وہ چیزیں جن کو نفس بہت زیادہ پسند کرتا ہو اور ان کی طرف مائل ہوتا ہو۔
[4] قابو پایا ہوا یا وہ جسے ہرا کر اپنے تابع کر لیا گیا ہو۔
[5] وہ ضروریات جن کے بغیر انسانی زندگی اور صحت برقرار نہیں رہ سکتی۔
[6] جسم کا ڈھانچہ، اس کی طاقت اور اس کے سیدھا کھڑے رہنے کی بنیاد۔
[7] نفس کی وہ لذتیں اور مرادیں جو ضرورت سے زائد ہوں، جیسے آرام طلبی یا ذائقے دار کھانے۔
[8] کسی چیز کو کم کرنا یا اس کی مقدار گھٹا دینا۔
[9] کمزوری، ناتوانی یا جسمانی طاقت کا گھٹ جانا۔
[10] جھگڑا یا مخالفت کرنا؛ یہاں مراد نفس کا نیکی کے کاموں میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔
[11] وہ طالبِ حق جس نے ابھی روحانی سفر شروع کیا ہو، یعنی شروع کرنے والا۔
[12] وہ سالک جو اپنی منزل کے قریب ہو یا جس نے طویل عرصے تک ریاضت کی ہو۔
[13] سستی، کاہلی اور نیکی کے کاموں میں جی چرانا۔
[14] معصیت کی جمع، یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کے کام۔
[15] بے نیاز ہو جانا؛ یعنی یہ سمجھنا کہ اب مجھے کسی محنت یا مجاہدہ کی ضرورت نہیں رہی۔
[16] کسی پرانی حالت یا عادت کا دوبارہ پلٹ کر آ جانا۔
[17] معصیت کی جمع، یعنی گناہ کے کام اور اللہ کی نافرمانی۔
[18] سدھا ہوا، باادب یا وہ جسے اچھی طرح تربیت دی گئی ہو۔
[19] حیوانی صفت یا جانوروں والی جبلت کے تقاضے کے مطابق۔
[20] ہر وقت آرام طلبی اور عیش و عشرت میں ڈوبے رہنے کی حالت۔
[21] وہ عمل جسے اچھا، پسندیدہ اور تعریف کے قابل سمجھا جائے۔
[22] میانہ روی اختیار کرنا، یعنی کسی کام میں نہ حد سے بڑھنا اور نہ بہت کمی کرنا۔
[23] کسی بھی کام میں حد سے زیادہ بڑھ جانا یا زیادتی کرنا۔
[24] وہ چیز جو بری ہو اور جس کی برائی بیان کی گئی ہو۔
[25] وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا وَكَانَ بَيۡنَ ذٰلِكَ قَوَامًا (الفرقان ۲۵:۶۷)
جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل ، بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہائوں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے۔
[26] اسراف (Extravagance) کا مطلب ہے کسی چیز (مال، وقت، وسائل) کو حد سے زیادہ، بے جا، یا ناجائز طور پر خرچ کرنا۔
[27] درمیانی راستہ، جس میں نہ بہت زیادہ سختی ہو اور نہ بہت زیادہ نرمی۔
[28] وہ عالم یا استاد جو حقیقت کو جاننے والا ہو اور جس کی رائے مستند ہو۔
[29] جسم کو محنت اور مشقت والی عبادتوں کا عادی بنانا۔
[30] کسی چیز کو حاصل کرنا یا اسے پانے کی کوشش کرنا۔
[31] دل کے اندر پیدا ہونے والی بری خواہشات اور گناہوں کے ارادوں کو کچلنا۔
[32] ضرورت کے مطابق کم کھانا، پیٹ کو ہر وقت بھرا ہوا نہ رکھنا۔
[33] کم بولنا، فضول باتوں سے بچنا اور صرف ضرورت کی بات کرنا۔
[34] کم سونا، یعنی نیند میں حد سے زیادہ وقت ضائع نہ کرنا۔
[35] لوگوں سے میل جول کم رکھنا تاکہ تنہائی میں اللہ کی یاد میسر آ سکے۔
[36] وہ کام جو دین میں جائز ہیں، جن کا کرنا گناہ نہیں ہے (جیسے لذیذ کھانا یا آرام کرنا)۔
[37] دل کی گہرائیوں میں موجود اخلاق (اچھی اور بری عادتوں) کی اصلاح کرنا۔
[38] درمیانی راستہ؛ یعنی نہ بہت زیادہ سختی اور نہ بالکل ڈھیل۔
[39] کسی بات کو ذہن میں رکھنا یا اس کا خاص خیال رکھنا۔
[40] دل کا سخت ہو جانا جس کی وجہ سے نیکی کا اثر نہ ہو۔
[41] ختم ہو جانا، مٹ جانا یا ضائع ہو جانا۔
[42] وہ اچھی عادتیں جو اللہ کو پسند ہیں (جیسے صبر، شکر)۔
[43] وہ بری عادتیں جن سے بچنا ضروری ہے (جیسے حسد، تکبر)۔
[44] دل کی وہ عاجزی اور جھکاؤ جو اللہ کی عظمت کے احساس سے پیدا ہوتا ہے۔
[45] دوری؛ یہاں مراد اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے قرب سے دور ہو جانا ہے۔
[46] وہ چیز جو آنکھوں سے دیکھی جائے یا جس کا تجربہ ہو جائے۔
[47] کسی بات کی حقیقت کو سمجھ لینا یا اسے محسوس کر لینا محض عقل سے۔
[48] رب کی جمع، یعنی مالک یا سردار جو دوسروں پر حکم چلانے والے ہوں۔
[49] وہ جس کا کوئی مالک ہو، یعنی غلام یا ماتحت۔
[50] کسی نقصان یا غلطی کا بدلہ چکانا یا اس کی کسر پوری کرنا۔
[51] کسی مصیبت، بیماری یا گناہ کے جال میں پھنسا ہوا انسان۔
[52] کسی کی حالت پر ترس کھانا اور اس کے لیے دلی ہمدردی محسوس کرنا۔
[53] کسی چیز کا حقدار ہونا یا اپنی قابلیت کی بنا پر اسے پانے کا دعویٰ کرنا۔
[54] وہ فضول گفتگو یا کام جس کا نہ تو کوئی دینی فائدہ ہو اور نہ ہی دنیاوی ضرورت ۔
[55] قیامت کے دن اعمال تولنے والی ترازو ۔
[56] وہ نیکی یا بدلہ جو کسی گناہ کے اثر کو مٹا دے یا اس کی تلافی کر دے ۔
[57]
[58] امام غزالیؒ کی مشہور کتاب کا نام جس میں اخلاقیات اور باطنی اصلاح کا بیان ہے ۔
[59] اللہ تعالیٰ کی طرف سے گناہوں یا فضول کاموں پر ہونے والی پوچھ گچھ یا پکڑ ۔
[60] مصیبتیں یا وہ اخلاقی برائیاں جو کثرتِ کلام سے پیدا ہوتی ہیں ۔
[61] کسی آزمائش، گناہ یا بری عادت میں پھنس جانا ۔
[62] وہ محنت جو براہِ راست حرام کاموں (جھوٹ، غیبت) سے بچنے کے لیے کی جائے ۔
[63] وہ محنت جو جائز اور مباح کاموں میں کمی کرنے کے لیے کی جائے تاکہ نفس قابو میں آئے ۔
[64] تنگی، مشکل، رکاوٹ یا کسی کام میں ہونے والا نقصان ۔
[65] نقصان، تکلیف یا ایسی صورتحال جس سے کسی کا کام بگڑ جائے ۔
[66] سبزی یا پھل بیچنے والا معمولی دکاندار۔
[67] غور و فکر کرنا، سوچ بچار کرنا یا رک کر سوچنا۔
[68] سب کچھ سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا (اللہ تعالیٰ کی صفات)۔
[69] کسی کا مذاق اڑانا یا اسے ذلیل کرنے کے لیے ہنسنا۔
[70] اللہ تعالیٰ کی پاکی اور اس کی بڑائی بیان کرنا۔
[71] دل کا سکون اور اطمینان، خیالات کا بکھرا ہوا نہ ہونا۔
[72] الٹا لٹک کر نماز پڑھنا یا ذکر کرنا (یہ ایک قدیم سخت ریاضت تھی)۔
[73] شریعت بنانے والا، یعنی مراد حضور اکرم ﷺ ہیں۔
[74] وہ وقت جن پر کھانا کھانے کی عادت بنی ہوئی ہو۔
[75] دو کاموں کے درمیان کا وقفہ یا دوری۔
[76] کسی کام کا بذاتِ خود مقصد ہونا ۔
[77] وہ کام جو انسان اپنی مرضی سے کرے ۔
[78] وہ چیز جو اصل منزل تک پہنچنے کا راستہ ہو ۔
[79] حیوانی طاقت یا شہوانی خواہشات کو توڑنا اور کمزور کرنا ۔
[80] چستی، خوشی اور دل لگی کے ساتھ کام کرنا ۔
[81] درمیانی حالت؛ جس میں نہ زیادتی ہو اور نہ حد سے زیادہ کمی۔
[82] رات کے وقت اللہ کی عبادت کے لیے کھڑے ہونا (تہجد وغیرہ) ۔
[83] کسی کام کا عادی ہو جانا ۔
[84] نفس کی وہ صلاحیت یا طاقت جس سے وہ نیکی کر سکے ۔
[85] گہرا اثر رکھنے والا ۔
[86] جو بات زبان سے نکلے، دل بھی اسی کی طرف متوجہ ہو ۔
[87] وہ چیز جو کسی دوسری چیز کو اپنے ساتھ لازم کر دے (تراویح نیند کی کمی کو لازم کرتی ہے)۔
[88] جسم میں موجود وہ زائد رطوبت یا نمی جو زیادہ سونے سے پیدا ہو کر سستی لاتی ہے ۔
[89] ٹھنڈک یا افسردگی؛ یہاں مراد ذہنی سستی اور غفلت ہے ۔
[90] سوچنے سمجھنے اور غور و فکر کرنے کی صلاحیت ۔
[91] قدیم طب کے مطابق جسم کے دو مادے؛ یہاں مراد وہ دماغی کیفیات ہیں جن کے بگڑنے سے غصہ اور چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے ۔
[92] برے یا گمراہ کن خیالات؛ یہاں مراد وہ وہم ہیں جو نیند کی کمی سے پیدا ہوتے ہیں ۔
[93] اللہ کی طرف سے دل میں کوئی بات ڈالنا ۔
[94] پاگل پن یا ذہنی توازن کا بگڑ جانا ۔
[95] حد سے گزر جانا یا دین و مجاہدہ میں سختی کرنا ۔
[96] وہ رشتہ یا تعلق جس کی تعریف کی گئی ہو (جیسے والدین یا استاد سے تعلق)۔
[97] وہ تعلق جو درحقیقت اللہ ہی سے تعلق کا حصہ ہو۔
[98] وہ تعلق جس کی برائی کی گئی ہو (جیسے گنہگاروں کی دوستی)۔
[99] وہ عام دنیاوی تعلق جس میں نہ گناہ ہو نہ ثواب۔
[100] وہ بزرگ جو اپنی روحانی حالت میں بہت مضبوط اور پختہ ہوں۔
[101] فتنہ اور شر کی جمع؛ یعنی فسادات، آزمائشیں اور برائیاں۔
[102] لوگوں سے ملنا جلنا اور سماجی روابط بڑھانا۔
[103] دل کی بے چینی، اضطراب یا وہم۔
[104] فکریں اور پریشانیاں۔
[105] ضروری دینی علم (نماز، روزہ، حلال و حرام کا علم) حاصل کرنا ۔
[106] مراد لیا گیا یا کسی خاص معنی پر منطبق کیا گیا ۔
[107] دنیا سے بالکل کٹ کر راہب بن جانا یا شادی بیاہ چھوڑ کر صرف عبادت میں لگ جانا ۔
[108] اللہ کے دین کو بلند کرنا اور اس کی اشاعت کرنا ۔
[109] علیحدگی، تنہائی یا لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا ۔
[110] کسی نقصان یا برائی کو دور کرنا۔
[111] کسی فائدے یا نیکی کو حاصل کرنا۔
[112] سچائی کے اعلیٰ درجے پر فائز بزرگ (صدیق کی جمع)۔
[113] وہ لوگ جو اپنی روحانی تربیت مکمل کر چکے ہوں۔
[114] تنہائی کے برعکس، لوگوں کے مجمع میں رہنا۔
[115] سکھانا اور سیکھنا (علم کا پھیلاؤ)۔
[116] عاجزی اور انکساری، خود کو دوسروں سے کم تر سمجھنا۔
[117]
[118] وہ باطنی نقصانات جو ضرورت سے زیادہ لوگوں میں رہنے سے پیدا ہوتے ہیں ۔
[119] وہ بنیادی مشقتیں (کم کھانا، کم بولنا وغیرہ) جو نفس کو سدھانے کے لیے کی جائیں ۔
[120] اخلاق کی گہرائی میں جا کر بری عادتوں کی اصلاح کرنا ۔
[121] انسان کی ظاہری شکل و صورت اور جسمانی بناوٹ ۔
[122] انسان کی باطنی سیرت، عادتیں اور اخلاق ۔
[123] ظاہری آنکھوں سے دیکھنے کی قوت ۔
[124] مختلف اجزاء کو ملا کر ایک شکل بنانا یا بناوٹ ۔
[125] دل کی آنکھ یا باطنی فہم و فراست جس سے سچائی کو پہچانا جائے ۔
[126] ظاہری شکل و صورت یا ڈھانچہ ۔
[127] باطنی اخلاق اور عادات (انسان کی اصل حقیقت) ۔
[128] مٹی سے بنا ہوا یا زمین سے تعلق رکھنے والا (پست) ۔
[129] اللہ کی طرف سے دل میں کوئی بات ڈالنا ۔
[130] کسی کام کو کرنے یا سمجھنے کی اندرونی صلاحیت ۔
[131] برابر یا ہم وزن ہونا؛ اعضاء کا ایک دوسرے کے حساب سے درست ہونا۔
[132] کسی چیز کا حد سے بڑھ جانا (افراط) یا حد سے بہت کم ہو جانا (تفریط)۔
[133] غصہ کرنے یا دفاع کرنے کی اندرونی طاقت۔
[134] فرق کرنا یا پہچاننا۔
[135] دانائی؛ حق بات کو سمجھنے اور درست فیصلے کرنے کی قوت۔
[136] پاک صاف اور مکمل فرمانبرداری کرنے والا ۔
[137] سوچ بچار یا ہچکچاہٹ؛ یہاں مراد بغیر کسی دیر کے عمل کرنا ہے ۔
[138] وہ اہلکار جو حاکم کے حکم کو نافذ کرے؛ یہاں مراد قوتِ عدل ہے ۔
[139] سدھایا ہوا، باادب اور تربیت یافتہ ۔
[140] جاری کرنا یا کسی قانون کو لاگو کرنا ۔
[141] بہادری؛ غصے کی وہ حالت جو عقل اور شریعت کے مطابق ہو ۔
[142] اندھا دھند غصہ یا بے باکی، جو انسان کو تباہ کر دے ۔
[143] بزدلی؛ غصے کی وہ کمی جس سے انسان اپنا دفاع بھی نہ کر سکے ۔
[144] ذہن کی تیزی، ذہانت یا عمدگی۔
[145] انجام سے بے خبری؛ یہ سوچے بغیر کام کرنا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔
[146] نقصان یا گھاٹا؛ یہاں مراد اخلاقی پستی ہے۔
[147] پاک دامنی اور گناہوں سے بچنے کی حالت۔
[148] حد سے زیادہ دبنا یا کسی کے سامنے ذلیل ہو کر جھکنا۔
[149] تدبیر کرنے والا، دور اندیش اور بہترین منصوبہ ساز۔
[150] بہت زیادہ سمجھ دار اور تیز دماغ والا۔
[151] درست، ٹھیک اور نشانے پر بیٹھنے والی رائے۔
[152] سمجھ بوجھ کی کمی یا دماغ کا سست ہونا۔
[153] بے وقوفی یا نادانی۔
[154] ایک دوسرے سے فرق رکھنے والے؛ جن کے درجے الگ الگ ہوں۔
[155] مطابقت، میل جول یا مشابہت۔
[156] آخرت کی کامیابی اور خوش بختی۔
[157] وہ عادات جو پیدائشی طور پر انسان کی طبیعت میں شامل ہوں۔
[158] برائی کیا گیا (برا) اور تعریف کیا گیا (اچھا)۔
[159] تعریف اور برائی۔
[160] وہ چیز جس کی تعریف کی گئی ہو؛ پسندیدہ۔
[161] وہ چیز جس کی برائی کی گئی ہو؛ ناپسندیدہ۔
[162] بری عادتیں یا برے اخلاق۔
[163] پاک کرنا؛ نفس کو گناہوں اور بری عادتوں سے صاف کرنا۔
[164] اخلاق کا مکمل اور بہترین ہونا۔
[165] دین کی بنیاد یا جڑ۔
[166] مراد وہ پختہ اخلاقی عادات اور انسانی خوبیاں ہیں جو کسی شخص کی شخصیت کا حصہ بن کر اسے خیر اور بھلائی کی طرف مائل کرتی ہیں۔ تصوف کی اصطلاح میں 'ملکہ' اس صفت کو کہتے ہیں جو انسانی روح میں اس قدر راسخ ہو جائے کہ اس سے متعلقہ افعال بغیر کسی دقت یا بناوٹ کے صادر ہوں۔ جب یہ ملکہ نیکی اور فضیلت پر مبنی ہو، تو اسے 'ملکہ فاضلہ' کہا جاتا ہے۔
[167] اپنے تمام معاملات اللہ کے سپرد کر دینا۔
[168] تصوف کی ایک بلند حالت جہاں انسان کو اپنی بندگی کا احساس بھی مٹ جائے اور صرف اللہ کی ذات سامنے رہے۔
[169] ہلاک کر دینے والی برائیاں (وہ گناہ جو انسان کی روحانیت کو تباہ کر دیں)۔
[170] لمبی امیدیں؛ یہ سمجھنا کہ میں ابھی بہت عرصہ زندہ رہوں گا اور دنیا جمع کرنا۔
[171] کینہ یا دل میں چھپی ہوئی دشمنی۔